61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode 42)

شادی کا لہنگا اور جیولری خریدنے کے بعد قتادہ اور غانیہ ریسٹورنٹ میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔باہر بارش آہستگی سے شیشوں پر نرم موسیقی چھیڑ رہی تھی اور اندر روشنی اتنی مدھم تھی کہ آنکھوں میں جھلملاتے خواب ستاروں کی مانند چمکتے نظر آ رہے تھے۔میز پر پڑے دو چائے کے بھاپ اڑاتے کپ جیسے جذبات کو لفظوں میں ڈھالنے کی کوشش کر رہے تھے۔
”پھر اگلے جمعہ پکا نکاح ہے نہ ہمارا؟“وہ شاید یہ بات ہزار بار پوچھ چکا تھا۔ان کا نکاح اس جمعہ ہوتے ہوتے اگلے جمعہ تک چلا گیا تھا۔
”آپ بار بار پوچھیں گے تو مجھے ایک بار پھر سوچنا پڑے گا۔“کپ کے کنارے پر انگلی پھیرتے وہ لب دبائے شرارت سے گویا ہوئی تھی۔
قتادہ فوراً الرٹ ہوا۔”میں نے کب کچھ پوچھا،مجھے تو پوچھنا آتا ہی نہیں ہے۔“اس کی ہڑبڑاہٹ اور الفاظ نے غانیہ کو ہنسنے پر مجبور کر دیا تھا۔
”ایک بات پوچھوں آپ سے؟“قتادہ نے پلکوں کی جنبش سے اجازت دی تھی۔
”کیا آپ کے چچا کے غائب ہونے میں آپ کا ہاتھ ہے؟“اس نے کچھ جھجھکتے ہوئے پوچھا۔
”تمہیں کیا لگتا ہے؟“اس کے لبوں پر گہری مسکراہٹ رقصاں تھی اور آنکھوں میں اشتیاق۔وہ غانیہ کا جواب سننے کے لیے بے چین تھا۔
غانیہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر پورے وثوق سے گویا ہوئی۔”مجھے یقین ہے کہ یہ آپ کا ہی کام ہے۔“وہ سر جھکا کر ہنس دیا پھر کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
”تم میری زندگی کا بہترین انتخاب ہو۔“اس نے گو کہ خود کو سراہا تھا۔غانیہ مدھم سا مسکرائی اور کپ کو لبوں سے لگا لیا۔
”آگے کی کہانی تو تم نے بتائی نہیں مجھے۔میرا مطلب ہے کہ این جی او سے جڑنے کے بعد کیا ہوا تھا۔“
”انہوں نے مجھے سہارا دیا۔رہنے کے لیے چھت اور کھانے کے روٹی یہاں تک کہ کام بھی دیا۔دنیا اچھے اور برے لوگوں سے بھری پڑی ہے۔ضروری نہیں کہ ہر کسی کو برے لوگ ہی ملیں۔آپ جانتے ہیں مجھ جیسے آٹھ سو معذور لڑکیاں اور بھی تھیں۔ہمارے نام پر بہت زیادہ فنڈنگ لی گئی مگر ٹریٹمنٹ صرف سات لڑکیوں کا ہوا۔“قتادہ نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا۔وہ پُرسکون انداز میں اب گھونٹ گھونٹ چائے اندر اتار رہی تھی۔
”میں ان خوش نصیب سات لڑکیوں میں سے ایک تھی۔بدلے میں ہمیں زیادہ کچھ نہیں کرنا پڑا۔بس میگزین اور اخبارات میں انٹرویوز دیے کہ یہ organization خدمت خلق کے لیے کام کرتی ہے۔شروع شروع میں مجھے بھی ایسا ہی لگتا تھا۔ہمیں کہا گیا تھا کہ پہلے مرحلے میں سات لڑکیوں کو آرٹیفیشل ارگن لگے گے پھر دوسرے مرحلے میں پچاس اور تیسرے میں چار سو……اتنے سال گزر گئے قتادہ، نہ دوسرا مرحلہ آیا اور نہ تیسرا۔“قتادہ نے تاسف سے اسے دیکھا۔غانیہ کی آنکھوں میں نمی نہیں تھی،وہاں بس ایک گہرائی تھی جیسے ہزاروں بارشیں برس کر اب تھم چکی ہوں۔
”پھر ہم سات لڑکیوں کی خوش نصیبی دیکھیں،ہمیں تعلیم بھی دلوائی گئی اور کچھ مہارتیں بھی سکھائی گیئں۔بدلے میں کچھ اور انٹرویوز اور تعریفیں۔“میز پر کپ رکھتے ہوئے وہ ہنس دی تھی۔
”آپ جانتے ہیں میں نے اس این جی او کے لیے بہت کام کیا ہے۔جو بھی ہے میں ان لوگوں کی مشکور ہوں۔انہوں نے اس وقت میرا ساتھ دیا جب اپنوں نے ساتھ چھوڑ دیا۔اس ادارے میں کام کرتے ہوئے میں نے پوری کوشش کی کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مدد کروں۔ہم نے خواتین کو بہت سے کورسز بھی کروائے۔ابھی پچھلے سال میں نے خواجہ سرا کے ایک گروپ کو گرافکس ڈیزائننگ سکھائی۔“قتادہ کی آنکھوں میں حیرت سے زیادہ ستائش ابھری۔غانیہ سر جھٹک کر پھر ہنس دی۔
”میں اگر اس ادارے سے نہ جڑی ہوتی تو یقیناً آپ کی طرح مرعوب ہوتی۔خواجہ سرا کے گروہ کو مختلف کورسز سکھانا کوئی نیکی یا انہیں پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش نہیں ہے۔“
”پھر…..؟“غانیہ نے دونوں ہاتھ میز پر رکھے اور آگے کو جھکی پھر رازداری سے کہا۔
”فنڈنگ……خواجہ سرا کے نام پر اتنی فنڈنگ ملتی ہے کہ آپ کی سوچ ہے۔“اس نے سنجیدگی سے کہا۔قتادہ سپاٹ چہرہ لیے اسے دیکھتا رہا پھر بے وقت وہ دونوں ہنس پڑے۔یہ ہنسی تمسخرانہ نہیں تاسف بھری تھی۔
”اللہ اس قوم کے حالات پر رحم کرے۔“قتادہ نے دونوں ہاتھ کھڑے کر لیے۔
”آمین!“غانیہ نے دل سے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزوان نے ہینڈل گھمایا اور دروازہ آہستگی سے کھول کر اندر داخل ہوا۔اندر نیم تاریکی تھی۔فضاء میں بوجھل خاموشی تھی۔
اس کی نگاہ پلنگ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی قانِتہ پر پڑی۔وہ تھک کر سو چکی تھی۔اس کے بال الجھے ہوئے تھے۔چند لٹیں رخسار سے چپکی ہوئی تھیں جہاں خشک آنسوؤں کے نشان ثبت تھے۔چہرے پر شکست کی پرچھائیاں تھیں۔
وہ کچھ دیر افسوس سے اسے دیکھتا رہا جیسے اپنی غلطی اور جھوٹ کے عکس کو دیکھ رہا ہو پھر وہ آہستگی سے چل کر اس تک آیا اور اس کے قریب بیٹھ گیا۔
غزوان نے نرمی سے اس کے چہرے سے بالوں کی ایک لٹ ہٹائی۔
وہ چونک کر اٹھی۔سرمئی گلابی مائل آنکھوں نے اس کی طرف دیکھا۔آنکھوں میں کوئی سوال یا شکایت نہیں بس خالی پن تھا۔وہ غزوان کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کسی اجنبی کو دیکھ رہی ہو۔لبوں کے پیچھے تمام الفاظ قید تھے۔وہ اب کچھ بولنا نہیں چاہتی تھی اور وہ اب کچھ سننا بھی نہیں چاہتا تھا۔
”اگر میں تم سے کچھ کہوں تو کیا تحمل سے سنو گی؟“
”سن لوں گیئں مگر یقین نہیں کروں گیئں۔“دو ٹوک سیدھا جواب۔
غزوان نے گہری سانس اندر کھینچ کر گو کہ سکھ کا سانس لیا۔کم از کم ان کے درمیان خاموشی کا تسلسل تو ٹوٹا تھا۔
”تم جانتی ہو مرد کس عورت سے شادی کرتا ہے؟“جواب کا انتظار کیے بغیر اس نے گفتگو جاری رکھی۔
”مرد اس عورت سے شادی کرتا ہے جس سے وہ کرنا چاہتا ہے۔مرد کا اقرار،اقرار اور انکار،انکار ہوتا ہے۔مرد حاکم ہوتا ہے اور وہ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر عورت کو اپنی حاکمیت ضرور جتاتا ہے۔شادی کے معاملے میں مرد مجبور نہیں ہوتا۔وہ اپنی پسندیدہ عورت کے ساتھ ایک بندھن میں بندھنے کے لیے کسی بھی حد سے گزر جاتا ہے بشرطیکہ وہ یہ کرنا چاہے۔“وہ بول رہا تھا اور قانِتہ مسلسل دیوار کو گھور رہی تھی۔نجانے وہ اسے سن بھی رہی تھی یا نہیں۔غزوان نے فلحال اس بات کی پرواہ نہیں کی تھی۔
”تم سے نکاح کیا میں نے کیونکہ میں تمہیں باعزت طریقے سے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا۔کوئی افیئر نہیں چلایا میں نے تمہارے ساتھ۔تم نے انکار کیا،میں پیچھے ہٹ گیا۔ہمارا رشتہ ہمارے گھر والوں نے طے کیا،میں نے تمہارا دل جیتنے کی پوری کوشش کی۔یہاں تک کہ تم مان گئی۔تمہیں واقعی لگتا ہے کہ میں نے تم سے نکاح محمود انکل کے کہنے پر کیا؟تم سے محبت ان کے کہنے پر کی؟“اس کی آواز بلند اور سخت ہو گئی مگر وہ بت بنی دیوار کو گھورتی رہی۔وہ قطرہ قطرہ پانی پتھر پر گرا رہا تھا۔پتھر پر کوئی اثر نہ ہوا تھا۔
”کیا میرا دماغ خراب ہے جو محض ہمدردی کی خاطر کسی بھی لڑکی سے شادی کر لوں گا؟“جواب ندارد۔
”تم میری پسند تھی تب ہی تم سے شادی کی۔تم……“
”تم سب شروع دن سے جانتے تھے۔یہ ہمدردی نہیں تو پھر کیا ہے؟ایک بیوہ کے پیچھے کوئی بھی عقل مند انسان کیوں پڑے گا؟“پتھر نے پلٹ کر پوچھا تھا۔خاموشی ٹوٹی تھی۔سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔
”میں شروع دن سے کچھ نہیں جانتا تھا اور جہاں تک بات ہے ایک بیوہ کے پیچھے پڑنے کی تو تم ٹھیک کہتی ہو۔میں ہر گز عقل مند انسان نہیں ہوں۔میں اس دنیا کا سب سے سب سے بڑا گدھا ہوں جس نے تم سے محبت کی اور سونے پر سہاگا شادی بھی کر لی۔“یہ طنز نہیں تھا،وہ حقیقتاً اپنے دل کی کیفیت بیان کر رہا تھا۔آخر تھا تو وہ بھی انسان،کب تک برداشت کرتا؟
”تو پھر مجھے چھوڑ کر عقل مندی کا ثبوت دے دو۔“وہ بے رحم تھی تو حد سے زیادہ تھی۔
”نہیں میں گدھا ہی ٹھیک ہوں۔“اس کا اطمینان بخش جواب قانِتہ کو سلگا گیا تھا۔وہ آخر سنجیدہ کیوں نہیں ہوتا تھا؟
”پھر میں تمہیں چھوڑ دوں گیئں۔“فیصلہ حتمی تھا۔
”میں تمہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔“قانِتہ نے تھکی تھکی آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا۔اس کا چہرہ،اس کی آنکھیں…..وہ کسی بے وفا کی آنکھیں تو نہیں تھیں۔دل نے ایک بار پھر بہکایا مگر دماغ نے فوراً ڈپٹ دیا۔وہ جھوٹا،دغا باز اور بے وفا تھا۔
”مجھے تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔“ترش کاٹ دار لہجہ۔غزوان گہرا مسکرایا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔
”تمہیں ہے۔بحثیت شوہر میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اس گھر سے باہر قدم نکالنے کا سوچنا بھی مت۔“غزوان نے اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈال کر کہا۔لہجے اور آنکھوں میں سختی تھی۔
قانِتہ کے چہرے پر ایک سایہ آ کر گزرا۔یہ لہجہ،یہ انداز غیر شناسا تھا۔لمحہ بھر کے لیے اسے خوف سا محسوس ہوا پھر اس نے آہستگی سے نگاہیں پھیر لیں۔
غزوان مسکرا کر رہ گیا۔اس کے ہاتھ کو لبوں سے لگایا اور نرمی سے چھوڑ دیا۔
”مجھے کوردوبا میں سب پتا چلا تھا۔“قانِتہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔غزوان اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوردوبا کی سڑکیں دوپہر کی دھیمی روشنی میں بھیگ رہی تھیں۔زیتون کے درختوں کے سائے زمین پر نقش بنا رہے تھے۔دور سے گرجا گھر کی گھنٹی کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
ہوٹل کے چھٹے فلور پر بنے نفیس ٹیرس پر ہوا میں نمی گھلی تھی۔نیلے آسمان کے نیچے میزیں اور ہلکے سنہرے رنگ کے سن شیڈز منظر کو مزید خوبصورت بنا رہے تھے۔
محمود یزدانی اپنی پروقار شخصیت کے ساتھ میز کے پاس کھڑے جیسے شہر کے منظر کو تول رہے تھے۔ان کے چہرے پر سکون اور خوداعتمادی تھی۔
”آپ نے بلایا انکل؟“غزوان نے وہاں پہنچتے ہشاش بشاش لہجے میں پوچھا جبکہ اندر ہی اندر اس کا دل بھاری ہوتا جا رہا تھا۔وہ بےحد نروس تھا۔
”آؤ بیٹھو۔“انہوں نے اسے مسکرا کر بیٹھنے کے لیے کہا۔
ویٹر آیا،آرڈر لیا اور چلا گیا۔لمحے بھر کو وہاں خاموشی چھا گئی۔
”کتنی محبت کرتے ہو تم قانِتہ سے؟“بغیر کسی لگی لپٹی کے انہوں نے سیدھا سوال کیا۔
وہ بالکل بھونچکا رہ گیا۔سوال تھا یا پہیلی وہ سمجھ نہ سکا۔کم از کم وہ قانِتہ کے باپ کے سامنے اپنے عشق کے قصے نہیں سنا سکتا تھا۔
”اتنی کہ گاڑی میں اسے ہریس کرتے ہو یا پھر اتنی کہ ہسپتال میں زبردستی اس سے شادی کرنے کرنے کی کوشش کرتے ہو؟“غزوان جوں کا توں رہ گیا۔محبت کی کشتی کنارے پر ہی ڈوب گئی۔
”تمہیں لگتا ہے کہ میں لاعلم ہوں؟“انہوں نے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے رعونت سے پوچھا۔غزوان کچھ بول نہیں سکا۔تمام الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے۔
”میں اپنی بیٹی کا ہاتھ ایسے شخص کے ہاتھ میں کیوں دوں جو اس کی عزت ہی نہیں کرتا؟“
”میں عزت کرتا ہوں۔بہت زیادہ کرتا ہوں۔مجھ سے غلطی ہوئی،میں شرمندہ ہوں۔میں نے قانِتہ سے بھی معافی مانگی ہے۔میں آپ سے بھی مانگتا ہوں۔مجھے ایک موقع دے دیں،میں اسے بہت خوش رکھوں گا۔“
”مگر وہ تو شادی پر رضامند نہیں۔“
”میں اسے رضامند کر لوں گا۔مجھے بس ایک موقع دے دیں۔“وہ گو کہ اب منت کر رہا تھا۔
”تمہیں تو کوئی بھی لڑکی مل جائے گی پھر قانِتہ ہی کیوں؟“وہ لمحہ بھر کو خاموش رہا۔شاید مناسب الفاظ تلاش کر رہا تھا۔
”اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں ہے۔“اس نے گویا اپنی بےبسی ظاہر کی۔
”میں تمہاری مشکل آسان کر دیتا ہوں۔جو اب میں تمہیں بتاؤں گا اس کے بعد محبت بھی ختم ہو جائے گی اور چاہ بھی۔“غزوان کے ماتھے پر شکنیں اُبھریں۔وہ ان کی بات سمجھنے کی کوشش کرنے لگا تھا۔
”تم قانِتہ کی زندگی میں آئے پہلے مرد نہیں ہو۔تم سے پہلے بھی اس کی شادی ہو چکی ہے۔میری بیٹی بیوہ ہے۔“دھوپ کی تیز کرنیں اس کے چہرے پر پڑیں گویا حقیقت نے روشنی کی صورت میں وار کیا ہو۔
اسے سمجھ نہ آیا کہ وہ کیسے ری ایکٹ کرے۔اگر یہ بات قانِتہ خود اس سے کہتی تو وہ مذاق سمجھتا مگر محمود یزدانی اس سے جھوٹ نہیں بول سکتے تھے۔
محمود یزدانی پُرسکون سے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کا موازنہ کر رہے تھے۔
”رشتوں کی بنیاد ہمیشہ سچ پر رکھنی چاہیے۔میں تم سے کچھ نہیں چھپاؤں گا۔میری بیٹی زندگی کے ہر امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہوئی ہے سوائے شادی کے۔اس کا تجربہ کچھ اچھا نہیں رہا۔وہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔میں بھی زبردستی کا قائل نہیں ہوں۔انکار تم خود کرو گے یا میں کروں؟“وہ اٹھے،اس کا کندھا تھپتھپایا اور وہاں سے چلے گئے۔وہ ایسے ہی ساکت وہاں بیٹھا رہا۔اردگرد کی خوبصورتی دھندلا گئی۔اس کے دل میں سائے اترتے چلے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوردوبا شہر پر رات اتر چکی تھی۔آسمان پر ستارے خاموشی سے جگمگا رہے تھے۔
ایک پُرسکون کیفے کا بیرونی حصہ جو دن میں مصروف اور چہل پہل سے بھرا ہوا تھا،اب خاموش اور سنجیدہ ماحول میں ڈوبا ہوا تھا۔اردگرد چند میزیں خالی تھیں۔
غزوان میز کے کنارے بیٹھا تھا۔نگاہیں میز کی سطح پر جمی تھیں معنوں وہ الفاظ چن رہا ہو۔
اس کی آنکھوں میں دن بھر کی تھکن کا طوفان تھا۔
چند لمحوں بعد محمود یزدانی آئے۔انہیں غزوان نے ہی بلایا تھا۔ان کا چہرہ ہمیشہ کی طرح پر اعتماد تھا مگر آج آنکھیں متجسس ضرور تھیں۔
ان کے آتے ہی غزوان نے اٹھ کر سلام کیا اور پھر وہ دونوں بیٹھ گئے۔غزوان نے گلا کھنکھارا۔زیتون کی پتیاں فوراً الرٹ ہوئیں معنوں اس کے الفاظ سننا چاہتی ہوں۔
”آپ جانتے ہیں جب میں نے قانِتہ کو پہلی بار پرپوز کیا تو اس نے کیا کہا؟“محمود یزدانی کی نگاہیں اس ہی پر جمی تھیں۔
”اس نے کہا کہ وہ طلاق یافتہ ہے۔دو بچے ہیں اس کے۔بیٹی سے تو ملوایا بھی اس نے۔میرے قدم ڈگمگائے مگر میں پیچھے نہیں ہٹا۔اس کے جھوٹ کو سچ مان کر میں اسے اپنانے کے لیے تیار تھا۔پھر اس نے کہا کہ اسے کینسر ہے،میرے قدم ڈگمگائے مگر میں نے خود کو مستحکم کر لیا۔میں اس وقت بھی اسے اپنانے کو تیار تھا۔آپ نے کیسے سوچ لیا کہ میں اب پیچھے ہٹ جاؤں گا؟میں انکار نہیں کروں گا اور نہ آپ انکار کریں گے۔“یہ الفاظ نہیں تھے یہ بوجھ تھا جو محمود یزدانی کے کندھوں سے اتر رہا تھا۔ان کا انتخاب غلط نہیں تھا۔
”اس کے ماضی میں کیا ہوا اور کیا نہیں،یہ میرے لیے اہم نہیں ہے۔“ان کے درمیان کی خاموشی اب تلخ نہیں رہی تھی۔کوردوبا کی فضاء نے قبولیت اور عزت کے احساس کو محسوس کیا تھا۔
اس رات ان کے درمیان بہت سی باتیں ہوئی تھیں۔ہر بات کا مرکز صرف قانِتہ کی ذات تھی۔محمود یزدانی نے اسے سب تو نہیں لیکن بہت کچھ بتایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کہہ کر خاموش ہوا،قانِتہ بے تاثر نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
”اگر تمہیں میری بات پر یقین نہیں ہے تو گرینی سے پوچھ لو۔وہ جانتی ہیں سب۔میں نے انہیں کچھ نہیں بتایا۔جو بتایا تمہارے ڈیڈ نے بتایا۔“
”اور…..اور کیا بتایا انہوں نے تمہیں؟“اس کی آواز نم تھی۔
”یہی کہ تمہاری شادی ٹین ایج میں ہی کسی سے کروا دی گئی تھی۔شاید سولہ سترہ سال……“اس نے اندازہ لگایا تھا۔
”میں اس وقت نو سال کی تھی۔“کمرے میں ہوا معنوں تھم گئی تھی۔غزوان کو سانس لینے میں دقت پیش آئی۔کیا اس نے ٹھیک سنا تھا یا پھر یہ کوئی مذاق تھا۔
”سوارہ کی رسم سے تو واقف ہو گے تم۔خون بہا کے طور پر دیا گیا تھا مجھے۔دس سال کی عمر میں پریگننٹ ہو گئی تھی میں۔“غزوان کا لمحہ ایک لمحہ کو ساکت ہو گیا۔جیسے اندر کچھ بند ہو چکا ہو۔اچانک ایسے لگا جیسے دل نے ڈھڑکنا چھوڑ دیا ہو۔
آنکھوں کے آگے دھند سی چھا گئی۔قانِتہ کا چہرہ دھندلا ہو گا۔انگلیاں برف جیسی ٹھنڈی پڑ گئیں۔یہ انکشافات اس کی سوچ کے برعکس تھے۔
”مگر یہ کیسے ممکن ہے؟“وہ حیران سے زیادہ پریشان تھا۔اس کی عقل دنگ رہ گئی تھی۔زبان سے کیا الفاظ نکل رہے تھے،اسے خبر نہیں تھی۔
”تم جانتے ہو اس دنیا کی youngest mother کون ہے؟“غزوان کے کسی بھی ردعمل کا انتظار کیے بغیر ہی اس نے خود ہی جواب دیا تھا۔
“Lina Medina”
”پانچ سال،سات مہینے اور اکیس دن کی عمر میں اس نے ایک بچے کو جنم دیا تھا۔اب تم پوچھو گے کہ یہ کیسے ممکن ہے؟“آنکھ سے نکلتی لڑی کو اس نے بہنے دیا تھا۔
”اسے precocious puberty کہتے ہیں اور جہاں تک بات ہے میری…..میں تو دس سال کی تھی۔یہ بہت عام سی بات ہے۔بس میں کمزور تھی۔بچے کا بوجھ برداشت نہیں کر سکی۔مس کیرج ہو گیا۔میں بچ گئی،یہ غنیمت ہے۔“وہ عجیب طرز سے ہنسی تھی۔
غزوان خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔اس کے ہر لفظ میں چھپی اذیت کو محسوس کر رہا تھا۔وہ دل کی گہرائیوں سے سن رہا تھا،ہر اس چیخ کو جو بند کمرے میں دم توڑ گئی تھی۔ہر اس سسکی کو جو لبوں سے آزاد نہ ہو سکی تھی۔
اس کی نگاہ مہربان تھی جیسے کسی گلاب کی پتی پر ٹھہری اوس۔
”ایسے مت دیکھو مجھے۔“قانِتہ نے نفی میں سر ہلاتے بے دردی سے رخسار پر بہتے موتی کی لڑی کو صاف کیا۔
”ہمدردی نہیں چاہیے مجھے۔کم از کم تمہاری تو بالکل نہیں۔“غزوان نے کرب سے آنکھیں موندیں اور اس کے گرد حصار قائم کیا۔
”پہلے کیوں نہیں بتایا مجھے؟“
”کہا نہ،ہمدردی نہیں چاہیئے۔“
”پھر کیا چاہیئے؟“غزوان نے نرمی سے اس کی ٹھوڑی کو اوپر اٹھا کر پوچھا۔
”پتا نہیں…..“اس نے تھکن سے آنکھیں جھکا لیں۔
”محمود انکل نے کہا کہ تم زندگی کے ہر میدان میں پاس ہوئی ہو سوائے ایک کے۔قانِتہ تمہیں نہیں لگتا کہ تمہیں ہر اس لڑکی کے لیے مثال بننا چاہیے جو کسی ٹاکسک بندھن سے رہائی حاصل کر لیتی ہے۔پھر معاشرے کو لگتا ہے کہ اس کی دوسری شادی کبھی کامیاب نہیں ہو گی۔اس لڑکی کو بھی یہی لگتا ہے۔کیا تم معاشرے کو یہ نہیں بتا سکتی کہ ضروری نہیں ہر دوسری شادی ناکام ہو یا پھر محض سمجھوتہ۔ہم خوش بھی تو رہ سکتے ہیں ناں۔“وہ بہت نرمی سے اسے سمجھا رہا تھا۔اس کے زخموں پر مرہم رکھ رہا تھا۔
”ہم میاں بیوی ہیں مگر ہمارے رشتے میں بہت سی خلائیں ہیں۔وجہ صرف یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے پر اعتبار نہیں کرتے۔ایک دوسرے سے اپنے مسائل ڈسکس نہیں کرتے۔کچھ بھی ہوتا ہے،تم فورا بدگمان ہو جاتی ہو۔ایسا کب تک چلے گا؟“وہ خاموش رہی تھی۔اپنے اوپر لادے بوجھ نے اسے تھکا دیا تھا۔
”تم محبت نہیں کرتے مجھ سے؟“غزوان نے بے اختیار گہری سانس اندر کھینچی۔وہ کیا کہہ رہا تھا اور وہ کیا پوچھ رہی تھی۔
”میں عزت کرتا ہوں تمہاری۔اعتبار کرتا ہوں تم پر۔یہ سب چیزیں محبت سے زیادہ اہم ہیں اور جہاں تک بات رہی محبت کی تو وہ میں تم سے بہت کرتا ہوں۔“قانِتہ کی پلکیں بھیگنے لگی تھیں۔اسے یہی تو سننا تھا۔وہ سچ کہہ رہا تھا یا جھوٹ،وہ فلحال سوچنا نہیں چاہتی تھی۔وہ بس ان الفاظ پر ایمان لانا چاہتی تھی۔
”پھر دھوکہ کیوں دیا تم نے مجھے؟“
”میں نے دھوکا نہیں دیا۔میں نے بس تمہارے فیصلے کا احترام کیا۔تم نے خود سے کچھ نہیں بتایا لہذٰا میں نے بھی کوئی ذکر نہیں کیا۔اور ایک طرح سے اچھا ہی ہے کہ میں سب پہلے سے جانتا تھا۔تمہاری بدتمیزی کو برداشت کرنے کی کوئی تو وجہ تھی میرے پاس ورنہ عین ممکن تھا کہ ہم اب تک الگ ہو چکے ہوتے۔“وہ اپنی جگہ ٹھیک تھا۔کسی مرد کا ظرف اتنا بڑا نہیں ہوتا کہ وہ اپنے اختیار میں آئی عورت کی بدزبانی اور بدتمیزی برداشت کرے۔
”جب تم سب پہلے سے ہی جانتے تھے تو اس رات ڈرامہ کیوں کیا؟“اس نے ایک زوردار مکا غزوان کے بازو پر جڑا تھا۔
”تو کیا گلے لگا لیتا تمہیں؟تمہیں شک نہ ہو جاتا مجھ پر؟بس اس لیے خاموشی سے چلا گیا میں۔“
”میں شروع دن سے سوچتی تھی کہ تم ایک اچھے انسان ہو۔تم مجھے وقت دے رہے ہو۔“وہ کہتے کہتے اب رو پڑی تھی۔
”میں بس تمہاری مدد کرنا چاہتا تھا۔تمہیں اسپیشل فیل کروانا چاہتا تھا۔“غزوان نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔
”یہ بغیر رخصتی کے بھی ہو سکتا تھا۔“اس یاد دہانی پر وہ ہنس پڑا تھا۔
”جیسے میں جانتا نہیں ہُوں تمہیں۔تمہارا بس چلتا تو تین سو سالوں تک رخصتی نہ ہونے دیتی۔“وہ خاموش رہی تھی۔کس قدر غلط سمجھتا تھا وہ اسے۔محبت کے دعوے ایک طرف وہ تو قانِتہ یزدان کو تھوڑا بھی نہیں جانتا تھا۔وہ تین سو سال کے بجائے چھ سو سال تک رخصتی روکنے کا سوچے ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔