Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam E Bandhan (Episode 48)
Rate this Novel
Rasam E Bandhan (Episode 48)
ائرپورٹ کے دروازے کھلتے ہی باہر کی سرد ہوا نے ان دونوں کو اپنی آغوش میں لے لیا۔بارسلونا کی نسبت یہ ٹھنڈ کچھ الگ تھی۔برفیلی ہوا کے جھونکوں نے قانِتہ کے گال سرخ کر دیے اور غزوان نے بھی سردی کی شدت سے بچنے کے لیے جیکٹ کی زپ بند کر لی۔
اسلام آباد ائرپورٹ سے جیسے ہی وہ گاڑی میں بیٹھے سڑکوں پر بکھری بارش کی نمی اور دھند میں لپٹے سائن بورڈ سب کچھ ایک پرانی یاد کی طرح لگ رہا تھا۔ہموار شاہراہ کے کنارے درختوں کی شاخیں جھک کر جیسے ان کا خیرمقدم کر رہی تھیں مگر آسمان پر چھائے گہرے بادل کچھ اور ہی کہانی سنا رہے تھے۔
”پاپا آپ لوگ کس ہسپتال میں ہیں؟“اس نے ڈرائیو کرتے فکرمندی سے پوچھا۔گاڑی وہ پہلے ہی قتادہ کی مدد سے ارینج کر چکا تھا۔
”شانگلہ کے قریب پرائیویٹ ہسپتال ہیں،وہیں پر ہیں۔تمہاری ماں کی حالت قدرے بہتر ہے۔وہ اب خطرے سے باہر ہے۔میں نے منع کیا تھا کہ مت آؤ اور تم قانِتہ کو بھی ساتھ لے آئے؟“آخر میں ان کا لہجہ کچھ برہم ہوا تھا۔
”اوکے بائے پاپا۔“اس نے کہہ کر کال کاٹ دی۔ماں کی طبیعت خرابی کی پریشانی اتنی زیادہ تھی کہ وہ فلحال کوئی جھڑک سننے کے موڈ میں نہ تھا۔
ہاں،اسے اب قانِتہ کو ساتھ لانے پر افسوس ہو رہا تھا۔فلائیت میں بیٹھنے سے لے کر اترنے تک وہ خاموش اور بجھی بجھی سی لگ رہی تھی۔یہ پاکستان آنے کے آثار تھے یا پھر اس کی طبیعت خراب تھی،غزوان کو علم نہ ہو سکا تھا۔اس کے ذہن پر اس وقت صرف اپنی ماں سوار تھی لیکن اسے اپنے کیے پر افسوس ضرور تھا۔اسے کم از کم اس قدر خود غرض نہیں ہونا چاہیئے تھا۔زندگی میں پہلی بار اس نے قانِتہ سے زیادہ خود کو فوقیت دی تھی۔وہ اس کے بار کہنے پر ہی اسے پاکستان لے آیا تھا۔اپنے لیے،اپنی ماں کے لیے…..اس کی یہ خود غرضی ان کی زندگی میں کیا نیا موڑ لانے والی تھی یہ ابھی دیکھنا باقی تھا۔
”تم ٹھیک ہو؟“غزوان نے اپنے ساتھ بیٹھی قانِتہ سے پوچھا۔
”ہمم…..“اس نے صرف اتنا کہا۔اتنے سالوں بعد اس سر زمین پر قدم رکھنا اس کے دل کو ڈوبا رہا تھا پھر کچھ سفر کی تھکان بھی تھی۔
غزوان نے اس کے اگے کچھ نہ پوچھا۔بس ایک موڑ پر اس نے گاڑی روکی اور اتر کر بیکری کے اندر داخل ہوا۔
کھانے پینے کا کچھ سامان اس نے گاڑی میں لا کر رکھ دیا۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی وجہ سے قانِتہ کو کوئی اور مسئلہ ہو۔
گاڑی کا ہیٹر پوری رفتار سے چل رہا تھا مگر اندر دلوں میں سردی اتر چکی تھی۔ہر گزرتا منٹ جیسے ایک صدی بن چکا تھا۔باہر بوندا باندی نے اب برف باری میں بدلنا شروع کر دیا تھا۔ پہاڑوں کی طرف بڑھتی سڑک،موڑوں پر سرسراتی ہوا اور ہر طرف خاموشی نے قانِتہ کا دل مزید بجھا دیا تھا۔اس کی طبیعت خراب ہونے لگی تھی مگر اس نے غزوان سے کچھ نہ کہا تھا۔وہ پہلے ہی پریشان تھا،وہ اسے مزید پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔
موٹروے سے نکل کر جب گاڑی ایبٹ آباد کی پہاڑی سڑکوں پر چڑھنے لگی،تو دھند کچھ اور گھنی ہو گئی۔درختوں کے سائے جیسے سڑک کنارے کھڑے ماتم کرنے لگے اور دور کہیں کتے کے بھونکنے کی آواز سنائی دی۔
وہ نجانے کتنے گھنٹوں سے ڈرائیو کر رہا تھا۔درمیان میں کئی بار اس نے رک کر قانِتہ سے اس کی طبیعت پوچھی تھی۔ہر بار اس نے یہی کہا تھا کہ وہ ٹھیک ہے۔
سردی تھی کہ برھتی ہی چلی جا رہی تھی۔دور کہیں بورڈ لگا نظر آیا۔
”ضلع شنگالہ،پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر۔“
راستے خراب تھے۔ہر طرف برف جمی ہوئی تھی۔علاقہ ویسے ہی پسماندہ تھا۔غزوان یہاں کے راستوں سے لاعلم تھا۔وہ پاکستان کئی بار آ چکا تھا مگر اس علاقے میں وہ بچپن میں ہی آیا تھا،س کے بعد کبھی نہیں۔
غنودگی کی وجہ سے قانِتہ کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔اسے علم نہ تھا کہ قسمت اسے کہاں لے کر جا رہی ہے۔اس نے نہ راستوں پر دھیان دیا تھا اور نہ وہاں لگے سائن بورڈ پر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزوان نے ہسپتال کے باہر گاڑی روکی۔قانِتہ ایک جھٹکے سے اٹھی تھی۔نیم غنودگی کی حالت میں وہ دروازہ کھول کر باہر نکلی۔سر چکرانے لگا تھا مگر فلحال طیبہ مورے کی حالت کے پیش نظر اس نے اپنی طبیعت کو نظر انداز کر دیا تھا۔
طویل راہداری سے گزر کر وہ مطلوبہ کمرے تک پہنچے تھے۔کوریڈور میں ہی ان کا ٹکراؤ جہانزیب سے ہوا تھا۔
”مورے کیسی ہیں؟“غزوان نے فکرمندی سے پوچھا۔
”بہتر ہے۔“وہ دروازہ دکھیلتے اندر داخل ہوا۔طیبہ آنکھیں موندے بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔حالت قدرے بہتر تھی لہٰذا آکسیجن ماسک ہٹا کر اب نوزل لگا دی گئی تھی تا کہ اکھڑتی سانسوں کو کوئی سہارا ملے اور دل پر زیادہ وزن نہ پڑے۔
”مورے……“غزوان نے نرمی سے اپنی ماں کا ایک ہاتھ تھام لیا جبکہ دوسرے ہاتھ میں ڈرپ لگی تھی۔
طیبہ نے آہستگی سے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔بنجر آنکھوں میں ٹھنڈ پڑ گئی۔بیٹے کا چہرہ سامنے آتے ہی انہیں اپنی ساری تکلیف جاتی ہوئی محسوس ہوئی۔
وہ ان کا ہاتھ تھامے نجانے کتنی دیر وہاں بیٹھا رہا۔ان سے باتیں کرتا رہا۔دل چاہا کہ پھوٹ پھوٹ کر رو دے مگر ماں کے سامنے فلحال نہیں ٹوٹ سکتا تھا۔
قانِتہ بھی تھوڑی دیر طیبہ کے پاس بیٹھی رہی تھی پھر اس نے ماں اور بیٹے کو تنہا چھوڑ دیا تھا۔
غزوان تب تک اپنی ماں کے پاس بیٹھا رہا تھا جب تک نرس نے اسے جھاڑ پلا کر وہاں سے جانے کو نہیں کہا تھا۔
”قریب ہی ہوٹل ہے۔میں بھی وہیں رکا ہوا ہوں۔تم لوگ جا کر آرام کرو۔“جہانزیب نے نرمی سے کہا۔
”میں اپنی ماں کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہا۔“غزوان کرسی پر ٹک گیا تھا۔ماں کو یوں مشینوں میں جکڑے دیکھ کر اس کا دل کانپنے لگا تھا۔
”مائنر ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔اب بالکل ٹھیک ہے۔دو تین دنوں میں ڈسچارج بھی ہو جائے گی۔تم لوگ جا کر آرام کرو۔لمبے سفر سے آئے ہو۔قانِتہ بھی تھک گئی ہو گی۔“انہوں نے ایک بار پھر محبت سے اسے سمجھایا۔
”ہاں تو آپ چلیں جائیں ہوٹل،ساتھ اپنی بہو کو بھی لے جائیں۔میں مورے کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہا۔“وہ ضد پر اڑ چکا تھا۔جہانزیب نے گھور کر اس چھ فٹ لمبے ماں کے دلار کو دیکھا جو اس وقت کوئی پانچ سالہ بچہ معلوم ہوتا تھا جسے ماں کی انگلی چھوٹ جانے کا غم کھائے ہی چلا جا رہا تھا۔عین ممکن تھا کہ وہ کچھ ہی دیر میں دھاڑیں مار مار کر رونے لگ جاتا۔
”ٹھیک ہے تو پھر تم ایک کام کرو۔قانِتہ کو ہوٹل چھوڑ آؤ اور خود جا کر اپنی مورے کے میکے سے اس کا سامان لے آؤ۔واپسی ہسپتال آ جانا۔“جہانزیب لمحہ بھر کے لیے بھی اب یہاں ٹھہرنا نہیں چاہتے تھے اور طیبہ کے رشتے داروں کے گھر تو بالکل نہیں۔طیبہ کی حالت جیسے ہی تھوڑی بہتر ہوتی وہ اپنے خاندان کو لے کر اسلام آباد چلے جاتے۔وہاں ان کے جاننے والے بہت تھے۔پھر کچھ وقت وہاں ٹھہرنے کے بعد جب طیبہ لمبے سفر کے لیے تیار ہوتی تو وہ اسپین روانہ ہو جاتے۔
سوچ اچھی تھی مگر یہ کہاں لکھا ہے کہ ہر چیز آپ کی سوچ کے مطابق ہی ہو؟
جہانزیب کے لاکھ سمجھانے کے بعد بھی غزوان نے ڈاکٹر سے خود اپنی ماں کی طبیعت پوچھی تھی۔جب تک ڈاکٹر نے اسے ہر طرح سے مطمئن نہیں کیا تھا،اسے سکھ کا سانس نہ آیا تھا۔آخر سوال اس کی ماں کا تھا اور ماں کے معاملے میں تو اولاد اپنے سگے باپ پر بھی اعتبار نہیں کرتی۔
”انکل آپ جا کر کچھ دیر آرام کر لیں۔مورے کے پاس میں ہوں۔“
”بہت شکریہ بیٹا۔مگر آپ جا کر آرام کریں۔طیبہ میری بیوی ہے اور اپنی بیوی کا خیال بھلا ایک شوہر سے زیادہ کون رکھ سکتا ہے؟“انہوں نے شائستگی سے اس کی آفر کو رد کر دیا جبکہ آخری جملہ انہوں نے باقاعدہ غزوان کو گھور کر کہا تھا۔وہ اسے جتا گئے تھے کہ وہ اس کی ماں ہونے سے پہلے جہانزیب کی بیوی ہے لہٰذا وہ اپنی بیوی کا بہتر خیال رکھ سکتے ہیں۔غزوان اپنی بیوی پر دھیان دے تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔
اس گھوری اور جملے کا جواب وہ بخوبی دیتا اگر ہسپتال میں بیوی کی آنکھوں کے سامنے جوتا پڑنے کا خوف نہ ہوتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوٹل کے کمرے میں سامان رکھوانے کے بعد وہ جا ہی رہا تھا جب قانِتہ نے اسے روکا۔
”میں ساتھ چلوں گیئں۔تمہارا کیا بھروسہ،ایک چیز لے کر آؤ اور چار چھوڑ کر آ جاؤ۔“غزوان نے کندھے اچکا کر ہامی بھر لی۔وہ کچھ غلط تو نہیں کہہ رہی تھی۔ہاں،ٹھیک ہے وہ سگھڑ تھا مگر اتنا بھی نہیں تھا کہ ٹھیک سے ایک بیگ پیک کر سکے۔
واپسی پر ان کے ساتھ طیبہ کا کوئی رشتے دار تھا جو صبح ہی طیبہ مورے سے ملنے وہاں آیا تھا۔باقی کے رشتے داروں کو جہانزیب پہلے ہی بھگا چکے تھے۔انہیں وہ لوگ سخت ناپسند تھے۔
وہ اپنی گاڑی میں بیٹھے اب اس آدمی کی گاڑی کی پیروی کر رہے تھے جو ان سے آگے تھا اور انہیں رستہ دکھا رہا تھا۔
قانِتہ ایک بار پھر گاڑی میں بیٹھی بیٹھی سو گئی تھی۔گاڑی پہاڑی راستوں پر آگے بڑھ رہی تھی اور قانِتہ اس بات سے لاعلم تھی کہ وہ اس وقت کہاں ہے اور اس کی منزل کیا ہے۔
”یار اگر تم زیادہ تھک گئی ہو تو پچھلی سیٹ پر جا کر سو جاؤں۔“غزوان نے اسے جگاتے ہوئے کہا۔اس نے مندھی مندھی آنکھوں سے غزوان کی جانب دیکھا اور پھر گردن موڑ کر شیشے کے پار۔”نہیں میں ٹھیک…..“تمام الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے۔اس کی بستی نے اس کا خیر مقدم کیا۔گاڑی سڑک پر چلتی رہی اور فضا میں گونجتی چیخیں اس کے کانوں میں پڑتی رہی۔غانیہ کی چیخیں،زخرف کی چیخیں……اس نے شیشہ نیچے کر کے شاک کی کیفیت میں سڑک کو دیکھا۔وہاں دو لڑکیاں بھاگ رہی تھیں۔اپنی عزت اور جان بچا کر۔غانیہ اور زخرف……قانِتہ کی سانس اس سردی میں جم گئی۔اسے سڑک پر بکھرے خون کے دھبے نظر آنے لگے۔غانیہ کو گولی لگی تھی۔پوری بستی اس گولی کی آواز سے گونج اٹھی تھی۔
ایک چیخ قانِتہ کے لبوں سے آزاد ہوئی۔غزوان نے فوراً اس کی جانب دیکھا اور گاڑی کو بریک لگائی۔
”کیا ہوا؟“وہ اب فکرمندی سے پوچھ رہا تھا۔قانِتہ کو اب ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے۔
”تم مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو؟“اس کی آواز سست پڑنے لگی۔
”مورے کے گھر جا رہے ہیں۔ہوا کیا ہے؟طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟“وہ حد سے زیادہ پریشان ہوا۔
”نہیں،میں ٹھیک نہیں ہوں۔واپس چلو۔غزوان پلیز واپس چلو۔مجھے ہوٹل چھوڑ آؤ۔اس کے بعد تمہیں جانا ہے،چلے جانا۔“طیبہ کا تعلق اس بستی سے تھا یا نہیں،اسے فلحال اس سب سے غرض نہیں تھی۔وہ بس یہاں سے جانا چاہتی تھی۔کہیں بہت دور۔
”اچھا اچھا،ریلیکس ہو جاؤ۔لو پانی پیو۔“قانِتہ نے ایک سانس میں ساری بوتل اندر انڈیل لی۔اب وہ ٹشو پیپر سے بار بار اپنا چہرہ صاف کر رہی تھی جو پسینے سے بھیگا ہی چلا جا رہا تھا۔
”ہم آدھے سے زیادہ راستہ تو پار کر آئے ہیں۔سامان لے کر واپس چلے جائیں گے ناں۔“
”کیسے شوہر ہو تم؟تمہیں میرا ذرا خیال نہیں ہے۔جب میں کہہ رہی ہوں کہ مجھے واپس جانا ہے تو جانا ہے۔میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔“وہ بس رو دینے کو تھی۔
”قانِتہ…..“غزوان نے اس کے ہاتھ پر دباؤ دے کر اسے پچکارا۔
”باہر دیکھو موسم کس قدر خراب ہے۔یہاں آس پاس کوئی ہسپتال یا ڈاکٹر نہیں ملے گا۔واپس جائیں گے تو بہت وقت لگ جائے گا۔آگے چلتے ہیں،آگے لوگ آباد ہیں۔یقینا کسی ڈاکٹر کا کلینک تو مل ہی جائے گا۔“
”غزوان تم میری بات……“
”بس تم حوصلہ رکھو۔“اس نے کہتے ساتھ ہی گاڑی سٹارٹ کر دی۔قانِتہ بےبسی سے اسے دیکھتی رہ گئی۔وہ اب اسے کیا سمجھاتی اور کیسے سمجھاتی۔دماغ مفلوج ہو گیا۔اسے سوچنے کے لیے وقت چاہیئے تھا اور وقت اس کے پاس تھا ہی کب؟قسمت اسے یہاں کھینچ لائی تھی،اب چاہے وہ جتنے مرضی ہاتھ پیر چلا لے،فائدہ مند ثابت نہیں ہونا تھا۔
”وہ گاڑی کہاں چلی گئی؟“غزوان نے دھند میں دیکھنے کی کوشش کی مگر کچھ واضح نظر نہ آیا۔کیمرہ جو دکھا رہا تھا،وہ بس دھند میں لپٹی سڑک تھی۔
”قانِتہ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟“
”میں بالکل ٹھیک ہوں غزوان۔بس جلدی سے مورے کا سامان لو اور واپس چلو۔“اس نے خود کو کمپوز کرتے ہوئے کہا۔
”تم سچ میں ٹھیک ہو ناں؟“قانِتہ نے زوروں شور سے اثبات میں سر ہلایا۔غزوان کو کچھ تسلی ہوئی۔
”نجانے وہ گاڑی کہاں چلی گئی؟“وہ احتیاط سے سڑک پر گاڑی چلاتے ہوئے اب اردگرد دیکھ رہا تھا۔نہ گاڑی نظر آئی اور نہ وہ شخص……خیر بستی اتنی بڑی تو نہیں تھی۔راستے بھی دو ہی تھے۔اس کے مطابق وہ صحیح جگہ جا رہا تھا۔
تھوڑا آگے جا کر اس کی گاڑی چلتے چلتے رک گئی۔
”حد ہے۔“اس نے زور سے ہاتھ گاڑی پر دے مارا۔اتنی پریشانی میں اسے یاد ہی نہ رہا کہ گاڑی میں پیٹرول بھی ڈلوانا ہے۔
”کیا ہوا؟“
”پیٹرول ختم ہو گیا ہے۔“قانِتہ کے پوچھنے پر اس نے بےبسی سے جواب دیا۔اس سے پہلے کہ وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر نیچے اترتا،ایک بلا اس کے سر پر آ کھڑی ہوئی تھی۔جی ہاں،وہ بلا ہی تھی۔(کم از کم غزوان کے لیے)
”امارا(ہمارا) میمنا ام(ہم) کو واپس دو چور کہیں کے۔“ گوری رنگت مگر سخت تراشے گئے نقوش۔چھوٹی سی ناک،پتلی مگر جڑی ہوئی بھنویں،اور آنکھیں….گہری اور سیاہ۔
اس نے ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا شیشے پر مارا۔غزوان نے جلدی سے شیشہ نیچے کر لیا۔اب وہ فرصت سے اس چھوٹی سی بلا کا موازنہ کر رہا تھا جس نے پٹھانی طرز کی روایتی فراک نما قمیض پہن رکھی تھی جو گہرے نیلے رنگ کی تھی اور اُس پر رنگ برنگے دھاگوں سے کی گئی کڑھائی اسے پہاڑی قبیلے کی پہچان دے رہی تھی۔قمیض کے دامن میں چھوٹے چھوٹے آئینے جڑے ہوئے تھے۔نیچے چوڑی دار سفید شلوار تھی۔اس کے سر پر بڑی سی چادر تھی،جو اکثر پشت پر پھسل جاتی مگر وہ اسے جھٹک کر دوبارہ سنبھال لیتی۔
پاؤں میں چمڑے کی پشاوری چپل تھی جس پر مٹی جمی ہوئی تھی اور بازو پر ایک پرانا سا کپڑے کا تھیلا لٹکا ہوا تھا شاید اسی میں اس نے میمنے کی کچھ خوراک رکھی ہو۔
”امارا میمنہ واپس کرو۔“اس نے سرخ پڑتی آنکھوں کے ساتھ غزوان کو گھورتے ہوئے کہا۔
”کون سا میمنا؟“غزوان نے حیرت سے پوچھا۔
”زیادہ بننے کی ضرورت نیی(نہیں) ہے۔ام اچھے سے جانتا ہے توم شیری(شہری) بابوں کو۔توم امارا(ہمارا) میمنا چرایا پھر توم اس کا تکا بوٹی کر کے کھائے گا۔ام(ہم) توم(تم) کو بتا رہا ہے،اگر توم(تم) نے امارا میمنا ام(ہم) کو نہ دیا تو ام(ہم) تمارا(تمہارا) تکہ بوٹی کر کے کھا جائے گا۔“دھمکی بہت بڑی تھی مگر دینے والی بہت چھوٹی۔غزوان اس کی ہمت کو داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔
”بیٹا،ہم نے آپ کا میمنا نہیں چرایا۔آپ اسے کہیں اور جا کر ڈھونڈھے۔“قانِتہ نے نہایت شائستگی سے اسے سمجھانا چاہا۔
”او مارا،ام(ہم) توم کو کہاں سے بچہ لگتا ہے؟امارا(ہمارا) بس قد تھوڑا چھوٹا ہے۔“وہ مرنے مارنے پر اتر آئی تھی۔لمحہ بھر کو قانِتہ بھی دنگ رہ گئی۔
”تم چھوٹی ہو یا بڑی،ہمیں اس سےغرض نہیں ہے۔ہمارے پاس کوئی بکری نہیں ہے۔“غزوان نے ایک بار پھر عزت اور پیار سے اسے سمجھانا چاہا مگر لاتوں کے بھوت بھی کبھی باتوں سے مانے ہیں؟سو،وہ بھی نہیں مانی تھی۔
”بکری نہیں میم….نا…..اور توم شرافت سے امارا بچہ ام کو واپس دے گا ورنہ ام تمارا(تمہارا) گاڑی توڑ دے گا۔“
”اگر اماری(ہماری) گاڑی کو ایک کھروچ بھی آیا تم ام(ہم) تمارے(تمہارے) میمنے کو بھون کر کھا جائے گا۔“غزوان نے اس کے انداز کی بھرپور نقل اتارتے ہوئے کہا۔ایسا تھا تو پھر ایسا ہی سہی۔
”دیکھا ام(ہم) کو پیلے(پہلے) ہی پتا تھا،توم چور ہے۔ام(ہم) تمارا گاڑی کی تلاشی لے گا۔“
”لے کر دکھاؤ۔تم بھی یہیں ہو،ہم بھی یہیں ہیں۔“دو ڈھیٹ آمنے سامنے تھے۔دیکھنا اب یہ تھا کہ جیت کس کی ہوتی ہے۔
قانِتہ نے بےبسی سے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لی۔اس لڑائی میں پڑنے کا اس کا نہ تو کوئی موڈ تھا اور نہ ہی سکت۔
ویسے بھی دو پٹھانوں کو لڑنے ہی دینا چاہیے۔درمیان میں جو تیسرا شخص آتا ہے،اصل تکہ بوٹی تو اس کی بنتی ہے۔
”ام توم کو اپنے قبیلے کے لوگوں سے مار پڑوائے گا۔“اگلی دھمکی دی گئی تھی۔
”اور وجہ کیا بتائے گا؟یہی کہ ام نے تمارا میمنا چرایا ہے؟کیا ثبوت ہے تمارے پاس؟“وہ اب اسے چرا رہا تھا۔
چھوٹی سی لڑکی نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے،پھر آنکھیں چھوٹی کر کے اسے گھورا۔
”ام کہے گا کہ تم اچھا آدمی نیی(نہیں) ہے۔“غزوان کی آنکھیں پوری کی پوری کھل گیئں۔
”کک….کیا مطلب؟“
”ام کہے گا کہ تم غیر عورتوں سے بات کرتا ہے۔“غزوان کیا قانِتہ نے بھی اسے دیکھا تھا۔شاک سے،غیر یقینی سے۔
”ساتھ تم گھر والی کو بٹھاتا ہے،اور بات تم ام(ہم) جیسی حسین اور نازک لڑکی سے کرتا ہے۔او بی بی،ام(ہم) تم کو مفت کا مشورہ دیتا ہے۔اپنا خاوند بدل لو۔یہ چور کے ساتھ ساتھ چھچھورا بھی ہے۔“جہاں قانِتہ کی ہنسی چھوٹی تھی وہیں غزوان کا میٹر شاٹ ہوا تھا۔وہ لمحہ بھر کی تاخیر کیے بغیر دروازہ کھول کر باہر نکلا تھا۔
”پہلا کہ تم لڑکی ہو اور دوسرا کہ چھوٹی ہو۔صرف اس لیے لحاظ کر رہا ہوں۔چلو جاؤ یہاں سے۔“اس نے اپنی جانب سے اسے لتارا تھا جبکہ صحیح معنوں میں اس نے جلتی بھٹی میں چھلانگ لگا دی تھی۔
”چھوٹا نیی(نہیں) ہے ام۔بوت(بہت) بڑا ہے۔اب تم کھولو اپنا ڈبہ،ام کو یقین ہے امارا میمنا اسی میں ہے۔“وہ ڈکی کو ڈبہ کہہ رہی تھی۔
”نہیں کھولتا،جو کرنا ہے کر لو۔“وہ ہاتھ باندھ کر گاڑی سے ٹیک لگا گیا تھا۔
”غزوان پلیز اب بس کر دو،چلو یہاں سے۔بچوں سے اس طرح لڑتے ہیں کیا؟“قانِتہ نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے اسے آواز لگائی تھی جو غزوان کے کانوں سے پہلے وہاں کھڑی لڑکی کے کانوں تک پہنچی تھی۔
”ام(ہم) بچہ نہیں ہے۔“وہ حلق کے بل چیخی تھی۔غزوان کیا قانِتہ کو بھی اپنے کانوں پر ہاتھ رکھنے پڑے تھے۔
”ام(ہم) بڑا ہے۔“اس بار آواز پہلے سے زیادہ اونچی تھی۔تنفس پھولا ہوا تھا،غصے سے چہرہ سرخ پڑ چکا تھا۔
”کان کے پردے پھاڑو گی کیا؟“
”امارا میمنا ام کو واپس دو۔“
”آپ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں؟میں کب سے آپ کو ڈھونڈ رہا ہوں۔“یہ اس شخص کی آواز تھی جس کی گاڑی کی وہ لوگ پیروی کر رہے تھے۔
جہاں غزوان ان کی جانب متوجہ ہوا تھا وہیں پاس کھڑی لڑکی کے چہرے کا رنگ اڑا تھا۔اس نے فوراً اپنا چہرہ چھپایا اور پھر ہوا سے باتیں کرتی وہاں سے بھاگ نکلی۔
”جی وہ پیٹرول ختم ہو گیا تھا اور پھر ہم راستہ بھی بھول گئے۔“
”آپ آئیں،میری گاڑی میں آئیں۔“غزوان نے پلٹ کر دیکھا تو بلا غائب تھی۔اس نے جھرجھری لی اور قانِتہ کے ساتھ اس شخص کی گاڑی میں بیٹھ کر اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گیا۔
راستے میں غزوان نے اس سے کئی بار طبیعت کا پوچھا۔ہر بار قانِتہ نے یہی کہا کہ وہ ٹھیک ہے،بس سفر کی تھکان ہے۔
”ویسے میں سوچ رہی ہوں۔“راستے میں قانِتہ نے مدھم آواز میں کہا۔
”کیا؟“
”یہی کہ خاوند بدل لوں۔میرا شوہر تو ویسے ہی چور اور چھچھورا ہے۔“اس نے لب دبائے شرارت سے کہا۔
”تمہاری اس سوچ کی ایسی کی تیسی۔“وہ صحیح معنوں میں جل بھن گیا تھا۔کیا بلا تھی وہ آخر……پہلی ہی ملاقات میں اس کی بیوی کو اس کے خلاف بھڑکا گئی تھی۔غزوان کو وہ بلا ایک آنکھ نہ بھائی تھی جبکہ قانِتہ کے خیالات یکسر مختلف تھے۔اسے وہ لڑکی بےحد اچھی لگی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
