Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam E Bandhan (Episode 50)
Rate this Novel
Rasam E Bandhan (Episode 50)
تیز چلتے پنکھے کے باوجود بھی اسے ٹھنڈے پسینے آ رہے تھے۔وہ گداز بستر پر چت مگر بے چین سو رہی تھی۔کبھی ایک طرف تو کبھی دوسری طرف کروٹ بدلتے غانیہ ایکدم ہی اٹھ بیٹھی۔
”نوراں…..“ایک گھٹی گھٹی سی چیخ گلے سے آزاد ہوئی اور سارا بدن ہانپنے لگا۔اس نے ہانپتے ہانپتے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا۔عجیب خوفناک خواب تھا جو اس کے رونگٹے کھڑے کر گیا تھا۔اس کی بہن مشکل میں تھی،کسی بہت بڑی مشکل میں۔اسے زندگی میں پہلی بار ایسا کوئی خواب آیا تھا اور پہلی بار وہ نوراں کے متعلق اپنے کسی خدشے کو رد نہ کر سکی تھی۔
غانیہ نے تھوڑا آگے کھسک کر سائیڈ دراز سے روئی کی بنی گڑیا نکالی اور اسے سینے سے لگا کر رونے لگی۔
”میں تمہیں بہت یاد کرتی ہوں نوراں۔بہت زیادہ مگر میں مجبور ہوں۔میں تمہارے پاس نہیں آ سکتی۔بستی جاؤں گیئں تو مار دیں گے وہ لوگ مجھے بھی اور تمہیں بھی۔“اس نے سسکتے ہوئے گڑیا کو مزید اندر بھینچا۔
وہ اپنے علاقے اور وہاں کے لوگوں کے متعلق غلط نہیں تھی۔وہ وہاں اب جاتی یا سالوں پہلے،مار دی جاتی۔اس کی وجہ سے نوراں کو بھی سنگین نتائج بھگتنے پڑتے۔وہ وہاں نوراں کو ایک مضبوط عصا کے سہارے چھوڑ کر آئی تھی اور وہ تھے نادر نیکه…..اس بات سے لاعلم کہ اس عصا کو تو اس کے جاتے ہی دیمک کھا گئی تھی۔
”میرے دوست کی والدہ بیمار ہیں۔میں ہسپتال ان سے ملنے جاؤں گا،کیا تم چلو گی؟“قتادہ نے اشاروں میں کہا مگر غانیہ مسلسل چائے کے کپ کو گھور رہی تھی۔شاید وہ چائے میں پانی اور دودھ کی مقدار جانچ رہی تھی یا پھر اس چائے کے کپ سے اڑتی بھاپ میں اپنے ماضی اور حال کا محاسبہ کر رہی تھی۔
”غانیہ…..“قتادہ نے زور سے ٹیبل بجائی۔وہ فوراً ہوش میں واپس لوٹی۔
وہ اس وقت ایک کیفے میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔بات چیت شروع ہو چکی تھی مگر شادی کا ذکر نہ قتادہ نے کیا تھا اور نہ غانیہ نے۔وہ فلحال اچھے دوست تھے اور شاید ایک دوسرے کی جانب سے بات کے آغاز کے خواہشمند بھی۔
”تم ٹھیک ہو؟“غانیہ بددقت مسکرائی اور پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔
”میں کہہ رہا تھا کہ غزوان کی والدہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔میں ملنے جاؤں گا،کیا تم ساتھ چلو گی؟“اس نے ایک بار پھر اپنی بات دہرائی۔اس سے پہلے کہ غانیہ مناسب الفاظ میں معذرت کرتی،قتادہ کے بتائے ایڈریس نے اسے چونکا دیا۔وہ جس علاقے کا بتا رہا تھا،اس کی بستی اس ہی علاقے میں آتی تھی۔
”کیا آپ میرا ایک کام کریں گے قتادہ؟“وہ کچھ پُرجوش انداز میں تھوڑا آگے کو کھسکی پھر اے ٹو زیڈ قتادہ کو ہر بات سمجھائی۔وہ خاموشی سے اس کی ساری باتیں سنتا رہا۔
”یعنی تم چاہتی ہو کہ میں تمہاری بستی جا کر تمہاری بہن کی خیریت دریافت کروں؟“آخر میں گو کہ اس نے تصدیق چاہی۔غانیہ نے زور و شور سے اثبات میں سر ہلا دیا۔قتادہ گہری سانس لے کر کرسی کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔
”تم میرے ساتھ کیوں نہیں چلتی؟ہم دونوں وہاں جا کر تمہارے رشتے داروں کو سب سمجھائیں گے اور واپسی پر تمہاری بہن کو بھی ساتھ لے آئیں گے۔“وہ جس قدر سنجیدگی اور بے نیازی سے کہہ رہا تھا،غانیہ کو اتنی ہی زور سے ہنسی آئی تھی۔
”آپ کے ساتھ جاؤں گئیں تو قبر بھی نصیب نہیں ہو گی ہم دونوں کو۔ہم پٹھان ہیں قتادہ صاحب۔ہمارے یہاں گولیاں پہلے چلتی ہیں اور جرم بعد میں پوچھے جاتے ہیں اور آپ کے ساتھ تو میرا کوئی رشتہ بھی نہیں۔اس منہ زبانی منگنی کو کوئی نہیں مانے گا۔ہاں اگر یہی منگنی ہمارے بڑوں نے کی ہوتی تو پتھر پر لکیر ہوتی۔“
”تو بنا لو ناں میرے ساتھ رشتہ۔آخر کس چیز کا انتظار کر رہی ہو۔مجھے حق دو کہ تمہارا ہاتھ تھام کر تمہارے گھر والوں کے سامنے کھڑا ہو سکوں۔“وہ نفی میں سر ہلاتی اداسی سے مسکرائی۔وہ ایک بار پھر شادی کی بات کر رہا تھا۔یعنی اس بار بھی آغاز اس ہی نے کیا تھا۔
”ہمارے نکاح کو بھی وہ لوگ حرام قرار دے دیں گے۔میں اپنے لوگوں کو اچھے سے جانتی ہوں۔آپ میرا یہ کام کر دیں،میری بہن کی خیریت دریافت کر لیں۔اس کے بعد آپ جیسا چائیں گے ویسا ہی ہو گا۔“وہ اشاروں کناروں میں ہامی بھر چکی تھی۔شادی تو اسے بھی کرنی تھی پھر نجانے کیوں ہر بار وہ پیچھے ہٹ جاتی تھی۔نجانے کون سا خوف تھا جو اسے دو بول پڑھنے سے روک دیتا تھا۔نجانے کون سی طاقت تھی جس کی وجہ سے وہ ایک کاغذ پر دستخط تک نہیں کر پا رہی تھی۔
قتادہ نے اثبات میں سر ہلایا اور مدھم سا مسکرا دیا۔اس مسکراہٹ میں اظہار تشکر تھا۔فتح تھی،محبت کو پا لینے کا جذبہ تھا۔اس بار نجانے کیوں اسے یقین تھا کہ غانیہ پیچھے نہیں ہٹے گی اور اگر وہ پیچھے ہٹی تو وہ بندوق کی نوک کر نکاح کر لے گا۔ہاں وہ یہی کرے گا۔(یہ عقلمندانہ مشورہ غزوان کا ہی دیا ہوا تھا)قتادہ کو یقین تھا کہ اس پر عمل کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔غانیہ ایسے ہی مان جائے گی۔لیکن اگر اسے یہ کرنا پڑ گیا تب……اونہوں،کیا مصیبت تھی۔اس نے سوچ کر ہی جھرجھری لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قبرستان سے واپسی پر رات کا کھانا سب نے ساتھ کھایا تھا۔غزوان اپنی ماں کو لے کر پریشان تھا مگر گھر کے مردوں نے اسے خاصی تسلی دی تھی۔وہ کافی حد تک مطمئن بھی ہو گیا تھا۔ان دونوں کا سامان ہوٹل میں رہ گیا تھا لہٰذا ان دونوں کو رات سکون سے سونے کے لیے کپڑے مہیا کیے گئے تھے۔قانِتہ نے آرام دہ شلوار قمیض پہن رکھی تھی جبکہ اس کے مقابلے میں غزوان نے بھی شلوار قمیص ہی پہن رکھی تھی مگر وہ اس کے سائز کے حساب سے بہت کھلی تھی اور اس نے اپنی ساری زندگی میں شاید ہی اس قسم کے کپڑے پہنے تھے۔اوپر سے اس کے نام نہاد کزن نے اسے اپنے ابا کا قدیم اور لمبا چغہ بھی پہنا دیا تھا جو اس کے سائز کا ہر گز نہیں تھا۔اس کے ساتھ ساتھ ایک پکول(پشاوری ٹوپی) بھی پہنائی گئی تھی۔
(یہ اون سے بنی گول اور نرم ٹوپی ہوتی ہے جسے کنارے موڑ کر پہنا جانا ہے۔)
وہ ایک مکمل(زبردستی) کا پٹھان لگ رہا تھا۔قانِتہ اسے دیکھ کر ہنس ہنس کر دوہری ہو چکی تھی۔اس نے غزوان کی تصویر بھی کھینچی تھی مگر اس کے کسی بھی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوٹس کرنے سے پہلے ہی وہ موبائل چھین کر تصویر ڈیلیٹ کر چکا تھا۔اس حرکت پر وہ اچھا خاصا مغموم ہوئی تھی مگر دل کو حوصلہ دیا کہ وہ اس کے سوتے ہوئے دوبارہ تصویر کھینچ لے گی۔یہ زیادہ اچھا رہتا۔سو پلاننگ یہی تھی مگر قسمت اس کے ساتھ نہ تھی۔وہ غزوان کے سونے سے پہلے ہی تھک کر گہری نیند سو چکی تھی۔
غزوان تو اب بھی بستر پر بیٹھا سگنلز ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا مگر ایک تو پہاڑی علاقہ اور دوسرا موسم کی خرابی۔نہ تو انٹرنیٹ ساتھ دے رہا تھا اور نہ ہی سم……اس نے کوفت سے موبائل ایک طرف اچھالا جب سماعتوں سے کچھ آوازیں ٹکرائیں۔قانِتہ نیند میں کچھ بڑبڑا رہی تھی۔
”نہیں پلیز،میرے بچے کو…..میرے بچے کو نہیں مارنا۔میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔“وہ نیند میں بے چین مسلسل کچھ بول رہی تھی۔وہ کوئی بھیانک خواب دیکھ رہی تھی۔خواب میں اسے شگوفہ نظر آئی تھی جو اس کا بچہ چھین کر کہیں دور لے جا رہی تھی۔
”قانِتہ…..تم ٹھیک ہو؟“وہ اب اسے جھنجھوڑ کر پوچھ رہا تھا۔وہ مسلسل نیند میں گہری گہری سانسیں لیتی کچھ بول رہی تھی۔
”قانِتہ اٹھو۔“غزوان نے اسے کھینچ کر بٹھایا پھر کمرے کی لائٹ آن کر دی۔
”کوئی برا خواب دیکھا ہے؟“پانی کا گلاس اس کی جانب بڑھاتے ہوئے وہ اب رومال سے اس کا پسینے میں شرابور چہرہ صاف کر رہا تھا۔
”وہ میرا بچہ چھین لے گی۔“وہ کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولی۔غزوان کے ماتھے پر بل پڑے۔
قانِتہ سیدھی ہوئی اور بے چینی سے غزوان کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
”جو دوسروں کے بچے کھاتے ہیں،وہ کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔ان کے بچے ان سے چھین لیے جاتے ہیں۔“وہ اب بھی خواب کے زیر اثر بول رہی تھی۔
”کیا کہہ رہی ہو؟“
”میں نے خواب دیکھا کہ تمہارے رشتے دار مجھ سے میرا بچہ چھین لیتے ہیں اور مجھے بستی سے باہر نکال دیتے ہیں اور…..اور پھر دنیا میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتی۔میں مرنا چاہتی ہوں لیکن میں نہیں مرتی۔میں نہیں مرتی غزوان۔“وہ کہتے کہتے رو دی تھی۔غزوان نے اسے پچکارتے ہوئے خود سے لگایا۔
وہ اپنے تمام خوف اس کے سامنے بیان کر رہی تھی۔وہ اسے console کر رہا تھا۔وہ اس کا شوہر تھا۔یہ اسے ہی تو کرنا تھا۔
”کوئی تم سے تمہارا بچہ نہیں چھینے گا۔کوئی تمہیں نہیں نکال رہا۔تم قانِتہ ہو۔تم میری بیوی ہو۔تم میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو۔میں مرتے دم تک تمہارا ساتھ نبھاؤں گا۔تمہیں کچھ نہیں ہو گا۔“وہ اب اس کی کمر سہلاتے ہوئے اسے تسلی دے رہا تھا۔قانِتہ نے زور سے اس کی قمیص کو دبوچا پھر نم آنکھوں سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
”لیکن تم تو مر گئے تھے ناں۔میں نے دیکھا تم پہاڑی سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لیتے ہو۔“وہ کہتے کہتے رو پڑی۔غزوان شدید صدمے کی حالت میں اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔یعنی وہ اسے مار چکی تھی۔اتنی آسانی سے اپنی زندگی سے نکال کر باہر پھینک چکی تھی۔کتنا آسان تھا اس کے لیے یہ سب کرنا۔
”پاکستانی حکومت ایسے خواب دیکھنے پر ٹیکس کیوں نہیں لگاتی۔“وہ سوچ کر رہ گیا۔
”میں خودکشی کیوں کروں گا قانِتہ؟“وہ تسلی دینے کے بجائے سوال کر بیٹھا تھا۔اب اتنا حق تو اس کا بنتا ہی تھا۔وہ ایسے کیسے اسے مار سکتی تھی؟خواب میں ہی سہی مگر کیسے اور کیوں؟
”وہ مجھے نہیں پتا لیکن تمہارے گھر والے تمہاری موت کا الزام مجھ پر لگا دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے تمہیں مارا ہے۔میں نے تمہیں نہیں مارا غزوان۔میں نے جان بوجھ کر تو نہیں مارا۔“اس بار رونے میں شدت آئی۔غزوان سمجھ گیا کہ فلحال قانِتہ کو کچھ بھی سمجھانا بیکار ہے۔
”بالکل تم نے جان کر کچھ نہیں کیا۔اب سو جاؤ شاباش۔“خود بستر پر لیٹ کر اس نے قانِتہ کا سر اپنے سینے پر رکھا تھا۔اب اس کے گرد بازو حمائل کر کے وہ اسے تحفظ کا احساس دلا رہا تھا۔
”یہ سب تمہاری وجہ سے ہو رہا ہے۔میں مضبوط تھی۔مجھے کبھی اس طرح خوف محسوس نہیں ہوا۔جب سے تم میری زندگی میں آئے ہو،تب سے سب خراب ہو گیا۔مجھے ڈر لگنے لگا ہے۔تم نے،ہمارے اس رشتے نے،ہمارے بچے نے مجھے کمزور کر دیا ہے۔پہلے میرے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں تھا،اب سب کچھ ہے۔تم مت مرنا غزوان۔تم پلیز مت مرنا۔“اس کا کالر دبوچے وہ مسلسل سسک رہی تھی۔اس کی رخسار سے بہتے آنسو غزوان کی قمیض پر گر رہے تھے۔وہ مسلسل اسے بہلا رہا تھا۔اس کے بال سہلا رہا تھا۔اس نے پہلی بار قانِتہ کو اس قدر ٹوٹا ہوا دیکھا تھا۔پہلی بار وہ اس طرح سے اپنے خوف کا کھل کر اظہار کر رہی تھی۔پہلی بار وہ اسے خود سے دور نہ جانے کا کہہ رہی تھی۔وہ کہہ رہی تھی کہ اس رشتے نے اسے کمزور کر دیا ہے مگر پہلی بار غزوان کو یہ رشتہ مضبوط لگا تھا۔ایسا رشتہ جسے کھونے سے وہ ڈر رہی تھی۔جس کے ٹوٹ جانے کے خوف نے اس کی راتوں کی نیند اڑا دی تھی۔
نہ رشتہ کمزور تھا،نہ وہ خود کمزور تھی بس اس رشتے نے اس کے دل پر گرہ لگا دی تھی۔محبت کی گرہ…..اسے اب کچھ نہیں کھونا تھا۔نہ غزوان کو،نہ اپنے بچے کو اور نہ اس رشتے کو۔کسی بھی طرح اس بار اسے اپنا گھونسلہ بنانا تھا۔اپنا گھر تعمیر کرنا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کی ٹھنڈی ہوا میں خوشگوار سی خنکی گھلی ہوئی تھی۔آسمان پر ہلکی نیلاہٹ کے ساتھ سنہری دھوپ کی کرنیں دھیرے دھیرے پھیلنے لگیں جیسے قدرت آہستہ آہستہ آنکھیں کھول رہی ہو۔پرندوں کی چہچہاہٹ ہر طرف ایک نغمگی بکھیر رہی تھی۔
ندی کے کنارے دھند کی ہلکی سی تہہ ابھی تک چھائی ہوئی تھی جیسے زمین آسمان کو تھامے بیٹھی ہو۔گھاس کے ننھے پتوں پر شبنم کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔
گھر کے بیرونی حصے میں بنے چھوٹے سے باغیچے میں نوراں پھولوں کے ساتھ باتیں کر رہی تھی جب عین اس ہی وقت غزوان وہاں آیا۔وہ رات سے ابھی تک سگنلز ہی ڈھونڈ رہا تھا جو کہ اس گھر میں تو اسے ملنے سے رہے۔باہر اس عجیب و غریب حلیے میں اس کا جانے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔بہت منت سماجت کرنے کے بعد اس کا ایک کزن اسے بازار لے جانے پر آمادہ ہو چکا تھا جہاں سے وہ اپنے سائز کے مطابق کپڑے خرید سکتا مگر بازار جانے کے لیے جیپ کی ضرورت تھی جو فلحال گھر پر موجود نہیں تھی لہٰذا انتظار اس کا مقدر تھا۔
”تم کیا کر رہی ہو؟“نوراں کو پھولوں سے باتیں کرتا دیکھ غزوان نے کچھ تجسّس سے پوچھا۔وہ اسے نارمل نہیں لگی تھی۔وہ اسے کبھی بھی نارمل نہیں لگی تھی۔اگر اپنے متعلق وہ نوراں کے خیالات سن لیتا تو یقیناً چکرا جاتا۔
”ام اپنے دوستوں سے باتیں کر رہا ہے۔توم یہاں کیا کر رہا ہے؟“
”سگنلز ڈھونڈ رہا ہوں۔“غزوان نے مصروف انداز میں کہا۔
”یہاں نیی(نہیں) ملے گا۔“
”تو پھر کہاں ملے گا؟“اس نے کچھ تشویش سے پوچھا۔
”یہ درخت نظر آ رہا ہے توم کو۔اس پر اگر توم چڑھے گا تو مل جائے گا۔“غزوان نے حیرت سے پہلے پیڑ کو دیکھا اور پھر نوراں کو۔وہ آخر کس چیز کا بدلہ لے رہی تھی؟آخر قصور کیا تھا اس معصوم کا؟
”چلو چلو ہٹو یہاں سے۔“اس نے گو کہ نوراں کو جھاڑ پلائی۔
”ایک تو ام توم کو طریقہ بتا رہا ہے اور توم ام ہی کو سنا رہا ہے۔“وہ منہ بناتی ہوئی اٹھی اور ایک ناگوار نگاہ اس پر ڈال کر وہاں سے چلی گئی۔
غزوان کافی دیر ادھر سے ادھر ٹہلتا رہا مگر سگنلز گو کہ روٹھ ہی گئے تھے۔اس نے ترچھی نگاہ اردگرد ڈالی پھر آہستگی سے درخت کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔ہاتھ بڑھا کر درخت کی ایک شاخ پر ہاتھ رکھا مگر یہ اتنا آسان بھی نہ تھا۔پینٹ شرٹ پہن کر آنکھوں پر گوگلز لگا کر ہوائی جہاز میں سوار ہونے اور یہاں اس پہاڑی بستی میں ملنگوں والے حلیے میں درخت پر چڑھنے میں زمین آسمان کا فرق تھا۔
اس نے ایک بار پھر کوشش کی مگر درخت نے اسے منہ چرایا۔وہ بھی پھر غزوان جہانزیب تھا۔صدا کا ضدی…..پوری قوت لگا کر اس نے ایک اونچی چھلانگ لگائی،نتیجتا وہ دھڑام کی آواز کے ساتھ گھاس پر گرا تھا۔کمر کا جو ہوا تھا،وہ صرف غزوان ہی جانتا تھا۔کون کون سے جوڑ ہلے تھے،یہ بھی صرف اسے ہی پتا تھا۔درخت،پھول،پودے،گھاس ہر ایک چیز اس پر ہنس رہی تھی مگر ان بےجان چیزوں کے قہقہوں میں ایک نسوانی قہقہ بھی تھا،وہ نوراں کا قہقہ تھا۔وہ پیٹ پر ہاتھ رکھے ہنس ہنس کر دوہری ہو رہی تھی۔
”جو دوسروں کی میمنا چراتی ہے،وہ ایسے ہی منہ کے بل گرتی ہے۔“اس نے ہنستے ہوئے غزوان کو زبان چڑائی۔
”گرا نہیں ہوں میں،بس ویسے ہی موسم دیکھنے بیٹھ گیا تھا۔“شرمندگی کو چھپانے کے لیے وہ فوراً سے اٹھ کھڑا ہوا۔کچھ سخت لہجے میں نوراں کی سرزنش بھی کی۔
”او صیب(صاحب) توم سے اپنا ناڑا تو سنبھلتا نہیں ہے،بڑا آیا موسم دیکھنے والا۔“غزوان نے خجل کا شکار ہوتے ہوئے اپنے کپڑے درست کیے۔ایک تو سائز میں اتنے بڑے اوپر سے اسے پہننے کا ڈھنگ کہاں آتا تھا۔
”تمہیں تو میں دیکھ لوں گا بدتمیز لڑکی۔“وہ اپنی شرمندگی چھپاتا تیز تیز قدم اٹھا کر برآمدے میں کہیں غائب ہو گیا۔پیچھے نوراں نے ناک چڑھا کر اس کی نقل اتاری۔اسے غزوان ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔غزوان کے خیالات بھی کچھ مختلف نہ تھے۔دونوں ہی ایک دوسرے کو سخت ناپسند کرتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”تو کیا تم سے کوئی محبت نہیں کرتا؟“قانِتہ نے نہایت محبت سے پوچھا۔
”نیی(نہیں) ام سے سب بہت محبت کرتا ہے۔اور وہ جو تُرُور(پھوپھی) ہے ناں،وہ اسپین والا……وہ ام سے بہت پیار کرتا ہے۔اب اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔تم کو پتا ہے ویسے اماری سب ترور(پھوپھیاں) ام سے محبت کرتی ہے مگر وہ تو سب سے زیادہ کرتا ہے۔امارے لیے اتنے تحفے بھی لایا۔ام نے کہا بھی کہ ام کو ایک بار ملوا دو مگر یہ لوگ مانتا ہی نیی(نہیں)کہتا کہ وہ ٹھیک ہے۔جلد آ جائے گا۔“وہ بولے ہی چلے جا رہی تھی جبکہ قانِتہ کو اس کی بات سمجھنے میں دقت پیش آئی۔بیمار تو طیبہ مورے تھیں۔اسپین سے وہ وہیں آئی تھیں مگر وہ طیبہ کو پھوپھی کیوں کہہ رہی تھی؟شاید ویسے ہی……اس نے اندازہ لگایا۔
”تم انہیں پھوپھی کیوں کہہ رہی ہو؟وہ تمہاری پھوپھی تو نہیں لگتیں۔“
”کیوں نہیں لگتی بھائی؟طیبہ نوراں کی پھوپھو ہی تو ہے۔اپنے سماک کی بہن۔“وہاں سے گزرتی ایک خاتون نے سارے قصے پر روشنی ڈالی۔
وقت وہیں منجمند ہو گیا۔قانِتہ کا چہرہ ایک لمحے میں فق ہو گیا۔ہونٹوں کا رنگ سفید پڑ گیا اور آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہو گئیں۔دماغ نے جیسے کام کرنا ہی چھوڑ دیا۔
خیالات کی جگہ ایک سنّاٹا سا چھا گیا۔اس کی دل کی دھڑکنیں تیز ہونے کے بجائے رکتی محسوس ہو رہی تھیں۔
سانس بھی رک سی گئی تھی۔
وہ چاہ کر بھی کچھ کہہ نہ سکی۔زبان پر فقل لگ گیا تھا۔
اگلے لمحے اس نے خود کو بھاگتے ہوئے پایا۔وہ تیزی سے اپنے کمرے کے اندر داخل ہوئی اور اس نے دروازہ لاک کر لیا۔سانسیں اتھل پتھل ہو گئیں۔چہرہ پسینے سے بھیگنے لگا۔
طیبہ سماک کی بہن……اس نے سوچتے ساتھ ہی سختی سے آنکھیں میچیں پھر کانپتا ہوا ہاتھ پیٹ پر رکھا۔ذہن مفلوج ہو گیا۔ہر طرف دھماکے ہوتے سنائی تھی۔کہیں کسی انہونی کے آ کر گزرنے کا احساس ہوا۔اس سے پہلے وہ مزید کچھ سوچ یا کر پاتی۔واش روم کا دروازہ کھول کر غزوان باہر نکلا۔وہ نکھرا نکھرا تازہ دم سا اب تولیے سے بال رگڑ رہا تھا۔اپنے سائز کے کپڑے پہن کر اسے گو کہ سکون آیا تھا۔وہ اپنے آپ میں اتنا مگن تھا کہ ایک نظر بھی قانِتہ پر نہ ڈالی۔اگر ڈال لی ہوتی تو یقیناً پریشان ہو جاتا۔
قانِتہ ہونق بنی کبھی اپنے شوہر کی جانب دیکھتی تو کبھی پیٹ پر دھرے ہاتھ کی جانب۔سب اتنی آسانی سے ختم ہو جائے گا،اس نے کب سوچا تھا۔زندگی اس کے ساتھ ایسا کھیل کھیلے گی،یہ بھی اس نے کہاں سوچا تھا۔
وہ اتنی جلدی نہیں ہار سکتی تھی۔اسے کوئی راستہ نکالنا تھا۔کوئی جلتا دیا تھامنا تھا۔
”غزوان،نوراں تمہاری کیا لگتی ہے؟“وہ ہمت جمع کرتی اس کے قریب گئی۔یہ رشتہ اللہ کی مرضی تھی۔وہ اللہ کی جانب سے عطا کردہ تحفہ تھا تو پھر اس رشتے کے مقدس ہونے پر وہ کیسے سوال اٹھاتی؟اسے اپنے رشتے کے پاکیزہ ہونے کا یقین تھا،مکمل یقین تھا۔
”کون نوراں؟“بالوں میں کنگھی پھیرتے غزوان نے لاپرواہی سے پوچھا۔
”وہی نوراں جس کے ساتھ تم راستے میں لڑ پڑے تھے۔وہ بھابھی کہہ رہی تھیں کہ طیبہ مورے…..طیبہ مورے سماک…..سماک کی بہن ہیں۔کیا یہ سچ ہے؟“یقین کامل تھا مگر پھر بھی زبان لڑکھڑائی تھی۔اسے تو شادی نہیں کرنی تھی۔غزوان خود اس کی زندگی میں آیا تھا یا بھیجا گیا تھا۔اب جب سب ٹھیک ہو رہا تھا تو ایسے کیسے ان کا یہ رشتہ بکھر سکتا تھا؟اتنی آسانی سے کسے سب ختم ہو سکتا تھا؟
”ہاں تو اس میں غلط کیا ہے۔مورے ان کی بہن ہی تو ہیں۔“غزوان نے ازل بے نیازی سے کہا۔
قانِتہ کے کانوں میں جیسے دھماکے کی آواز گونجی۔
پل بھر کو لگا جیسے کسی نے سر پر بم گرا دیا ہو۔دماغ سُن، جسم بے حرکت،اور دل کی دھڑکنیں ایک دم رک سی گئیں۔
اس کے آس پاس کی آوازیں مدھم ہو گئیں جیسے کسی نے وقت کا ریموٹ تھام کر سب کچھ سلو موشن میں کر دیا ہو۔
”سگی بہن؟“ارد گرد کی دنیا ڈول رہی تھی مگر اس کا یقین ایک بار پھر کسی مضبوط چٹان کی مانند مستحکم کھڑا ہو گیا تھا۔ہر سوں اندھیرا چھایا ہوا تھا مگر روشنی کی کرن اس کے اندر ابھی بھی زندہ تھی۔
”نہیں،سگی تو نہیں ہیں۔“کہتے ہیں یقین کامل ہو تو منزل مل ہی جاتی ہے۔قانِتہ کی ڈوبتی کشتی کو بھی کنارہ مل گیا تھا۔
آہستہ آہستہ اس کا ذہن کام کرنے لگا تھا۔اسے یاد آ گیا تھا کہ سماک کی پانچ بہنیں تھیں اور وہ ان پانچوں کو جانتی تھی۔طیبہ تو کہیں نہیں تھی اور نہ ہی اس کا کوئی ذکر شاید اس نے کبھی سنا تھا۔
غزوان اب اسے سماک کے خاندان سے اپنی رشتے داری سمجھا رہا تھا۔وہ بتا رہا تھا کہ دونوں خاندانوں کی ذات ایک ہی ہے اور یہ کہ کیسے سالوں پہلے وٹے سٹے کی وجہ سے یہ رشتے داری قائم ہوئی تھی اور پھر کیسے طیبہ کے والدین کے انتقال کے بعد ان کے رشتے داروں نے ساری جائیداد پر قبضہ کر لیا تھا۔سردار صاحب یہاں موجود نہیں تھے۔وہ بیمار تھے اور بیماری کے کئی سال انہوں نے بستی سے بہت دور گزارے تھے تب پگ نادر پلار کے پاس آئی تھی اور انہوں نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے طیبہ مورے کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔بستی میں اپنی شان بڑھانے کے لیے انہیں اپنے گھر کی بیٹی بنایا تھا۔وہ چند سال وہیں رہی تھیں اور وہاں کے لوگوں سے بےحد مانوس بھی تھیں پھر جب طیبہ مورے کے منگیتر(جہانزیب یوسفزئی) جو کہ بہت سال پہلے ہی بیرون ملک شفٹ ہو چکے تھے،انہیں اس چیز کا علم ہوا انہوں نے غیرت اور جذبات میں آ کر طیبہ کے ساتھ نہ صرف نکاح کیا بلکہ انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لے گئے۔سردار صاحب جب لوٹے تو طیبہ یہاں سے جا چکی تھیں۔اپنے خاندان کے اس سفاکانہ سلوک کا انہیں ہمیشہ رنج رہا تھا مگر وہ چاہ کر بھی کچھ نہ کر سکے تھے۔طیبہ شادی کے بعد ضد کر کے کئی بار بستی آ چکی تھیں،سردار صاحب نے ان سے معافی بھی مانگی تھی،وہ معاف بھی کر چکی تھیں مگر جہانزیب کے دل سے کبھی یہ بات نہ گئی تھی۔
غزوان اور بھی بہت کچھ قانِتہ کو بتاتا اگر وہ اسے گلے نہ لگا چکی ہوتی۔وہ اب اسے مضبوطی سے جکڑے کھڑی تھی جبکہ غزوان چند لمحوں کے لیے بالکل ساکت رہ گیا تھا۔
آنکھیں اس قدر پھیل گئیں جیسے کسی نے یکایک اس کے دل کی دیوار پر دستک دی ہو۔
کچھ دیر بعد وہ آہستگی سے اس سے الگ ہوئی پھر دھیرے سے مسکرا کر اس کے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا۔چہرہ دمک رہا تھا۔آنکھیں کچھ الگ ہی کہانی سنا رہی تھیں۔اس کے خاندان کے شجرہ نصب میں اسے کتئی کوئی دلچسبی نہیں تھی۔اس کے لیے اتنا کافی تھا کہ طیبہ اور سماک سگے بہن بھائی نہیں تھے۔
”تم میرے ہو غزوان۔“قانِتہ نے اس کا دایاں گال نرمی اور اپنائیت سے کھینچا اور ہنستے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔
غزوان پلکیں جھپکنا بھول گیا۔
اس کا ایک ہاتھ ہوا میں اُٹھا جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو
مگر لفظ لبوں پر آ کر رک گئے۔وہ ہکا بکا اُسے جاتا دیکھتا رہا۔
دل کی دھڑکنیں جیسے بےترتیب ہو گئیں۔گال پر اُس کی انگلیوں کا لمس رہ گیا۔دل سنبھالنا واقعی مشکل ہو گیا۔
وہ نہ ہنس پایا،نہ کچھ بول سکا اور نہ سمجھ۔
بس اُسی جگہ اُسی منظر میں ٹھہرا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اختر نوراں کو لینے آنے والا تھا اور قانِتہ آئینے کے سامنے کھڑی خود کو اس ملاقات کے لیے تیار کر رہی تھی۔اسے ہر حال میں یہ یقینی بنانا تھا کہ اختر اسے نہ پہچان سکے۔ویسے یہ تقریباً ناممکن تھا۔زخرف اور قانِتہ میں زمین آسمان کا فرق تھا۔زخرف دبلی پتلی،لاغر،میلی کچیلی،کیل مہاسوں سے بھری ہوئی بیچاری لڑکی تھی اور قانِتہ…..قانِتہ پر اعتماد،سٹائلش،گوری رنگت رکھنے والی ایک صحت مند لڑکی تھی۔زندگی کی گاڑی آگے بڑھ چکی تھی۔وقت کے ساتھ وہ تبدیل ہو گئی تھی۔اسے پہچاننا اتنا آسان نہیں تھا۔
آج اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی مگر آنکھوں میں خاموش طوفان چھپا ہوا تھا جو کسی بھی پل سب کچھ جلا کر راکھ کر سکتا تھا۔
ہونٹوں پر سادہ سی لپ اسٹک اور چہرے پر معصومیت کی ہلکی سی تہہ…… پہاڑی علاقے کے لباس کی بجائے اس نے اپنے لباس کو ترجیح دی تھی جو وہ پہن کر یہاں آئی تھی۔
وہ اب بالوں کو کھلا نہیں چھوڑتی تھی لہٰذا اس نے دوپٹہ بھی سٹائلش انداز میں سر پر اوڑھا ہوا تھا۔
اس کی چال میں نرمی اور آنکھوں میں جلتا ہوا لاوا تھا۔
ایسا لاوا جو صرف ایک لمحے کا منتظر تھا اور وہ لمحہ اب بےحد قریب تھا۔
آج وہ اُس شخص سے ملنے جا رہی تھی جس نے اُس کی ہنسی چھینی تھی،اس کا سب کچھ روند ڈالا تھا۔
مگر وہ اسے ہرا نہیں سکا تھا۔وہ آج پلٹ کر وار کرنے کے لیے آئی تھی۔
”تم تو کیا تمہارا باپ بھی مجھے نہیں پہچان سکے گا۔“
اُس نے آئینے میں اپنی آنکھوں کو گھورا اور اُن میں چمکتی ہوئی آگ کو محسوس کیا پھر ان آنکھوں میں اس نے لینز لگائے جو انجانے میں اس نے اپنے بیگ میں ڈال لیے تھے اور آج صحیح وقت پر کام آ رہے تھے۔
”پرفیکٹ۔“رعونت سے گردن اکڑا کر اس نے ایک آخری نگاہ خود پر ڈالی۔
نقاب چہرے پر نہیں انداز پر تھا اور اصل چہرہ اُس کے اندر انتقام کی تپتی ہوئی دھات کی طرح تیار تھا۔
دروازہ کھلا اور قانِتہ یزدان نے اپنے انتقام کی راہ پر پہلا قدم رکھا۔بےآواز مگر بے رحم……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
