Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam E Bandhan (Episode 49)
Rate this Novel
Rasam E Bandhan (Episode 49)
پہاڑوں کے دامن میں بسی ہوئی وہ بستی برف کی چادر اوڑھے کسی خواب کی مانند لگتی تھی۔بلند و بالا درختوں کی ٹہنیاں برف کے بوجھ سے جھکی ہوئی تھیں اور فضا کی خاموشی ایک عجیب سا سکون بکھیر رہی تھی جیسے وقت نے چند لمحوں کے لیے سانس روک لی ہو۔
گاڑی سے اترتے ہی غزوان اور قانِتہ نے اس حویلی کو دیکھا اور پھر دیکھتے ہی رہ گئے۔برف کے ذروں میں نہایا یہ منظر خوابناک تھا جیسے کوئی ادھوری داستان ایک بار پھر مکمل ہونے جا رہی ہو۔
قانِتہ نے بغور اس حویلی کا جائزہ لیا،اسے یاد نہ آیا کہ اس نے بچپن میں ایسی کوئی جگہ دیکھی بھی تھی یا نہیں۔خیر وہ کافی سال بعد یہاں آ رہی تھی۔اتنے سالوں میں تو ہر چیز ہی بدل جاتی ہے۔
گھر کے مکینوں نے جوش و خروش سے ان کا خیر مقدم کیا۔وہ سامان لے کر وہاں سے جانا چاہتے تھے مگر ایسا ممکن نہ ہو سکا۔
”ہمارے گھر مہمان آئیں اور بغیر کچھ کھائے پیے چلے جائیں،ایسا ممکن نہیں ہے۔“وہ کوئی بوڑھی خاتون تھیں،رشتے میں طیبہ کی بوا لگتی تھیں۔
”لیکن ہمیں جلدی ہے۔“غزوان نے بھرپور احتجاج کیا۔
”کوئی فائدہ نہیں ہے۔تم چاہے سولی پر لٹک جاؤ مگر بغیر کچھ کھائے پیئے یہاں سے نہیں جا سکتے۔“قانِتہ نے سرگوشی نما آواز میں اسے سمجھانا چاہا اور وہ سمجھ گیا۔ان کے گھر کا بھی یہی رواج تھا۔طیبہ مورے گھر آئے مہمان کو بغیر کچھ کھائے پیئے کبھی جانے نہ دیتی تھیں۔اسے بچپن کا پڑھایا گیا سبق اچھے سے یاد تھا۔
”گھر آیا شخص اللہ کا مہمان ہوتا ہے اور اللہ کے مہمان کو بغیر کھائے پیئے کیسے جانے دے سکتے ہیں؟“اسے اپنی ماں کی کہی یہ بات آج بھی یاد تھی لہٰذا مزید احتجاج کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
وہ کھانے تک رک گئے تھے۔
سب سے پہلے انہیں سبز قہوہ پیش کیا گیا تھا۔اس کے بعد کھانے کا دور چلا تھا۔دسترخوان روایتی انداز میں زمین پر بچھی چٹائی پر لگایا گیا تھا جہاں تمام افراد گول دائرے کی صورت میں بیٹھے تھے۔دسترخوان طرح طرح کے پکوانوں سے سجا ہوا تھا۔چپلی کباب،سجی،شوربہ(یخنی)،نمکین بھنا ہوا گوشت،کابلی پلاؤ،نان(تندور میں پکی موٹی خستہ روٹیاں)
غزوان اس دسترخوان کو دیکھ کر شاک میں چلا گیا تھا۔کیا یہ خاص اہتمام ان کے لیے کیا گیا تھا؟
وہ جہانزیب کی ان لوگوں سے نفرت کی وجہ سمجھ نہ سکا تھا؟یہاں پر کسی کے رویے سے کوئی عداوت کوئی لاتعلقی محسوس نہ ہوتی تھی۔اسے تو یہاں اپنائیت اور محبت ہی ملی تھی۔
دسترخوان پر قانِتہ تو آرام سے بیٹھ گئی تھی مگر غزوان کو اچھی خاصی دکت پیش آئی تھی۔وجہ اس کا مغربی لباس تھا۔قانِتہ کو اس کی بےچینی دیکھ کر بےحد ہنسی آئی تھی۔بمشکل اس نے ضبط سے کام لیا تھا۔
وہ یہیں کی پلی بڑی تھی،یہاں کے رسم و رواج سے بخوبی واقف تھی مگر غزوان کے لیے یقیناً یہ سب نیا تھا۔وہ پٹھان تھا مگر ملک سے دور رہا تھا۔اپنی ثقافت کے بارے میں زیادہ نہ جانتا تھا۔
کھانا اس قدر لذیز تھا کہ قانِتہ کی سوئی ہوئی بھوک چمک اٹھی تھی۔اس نے ڈٹ کر کھایا تھا مگر غزوان…..وہ زیادہ نہ کھا سکا تھا۔اس کا دھیان اپنی ماں کی جانب ہی لگا ہوا تھا۔
کچھ دیر بعد جب اس نے اپنے ہاتھ کھڑے کیے تو اس کی پلیٹ ایک بار پھر بھر دی گئی۔اس نے انکار کیا مگر اس کی ایک نہ سنی گئی۔کھانے دینے والے کا انداز ایسا تھا جیسے کہا جا رہا ہو۔”خاموشی سے کھانا کھاؤ ورنہ تمہیں گولیوں سے بھون دیا جائے گا۔“
اس نے جیسے تیسے کھانا کھا ہی لیا۔کھانے کے بعد میٹھے کا دور چلا،وہ بس رو دینے کو تھا۔اتنا ظلم تو اس پر کبھی کسی نے نہ کیا تھا جتنا اب ہو رہا تھا۔
”ہمیں جانے دیں۔ہم بس سامان لینے آئے تھے۔“
”آپ لوگ نہیں جا سکتے۔تیز طوفان کی وجہ سے راستے فلحال بند کر دیے گئے ہیں۔وہ راستہ جہاں سے ہم آئے تھے،اب خطرے سے خالی نہیں۔جان جانے کا خطرہ ہے۔“اطلاع دینے والا وہی شخص تھا جس کے ساتھ وہ لوگ یہاں آئے تھے۔
”لیکن ہمیں ہسپتال جانا تھا۔مورے کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔“وہ دونوں ہی سخت پریشان ہوئے تھے۔
”طیبہ کے پاس اس کا شوہر ہے اور آپ ہمارے مہمان ہیں۔جب تک راستے کھل نہیں جاتے،آپ لوگ یہیں رہیں گے۔“یہ بارعب آواز ایک اڈھیر عمر شخص کی تھی۔جس کے ہاتھ میں اخروٹ کا بنا مضبوط عصا تھا۔سفید شلوار قمیض کے ساتھ اس نے سر پر پگڑی باندھ رکھی تھی۔دوسرے ہاتھ میں تسبیح تھی۔
قانِتہ پر ہوا تنگ ہو گئی۔اس نے سختی سے غزوان کا بازو دبوچا۔چہرے کا رنگ اڑ گیا۔وہ یہاں کسی کو نہ جانتی تھی اور نہ پہچانتی تھی مگر یہ چہرہ……وہ اس چہرے کو پہچانتی تھی۔اچھے سے پہچانتی تھی۔
”جرگے کا فیصلہ یہی ہے کہ تمہاری بیٹی کا نکاح نادر کے بیٹے کے ساتھ کروایا جائے۔“قانِتہ کو لگا کہ وہ یہیں گر جائے گی۔
وہ یہاں سے جانا چاہتی تھی۔کہیں چھپنا چاہتی تھی۔اگر سردار صاحب اسے پہچان لیتے تو اس کا کیا ہوتا؟
جہاں سے جاتے ہوئے اس نے ہزاروں قربانیاں دی تھیں،قسمت نے اسے پھر وہیں لا کھڑا کیا تھا۔دنیا اتنی چھوٹی ہو گی،اس نے سوچا بھی نہ تھا۔
طیبہ کا تعلق سردار کے خاندان سے تھا۔یہ انکشاف بھیانک تھا،بےحد بھیانک……
”غزوان،پلیز یہاں سے چلو۔مجھے یہاں نہیں رہنا۔پلیز کچھ کرو۔میرا دم گھٹ رہا ہے۔پلیز۔“وہ بس رو دینے کو تھی۔
”اچھا ٹھیک ہے تم ریلیکس ہو جاؤ۔حوصلہ رکھو،میں کچھ کرتا ہوں۔“اسے کمرے میں آرام کرنے کا کہہ کر وہ خود باہر چلا گیا تھا۔
قانِتہ کچھ دیر کمرے میں آرام کرتی رہی تھی پھر جب بےچینی حد سے زیادہ بڑھی تو وہ باہر برآمدے میں آ گئی تھی۔
اسے برآمداے میں ٹہلتے ابھی کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ سماعتوں سے کچھ آوازیں ٹکرائیں۔
”بتا کہا گئی تھی تو؟“ایک خاتون ہاتھ میں سوٹی پکڑے استفسار کر رہی تھی۔
”ام سبزی لینے گیا تھا۔“اس لڑکی نے ابھی کہا ہی تھا کہ خاتون نے زور سے سوٹی اس کے بازو پر ماری تھی۔وہ لڑکی کراہ اٹھی تھی۔
”یہ کیا ہو رہا ہے یہاں؟آپ اسے کیوں مار رہی ہیں؟“قانِتہ کو طیش آیا تھا۔
”وہ دراصل یہ بہت ضدی ہے۔بات آسانی سے نہیں سمجھتی۔“خاتون بری طرح گڑبڑائی۔
”اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ اس طرح مار پیٹ کریں۔“خاتون نے بمشکل مسکراتے ہوئے سر ہلایا اور وہاں سے چلی گئی۔اب مہمان کے سامنے وہ اور کر بھی کیا سکتی تھی۔
”تم تو وہی ہو نہ جس کا میمنا کھو گیا تھا۔“قانِتہ نے اس کا بازو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”اور توم وہی ہے ناں، جس کا خاوند امارا بچہ چرایا۔“قانِتہ نا چاہتے ہوئے بھی ہنس دی۔
”یہ تمہیں کیوں مار رہی تھی؟“
”اس کا دماغ خراب ہے اس لیے۔او ترورہ،کدھر بھاگتا ہے توم؟ہمت ہے تو امارا سامنا کر۔“وہ اب میدان جنگ میں کھڑی دشمن کو للکار رہی تھی۔
”ڈر گیا بزدل۔غیرت والا ہے تو سامنے آ۔“اور یہاں قانِتہ سمجھ گئی تھی کہ اصل قصور وار کون ہے۔ظالم اس گھر کے مکین نہیں کوئی اور تھا۔
”ٹھہر تجھے تو میں بتاتی ہوں۔“وہ عورت سوٹی سنبھالتی اس کے پیچھے بھاگی تھی۔مہمان کا احترام ایک طرف اور دشمن کی للکار ایک طرف۔
”آج اگر توم ام(ہم) کو پکڑنے میں کامیاب ہو گیا تو ہم سو سوٹیاں خوشی خوشی کھا لے گا لیکن اگر توم ام کو نہ پکڑ سکا تو پھر ام توم سے سو اٹھک بیٹھک کروائے گا۔“وہ دھمکی دیتی پھرتی سے وہاں سے بھاگی تھی۔
”ٹھہر جا تو۔“وہ خاتون سوٹی سنبھالتی اس کے پیچھے بھاگی تھی۔قانِتہ کو اب کی بار اس لڑکی پر رحم نہیں آیا تھا۔رحم اسے اس گھر کے مکینوں پر آیا تھا جنہیں وہ خوب نچا رہی تھی۔
وہ اب دلچسبی سے چوہے بلی کا یہ کھیل دیکھ بھی رہی تھی اور ہنس بھی رہی تھی۔
”ادھر آ تجھے تو میں بتاتی ہوں۔“خاتون چلائی۔
”آج اگر ام نے توم کو تھکا تھکا کر نہ مارا تو امارا نام بھی نوراں سِمَاک یوسفزئی نہیں۔“برآمدے کی فضا یکایک سنجیدہ ہو گئی۔ہوا جیسے رک سی گئی تھی۔قانِتہ کے سینے میں اُترتی اور چڑھتی سانسیں اچانک ٹھہر گئیں۔آنکھیں ان کہی وحشت سے پھیل گئیں۔وقت تھم سا گیا اور اردگرد کی آوازیں مدھم ہوتے ہوتے ایک سناٹے میں بدل گئیں۔
”نوراں سِمَاک یوسفزئی“اس کے لب آہستگی سے ہلے۔
”نوراں…..“پھر آہستہ آہستہ یہ غیر یقینی خوشگوار حیرت میں تبدیل ہو گئی۔وہ نوراں تھی،غانیہ کی نوراں…..کیسے ممکن تھا کہ زخرف کو عزیز نہ ہوتی۔
”قانِتہ وہ راستہ بہت زیادہ خراب ہے۔ہم فلحال نہیں جا سکتے۔“اسے اپنے عقب سے غزوان کی آواز سنائی دی۔
”ہاں تو جانا بھی کسے ہے۔ہم یہیں رہیں گے۔یہ جگہ بہت اچھی ہے غزوان۔یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں۔اتنے سالوں بعد مجھے کھل کر سانس آ رہی ہے۔“اس نے مسکرا کر کہا اور تیزی سے آگے بڑھ گئی۔غزوان ہکا بکا وہیں کھڑا رہ گیا۔وہ کچھ دیر پہلے یہاں سے جانے کے لیے بضد تھی اور اب یہاں رہنے کے لیے۔پہلے اسے یہاں گھٹن محسوس ہو رہی تھی اور اب وہ یہاں خوش تھی۔
غزوان سر جھٹک کر رہ گیا۔یہ عورت اس کی سمجھ سے باہر تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچن میں برتن پٹختے ہوئے نوراں مسلسل کچھ بڑبڑا رہی تھی جب قانِتہ مسکراتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔
”میں کچھ مدد کروں؟“نوراں نے نگاہ اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔
”توم سردار کا مہمان ہے۔ام توم سے کام تھوڑی کرائے گا۔“اس نے برتن اٹھا کر مٹی کے بنے چولہے پر رکھا اور آگ جلانے کی کوشش کرنے لگی۔
”سردار کو کون بتائے گا کہ میں نے تمہاری مدد کی؟“وہ ایک موڑا گھسیٹ کر چولہے کے پاس لائی تھی پھر نہایت احتیاط سے اس پر بیٹھ گئی۔
”او بی بی،ہم غیرت والا لوگ ہے۔مہمانوں سے کام نیی(نہیں) کراتا۔“اس کے الفاظ سے زیادہ اس کا انداز قانِتہ کو ہنسی دلا گیا تھا۔
”ادھر آؤ۔“اس نے نوراں کو ہاتھ سے پکڑ کر کھڑا کیا پھر اس کے چہرے کے ہر نقش کو چھوا اور آخر میں اسے گلے لگا لیا۔
”تم بہت پیاری ہو نوراں۔“قانِتہ نے نم آنکھوں سے اسے خود سے الگ کیا پھر اس کا ماتھا چوما۔
”توم رو کیوں رہا ہے؟“
”بس تمہیں دیکھ کر کسی کی یاد آ گئی۔تم بتاؤ،یہاں کام کیوں کر رہی ہو؟“اس نے خود کو کمپوز کرتے ہوئے پوچھا۔
”ام کوئی ملازم نیی(نہیں) ہے۔وہ تو بس کبھی کبھی یہ لوگ ام کو کام کرنے واسطے بلا لیتا ہے۔“اس نے ایک بار پھر آگ جلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
”تمہارا گھر کہاں ہے؟“آگ بھڑک اٹھی تھی۔چولہے میں بھی اور دل بھی بھی۔
”امارا تو کوئی گھر ہی نہیں ہے۔“وہ منہ میں بڑبڑائی۔
”کیا کہا تم نے؟“
”ام اپنے ترہ(چچا) کے گھر رہتا ہے۔“
”کون سے ترہ؟“وہ اب اسے کرید رہی تھی۔
”اختر ترہ۔“قانِتہ نے بے چینی سے پہلو بدلا۔تو وہ کم بخت ابھی تک زندہ تھا۔وہ سوچ کر رہ گئی۔
”وہ کچھ کہتا تو نہیں ہے تمہیں؟مارتا تو نہیں ہے ناں؟“نئے خدشے نے اسے آ گھیرا۔
”نیی نیی(نہیں نہیں) وہ تو بیت(بہت) اچھا ہے۔ام کو بیت(بہت) پیار کرتا ہے۔جب شہر سے واپس آتا ہے تو امارے واسطے نئے کپڑے اور جوتے بھی لاتا ہے۔“وہ اب چمکتی آنکھوں سے اختر کی تعریف کر رہی تھی جبکہ قانِتہ کا دل سلگ کر رہ گیا تھا۔نوراں باتونی اور جلدی گھلنے ملنے والوں میں سے تھی تب ہی وہ باآسانی ہر چیز قانِتہ کو بتا رہی تھی۔
”بس ترور(چچی) ام کو مارتا ہے کبھی کبھی۔لیکن ام کو فرق نہیں پڑتا۔“قانِتہ کا ذہن اختر پر ہی آ رکا تھا۔جتنا وہ اسے جانتی تھی،اس حساب سے تو اسے نوراں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرنا چاہیے تھا پھر آخر نوراں اس کی اتنی تعریف کیوں کر رہی تھی؟
”تمہارے گھر پر اور کون کون ہے؟“
”ترہ،ترورہ اور ان کے بچے۔“
”میرا مطلب تمہارے گھر والے…..تمہارے نیکه(دادا) کہاں ہیں؟“پیاز بھونتے ہوئے نوراں اداسی سے مسکرائی۔
”وہ نیی(نہیں) ہے۔امارے بچپن میں ہی گزر گیا۔“قانِتہ کے دل کو کچھ ہوا تھا۔
”اور…..اور تمہارے پلار؟“اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا تھا۔
”وہ بھی گزر گیا۔توم کو پتا ہے،امارا پلار بیت(بہت) عظیم انسان تھا۔وہ بیت(بہت) اچھا تھا،بیت(بہت) زیادہ۔“قانِتہ مسکرا نہ سکی تھی۔ایک لمحہ میں اسے نجانے کیا کیا یاد آیا تھا۔دل کرچی کرچی بکھر گیا تھا۔آنکھوں میں مرچیں چھبنے لگیں تھیں۔
”اور تمہارے بھائی بہن؟“
”وہ تو نیی(نہیں) ہے۔ایک بھائی تھا امارا مگر وہ بھی مر گیا۔“
”اور بہن…..؟“گھی کا ڈبہ بند کرتے کرتے نوراں کے ہاتھ رکے۔
”امارا کوئی بہن نیی(نہیں) ہے۔“قانِتہ کے دل پر زبردست گھونسہ پڑا۔اس نے آنکھیں بند کر کے ایک گہری سانس اندر کھینچی پھر مسکراتے ہوئے کہا۔
”لیکن میں نے تو سنا ہے کہ تماری ایک بہن تھی۔وہ کیا نام تھا اس کا؟“قانِتہ نے نام یاد کرنے کی اداکاری کی۔
”ہاں…..شاید غانیہ…..یہی نام تھا ناں؟“
”اس بے حیا کا نام بھی مت لو۔“نوراں نے زور سے گھی کا ڈبہ زمین پر پٹخا۔
”بیغیرت…..بھاگ گیا اپنے آشنا کے ساتھ۔اس کی وجہ سے ام کو روز باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ایک بار مل جائے ام کو۔ام اس کی جان لے لے گا۔“اس نے ساتھ بہت سی گالیاں غانیہ کو دیں تھیں۔ایسی گالیاں جو کوئی بھی شریف انسان سننا تو زمین میں گڑھ جاتا۔قانِتہ بھی زمین میں گڑھ گئی تھی۔چہرہ دھواں دھواں ہوا تھا۔
اتنا زہر،اتنی نفرت…..وہ بھی اس ہستی کے لیے جس نے اسے پالا تھا۔سینے سے لگا کر رکھا تھا۔جو اس کے لیے راتوں جاگی تھی۔
وہ اپنے کسی آشنا کے ساتھ بھاگی تھی۔آشنا…..؟کون سا آشنا…..؟کیا وہ آشنا زخرف فاطمہ تھی؟
قانِتہ کا ذہن مفلوج ہونے لگا۔سانسیں اکھڑنے لگیں۔آنکھیں پانی سے بھر گئیں۔زندگی میں پہلی بار اس نے شکر ادا کیا تھا کہ غانیہ زندہ نہیں تھی۔اگر وہ زندہ ہوتی تو نوراں کی زبان سے یہ سب سن کر ویسے ہی مر جاتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”تم کب تک یہاں رہوں گی؟“شام کے وقت قانِتہ نے نوراں سے پوچھا تھا۔اس کی زبان سے غانیہ کے متعلق اس قدر زہریلے الفاظ سننے کے بعد وہ سارا دن نوراں سے بات کرنے کی ہمت نہ کر سکی تھی۔وہ کوئی بات کرتی،بدلے میں نوراں غانیہ کو کچھ کہہ دیتی اور زخرف کا دل بری طرح ٹوٹ جاتا۔وہ جانتی تھی کہ نوراں غانیہ سے بدگمان ہے اور اسے یہ بدگمانی دور بھی کرنی تھی مگر بہت سوچ سمجھ کر۔
”کل شام امارا ترہ آئے گا پھر ام اس کے ساتھ چلا جائے گا۔“قانِتہ کی سرد آنکھیں چمکی تھیں جیسے برف کی سل پر سورج کی روشنی پڑی ہو۔اشیاق تو اسے بھی بہت تھا اختر سے ملنے کا۔نجانے وہ اسے پہچان پاتا یا نہیں۔
”تم اپنی بہن سے اتنی بدگمان کیوں ہو؟ہو سکتا ہے کہ وہ اچھی ہو۔“اس نے نہایت احتیاط سے بات کا رخ غانیہ کی جانب موڑا تھا۔
نوراں کے چہرے کا رنگ یکا یک تبدیل ہوا تھا۔وہاں نفرت،حقارت،دھتکار کے رنگ بکھر گئے تھے۔قانِتہ کے دل کو ایک بار پھر ٹھیس پہنچی تھی۔
”توم بار بار اس کا ذکر مت کرو۔وہ امارا بین(بہن) نیی(نہیں) ہے۔وہ ناسور ہے۔بستی والوں کو نظر آ گیا تو اس کو جان سے مار دے گا۔“
”اور اگر تمہیں نظر آ گئی پھر؟“لمحہ بھر کے لیے فضا میں سناٹا چھا گیا تھا پھر نوراں نے زمین پر تھوکا تھا۔
”ام تھوکتا بھی نیی(نہیں) ہے اس پر۔“قانِتہ نے آنکھیں میچ کر بمشکل نمی کو پلکوں کی دہلیز پر روکے رکھا۔لب لرزے مگر اس نے کچھ سخت نہ کہا۔وہ غانیہ کی نوراں نہ ہوتی تو یقیناً وہ اس کی زبان کھینچ لیتی۔
”اور اگر وہ مر گئی ہو پھر؟“اسی ضبط سے اگلا سوال پوچھا گیا۔دوسری جانب سفاکیت کی انتہا تھی۔”تو ام شکرانے کے سو نوافل ادا کرے گا۔ایسی (گالی) کو تو مر ہی جانا چاہیئے۔“قانِتہ نے خود کو کرسی کے کنارے پر سیدھا کیا۔دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں گھٹنوں پر دھر لیں۔لبوں کی لکیر مزید سخت ہو گئی گو کہ زبان پر آیا ہر لفظ اس نے مٹھی میں دبا رکھا ہو۔
”تمہیں کس سے بتایا کہ وہ اچھی لڑکی نہیں تھی اور کسی کے ساتھ بھاگ…..“جملہ اس قدر سخت تھا کہ وہ مکمل تک نہ کر سکی۔اس ادھورے جملے کی برچھی دل میں اتنی زور سے پیوست ہوئی تھی جیسے سالوں پرانا کوئی زخم پھر سے ادھیڑ دیا گیا ہو۔
غانیہ نے اپنی عزت اور جان خطرے میں ڈال کر اس کی مدد کی تھی۔اس کے لیے گولی کھائی تھی۔اس کے لیے اپنا گھر اور اپنی بہن چھوڑ دی تھی۔بدلے میں اسے کیا ملا تھا؟ایک دردناک موت اور مرنے کے بعد یہ ذلت؟
”سارا بستی جانتا ہے اور ام کو ترہ نے سب بتایا ہے۔امارے پلار کا میت گھر پڑا تھا اور وہ کم بخت اسی دن اپنے عاشق کے ساتھ بھاگ گیا۔اس کے جانے کے بعد اماری نیکه(دادا) بھی مر گئی۔ام اس دنیا میں اکیلا رہ گیا۔“اس کی آنکھوں میں تھکن اور لبوں پر ویرانی تھی جیسے اپنا سب کچھ کھو دیا ہو،جیسے روح کسی بوجھ تلے دب گئی ہو۔
قانِتہ گہری سانس بھر کر رہ گئی۔نوراں کی ذہن سازی میں بھی اختر کا ہاتھ تھا۔کہانی کا ہر سرہ اس سے ہی جا کر مل رہا تھا۔
”تمہارے ترہ نے بتایا نہیں کہ تمہاری بہن کس کے ساتھ بھاگی تھی؟“دل چاہا کہ اختر کی بوٹیاں نوچ لے۔وہ اتنا گھٹیا الزام غانیہ پر کیسے لگا سکتا تھا؟جبکہ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ غانیہ گھر سے بھاگی نہیں تھی۔وہ بس زخرف کی مدد کر رہی تھی۔اس نے واپس لوٹ کر آنا تھا مگر اختر نے اسے اس قابل ہی کہاں چھوڑا تھا۔
اسے سالوں پہلے غانیہ کی کہی بات یاد آئی تھی۔
”جب ایک لڑکی گھر کی دہلیز پار کر لیتی ہے تو واپسی کے سارے راستے بند ہو جاتے ہیں۔“
اس نے ٹھیک کہا تھا۔وہ واپس نہیں آ سکتی تھی۔واپس آتی تو ماری جاتی مگر وہ تو پہلے ہی مار دی گئی تھی۔قانِتہ نے ڈھیروں آنسوؤں کو اندر اتارا۔
ماری تو وہ بھی جاتی اگر کسی کو یہاں علم ہو جاتا کہ وہ قانِتہ نہیں زخرف ہے۔وہ قاتل ہے۔وہ گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی ہے۔اسے سوارہ کیا گیا تھا اور سوارہ کی گئی لڑکی نے دوبارہ اپنا گھر بسا لیا تھا۔اس نے دوسری شادی کر لی تھی۔
”ام کو کیا پتا کس کے ساتھ بھاگی۔اماری بلا سے جا مرضی جائے۔“اس نے ناک سکیڑ کر سر جھٹکا۔
”ویسے کیا تم مجھے اپنے عظیم پلار کی قبر پر لے کر جا سکتی ہو؟“اس نے عظیم کو لمبا کھینچ کر کہا۔نوراں نے چونک کر اسے دیکھا۔آنکھوں میں ڈھیروں سوال ابھرے۔”توم وہاں کیوں جانا چاہتا ہے؟“
”ویسے ہی۔تم لے کر جاؤ گی مجھے؟“
”ام کو ڈر لگتا ہے۔“
”تم باہر کھڑی رہنا،میں اندر چلی جاؤں گئیں۔“
کچھ دیر بعد وہ نوراں کے ساتھ گھر کی دہلیز پار کر رہی تھی جب اس کا ٹکراؤ غزوان سے ہوا۔
”کہاں جا رہی ہو تم؟“وہ حیران سے زیادہ پریشان ہوا تھا۔
”میں اور نوراں تھوڑی دیر کے لیے باہر جا رہے ہیں۔“
”اور جب ام واپس آئے تو توم امارا میمنا ام کو واپس کرے گا۔“نوراں نے انگلی اٹھا کر اسے دھمکی دی۔وہ ہکا بکا رہ گیا۔
”ایک سیکنڈ،تم تو وہی ہو ناں اور یہ بکری کا بچہ کہاں سے درمیان میں آ گیا؟“
”بکری کا نہیں،وہ بھیڑ کا بچہ بلکہ امارا بچہ ہے اور ام کو توم واپس دے گا۔“
”ارے لیکن میں……“
”سنا نہیں تم نے،نوراں نے کیا کہا۔جب ہم واپس آئیں تو اس کا بچہ تم اسے واپس کرو گے۔“
”قانِتہ……“وہ بس اسے دیکھ کر ہی رہ گیا۔کتنی جلدی وہ اپنا رنگ بدل لیتی تھی۔
”میں کہاں سے لاؤں بکری یا جو بھی ہے بھیڑ کا بچہ؟“بےبسی کی انتہا تھی۔
”وہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے لیکن اگر تم نے نوراں کا میمنا ڈھونڈ کر نہیں دیا تو ہم تینوں تم سے کبھی بات نہیں کریں گے۔“اس نے نوراں کا ہاتھ پکڑا اور وہاں سے چلی گئی۔غزوان صدمے سے گنگ وہیں کھڑا رہ گیا۔
وہ کیا اب پوری بستی میں میمنا ڈھونڈھتا پھرتا اور اسے کیسے پتا چلتا کہ نوراں کا میمنا کون سا ہے؟
عجیب بےبسی تھی۔محبت کی اتنی بھاری قیمت شاید ہی کسی نے چکائی ہو گی،جتنی وہ چکا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سورج غروب ہونے کے قریب تھا۔قبرستان کی فضا میں ہوا تھمی ہوئی تھی۔درختوں کی شاخیں ساکت اور زمین پر پڑی خشک پتیاں وقت کے گزر جانے کا ثبوت دے رہی تھیں۔
قانِتہ سیاہ چادر میں لپٹی دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ایک خاص قبر کی طرف بڑھ رہی تھی۔جوتیوں میں مٹی بھر چکی تھی مگر قدم رک نہیں رہے تھے۔
یہ جگہ قبرستان سے تھوڑی الگ تھی۔درمیان میں دیوار تھی اور اس جگہ کچھ قبریں۔یہ حصہ خاص یوسفزئی خاندان کے افراد کے لیے الگ سے مختص کیا گیا تھا۔
قبر کے پاس پہنچ کر وہ کچھ دیر ساکت کھڑی رہی پھر نیچے بیٹھ گئی۔آنکھوں میں نمی نہیں تھی اور نہ چہرے پر کوئی نرمی……وہاں بس سرد سختی تھی جیسے برسوں کی تلخی اب الفاظ بننے جا رہی ہو۔
اسے لگا تھا کہ وہ خوف کے مارے ڈھے جائے گی۔بلک بلک کر رو دے گی مگر ایسا کچھ نہ ہوا تھا۔وہ سالوں بعد اپنے خوف کا ڈٹ کر سامنا کر رہی تھی۔وہ تمام خواب جو اسے ڈراتے تھے،آج جب حقیقت بن کر سامنے آئے تو وہ مضبوط چٹان بنی ان کا مقابلہ کر رہی تھی۔
”کاش تم زندہ ہوتے۔تم دیکھ سکتے کہ تمہارے بعد میں کس حال میں ہوں۔“وہ تلخی سے ہنس دی۔”سالوں پہلے ایک نو سالہ لڑکی کا سودا کیا گیا تھا۔اسے خون بہا کے طور پر دیا گیا تھا آج میں نے سوارہ کی اس رسم کو توڑ دیا سِمَاک۔میں آزاد ہو گئی۔میں نے اپنا گھر بسا لیا۔تم نے تو مرتے مرتے بھی ایسا جال پھینکا کہ میں اس میں جکڑ کر رہ گئی۔ایک طرف تم نے کہا کہ اگر کوئی کوئی بہتر ساتھی ملے تو اس کا ہاتھ تھام لینا اور دوسری طرف تم اپنی محبت کی زنجیر میرے پیروں میں باندھ گئے اور میں بیواقوف……“آنسووں کی ایک لڑی اس کی گال پر بہہ نکلی۔”میں ساری زندگی تمہارے نام کی تسبیح پڑھتی رہی۔شادی کا تو سوچا بھی نہیں تھا میں نے۔وہ خود آیا میری زندگی میں اور بہت اچھا ہوا کہ وہ آ گیا۔اس نے مجھے بتایا کہ میں صرف بہتر زندگی کی مستحق نہیں ہوں،میں اللہ کے انعام کی بھی مستحق ہوں۔“وہ اب رو رہی تھی۔آنسو بے آواز گالوں پر پھسلتے جا رہے تھے مگر ایک بھی آنسو سِمَاک کے نام کا نہیں گرا تھا۔یہ تمام آنسو خوشی کے آنسو تھے۔خوف کے اختتام کے آنسو تھے۔تشکر کے آنسو تھے۔
”تم نے اور تمہارے قبیلے نے مجھے برباد کر دیا سِمَاک لیکن میں خوش ہوں۔بہت خوش ہوں۔تمہیں یاد ہے تم نے مجھ سے کہا تھا کہ ”وعدے جھوٹے تھے مگر محبت سچی تھی۔“تم نے جھوٹ کہا تھا۔تم نے میری آنکھوں میں بغاوت دیکھ لی تھی۔تمہیں ڈر تھا کہ کہیں میں کسی اور کی نہ ہو جاؤں تو پھر آج سن لو سِمَاک یوسفزئی……زخرف فاطمہ نے اپنی زندگی تمہارے نام ضائع نہیں کی۔میں نے دوسری شادی کر لی ہے اور میں اپنے شوہر سے بے انتہا محبت کرتی ہوں۔وہ تم سے عمر میں بہت کم ہے مگر ظرف میں بہت بڑا۔ایک بار پھر سن لو۔زخرف فاطمہ غزوان جہانزیب سے بے انتہا محبت کرتی ہے،بے انتہا۔“وہ کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔بے دردی سے آنسو رگڑے اور ایک آخری نگاہ اس قبر پر ڈالی۔
”تم نے مر کر مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے سِماک۔اگر تم نہ مرتے تو میں کبھی آزاد نہ ہو پاتی۔تمہارے اس احسان کا بدلہ میں تمہاری بیٹی کا خیال رکھ کر چکاؤں گئیں اور تم یہ مت سمجھنا کہ میں تمہیں بھول جاؤں گیئں یا مجھے تمہاری پرواہ نہیں۔سابقہ ہی سہی لیکن شوہر تو تھے نہ تم۔میں تمہیں مزید اکیلا نہیں رہنے دوں گئیں۔بہت جلد تمہارے اس کزن کو تمہارے پاس بھیج دوں گئیں۔“اس نے حقارت سے اس قبر کی جانب دیکھا اور چادر درست کرتی وہاں سے چلی گئی۔
زندگی میں بہت سی چیزیں وقت کے ساتھ ہی سمجھ آتی ہیں۔زخرف کم عقل اور معصوم تھی۔اسے بیواقوف بنانا آسان تھا۔عورت کو بیواقوف بنانا مرد کے لیے ہمیشہ ہی آسان ہوتا ہے۔وہ جذبات کا ایسا جال بنتا ہے کہ عورت جکڑ کر رہ جاتی ہے۔محبت پر بنے رشتے اور ٹاکسک رشتے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔پاکستان میں خواتین کی اکثریت نے اپنی زندگی زہریلے رشتوں کے ساتھ گزاری ہوتی ہے۔وہ چاہے شوہر ہو،باپ ہو یا بھائی……پھر جب ان کی زندگی میں کوئی عزت اور محبت کرنے والا شخص آ جاتا ہے تو ان کا دماغ باآسانی اسے قبول نہیں کر پاتا۔ان کی نظر میں ایسا مرد تو حقیقی مرد ہی نہیں ہوتا کیونکہ وہ ذہنی طور پر ان ٹاکسک رشتوں کی عادی ہو چکی ہوتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
