No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
آج تو “ملک ولاز” کے رنگ ہی اور تھے. رائحہ نے بےشک اپنی صلاحتوں کا لوہا منوایا تھا. رائحہ اور حنین نے مل کر ملک ولاز کو “رائل پیلس” کی شکل دے دی تھی. جو بھی دیکھتا اُس کے سحر میں مبتلا ہو جاتا.
لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ پرانے والا ملک ولاز ہے ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے راتوں رات جادوئی چھڑی گھما کر ،منظر ہی بدل دیا.
فرنیچر ، کرٹن ، کراکری اور ڈریسنگ میں رائحہ نے اپنا بقول اُس کے “سو سالہ ” تجربہ استعمال کیا تھا.
دور سے دیکھو تو برقی قمقموں کی روشنی میں ایسا لگ رہا تھا جیسے آسمان سے ستارے اتر آئیں ہوں.
روشنی کا کمال امتیاز تھا لان میں گرین اور پیلی ، ہال میں دودھیا سفید اورگیٹ پر رنگ برنگی…..
تازہ پھولوں سے سجی یہ عمارت جسے عمارت کہنا غلط ہو گا کم از کم آج کے دن وہ کسی “پرستان ” کا حصہ لگ رہی تھی.
گلاب ، موتیا اور گینڈے کے پھولوں کی مہک ایک طرف دوسری طرف رنگ برنگے کھانوں سے اٹھنے والا لزیز دھواں ….آنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ رہا تھا.
گھر کی ساری ڈیکوریشن “حنین” کی جیب سے ہوئی تھی.
ستر قسم کے مختلف میٹھے اور نمکین کھانوں کا سارا خرچا “زریاب” نے اٹھایا تھا.
اور تمام لوگوں کی ڈریسنگ کا خرچا جو کہ سب سے زیادہ تھا وہ “دبیر” کے حصے میں آیا تھا.
🌸🌸🌸🌸
حنین اس وقت پوری آب وتاب سے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تیار ہو رہا تھا جبکہ نرمین کشن پر بیٹھی یک ٹک اسے ہی دیکھ رہی تھی.
کیا بات ہےتم نے نہیں تیار ہونا…؟
حنین نے اپنے بال سیٹ کرتے ہوئے مرر میں دیکھ کر نرمین سے پوچھا.
مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ تم نے لڑکوں اور لڑکیوں کی بجائے جن کی منگنی بھی ہے اپنا ، زریاب ، اور دبیر کا مہنگی ترین برینڈ “ارمانی ” والوں سے سوٹ بنوائے ہیں. لوگ کیا کہیں گے ؟ بات بھی عجیب سی ہے میرا دل نہیں کر رہا یہ کپڑے پہننے کو……
یہ جو سوٹ میں نےپہنا ہے زیادہ مہنگا نہیں ہے صرف “پانچ لاکھ “کا ہے اور اگر اس سے زیادہ اچھی برینڈ پاکستان میں ہوتی تو آج کے دن میں اُن کا سویٹ پہنتا….
رہی بات کہ مہنگا کیوں بنوایا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے پیسے “دبیر” نے دینے تھے میں نے نہیں…
حنین نے کندھے اچکائے.
اور آخری بات کہ کیوں بنوایا ہے ؟ تو میری بچوں کی معصوم سے “اماں جان “کیونکہ تم میں مام جیسی تو بات ہے نہیں ایکدم دیسی ماں ہو اس لیے سنو اور غور سے سنو….
حنین نے آخری بار اپنے اوپر ایک بھرپور نظر ماری.
بچے ہم نے پیدا کیے …
راتوں کو ہم جاگے …
پڑھایا لکھایا ہم نے…
قابل بنایا ہم نے…
رشتے کیے ہم نے…
خرچا کیا ہم نے….
تو آج کے دن پیارے لگنے کا حق بھی ہمیں یعنی “والدین” کو ہے. سمجھی …
چلو شاباش یہ سوٹ پہنو اور میرا دل لے لو یعنی “لُٹ” مچا دو.
آخر میں حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر شرارت کی.
تمہاری لوجکس تمہیں ہی پتہ ہیں میری سمجھ میں تو آج تک نہیں آئیں. نرمین کہتے ہوئے واش روم جانے لگی جب حنین نے روکا.
اتنا خوبصورت بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ “شدید خوبصورت ” انسان کو دیکھ کر بھی تمہارے منہ سے تعریف نہیں نکلی کیا چیززز ہو تم…….؟؟؟
میں اس شدید خوبصورت کو عرصہ دراز سے دیکھ رہی ہوں میرے لیے نئی بات نہیں باہر جاؤ ایک دنیا تمہاری تعریف کرنے کے لیے کھڑی ہے.
🌸🌸🌸🌸
سب لڑکیاں یعنی زرناب ، رامین ، حبا ، زرتاشے ایک طرف جبکہ سب لڑکے جن میں حمین ، موسی ، ارتضی ، مرتضی ، حذیفہ دوسری طرف کھڑے تھے.
جب اسٹیج پر حنین اور مسز حنین اُن کے پیچھے دبیر اور مسز دبیر اور آخر میں زریاب اور مسز زریاب جلوہ افروز ہوئے
سب نے ان پر پھول پھینکے اور تالیاں بجائیں.
پھر حنین نے آگے بڑھ کر تمام رشتوں کا اعلان کیا. اس کے بعد سب عام و خاص کو طعام کی دعوت دی گئی.
کسی قسم کی کوئی رسم نہیں ہوئی وجہ یہ تھی کہ “عالیہ بیگم” یعنی اماں بی ایسی رسموں کے سخت خلاف تھیں چنانچہ حذیفہ کا رشتہ زرتاشے سے اسی شرط پر ہوا تھا کہ کوئی رسم نہیں ہو گئی بڑے بات طے کریں گے اور پھر شادی……
آج کے فنکشن میں کسی غیر کو دعوت نہیں دی گئی تھی صرف حنین ، دبیر اور زریاب کی فیملیززز شامل تھیں.
ماہ نور ، عالیہ بیگم ، ثریا بیگم اور بیگم غزالہ ایک جگہ بیٹھی تھیں.
جبکہ سردار حشمت ، دلاور ، کونین اورافراسیاب دوسری طرف باتوں میں مصروف تھے.
لڑکوں نے الگ ٹولا بنایا ہوا تھا تو لڑکیوں نے الگ…..
یہ کیا سب اپنی اپنی گپے ہانک رہے ہیں کچھ تو ہلا گلا ہونا چاہیے. دیکھ میں کرتا کیا ہوں.
“ھم تو اپنے ہنر میں آج بھی دم رکھتے ھیں…..
اڑ جاتے ھیں لوگوں کے رنگ……
جب ھم محفل میں قدم رکھتے ھیں…..”
حنین دبیر سے کہتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا.
پیاری پیاری لڑکیوں اور گزارے لائق لڑکوں کیا آپ ایک “انتہائی شدید خوبصورت “انسان ساتھ گیم کھیلیں گے…؟
سب نے مڑ کر حنین کی طرف دیکھا.
تم لوگ تو مجھے ایسے دیکھ رہے ہو جیسے میں نے “خودکش حملہ” کا بولا ہے. دیکھو بار بار دیکھو مگر پیار سے……
آپ کہیں اور ہم نہ کریں کم از کم مورخ ابھی تک ایسا کچھ نہیں لکھتا.
اُسے لکھنا بھی نہیں چاہیے ورنہ میں اُس کی قلم چھین لوں گا. چلو سب ادھر آ کر دائرہ بناؤ…
حنین نے حمین کو جواب دیا اور خود اندر سے کشن اٹھا لایا.
سمجھ تو گئے ہونگے کہ اس کا کیا کرنا ہے…؟
“بزمِ جاناں میں نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص
جو اک بار جہاں بیٹھ گیا بیٹھ گیا…”
حنین نے عادت کے عین مطابق دبیر اور زریاب کے درمیان بیٹھتے ہوئے کہا.
جی بلکل……
سب نے کہا اور حنین نے گیم شروع کی.
جیسے ہی کشن گھوم کر دبیر پاس آیا حنین نے سٹاپ بول دیا.
ہاں تو مسٹر دبیر حسین شاہ آپ ہمیں بیگم کی شان میں کچھ سنائیں…..
رائحہ نے مسکرا کر دبیر کی طرف دیکھا.
“مشتاق یوسفی صاحب سے پوچھا گیا کہ اگر شیر تمہاری بیگم اور ساس پر حملہ کردے تو آپ کس کو بچائیں گے !
یوسفی صاحب بولے ظاہر ہے شیر کو بچاوں گا !!”
جیسے ہی دبیر نے یہ کہا سب قہقے لگانے لگے جبکہ رائحہ نے انتہائی غصہ سے دیکھا
قسم لے لو مجھے ایسا کہنے کوحنین نے کہا تھا میں نے تو آج تک “مشتاق یوسفی” کی کوئی کتاب نہیں پڑھی.
دبیر نے سر کھجاتے ہوئے فوراً اپنی صفائی پیش کی.
چلو جی اب پھر کشن گھماؤ حنین کے کہنےپر دبیر نے آگے کی طرف کشن پاس کیا اور اب کی بار حذیفہ پر جا کر حنین نے “سٹاپ” کہہ دیا.
جی جناب فوجی کچھ ارشاد کریں. حنین نے شعر کی فرمائش کی.
“اے عالم وقت کوئی ایسا بھی فتویٰ دے
جو وطن سے وفا نہ کرے کافر ٹھہرے”
واہ واہ کمال ہو گیا سب نے بھر پور تالیاں بجائیں.
وطن سے محبت تو ہماری رگ رگ میں شامل ہے.
حذیفہ کے کہنے پر حنین نے زرتاشے کی طرف اشارہ کیا اور اِن سے….
دل میں…..
حذیفہ نےدل پر ہاتھ رکھتے ہوئے سر کو خم دیاجس پر سب نے ہوٹنگ کی.
چلو جی اب آگے کشن گھماؤ اب کی بار نرمین پر کشن رکا.
ایک منٹ اب میں سوال کروں گا. حمین نے انگلی اٹھا کر حنین کو بولنے سے منع کیا جس پر حنین نے منہ پھلا کر بات مان لی.
مسز حنین آج آپ سب کے سامنے وہ جملہ کہیں جو آپ کے خیال سے مسٹر حنین ساری زندگی آپ کے منہ سے سننا چاہتے تھے.
حمین کے سوال پر نرمین ہلکا سا مسکرائی اور حنین کی طرف دیکھا جو اپنے پھُلے منہ کے ساتھ اُسے ہی دیکھ رہا تھا.
“تم جتنے کل خوبصورت تھے آج اُس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت اور چارمنگ ہو”.
نرمین کے جملے پر جہاں باقیوں کے منہ کھل گئے وہیں حنین نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لیے .
قسم سے مجھے شرم آ رہی ہے.تعریف وہ بھی سب کے سامنے…. وہ بھی میری… وہ بھی نرمین کے منہ سے…..ناممکن ، ممکن کیسے ہو گیا.
اور اُس کے اِس جملے سے فضا میں ایک بار پھر قہقے گونج اُٹھے.
چلیں جی اب پھر اس کشن کو گھمائیں جیسے ہماری عوام کو سیاستدان گھماتے ہیں.
حنین کے کہنے پرپھر گیم شروع ہوئی اور کشن رائحہ پر جا رکا.
جی تو ڈاکٹر رائحہ بخاری عرف ہالہ بی ایسی کونسی خواہش ہے جو مسٹر دبیر نے وعدہ کر کے پوری نہیں کی…؟
حنین کے سوال پر دبیر نے اُسے خشگمین نظروں گھورا.
کمینے تُجھے میرا ہی گھر ملتا ہے خراب کرنے کے لیے….
دبیر نے آہستہ آواز میں سرگوشی کی اور ساتھ ہی ایک مکا حنین کی کمر میں رسید کر دیا.
رائحہ نے ایک سرد آہ بھری اور حسرت سے دبیر کو دیکھا.
مجھے بہت شوق تھا “گاڑیوں کے شو روم ” کا ….
رائحہ ابھی اتنا ہی بول پائی تھی کہ حنین نے نعرہ لگایا جس میں سب نےاُس کا ساتھ دیا.
“ساڈا حق اتھے رکھ”
دبیر نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا اور زریاب نے سرگوشی کی.
یہ ہمیں اس عمر میں بھی اُتنا ہی ذلیل کرتا ہے جتنا جوانی میں کرتا تھااور دبیرنے سر ہلا دیا.
زیادہ نہیں کم از کم اتنی گاڑیوں کا ہی کھول دو جتنی اس وقت حنین کے گھرپر موجود ہیں.
رائحہ کے کہنےپرسب کے منہ کھل گئےکیونکہ اس وقت 40 کے قریب برینڈ نیو کازززز حنین کی پارکنگ میں موجود تھیں فنکشن کی وجہ سے….
بس اتنی سی …..
حنین نے مصالحہ لگایا
کیلکولیشن پلیزززز….
حمین نے اونچی آواز میں کہا جس پر مرتضی نے فورا کیلکولیٹ کر کے جواب دیا.
دو ارب ڈیڑھ کڑوڑ سکہ رائج وقت….
بس…….!!!
یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں دبیر کے لیے اور شرارت سے دبیر کو دیکھا جو اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا.
کمینے تو چاہتا تھا مجھے NAB والے لے جائیں اتنی عیاشی……
دبیرکے جواب پر حنین سمیت سب ہی ہنس پڑے سوائے رائحہ کے.
خاموشی پلیززز گیم کا احترام کرتے ہوئے کشن آگے پاس کریں .
حنین کے کہنے پر ایک بار پھر گیم شروی ہوئی اور اب کی بار کشن موسی پر جا رکا.
اس بندے سے سوال کرتے وقت مجھے اس کی ماں سے ڈر لگتا ہے.
ٹھیک ہے پھر میں سوال کر لوں. حنین کے کہنے پر مرتضی نے اجازت چاہی جو اُسے مل بھی گئی.
آنٹی نرمین کے علاوہ سب سے زیادہ کس سے محبت کرتے ہو؟
سب کا خیال تھا وہ “زرناب” کا نام لے گا مگر موسی کے جواب نے سب کو ہی چونکا دیا.
بابا سے ، بہت محبت ہے مجھے اِن سے ، یہ میرے آئیڈیل ہیں “پرفیکٹ باپ”……
موسی کے جواب پر حنین کی آنکھوں میں موتی چمکنے لگے.
ہر باپ یہی چاہتا ہے کہ اُس کی اولاد اس کی قدر کرے اس کی محبت اور قربانیوں کا اعتراف کرے جو اسے پالنے میں وہ کرتا رہا.
حنین نے نظریں جھکا لیں وہ سب کے سامنے رونا نہیں چاہتا تھا مگر وہ آج اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہتا تھا جس نے اسے بہترین والدین دیے ، دوست دیے ، بیوی دی اور اولاد اُس نے تو کمال ہی کر دیا. اتنا مان……
ایک دم ماحول پرسکوت چھا گیا حنین کے خاموش ہوتے ہی سب خاموش ہو گئے. چند لمحوں کے بعد حنین نے نظریں اٹھا کر اوپر دیکھا تو سب اسے ہی آنکھوں میں نمی لے کر دیکھ رہے تھے جیسے کہہ رہے ہوں کہ ….
“تم مسکراؤ تو ہم مسکرائیں..؟”
زریاب نے حنین کو ساتھ لگایا اور سب نے تالیاں بجائیں یہ اُن کی حنین سے بھرپور محبت کا اظہار تھا.
Interval ……
حمین نےماحول کو سنجیدگی سے نکالنے کے لیے نعرہ لگایا. جس پر سب ہنس پڑے.
گیم پھر شروع ہوئی اور کشن حمین پر رکتا دیکھ کر زرناب بول پڑی .
حمین سے سوال میں کروں گی…..؟؟؟
خبردار ! میں تمہارے کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا. حمین نے انگلی سے زرناب کو منع کیا.
“کتوں اور وکیلوں کی لڑائی سے اللہ بچائے”
حنین کے تبصرے پر حمین اور زرناب چیخ پڑے.
مسٹر حنین آپ زیادتی کررہے ہیں اخلاقیات کے دائرے میں رہیں.
یار میں نے “چیلوں ” کہنا تھا وہ غلطی سے “وکیلوں” نکل گیا.
حنین نے حمین کو ناراض ہوتے دیکھ کر بات بنائی.
یہ صرف اپنے بیٹے کے ہاتھوں قابو آتا ہے…..زریاب نے تبصرہ کیا.
چلو جی بریک کرتے ہیں اور کچھ کھا پی لیتے ہیں کیا خیال ہے سب کا…….؟؟
خبردار جو کوئی اپنی جگہ سے ہلا. سب کچھ یہیں ملے گا گیم ابھی باقی ہے…..؟
زریاب کے کہنے پر حنین نے اپنا بیان جاری کیا.
گیم ایک بار پھر شروع ہوئی اب کی بار بیچاری “حبا” حنین کے قابو آ گئی.
ہاں بی چڑیا سے کون سوال کرے گا یا میں خود ہی کر لوں…؟
میں سوال کروں گی….؟
رامین جو اُس کے ساتھ بیٹھی تھی بول پڑی.
تم حمین بھائی سے کچھ کہو
، رامین کی فرمائش پر حمین سمیت سب نے ہی حیرت سے اُسے دیکھا
کیا میں نے کسی “illegal ” چیز کا نام لیا ہے یہ آپ لوگ مجھے کیسے دیکھ رہے ہیں؟
نہیں تمہارا سوال illegal نہیں مگر جس کے لیے کیا ہے اس کے لیے illegal لگ رہا ہے خیر حبا تم جواب دو. حنین نے رامین کو جواب دیتے ہی حبا کو مخاطب کیا .
میں نے ایک بار کہیں نظم پڑھی تھی وہ سنا دیتی ہوں.
“ﺳﻨﻮ__ ! ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ کہنیﮬﮯ ﮔﺰﺍﺭﺵ ہی ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﻨﺎ ہنسی ﻣﯿﮟ ﻣﺖ ﮔﻨﻮﺍ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﻑ ﻻﺣﻖ ﮬﮯ ﺟﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﯿﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﺳﺒﮭﯽ ﮐﺎ ﮬﻢ ﻧﺸﯿﮟ ﮬﻮﻧﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮ ﺩﯾﮕﺎ!! سنو!!
ﻓﻘﻂ ﻣﯿﺮﮮ ہی ﮨﻮ ﺟﺎﺅ !!
حبا کی نظم پر حمین نے اپنی گول مٹول آنکھیں بےیقینی سے گھمائیں.
ہاں اب بتائیں چڑیا ، عقاب بننے کی صلاحیت رکھتی ہے کہ نہیں…؟
حنین نے ہنستے ہوئے حمین کو کہا جس پر اُس نے تائیدی نظروں سے دیکھا جبکہ باقیوں نے خوب ہوٹنگ کی.
چلو جی کشن آگے بڑھائیں اسے باپ کی پراپرٹی سمجھ کر رکھ نہ لیں.
حبا کی گود میں پڑے کشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حنین نے کہا جس پر سب ہنس پڑے اورگیم ایک بار پھر شروع ہو گئی.
زریاب نے دور بیٹھیں ماہ نور ، بیگم عالیہ اور بیگم غزالہ کی طرف دیکھ کر دبیر سے کہا
وہ دیکھ تین “اللہ والی” بیٹھیں کتنی پیاری لگ رہیں ہیں….
دو تو کنفرم ہے تیسری کا پتہ نہیں….
جواب دبیر کی بجائے حنین کی طرف سے آیا.اس سے پہلے کہ وہ اسے کچھ کہتا کشن زریاب کے ہاتھ آتے ہی حنین نے اپنے آپ کو بچایا اورسٹاپ بول دیا.
سردار زریاب علی خان آپ محبت کی شان میں کچھ کہیں کیونکہ آپ نے اسی فیلڈ میں Phd کی ہوئی ہے ان بچوں کو بھی اپنے “درد ناک” تجربے کی روشنی میں مشورہ دیں.
لفظ “درد ناک” استعمال کرنے پر سب کی ہنسی چھوٹ گئی. جبکہ زریاب نے اُسے کہنی ماری.
“میں نے محبت سے بڑی انسکیور چیز کبھی نہیں دیکھی ہے جو انسان کا یقین ختم کر دیتی ہے۔اس کے اندر ایک ڈر پیدا کرتی ہے اور اسے اندیشوں اور وسوسوں کی دنیا میں دھکیل دیتی ہے۔”
ہائے میرے دوست ساتھ محبت نے اچھی نہیں کی…..
زریاب کی بات پر حنین نے رونے کی ایکٹنگ کی جبکہ باقیوں نے تالیاں بجا کر زریاب کو داد دی.
گیم دوبارہ شروع ہوئی اور اب کشن رامین پاس رکا.
رامین کو دیکھتے ہی حنین کے تاثرات ایک دم بدل گئے آنکھوں میں بیٹی کی محبت چمکنے لگی.
میری شہزادی ، بابا کی جان پرستان کی ننھی پری آپ کا جو دل کرتا ہے کہیں کوئی سوال نہیں…..
رامین نے مسکرا کر باپ کو دیکھا اور پھر کہا
مجھے آج تک ایک بات سمجھ نہیں آئی اگر آپ میں سے کسی پاس اس کا جواب ہے توبتا دیں.
“”لوگ کہتے ہیں محبت وہاں جا کر مارتی ہے جہاں پانی بھی نہیں ملتا ، تو کیا نفرت کوکا کولا پلا کے مارتی ہے…؟ “
اللہ معاف کرے حنین کی اولاد سے ، ایک سے بڑھ کر ایک آئیٹم ہے تُو جواب دے تیری ہونے والی “بہو” ہے .
میں کیوں جواب دوں وہ دے جس کی ہونے والی “بیوی” ہے.
دبیر نے زریاب کے سوال پر اسے جواب دیا اور دونوں ہنسنے لگے.
“میرے خیال سے محبتمیں اتنا شدت پسند تو ہونا بنتا ہے کہ جو آپکا ہو وہ کسی اور کا نہ ہو …..”
رامین کے سوال پر ارتضی نے جواب دیا جس پر سب لڑکوں نے ہوٹنگ کی…..
گیم ایک بار پھر شروع ہوئی اب کی بار زرناب پر جیسے ہی کشن آیا حنین نے سٹاپ بول دیا جس پر سب نے خوب شور مچایا.
ہاں تو بیرسٹر زرناب علی خان آپ کسی کو کچھ کہنا چاہتی ہیں..؟
حنین کے سوال پر زرناب نے ایک نظر حمین کو دیکھا جو اسی ہی دیکھ رہا تھا.
جی کہنا ہے اور کچھ confess بھی کرنا ہے.
کہنا حمین سے ہے اور confess آپ لوگوں سے کرنا ہے.
جیسے ہی زرناب نے یہ کہا حمین بول پڑا.
یہ خوبصورت لڑکیاں اتنی بےوقوف کیوں ہوتیں ہیں؟
جس پر لڑکیوں نے خوب شور مچایا.
حمین کے لیے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ…
“آپ اپنے آپ کو سمجھدار سمجھیں مگر دوسروں کو بےوقوف سمجھنے کی سمجھداری سے پرہیززز کریں.”
اب کی بار خوب ہوٹنگ ہوئی جس میں حنین نے بھی زریاب کا ساتھ دیا.
اور confess یہ کرنا ہے کہ آپ لوگ میرے بارے میں غلط سوچ رہے ہیں یہ کیس میں نے نہیں جیتا میرا مطلب ہےکہ میں یہ کیس نہیں جیت سکی…..
جیسے ہی زرناب نے یہ کہا زریاب کے ساتھ ساتھ سب کے منہ کھل گئے.
جبکہ حمین نے اپنی آنکھوں کو زور سے بندکر کہ کھولا
یہ کیا کہہ رہی ہو تم…..؟
ہوش میں تو ہو….؟
تم نے نہیں جیتا تو پھر کس نے جیتا ہے…؟
عجیب مذاق ہے…؟
پلیزز آپ لوگ خاموشی سے میری بات سنیں اور بیچ میں مت بولیں. پلیزززز …..
زرناب نے سب کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا جو اُس سے طرح طرح کے سوال کرنے لگے تھے.
میں نے آج آپ سب لوگوں کو اور خاص طور پر زرتاشے کو یہ بتانا ہے کہ مسیحا میں نہین کوئی اور ہے مجھے کسی کا کریڈٹ نہیں لینا.
ہوا کچھ یوں ہے کہ میں یہ کیس ہار گئی تھی کسی قسم کے باوجود کوشش کے ثبوت نہیں مل رہے تھے اور مجھے مہر کی جیت یقینی نطر آ رہی تھی کہ پھر اچانک مجھے حمین کی کال آئی.
اس نے ایک شرط کے ساتھ مجھے مہر کے خلاف تمام ثبوت مہیا کیے جو میرے لیے ایک سرپرائز تھا.اس دن سے میرا دل بےچین ہے مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ حمین نے یہ سب کیسے کیا.جیسے ابھی آپ سب حیران ہو رہے ہیں میں پچھلے دس دن سے ہوں.
اب حمین سے پوچھیں اس نے یہ سب کیسے کیا کیونکہ میں بھی جاننا چاہتی ہوں…؟
زرناب کی بات ختم ہوتے ہی سب نے سوالیہ نظروں سے حمین کی طرف دیکھا سوائے حنین کے….
مسٹر حنین بلکل ٹھیک کہتے ہیں لڑکیاں آپ کو کہیں بھی پھنسا سکتی ہیں.
حمین بات کو مذاق میں مت اڑاؤں ہمیں بتاو سچ کیا ہے…؟
دبیر نے سنجیدگی سے پوچھا جس پر حمین نے ایک گہرا سانس لیا.
اگر اجازت ہو تو پانی پی لوں کافی لمبی کہانی ہے حمین کی شرارت پر سب مسکرا دیے.
تُو بیٹھا رہ ، میں پانی دیتا ہوں ، حذیفہ نے بوتل حمین کیطرف پھینکی
میرے پیارے خواتین و حضرات قصہ کچھ یوں ہے کہ
ایک دن میں نے زرناب ساتھ کسی کو بحث کرتے کچہری میں دیکھا ( زرناب کو یاد آ گیا) میں نے اپنے پی اے کو کہا کہ ان لوگوں کی مکمل معلومات مجھے پتہ کر کہ دے.
کچھ دنوں کی محنت کے بعد اُس نے مجھے بتایا کہ وہ “شوکت علی سیال” کے بندے تھے.
تو میں نے شوکت علی سیال کی مکمل “جنم کنڈلی” نکلوا لی. یعنی آسان لفظوں میں اُس کا مکمل بیگ گراؤنڈ…..
جس بات نے مجھے حیران کیا وہ “زرتاشے” تھی. مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ایک غیر ملکی لڑکی ان کے گھر کیوں اور کیسے پہنچی….۔؟
معلومات کے مطابق شوکت سیال کی نہ تو کوئی بیٹی تھی اور نہ ہی پوتی ، صرف ایک پوتا “مہر سیال” تھا.
مسٹر حنین آپ کو یاد ہو گا مجھے کچھ “پراصرار” میسجز اور کالزز آتیں تھیں وہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھیں.
میرے بندے کو جیسے ہی کوئی معلومات ملتی وہ مجھے فوراً بتا دیتا.
کہانی میں ٹوسٹ اس وقت آیا جب اُس نے مجھے میسج کیا کہ حویلی میں شور مچ گیا ہے کہ وہ لڑکی گم گئی ہے….
میں سمجھا اُنھوں نے اسے مار دیا ہو گا مگر……؟
مگر کیا…..؟
ارتضی نے دلچسپی سے پوچھا جس پر حمین ہنس پڑا.
مگر یہ کہ اسی دن رات میں موسی ایک لڑکی کو میرے فلیٹ پر چھوڑ کر آیا مجھے یہ بات اپنے چوکیدار سے پتہ چلی موسی نے نہیں بتائی ، جس کا مجھے بہت دکھ ہے ورنہ یہ معاملہ کئی گنا جلد سلجھ جاتا.
اب کی بار حمین نے موسی کو دیکھا جو شرمندہ لگ رہا تھا.
جب موسی نے نہیں بتایا تو میں نے بھی نہیں پوچھا. بقول مسٹر حنین کہ
“تمہیں چاہ نہیں
ہمیں پرواہ نہیں”
شکل کے ساتھ ساتھ باپ کی باتوں کا بھی مکمل رٹا لگایا ہوا ہے نرمین کے تبصرے پر سب ہنس پڑے.
اس سارے قصے میں ایک بات تو میں آپ کو بتانا ہی بھول گیا .
حمین نے حذیفہ کی طرف دیکھا جو اسے آنکھوں سے چپ رہنے کا اشارہ کر رہا تھا.
کپٹن صاحب نے بھی کسی”بندے” کا پتہ کرنے کو کہا تھا اس کی بھی ساری کڑیاں یہاں مل رہیں تھی. جس سے میری دلچسپی میں اضافہ ہوا.
حمین کے لفظ “بندے” پر حذیفہ نے تشکر بھری نظروں سے حمین کو دیکھا.
میں نے زرتاشے کی نوکرانی جو میری معلومات کے مطابق زرتاشے کی خیر خواہ تھی اسے ہوٹل بلوایا. وہاں مجھے موسی اور مرتضی نے دیکھا مگر کچھ پوچھا نہین ورنہ میں سب بتا دیتا مسئلہ جلد حل ہو جاتا.
حمین کی بات پر مرتضی اور موسی نے آپس میں ایک دوسرے کو دیکھا.
میں نے سوچ رکھا تھا جب تک کوئی پوچھے گا نہیں میں بتاؤں گا نہیں.
خیر نوکرانی کو میں نے لالچ دے کر حویلی کے کچھ اور لوگوں کو بھی اپنے ساتھ ملایا.
اب اسے اتفاق کہیں یا بد قسمتی کہ شوکت سیال خود چل کرمیرے پاس آ گیا.میرے تو ارمان پورے ہو گئے. اس نے اپنے پوتے کا کیس مجھے دینا چاہا.
مشہور کہاوت ہے ناااا
“اندھا کیا مانگے دو آنکھیں”
میری مراد صحیح معنوں میں تب بھر آئی جب زرناب نے کیس اپنے ہاتھ لیا.
مجھے ڈر تھا اگر کوئی اور وکیل ہوا تو قابو کرنا مشکل ہو سکتا ہے مگر chilli millii تو اپنی ہے…..
حمین کی آنکھوں میں شرارت دیکھ کر زرناب کا موڈ خراب ہو گیا.
بس پھر میں نے وہ کیا جو میرے گرو نے کہا
مطلب…؟
حذیفہ نے پوچھا
مطلب یہ کہ پہلے میں نے ان کے کیس کو خوب اٹھایا اور آسمان پر پہنچا دیا.جب انھیں یقین ہو گیا کہ اب وہ کیس نہیں ہاریں گے تو میں نے انھیں آسمان سے زمین پر پٹخ دیا.
کہانی ختم…..
اور شرط…. وہ تو رہ گئی.
رامین بول پڑی.
وہ میرا اور زرناب کا سیکرٹ ہے .
مگر یہاں مجھے بھی کچھ confess کرنا ہے.
یہ کیس اصل میں مسٹر حنین جیتے ہیں کیونکہ یہ سب مجھے انھوں نے کرنے کو کہا تھا. ورنہ جس طرح شوکت سیال نے بتمیزی کی تھی میں شاید غصہ میں اپنا اور زرتاشے کا نقصان کر بیٹھتا.
یہ ہر بات کے پیچھے تم کیوں نکلتے ہو…؟
نرمین کے تبصرے پر سب نے حنین کی طرف دیکھا جبکہ اس نے کندھے اچکا دیے.
انکل حنین کے لیے تالیاں زرتاشے کے کہنے پر سب نے تالیاں بجائیں
چلیں گیم شروع کریں حنین نے جیسے ہی کشن پکڑا سب نے ایک ساتھ سٹاپ کہا جس پر حمین نے تبصرہ کیا
“تمہیں دیکھتے ہی رب سے کر دی یہ آرزو…..
آل تو جلال تو آئی بلا ٹال تو …..”
حمین تجھے میں چھوڑو گا نہیں بقول میرے…
“وہ غالب تھے جو بے آبرو ہو کر چلے آئے …
ہزاروں گالیاں دے کر ترے کوچے سے ہم نکلے گے”
حنین ، حمین کو مارنے کے لیے اٹھاجب اس نے آگے سے کان پکڑ لیے اور بات ختم ہوئی…..
یہ سب میری جنت کی وجہ سے ہے حنین نے دور بیٹھی بیگم غزالہ کو دیکھا جو معاملہ سے بے خبر حنین کو محبت پاش نطروں سے دیکھ رہیں تھی.
سچ ہے حنین جیسے بیٹے مائیں صدیوں میں ایک پیدا کرتیں ہیں
زرناب تم مجھے شرط بتانا پسند کرو گی…۔
تم مجھ پر شک کر رہے ہو یا حمین پر…
دونوں پر نہیں ، بس معلومات کےلیے پوچھا نہیں بتانا تو مت بتاو
ایسی کوئی بات نہیں وہ اصل میں حمین حذیفہ کو سب کے سامنے شرمبدہ نہیں کرناچاہتا تھا.
پھر زریاب نے حذیفہ اور زرتاشے کی کہانی سنائی .میرا کام بس دونوں کو ملانا تھا مگر رازداری سے، کیونکہ حمین نہیں چاہتا تھا کہ زرتاشے یا حذیفہ کی عزتِ نفس مجروح ہو.
🌸🌸🌸🌸
🌹چھ ماہ بعد…🌹
زرناب ، موسی ، حبا اور حمین ناشتے کر رہے تھے جب حنین نے نرمین سے کہا
تم اتوار کر اپنی اور میری پیکنگ کر لو ہم ورلڈ ٹور پر جا رہے ہیں.
مگر کیوں….. ؟
ابھی تو ہمارے بچوں کی شادیاں ہوئیں ہیں مجھے ان کی خوشیاں دیکھنی ہیں ، ان کے دن ہیں یہ جائیں ورلڈ ٹور پر ہمارے نہیں…..
اسکیوز می…!!!
نرمین بی بی نئی شادیاں ان کی ہوئیں ہیں ہماری نہیں…
دوسرا خوشیاں ابھی آنے میں کم از کم ایک سال لگے گا تب تک ہم واپس آ جائیں گے….
تیسرا اور سب سے ضروری یہ ہے کہ میرا باپ میرے لیے جو جائیداد چھوڑ کر گیا ہے میں اُس پر عیاشی کرنا چاہتا ہوں عام لوگوں کی طرح ایک کمرے میں بیٹھا بیٹھا کھانسی کرتا مرنا نہیں چاہتا…
ویسے بھی میں اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو گیا ہوں.
کونسی سی ذمہ داریاں جو تم نے کبھی نبھائیں ہی نہیں….
نرمین کے جواب پر حبا اور زرناب ہنسنی لگیں.
نرمین چلتے ہیں بڑا مزا آئے گا میرے ساتھ دنیا دیکھو گی تو……
حنین نے اپرل سے منہ صاف کیا.
جیسے آگے آتا ہے….
نرمین نے منہ بناتے ہوئے چائے کا کپ ہونٹوں ساتھ لگایا.
یار قسم کھاکر بتا تُو نے 25 سال باپ کے گھر گزارے اور 30 سال میرے ساتھ ، کس ساتھ زیادہ مزا آیا..؟
حنین کے سوال پر نرمین کا چہرہ سرخ ہو گیا جبکہ
حمین اور موسی دبا دبا مسکرا رہے تھے اور زرناب ، حبا کا حیرت سے منہ کھل گیا.
تمہیں زرا شرم نہیں آتی بہوؤں بیٹھی ہیں…؟
زرناب اور حبا کھڑی ہو جاؤ تمہاری ساس کہہ رہی ہے.
حنین نے دونوں کو سنجیدگی سےکھڑا ہونے کو کہا
میں نے کب کہا پلیزززز تم لوگ آرام سے ناشتہ کرو.
خود ہی تو کہہ رہی ہو “بیٹھیں” ہیں. حنین نے ایکدم معصوم شکل بنا لی.جبکہ زرناب اور حبا حیران تھیں.
ناشتہ کرو زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں یہ روز کا معمول ہے.حمین نے حبا کو چائے دیتے ہوئے کہا
بس مجھے نہیں پتہ ہم جا رہے ہیں جب سے بچے پیدا ہوئے ہیں انھوں نے میری بیگم ہی چھین لی مجھ سے ، اب میں اپنی بیگم ساتھ آزاد سیر سپاٹے کروں گا……
کسی سیانے سے سہی کہا ہے کہ
“بندہ خوشی خوشی شادی کرتا ہے مگر پھر بچوں کا گند پڑ جاتا ہے بیگم بھی ہاتھ سے جاتی ہے اور عیاشی بھی……
لفظ “گند” پر حمین نے اپنا گلا صاف کیا.
اڑا لو مذاق ایک سال بعد پوچھوں گا…..
حنین نے حمین کی طرف دیکھ کرکہا
اور ہاں زریاب بھی جا رہا ہے کیونکہ وہ میرا جگر ہے اور تم دل….
تو اپنے گردے بھی لے جاؤ…..
نرمین کا اشارہ دبیر کی طرف تھا.
ہاں وہ تو جائے گا بلکہ اس کی بیگم بھی جائے گی.
ہاں پیرنی کا پتہ نہیں…
لفظ پیرنی پر زرناب چونک پڑی.
کون پیرنی…؟
میرے وکیل سے رابطہ کریں.حنین اپنی جان چھڑاتا اٹھ گیا جبکہ حمین ناشتے میں مصروف رہا جیسے پتہ ہی نہ ہو کہ کیا کہا ہے.
حمین بتاؤ کون پیرنی…؟
مجھے کیا پتہ ؟ اورتم کیا میرا سر کھاتی رہتی ہو اچھے خاصے گھر کو کورٹ بنا دیا ہے.
میں نے بنایا ہے یہ تو بنا بنایا تھا…
ایک بارپھر زرناب اور حمین شروع ہو گئےحبا نے پریشان ہو کر موسی کو دیکھا.
تم ناشتہ کرو ان کا کام ہے پریکٹس کر رہے ہیں.
موسی کی بات پر حبا مسکرا دی اور موسی آفس جانے کے لیے اٹھ کھرا ہوا.
تم کہاں جا رہے ہو مجھے بھی کورٹ چھوڑ دینا.
اچھا چلو…..
وہ دونوں باہرکیطرف بڑھ گئے تو حبا نے لڑائی ختم ہوتے ہی سکھ کا سانس لیا.
🌸🌸🌸🌸
