Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode 20)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode 20)
فجر کی ہلکی نیلگوں روشنی میں وہ برآمدے میں جائے نماز بچھائے نماز پڑھ رہی تھی۔فضا میں ایک عجیب سا سکون گھلا ہوا تھا۔ٹھنڈی ہوا اس کے کپڑوں کو ہلکا سا اڑا رہی تھی،معنوں لہریں پیدا کر رہی ہو۔چہرے پر ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا۔تھوڑے فاصلے پر ستون کے ساتھ کھڑی شگوفہ نے حسرت سے اس لڑکی کو دیکھا تھا۔کیا تھا گیارہ سالہ زخرف کے پاس؟ٹوٹا ہوا جوتا،پھٹے ہوئے کپڑے،زردی مائل رنگت،کھانے کے نام پر چند نوالے، مار پیٹ اور ڈھیروں ذلالت……اور شگوفہ….اس کے پاس تو سب تھا۔بہترین پوشاک،لذیز کھانا،عزت،محبت کرنے والا شوہر اور بچہ…..اس نے بے اختیار اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔وہ اپنا موازنہ زخرف کے ساتھ کر رہی تھی۔ہر حال میں شگوفہ کا پلڑا بھاری تھا مگر پھر ایسی کیا چیز تھی جس نے اسے حسد میں مبتلا کر دیا تھا؟وہ سوچ رہی تھی۔
شاید سِماک کا زخرف کی جانب رجوع یا پھر وہ خاموش محبت جو وہ زخرف سے کرتا تھا۔
دعا کے بعد وہ جائے نماز سمیٹتے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔شگوفہ کو دیکھ کر وہ لمحہ بھر کو رکی پھر اسے نظر انداز کرتی وہاں سے گزرنے لگی جب شگوفہ نے اسے روکا۔
”تم یہاں سے چلی کیوں نہیں جاتی؟“زخرف کے قدم رکے۔لبوں پر استہزایا مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ٹھہری پھر اس کی جانب مڑی۔
”چلی جاؤں گیئں مگر تمہیں برباد کرنے کے بعد…..“سرخی مائل آنکھیں اس کی آنکھوں میں گاڑھی اور بلا خوف کہہ ڈالا۔اب خوفزدہ ہونے کے لیے کوئی وجہ تھی ہی نہیں۔
”مجھے برباد کر سکتی ہو تم؟“وہ معنوں اس کا مذاق اڑا رہی تھی۔زخرف نے جائے نماز ایک طرف رکھی اور ہاتھ پر ہاتھ لپیٹ کر اس سے مخاطب ہوئی۔
”ٹھیک کہا تم نے۔میں شاید ہی تمہیں برباد کر سکوں کیونکہ تم جیسی عورتیں یہ کام خود ہی کرتی ہیں۔“
”بددعا دے رہی ہو؟“
”ایک گیارہ سالہ لڑکی نے تمہارا کیا بگاڑا تھا؟میں تو کبھی تمہارے راستے میں نہیں آئی۔صرف تمہارے بچے کو گود میں اٹھانے کے خواہش ہی تو کی تھی میں نے۔اتنی بڑی سزا کیوں دی تم نے مجھے؟“اس کے ہونٹ تھرتھرانے لگے تھے۔الفاظ معنوں ناراض ہوتے معلوم ہوئے مگر وہ پھر بھی پوچھ رہی تھی۔خود پر ہوئے ستم کا حساب مانگ رہی تھی۔
”میں نے کیا،کیا ہے زخرف؟جو کیا تم نے خود کیا۔آدھی رات کو اختر سے ملنے تم گئی تھی،میں نہیں۔“نہایت دلیری سے وہ خود کو ہر جرم سے بری الزمہ کر چکی تھی۔اس کے چہرے پر کوئی پچھتاوا،کوئی ندامت کچھ نہ تھا۔وہ خود کو حق بجانب سمجھتی تھی اور زخرف کو باعثِ سزا۔
زخرف کئی لمحے نم آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی۔لب ایسے ہی تھرتھراتے رہے پھر یکدم اس کے ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔سر ہلا کر وہ اپنی چارپائی کی جانب بڑھ گئی۔واپس آئی تو ہاتھ خالی نہ تھے۔
”یہ لو تمہاری امانت۔“زخرف نے شگوفہ کا ہاتھ تھاما اور عطر اور سرخی اسے تھما دی۔
”مستقبل میں تمہاری بیٹی کے کام آئے گی۔“وہ کہہ کر کچن کی جانب بڑھ گئی۔شگوفہ جہاں کھڑی تھی،وہیں کی ہو کر رہ گئی۔بدن سن ہو گیا،معنوں کسی نے جسم سے روح نکال لی ہو اور پیچھے صرف جسم رہ گیا ہو۔محض ایک مجسمہ،ایک بےجان بت……..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں ہلکی پیلی روشنی جل رہی تھی جو دیوار پر لگے بلب کے گرد پھیلی ہوئی تھی۔کھڑکی کے پردے وا تھے۔فلک پر براجمان چاند کمرے کے اندر جھانکنے کی سعی کر رہا تھا۔خستہ حال کمرے کے وسط میں پلنگ پڑا تھا۔پلنگ کے ایک طرف سِماک چت لیٹا ہوا تھا۔ایک ہاتھ سر کے نیچے تھا جبکہ دوسرا پیٹ پر دھڑا تھا۔دوسری جانب پلنگ پر زخرف بیٹھی تھی۔گھٹنوں تک چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ویران نگاہیں دیوار پر جمی تھیں۔
”کتنی ڈھیٹ ہو تم زخرف، اتنا سب ہو جانے کے بعد بھی کیسے نگاہیں ملا لیتی ہو مجھ سے؟“خاموشی کے طویل دورانیے کو سِماک نے توڑا تھا۔نگاہیں اب بھی چھت پر ہی جمی تھیں۔
”میں نے کچھ نہیں کیا۔“مدھم آواز میں صدیوں کی تکان تھی۔
”اختر نے جب مجھے یہ سب بتایا تو میں نے یقین نہیں کیا۔مجھے یقین تھا کہ تم نہیں آؤ گی مگر تم نے…..“اس نے سختی سے مٹھی بھینچی اور جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔آنکھوں میں لال خراشیں واضح ہوئیں۔
”یقین تو مجھے بھی تھا کہ آپ وہ تھپڑ اختر کی گال پر ماریں گے مگر آپ نے میرا یقین توڑ دیا۔“
”اسے تھپڑ تب مارتا جب تم وہاں نہ جاتی مگر تم تو پوری تیاری کے ساتھ اس سے ملنے گئی تھی۔“اس کی آنکھوں میں چنگاریاں جلنے لگیں، معنوں وہ زخرف کو جلانا چاہتا ہو مگر وہ تو پُرسکون بیٹھی تھی۔
”وہ تنگ کرتا تھا مجھے۔“اس نے سچ کہا مگر بہت دیر سے۔
”جھوٹ…..اگر ایسی کوئی بات تھی تو تم پہلے ہی مجھے بتا دیتی۔“
”غلطی ہو گئی مجھ سے اور پھر آپ نے سزا بھی دی۔طلاق دے دی مجھے۔“اس کی آواز بھرا گئی۔اسے نہیں رونا تھا مگر اس شخص کے آگے وہ ہمیشہ بےبس ہو جاتی تھی۔
باہر قطرہ قطرہ رات پگھلتی رہی،اندر کمرے میں سوگواریت بڑھتی رہی۔
”زبان سے نکل گیا تھا۔“
”یعنی ایک غلطی آپ سے ہوئی اور ایک مجھ سے…..“اس نے اپنا رخ مکمل طور پر سِماک کی جانب موڑا۔”تو پھر سب بھول جاتے ہیں ناں۔دوبارہ سے اپنی زندگی شروع کرتے ہیں۔وعدہ کرتی ہوں،شکایت کا کوئی موقع نہیں دوں گیئں۔“مصالحت کی ایک اور کوشش کی گئی۔ایک بار پھر اس نے اپنا آپ سِماک کے آگے خاک کر دیا۔ایک بار پھر کچے دھاگے پر کھڑا رشتہ نبھانے کی کوشش کی گئی۔
”تم کس مٹی کی بنی ہو زخرف؟تم نے بے وفائی کی ہے میرے ساتھ۔“ایک ایک لفظ پر زور دیتے وہ اٹھ بیٹھا۔اب کھا جانے والی نگاہیں اس کی آنکھوں میں گاڑھی۔
”تم نے اختر سے کہا کہ میں تمہاری……“اس نے سختی سے لب بھینچ لیے، معنوں الفاظ دم توڑ گئے ہوں۔زخرف نے آنکھیں میچ لیں۔اپنے پسندیدہ شخص کی آنکھوں میں اپنے لیے بے اعتباری دیکھنا اپنے آپ میں بہت بڑی سزا تھی۔
”کس کس کے ساتھ چکر ہے تمہارا؟اور وہ کون تھا جس نے تمہیں وہ پھول……“
”بس چپ کر جائیں۔اس کا ذکر بھی مت کریں۔“اس نے تنفر سے رخ موڑا۔زبان میں کڑواہٹ گھلی اور آنکھوں میں حقارت…….”میں آج یہاں اس کی وجہ سے ہوں۔اگر کہیں مل گیا تو جان سے مار دوں گیئں اسے۔“اس کی آنکھیں اس قدر سرخ ہو گیئں معنوں خون برسانے لگی ہوں۔سرمئی آنکھوں میں اب نمی نہیں تھی،انتقام کی لالی تھی۔
”کیوں؟بیچ راہ میں چھوڑ گیا تمہیں؟“وہ اپنی زبان سے برچھیاں برسانے لگا، ہر لفظ زخرف کے دل کو چیڑتا چلا گیا۔
”آپ بھی تو شگوفہ سے رابطے میں تھے۔چھپ کر نکاح تک کر لیا۔آپ کے نکاح کی خبر سن کر ہی میری طبیعت بگڑی تھی اور پھر میں نے……اپنا بھالو کھو دیا۔“آواز روندھ گئی۔ایک بار پھر وہ کمزور پڑنے لگی۔
”یعنی تم اپنا جرم قبول کر رہی ہو؟“بات ایک بار پھر زخرف کے کردار پر آ ٹھہری۔
”جو جرم میں نے کیا ہی نہیں،اسے ہر گز قبول نہیں کروں گیئں۔اس گھر سے تب تک نہیں جاؤں گیئں جب تک اپنی بے گناہی ثابت نہ کر دوں۔جب تک آپ کو پچھتاؤے میں گھرا ہوا نہ دیکھ لوں۔“اس کی زبان سے بڑے بڑے دعوے سن کر وہ ہنس دیا تھا۔
”مجھے اپنے کسی عمل پر کوئی پچھتاوا نہیں اور ہاں…..تم اس گھر سے کہیں نہیں جا سکتی۔تمہیں چاہے ایک بار طلاق ہو یا دس بار…… تمہیں آزادی نہیں ملے گی۔“اس کا بازو دبوچ کر سِماک نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا۔اس کی نگاہوں میں محض حقارت ہی حقارت تھی معنوں سامنے والے کو زندہ درگور کرنا چاہ رہا ہو۔
”میں یہاں سے بھاگ بھی سکتی ہوں۔“اس نے جتایا تھا۔جوابا سِماک کا ہاتھ اٹھا اور رحمی سے اس کی گال پر نشان ثبت کر گیا۔”تراخ“ آواز چھت سے ٹکڑا کر زخرف کے دل میں کہیں گونجی۔گال پر پڑنے والا تھپڑ روح تک کو چھلنی کر گیا تھا۔گال پر ناں صرف سرخی ابھری بلکہ آنکھوں سے بے آواز آنسو بھی بہنے لگے۔
”تمہاری سوچ ہے کہ تم یہاں سے بھاگ سکتی ہو۔“سماک نے اسے بالوں سے پکڑا، وہ آنکھیں میچ گئی۔آنسو متواتر بہتے رہے۔
”تم اس بندھن سے کبھی آزاد نہیں ہو سکتی یہاں تک کہ میں مر جاؤں۔“زخرف نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں۔بال ابھی تک سِماک کی گرفت میں تھے۔دل میں ایک ٹھیس سی اٹھی۔وہ کتنی آسانی سے مرنے کی باتیں کر رہا تھا؟کوئی اس وقت زخرف کے دل کا حال پوچھتا،تو یقیناً اسے ٹوٹا بکھرا ہوا پاتا۔
سِماک نے ایک جھٹکے سے اس کے بال چھوڑے اور تیزی سے بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔وہ کئی ثانیے کمرے کے دروازے کو گھورتی رہی جہاں سے وہ ابھی باہر نکلا تھا۔
زخرف فاطمہ کی یہاں کسی کو ضرورت نہ تھی۔وہ بس ردی کا کاغذ کے علاؤہ کچھ نہ تھی۔کبھی کمرے میں،کبھی برآمدے میں،کبھی غانیہ کے پاس،کبھی کچن تو کبھی سٹور……جس کا جب جہاں دل چاہتا،اسے پھینک دیتا۔
مسلسل حادثوں سے بس مجھے اتنی شکایت ہے
کہ یہ آنسو بہانے کی بھی تو مہلت نہیں دیتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے غزوان کے گھر آئے ابھی بمشکل چند روز ہی گزرے تھے کہ غزوان کی جانب سے جی کھٹا ہو گیا تھا۔وہ بات بے بات اسے چھیڑ دیتا۔کبھی دل والے ایموجیز بھیجتا تو کبھی معنی خیز مسکراہٹ کا تبادلہ کرتا۔قانِتہ کا بس چلتا تو وہ غزوان نامی بلا کو کسی دوسرے سیارے پر ہی چھوڑ آتی۔طیبہ اور جہانزیب سے البتہ اس کی اچھی خاصی دوستی ہو چکی تھی۔اگر غزوان اس گھر میں نہ ہوتا تو یقیناً وہ بےحد خوش رہتی مگر افسوس کہ یہ ممکن نہ تھا۔
”کیا مصیبت ہے؟“دسویں بار کی گئی کال پر قانِتہ نے ناگواری سے پوچھا تھا۔وہ اس وقت اپنے والدین کی تصاویر دیکھ کر ماضی کے خوشگوار لمحات کو یاد کر رہی تھی جب غزوان کی مسلسل آتی کالز نے اس کا پارہ چڑھا دیا تھا۔
”تم رو رہی ہو؟“اس کے کہے جملے پر وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی تھی۔دل زور سے دھڑکا۔وہ تو خود کو کمپوز کر چکی تھی پھر…..پھر وہ کیسے جان گیا تھا؟
”تم سے شادی کر کے خوش ہونے سے تو رہی۔“اس نے کچھ سنبھل کر طنز کیا۔دوسری جانب سے جاندار قہقہہ ابھرا۔
”غزوان جہانزیب روتے ہوئے کو ہنسانا جانتا ہے پری وَش۔“
”کیوں کال کی ہے؟“
”بیوی کو کال کرنے کے لیے کوئی وجہ ہونا ضروری ہے؟“ہمیشہ کی طرح وہ آج بھی خوشگوار موڈ میں تھا۔
”سر مت کھاؤ۔بتاؤ کیوں فون کیا ہے؟“نجانے کب تک یہ تلوار اس کے سر پر لٹکتی رہنی تھی؟
”مس کر رہا ہوں تمہیں۔“
”ہم ایک ہی گھر میں رہ رہے ہیں۔“وہ دانت پیس کر گویا ہوئی۔
”پھر آ جاؤں تمہارے کمرے میں؟“غزوان کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔
”یہیں تمہاری قبر بنا دوں گیئں،اگر ایسا سوچا بھی تو“غضب ناک آواز میں دھمکی دی گئی۔غزوان لب دبا گیا۔
”مہ جبین،اتنا غصہ صحت کے لیے اچھا نہیں۔کبھی تو شرما بھی لیا کرو۔“بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے وہ پیروں کو قینچی کی صورت میں پھیلائے اسے چھیڑ رہا تھا۔
”جوکر کو دیکھ کر کون شرماتا ہے؟“وہ شدید بیزار ہوئی تھی۔
”جوکر تو مت کہو جانان، ویسے اچھا ہی ہے جو تم نہیں شرماتی۔ساری شرم شادی کے بعد کے لیے بچا کر رکھی ہے ناں؟“قانِتہ نے لمبی سانس لے کر خود کو کچھ غلط کہنے سے روکا۔دل چاہا کہ منہ بھر بھر کر اس شخص کو القابات سے نوازے جو انجانے میں شوہر کے منصب پر فائز ہو چکا تھا۔نجانے وہ کون سا کمزور لمحہ تھا جب اس نے نکاح کے لیے ہامی بھری تھی۔
”ویسے رخصتی کا کیا خیال ہے؟میری تو ہر رات کانٹوں پر گزرتی ہے۔ایک ہی گھر میں تم سے دور رہنا کتنا مشکل ہے،جانتی ہو؟“قانِتہ نے بے اختیار فون کان سے ہٹایا۔پیشانی پر پسینے کی بوندیں ابھرنے لگیں۔دل بس باہر آنے کے قریب تھا۔وہ کہنا چاہتی تھی کہ خدارا مجھ سے اس قسم کی گفتگو مت کرو۔میرے زخم ہرے ہو جاتے ہیں مگر کہہ نہیں سکی۔کس حیثیت سے کہتی؟کیا جواز پیش کرتی؟
بمشکل دل کو سنبھالا اور فون دوبارہ کان سے لگایا۔
”غزوان مجھے نیند آ رہی ہے۔“اسے یہ کہنے کی ضرورت تو نہیں تھی۔وہ ایسے بھی تو کال کاٹ سکتی تھی مگر پھر بھی اطلاع دینا اس نے فرض سمجھا۔وجہ وہ فلحال نہ سمجھ سکی۔
”شاباش، پہلے پاپا نے رخصتی نہ کر کے میرے ارمانوں کا جنازہ نکالا اور اب تم بات نہ کر کے مجھ بیچارے کا دل بالکل ہی توڑ دو۔“اس کا لہجہ نہایت افسردہ تھا، اتنا افسردہ کہ لمحہ بھر کو قانِتہ کو اس سے ہمدردی ہوئی۔اس کی توقعات غلط نہیں تھیں مگر کم از کم قانِتہ ان توقعات پر پورا نہیں اتر سکتی تھی۔وہ تو طلاق کے بارے میں سوچ چکی تھی۔صبح ہوتے ہی اسے سیدھا جہانزیب سے بات کرنی تھی اور اگر وہ نہ بھی مانتے تب بھی وہ خودمختار تھی۔جس ریاست میں رہ رہی تھی،وہاں کسی قسم کے دباؤ میں آنا ناممکن سی بات تھی۔وہ چاہتی تو علیحدگی اختیار کر سکتی تھی۔یہ بس طیبہ اور جہانزیب کی بےپناہ محبت تھی جس نے اسے روک رکھا تھا۔وہ چاہتی تھی کہ وہ اچھے طریقے سے ان سے بات چیت کر کے یہ رشتہ ختم کرے۔جس کے ساتھ وہ اس بندھن میں بندھی تھی، اسے یہ سب بتانا نہ اس نے اپنا فرض سمجھا تھا اور نہ اس بیچارے کے فرشتوں کو بھی اس بات کا علم تھا۔
”تمہاری کمپنی میں کیا کوئی خوبصورت لڑکی نہیں ہے؟“اب وہ اپنے بیچارے شوہر کی دوسری شادی کروانے کا سوچ رہی تھی۔
”فکر مت کرو گلابے، میں تمہارے علاؤہ کسی کی طرف نہیں دیکھوں گا۔“اگر وہ اس کے ارادوں کے متعلق جان جاتا تو یقیناً غش کھا کر گر جاتا۔
”ویسے میں نے آج صبح بھی پاپا سے رخصتی کی بات کی تھی۔“قانِتہ کا دل دھک سے رہ گیا۔آنکھیں بے اختیار پھیل گئیں۔
”مگر انہوں نے سختی سے منع کر دیا۔کہہ رہے تھے جب تک قانِتہ نہیں چاہے گی،ایسا کچھ نہیں ہو گا۔میرے سارے ارمان دھرے کے دھرے رہ گئے۔“قانِتہ کی اٹکی سانس معنوں بحال ہوئی۔ایک جانب سے تو کچھ سکون نصیب ہوا۔
”ویسے رخصتی کب کی رکھیں؟“
”تین سو سال بعد کی۔“وہ سوچ کر رہ گئی۔
”یار کچھ رحم کرو میری حالت پر اور جلدی سے میرے پاس آ جاؤ۔“قانِتہ نے ایک بار پھر آنکھیں بند کیں۔غزوان کی سوئی ایک جگہ آ کر رک چکی تھی۔قانِتہ کو اب غصہ آنے لگا۔
اندر ہی اندر وہ جہانزیب کی مشکور بھی تھی اور تھوڑی دیر پہلے دل میں ابھرتی غزوان کے تیئں ساری ہمدردی اڑن چھو ہو چکی تھی۔تھا تو وہ بھی ایک مرد ہی،اس کی اور کیا خواہش ہو سکتی تھی؟
”تم سن رہی ہو ناں؟“
”ہاں اور بہت اچھے سے سمجھ بھی رہی ہوں۔“اس نے دانت کچلا کر کہا۔
”جلدی سوچو کچھ۔“
”میرا فلحال رخصتی کا کوئی ارادہ نہیں۔تمہیں زیادہ جلدی ہے تو دوسری شادی کر لو۔“اس کی تیز آواز پر غزوان نے بمشکل امڈتے قہقے کو روکا۔جانتا تھا کہ فلحال اس کا چہرہ شرم اور خفت سے سرخ ہو چکا ہو گا۔دل نے اسے دیکھنے کی تمنا ظاہر کی۔غزوان نے تھپکیاں دے دے کر دل کی تمنا کو بمشکل گہری نیند سلایا۔
وہ بس اسے تنگ کر رہا تھا۔اگر وہ جان جاتی کہ رخصتی جہانزیب نے نہیں غزوان نے خود ڈی لے کروائی ہے تو یقیناً اس گفتگو کے بعد اس کا سر پھاڑ دیتی۔جہانزیب بغیر رخصتی کے قانِتہ کو اس طرح گھر لانے پر رضامند نہیں تھے۔یہ غزوان ہی تھا جس نے اس کی خواہش کا احترام کیا تھا مگر ساتھ ہی ساتھ اسے تنگ کرنا خود پر فرض کر لیا تھا۔
”نہیں مجھے تم ہی چاہیئے۔میری آنکھوں میں جو تمہارے ایک دیداد کی آگ جل رہی ہے ناں،وہ صرف تمہیں دیکھ کر ہی ٹھنڈی ہو گی۔“
”تمہاری آگ تو میں ٹھنڈی کرتی ہوں۔“نہایت غصے سے کال کاٹی اور بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔دوسری جانب غزوان کا قہقہہ گونجا۔قانِتہ کی نیندیں حرام کر کے وہ اب سکون سے سو سکتا تھا۔
فون ایک طرف پھینک کر وہ اب سونے کی تیاری کرنے لگا۔دوسری جانب قانِتہ کا پارہ آسمان پر چڑھ چکا تھا۔وہ اس وقت نائٹ ڈریس میں ملبوس تھی۔سلپرز پہن کر وہ کچن تک آئی اور فریزر سے کیوبز نکال کر ایک باؤل میں ڈالتی رہی،یہاں تک کہ باؤل بھر گیا۔
”تمہارا بندوبست تو کرتی ہوں میں۔“وہ تیزی سے غزوان کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔غزوان کی قسمت خرابی،دروازہ کھلا ہوا تھا۔بستر تک پہنچتے قانِتہ نے لمیپ آن کیا پھر برف کی کیوبز بھر کر غزوان کے اوپر ڈال دیں۔وہ جو اچانک لائٹ آن ہونے پر بوکھلا گیا تھا،اس عمل پر تو اس کی سٹی ہی گم ہو گئی۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ قانِتہ رات کے اس پہر اس کے کمرے میں آئے گی اور یہ سب کرے گی۔
ٹھنڈ کا احساس ہوتے ہی وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھا مگر قانِتہ نے اسے چلانے یا بستر سے اٹھنے کا موقع نہیں دیا۔اس کی شرٹ دبوچ کر اسے واپس بستر پر پٹخا، یہاں تک کہ وہ چت بستر پر گر گیا۔
”مزا آیا اب۔“اس کا منہ دبوچ کر اب وہ برف کے کیوبز ڈال رہی تھی۔وہ یہ کیوں کر رہی تھی،یہ تو اسے خود بھی معلوم نہیں تھا تو پھر بیچارے غزوان کو کیا سمجھ آتی؟
”پاگل ہو گئی ہو کیا تم؟“منہ میں بھری کیوبز کو ایک طرف تھوک کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔شرٹ جھٹک جھٹک کر برف نکالی اور گھور کر قانِتہ کو دیکھا۔
”کیا فضول حرکت تھی یہ؟“وہ غصے سے پھنکارا، یہاں تک کہ قانِتہ سہم گئی۔اسے اب کہیں جا کر ہوش آیا۔یہ اس نے کیا کر دیا تھا اور کیوں؟گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔اب وہ غزوان کو اپنی اس حرکت کا کیا جواز پیش کرے؟”یہ کہ اس کا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا تھا یا پھر……“وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی جب چہرے پر پڑتے پانی نے اس کی سوچ اور الفاظ دونوں کو ہی ختم کر دیا۔غزوان نے پانی کا جگ اس کے چہرے پر پھینکا تھا۔چہرہ کیا کپڑے بھی بھیگ چکے تھے۔
”حساب برابر۔“وہ ہاتھ جھاڑتا اب مطمئن کھڑا تھا۔اگر وہ یہ سوچ رہی تھی کہ وہ لحاظ کر جائے گا تو یہ اس کی سب سے بڑی بھول تھی۔
”تم……“سارا ڈر جیسے اڑن چھو ہوا تھا۔اب آنکھوں میں صرف غصہ ہی غصہ تھا۔قانِتہ نے برف کی کیوبز کا باؤل اٹھایا اور غزوان پر اچھال دیا۔ٹھنڈ کا احساس ایک طرف اور جو کیوبز پتھر کی طرح اس کے وجود سے ٹکرائے،اس کا درد ایک طرف…….
”تم اب ٹھہر جاؤ پری وَش……“قانِتہ نے غزوان کی نگاہوں کا تعاقب کیا۔آنکھیں خوف سے پھیل گیئں۔وہ اٹیچڈ باتھ اسپیس کی جانب دیکھ رہا تھا۔
”نہیں……“ہراساں نگاہوں سے اس نے غزوان کی جانب دیکھا اور اگلے لمحے اس طرف دوڑ لگا دی۔دروازے پر وہ ہاتھ رکھ کر ایسے کھڑی ہو گئی معنوں کسی کو اندر نہ جانے دے گی۔
”ہٹ جاؤ میرے راستے سے پری وَش۔“غزوان نے خونخوار نگاہوں سے اسے گھورا پھر ہینڈل پر رکھے قانِتہ کے ہاتھ کے اوپر اپنا ہاتھ رکھا۔
”تم بہت اچھے ہو غزوان۔“وہ زبردستی مسکرائی۔
”ناں جانم، میں بہت برا ہوں۔“اس نے ہینڈل گھمانے کی کوشش کی۔
”میں لڑکی ہوں غزوان،کچھ تو خیال کرو۔“آنکھیں ٹپٹپائے عورت کارڈ کھیلنے کی کوشش کی گئی جو بالکل ناکام ٹھہری۔
”رشتہ برابری کا ہے تو مقابلہ بھی برابری کا ہو گا۔“
”اچھا سوری۔“اس نے گو کہ ہتھیار ڈال دیے۔
“Not Accepted”
وہ بخشنے کے موڈ میں نہ تھا۔
”اچھا،پانی مت پھینکو۔اس کے بدلے کچھ بھی۔“رشوت دینے کی کوشش کی گئی جو کچھ حد تک کامیاب بھی ٹھہری۔
”پکا؟“آبرو ریز کر کے پوچھا۔قانِتہ نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔
”ڈانس کرنا ہو گا،میرے ساتھ……“اس نے گو کہ بم پھوڑا۔قانِتہ کا منہ بے اختیار کھل گیا۔
”اچھا ٹھیک ہے۔“بادل نخواستہ ہامی بھری۔غزوان نے راستہ چھوڑ دیا۔وہ دو قدم آگے بڑھی،غزوان اس کے پیچھے ہی تھا۔قانِتہ نے کن انکھیوں سے اسے دیکھا اور پھر دروازے کی سمت دوڑ لگا دی۔
”اوئے……“غزوان بھی اس کے پیچھے بھاگا اور دہلیز سے تھوڑا پہلے اسے جا لیا۔اب قانِتہ کی کلائی غزوان کے ہاتھ میں تھی۔وہ مسلسل اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی مگر بے سود……
”چالاک کہیں کی۔دھوکہ دو گی تم مجھے۔“
”چھوڑو مجھے۔“قانِتہ نے غصے سے کہا۔
”نہ چھوڑوں تو؟“
”میں کراٹے ایکسپرٹ ہوں۔سیلف ڈیفینس سے لے کر کس کی کون سی نبض دبا کر مارنا ہے،سب پتا ہے مجھے۔“یہ محض دھمکی نہیں تھی، وہ سچ میں یہ سب جانتی تھی۔
”چلو پھر کر لو جو کرنا یے۔میں نہیں چھوڑ رہا۔“غزوان نے جھٹکا دے کر اسے اپنی جانب کھینچا یہاں تک کہ فاصلہ نہ ہونے کے برابر رہ گیا۔اب وہ اس کی کمر کے گرد حصار باندھے کھڑا اسے چیلنج کر رہا تھا۔
”میں یہ لحاظ بھی نہیں کروں گیئں کہ تم میرے نام نہاد شوہر ہو۔“ایک اور دھمکی دی گئی۔
”تم……“غزوان کا جملہ مکمل نہیں ہو سکا تھا کیونکہ کسی نے زور سے دروازہ ناک کیا تھا۔وہ جہانزیب یوسفزئی تھے۔
دونوں میاں بیوی نے ایک ساتھ اس سمت دیکھا تھا۔دونوں کی سانس ایک ساتھ تھمی تھی۔جہانزیب کی آنکھوں میں قہر کے سوا اور کچھ نہ تھا۔غزوان فورا قانِتہ سے دور ہوا اور معنوں قانِتہ تو اس ہی لمحے کے انتظار میں تھی۔اس نے سر پٹ اپنے کمرے کی جانب دوڑ لگا دی۔
غزوان خفت سے بچنے کے لیے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔جہانزیب چند لمحے خفا نگاہوں سے اسے گھورتے رہے پھر بغیر کچھ کہے کمرے سے چلے گئے۔
کمرے میں پہنچ کر قانِتہ نے دروازہ لاک کر لیا۔اس کا پور پور شرم سے پانی پانی ہو چکا تھا۔
بارسلونا جیسے جدید شہر میں نکاح کے بعد یا پہلے بھی گھومنا پھرنا معیوب نہ سمجھا جاتا تھا۔وہ رات کے اس پہر بھی غزوان کے ساتھ گھومتی پھرتی تو کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوتا مگر یوں اس حالت میں اس کے کمرے میں قانتہ کی موجودگی……اس نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپایا۔”نجانے وہ کیا سوچ رہے ہوں گے؟“اسے غصہ بھی آیا اور رونا بھی۔رونا اسے اپنی حماقت پر آیا۔آخر کیا ضرورت تھی غزوان کے کمرے میں جانے کی؟اور غصہ……غصہ تو صرف غزوان پر ہی آ سکتا تھا۔ساری غلطی اس کی تھی۔نہ وہ اسے غصہ دلاتا اور نہ وہ اس کے کمرے میں جاتی۔اور اگر چلی بھی گئی تھی تو کیوں وہ اسکے اتنا قریب آیا؟سارا قصور غزوان کا تھا۔قانِتہ یزدان بے قصور تھی۔
دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر وہ بستر پر بیٹھ گئی۔دماغ پر محض ایک لفظ ہتھوڑے کی مانند بج رہا تھا۔اور وہ تھا ”رخصتی……“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
