Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

ماما کیا بات ہے آپ کچھ پریشان لگ رہیں ہیں..؟
ارتضٰی نے پلیٹ میں نکلے گرما گرم نگٹس کھاتے ہوئے ہالہ سے پوچھا
بری بات ابھی تمہارے بابا آتے ہوں گے پھر مل کر سب کھاتے ہیں تم کیا مرغوں کی طرح ہر پلیٹ میں اپنی چونچ مار رہے ہو.
یہ تو میری بات کا جواب نہیں…..
ارتضٰی نے فنگر چپس اٹھاتے ہوئے کہا
مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے لحاظ اپنا منہ بند رکھوں اور ہاں آج ہم سب حنین کی طرف جا رہے ہیں رامین کا رشتہ لے کر اسلیے تم شام میں گھر پر ہی رہنا.
جو حکم……
(اچھا تو اس لیے پریشان ہیں.)
پلیززز ایک سموسہ بھی چکھ لوں.ارتضیٰ نے ہالہ کا موڈ نارمل کرنے کے لیے پوچھا
ارتضیٰ اب اگر تم نےکسی چیز کو چھڑا تو مجھ سے چمچہ کھاؤ گے…..
جس پر ارتضیٰ ہنسنے لگا
🌸🌸🌸🌸
گھر کے ساتھ جو چھوٹا سا سرونٹ کواٹر تھا جس میں ایک چارپائی، چھت والا پنکھا اور دو پرانے زمانے کی کرسیاں اور ایک بوسیدہ کپڑوں کا صندوق موجود تھا. یہ زرتاشے کی کل کائنات تھی مگر یہاں بھی وہ کم ہی دن گزارتی ، زیادہ تر تو کتے کے کمرے میں سزا کے طور پر دن گزرتے…..
کیونکہ اسے کتے سے بہت ڈر لگتا تھا اس لیے جب بھی چچی نے سزا دینا ہوتی وہ اسے اپنے شکاری کتا ساتھ باندھ دیتی .شروع شروع میں زرتاشے بہت روتی اور چیختی چلاتی تھی مگر اب اسے قرار آ گیا تھا کیونکہ کتے سے زیادہ وہ اب انسانوں سے ڈرنے لگی تھی.
آج بھی پورے ایک ہفتہ بعد وہ اپنے کمرے میں آئی تھی اس لیے بہت خوش تھی جب بھی وہ خوش ہوتی اپنے آپ سے باتیں کرتیں .
گھر کے ملازموں کا خیال تھا کہ اس پر کسی آسیب یا چڑیل کا سایہ ہے اس کی وجہ زرتاشے کہ وہ خوفناک قہقے اور رونے کی آوازیں تھیں جو اس کے کمرے سےآتیں……
میں نے فیصلہ کر لیا ہے اب جب بھی پیشی ہو گی میں جج کو سب سچ سچ بتا دوں گی آخر کب تک میں ان لوگوں سے ڈرتی رہوں گی …؟
روز روز مرنے سے تو ایک دفعہ مرنا بہتر ہے. زرتاشے ہمت کر اور آئندہ پیشی پر سب سچ بول دیں ڈریں ناااا…..
کیونکہ جس دن مقدمہ کا فیصلہ ہو گیا یہ لوگ تجھے قبرستان چھوڑ کر ہی گھر لوٹیں گے.
زرتاشے چارپائی پر بیٹھی اپنی سوچ کے تانے بانے بن رہی تھی جب نوکرانی کی چھوٹی بیٹی زرتاشے کے کمرےمیں داخل ہوئی.
کیسی ہو …؟
زرتاشے نے اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے پوچھا
ٹھیک ہوں زریں بی بی…
جیسے ہی اُس نے یہ کہا زرتاشے رونے لگی ، کتنی بار منع کیا ہے نور مجھے اس نام سےمت بلایا کرو مجھےبابا یاد آ جاتے ہیں .
نور نے جلدی سے آگے آتے ہوئے ایک پلیٹ زرتاشے کی طرف بڑھائی.
بی بی روئیں نہیں آپ کھانا کھا لیں آج گھر میں بہت بڑی دعوت تھی. میں بڑی مشکل سے آپ کے لیے یہ کھانا چھپا کر لائی ہوں جلدی کریں اگربڑی بیگم صاحبہ نے دیکھ لیا تو غضب ہو جائے گا.
نور مجھے روٹی کے باسی اور سوکھے ٹکڑے پانی ساتھ کھانے کی عادت ہو گئی ہے اب یہ گرم اور مرغن کھانے مجھے ہضم نہیں ہوتے. مت لایا کرو میرے لیے اپنی جان اور نوکری خطرے میں ڈال کر…
آپ نے بھی تو ایک دفعہ میری جان بچائی تھی اگر اس وقت آپ میری مدد نہ کرتیں تو آج میری ہڈیاں بھی گل سڑ گئیں ہوتیں.
چلیں جلدی کریں نااااااا
نور نے منت بھرے لہجے میں کہا اور خود دروازے میں کھڑی ہو کر پہرہ دینے لگی……
گرم روٹی اور سالن ساتھ نوالے اپنے منہ میں ڈالتے ہوئے زرتاشے کی آنکھیں مسلسل برس رہیں تھیں آج کتنے عرصے بعد اسے گرم کھانا نصیب ہوا تھا شاید اپنے باپ کے چہلم پر آخری بار کھایا تھا یا…..
اسے صحیح سے یاد بھی نہیں تھا کہ آخری بار گرم اور اچھا کھانا کب کھایا تھا…..
🌸🌸🌸🌸
اِس وقت دبیر ،ہالہ ، کونین اور عترت کی فیملیز حنین کے گھر موجود تھیں.
ویسے آج تم لوگوں کو بیٹھے بیٹھائے میرا خرچا کرانے کی کیا سوجھی مجھے بلا لیتے میں آ جاتا، دیکھو بیچاری نرمین کو کتنی محنت کرنی پڑ رہی ہے….
نرمین جو ٹی ٹرائی( جس میں چائے اور دوسرے لوازمات تھے ) لا رہی تھی حنین کی بات سنتے ہی حیرانی سے اسے دیکھنے لگی جبکہ باقیوں نے مسکرانے پر اتفاق کیا.
مرد تو ہوتا ہی ظالم ہے وہ کبھی عورت کی تعریف نہیں کر سکتا.
ہالہ نے نرمین کی سائیڈ لی.
جی نہیں آپ بلکل غلط کہہ رہیں ہیں مرد ہی تو تعریفیں کر کر کے اس عورت کا دماغ خراب کر دیتا ہے یقین نہیں آتا تو زریاب سے پوچھ لو بلکہ پوچھنے کی کیا ضرورت ہے میں بتاتا ہوں…
جیسے ہی حنین نے یہ کہا زریاب جوچائے کا سپ لے رہا تھا کھانسنے لگا…
دبیر نے حنین کی طرف گھور کر دیکھا.
کیوں مجھے آنکھیں نکال رہا ہے جتنی تو نے مجھے آنکھیں ساری زندگی نکالی ہیں اس حساب سے تو ، تُو میرا قرض دار بنتا ہے.
حنین بھائی چھوڑیں نا یہ سب فضول باتیں اورہم سب جس ضروری کام سے آئیں ہیں وہ سنے ، آج ہم سب آپ سے کچھ بہت خاص مانگنے آئیں ہیں…؟
عترت کی بات سنتے ہی حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر پہلے دبیر اور پھرزریاب کو دیکھا…
سوری بھئی میں کوئی قرضہ ورضہ نہیں دوں گا ویسے بھی اکاؤنٹ کی دیکھ بھال موسیٰ کرتا ہے اور حد ہے اتنے امیر بزنس مین کی بہن ، ایک بزنس مین کی بیوی اور ایک عدد فوجی بیٹے کی ماں ہو کر تم مجھ سے پیسےمانگنے آئی ہو …..
حنین کی بات سنتے ہی کونین نے انتہائی افسوس سے عترت کی طرف دیکھا جیسے کہہ رہا ہو “اب آرام ہے” جبکہ باقی مسکرا رہے تھے.
ہمیں تم سے ایسی ہی بات کی امید تھی…..
اور میں ہمیشہ کی طرح تمہاری امیدوں پر پورا اترا ہوں.
حنین نے دبیر کی بات کا جطاب دیتے ہوئے سر کو شکریہ کے اندازمیں خم دیا.
حنین پلیز پہلے اُن کی بات تو سن لو.
نرمین نے غزالہ بیگم کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
اب تم کیوں موم کو آنکھیں دکھا رہی ہو…؟
نرمین کے دیکھنے پرحنین نے اسے ٹوکا…
یہ جو مذکر جنس ہوتی ہے نا اس کو مونث سے کوئی خدا واسطے کا بیر ہوتا ہے تم کیوں پریشان ہو رہی ہے….؟
ہالہ نے ایک بار پھر نرمین کے تاثرات ڈھیلے پڑتے دیکھ کر کہا
ہر جگہ پر مذکر جنس کو ہی بدنام کیا جاتا ہے۔یعنی کوئی بھی تذلیل والے کلمات بولنے ہوں تو مذکر جنس کی ہی مثال دی جاتی ہے۔ جیسے دنیا میں سارے مذکر ہی منحوس، کوجے اور کالی قسمت والے ہوں، عجب دوغلا پن ہے.
ملاحظہ ہو ۔۔
1.تمہاری تو قسمت کوے کی طرح کالی ہے۔
کوی نے تو جیسے مس ورلڈ کا خطاب جیتا ہے.
2.تم بھی کوئی بات نہیں سمجھتی، الو ہی ہو تم بھی۔
اب الو کی مونث ہی نہیں بنائے گئی تاکہ ان کی جنس محفوظ رہے۔
3.کیوں گدھے کی طرح چلا رہی ہو.
جیسے گدھی کے گلے میں تان سین بیٹھا ہو.
4.بندروں کی طرح اچھلنا بند کرو.
جیسے بندریا تو سارا دن تسبیح پڑھتی رہتی ہے.
5.آ بیل مجھے مار.
ہاں جی گائے کو تو نہ مارنے پر امن ایوارڈ دیا گیا ہے.
6.دھوبی کا کتا نہ گھر کا نا گھاٹ کا۔
اب بتاؤ کتے کو بھی کہیں کا نہ چھوڑا؟؟؟؟؟؟؟
اور جہاں تعریف مقصود ہو وہاں مونث کو زبردستی گھسیٹ لیا جاتا ہے۔
1.تمہاری آواز کوئل کی طرح سریلی ہے اور مذکر جنس جیسے منہ سے ٹرک کی آواز نکالتا ہے.
2.تماری چال مورنی کی طرح ہے، اور مور کو تو جیسے فالج ہوا ہے پاؤں ٹیڑھے کر کے چلتا ہے.
3.تمہاری ہرنی جیسے آنکھیں ہیں اور ہرن کی آنکھیں جیسے ٹیڑھی ہوں۔ کہیں پے نگاہیں کہیں پے نشانہ والا حساب۔۔
4.میری بیٹی تو چڑیا کی طرح معصوم ہے چڑے تو جیسے ساتھ خود کش جیکٹ باندھ کر پھرتے ہیں۔
حد ای ہو گئی یاررررر…..
حنین نے ہالہ کو اس کی بات پر اچھا خاصا لیکچر دے ڈالا
غلطی ہو گئی معاف کر دو ہمیں ، مگر بات تو سن لو کہ کس کام سے آئے ہیں…؟
زریاب نے ایک دفعہ پھر اصل موضوع کی طرف حنین کی توجہ دلانی چاہی……
آ ہا ….آج تو بڑی رونق لگی ہوئی ہے اور ہمیں کسی نے اطلاع ہی نہیں دی…..
حمین نے لاؤنچ میں داخل ہوتے ہی سب کو دیکھتے ہوئے کہا
آ میرے شیر دیکھ یہ لوگ مجھے اکیلا دیکھ کرتنگ کر رہے ہیں.حنین نے اپنے قریب صوفےپرجگہ بناتے ہوئے کہا جبکہ باقیوں کہ منہ کھل گئے ہم تنگ کر رہے ہیں یا تو میرا دماغ کھا رہا ہے.
دبیر سے رہا نہ گیا تو بول پڑا…..
الزام مت لگا اب میرا وکیل ہی تم لوگوں کو دیکھے گا…..
حنین نے حمین کے کندھے پر اپنا بازو پھیلایا
باقی لوگ کہاں ہیں…؟
حمین کا اشارہ حذیفہ ،ارتضیٰ ، مرتضیٰ، زرناب اور حبا کی طرف تھا.
زرناب اور حبا باہرلان میں ہیں اور وہ تینوں نہیں آئے،کیوں..؟
حمین نے ہالہ کی بات سنتے ہوئے اپناکورٹ اتار کر رکھا.
کیونکہ جس کام سے ہم سب آئے ہیں اس میں بچوں کا کوئی کام نہیں….
عترت نے محبت بھرے لہجے میں جواب دیا.
ویسے آپ زبردست لگ رہی ہیں کیا میچنگ ہے…؟
حنین نے ہالہ کہ ڈریسنگ کو سراہا…
“اگر میچنگ سیکھنی ہو تو وکیلوں سے سیکھو، جن کے سوٹ، شوز اور کرتوت سے کالے ہوتے ہیں.
5فیصد اچھے وکیلوں کو چھوڑ کر…..”
ہالہ کی بجائے لاؤنچ میں داخل ہوتی زرناب نے حمین کی بات کا جواب دیا
5 فیصد وکیلوں کو چھوڑ کر…
حنین نے زرناب کی بات دہرائی اور اشارہ اپنی طرف تھا.
چلو جی آج بات ہو گئی آگے حنین ہی کم تھا کہ جو کسر رہ گئی ہے وہ اب تم پوری کرو گے…
نرمین نے ڈانٹنے والے انداز میں حمین کو زرناب ساتھ بحث سے روکنا چاہا.
میرے خیال سے کسی اور دن بات کر لیتے ہیں مجھے دیر ہو رہی ہے میں نے آج ایک ضروری میٹنگ میں جانا ہے الیکشن سر پر ہیں…..
زریاب نے دبیرکو دیکھتے ہوئے کہا
“زندگی اک خوبصورت سفر ہے اگر دوست بیغیرتیاں نہ کرے تو، بڑا آیا وزیراعظم……
چپ کر کے بیٹھ، کھانا کھاتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں.”
ماہ نور گھر پر ہی ہے کہیں نہیں جا رہی مجھے معلوم ہے کافی دیر ہو گئی ہے اب تجھے دورہ پڑ رہا ہو گا”دیدار “کا…..
حنین کے جواب پر سب ہنسنے لگے جبکہ نرمین سوچ میں پڑ گئی کہ کیا بات ہو سکتی ہے…؟
حمین نے کپڑے بدلنے کی نیت سے معزرت کرتا ہوئے قدم اپنے کمرے کی طرف بڑھانے لگا مگر نظر حبا پر پڑ گئی.
کیسی ہو……؟
اس سے پہلے کہ وہ اسے چڑیاکہتا حبا بول پڑی
آپ نے وعدہ کیا تھا مجھے چڑیا نہیں کہیں گے…
ٹھیک ہے میں چڑیا نہیں کہتا.
کیسی ہو sparrow …؟
اورہنستاہوا اپنےکمرے کا دروازہ کھولا
🌸🌸🌸🌸
“وہ اچھے ہیں تو ہونگے…
ہمارا حال تو برا کر رکھا ہے… “
حذیفہ دو تین دن سے کافی پریشان تھا کیونکہ مس معصومہ کا نمبر بند جا رہا تھا.
“سب کی شادیاں ہورہیں ہیں
اور میرے مطلوبہ نمبر سے جواب موصول نہیں ہو رہا….”
کیا مسئلہ ہو سکتا ہے..؟
وہ مسلسل کمرے میں ننگے پاؤں کارپٹ پر چکر لگا رہا تھا.
چل ایک بار پھر کوشش کر فوجی کبھی ہمت نہیں ہارتا.
خوش قسمتی سے اس بار بل چلی گئی.حذیفہ نےحیرت سے موبائل سکرین کو دیکھا.
کیسے ہیں…؟
معصومہ کی ترنم بھری آواز حذیفہ کو سرشار کر گئی.
ٹھیک ہوں.
ویسے تمہاری آواز کے حساب سے تمہارا نام “ترنم ناز”ہوناچاہیے.
حذیفہ خود ہی اپنی بات پر مسکرایا جبکہ دوسری طرف مکمل خاموشی تھی.
کیا ہوا…؟اتنی چپ کیوں ہو اور اتنے دن سے کہاں غائب تھی…؟
ایک سوال پوچھو……؟
حذیفہ کی بات کا جواب دینے کی بجائے اس نے کہا
ایک نہیں دس پوچھو ، تم نے سوال پوچھنے کے علاوہ اور پوچھنا ہی کیا ہوتا ہے..؟ میرا حال تو کبھی پوچھا نہیں.
ہماری زندگی کا جواز کیا ہے..؟
زندگی گزارنے کے لیے جواز تلاش نہیں کئے جاتے، صرف زندہ رہا جاتا ہے زندگی گزارتے چلے جاؤ، جواز مل جائے گا…..
اگر آپ کو کسی طرف سے کوئی محبت نہیں ملی، تو مایوس نہ ہوں آپ خود ہی کسی سے محبت کرو اور اگر کوئی با وفا نہ ملے، تو کسی بے وفا سے ہی سہی……
محبت کرنے والا زندگی کو جواز عطا فرماتا ہے زندگی نے آپ کو اپنا جواز نہیں دینا بلکہ آپ نے زندگی کو زندہ رہنے کے لئے جواز دینا ہے.
آپ کو کوئی انسان نہ نظر آئے تو کسی پودے سے پیار کرو، اس کی پرورش کرو، اسے آندھیوں سے بچاؤ، طوفانوں سے بچاؤ، وحوش و طیور سے بچاؤ، تیز دھوپ سے بچاؤ، زیادہ بارشوں سے بچاؤ – اس کو پا لو پروان چڑھاؤ پھل کھانے والے کوئی اور ہوں، تب بھی فکر کی کوئی بات نہیں کچھ بھی نہیں تو یہی درخت کسی مسافر کو دو گھڑی سایہ ہی عطا کرے گا کچھ نہیں تو اس کی لکڑی کسی غریب کی سردی گزارنے کے کام آئے گی.
آپ کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی آپ کو زندہ رہنے کا جواز اور ثواب مل جائے گا –
کچھ نہ ہو سکے تو کسی پتھر کو تراشو ، پالش کرو، اس پر محنت کرو،پتھر کا آئینہ بن جائے گا – اس آئینے کے اندر زندگی کا جواز لکھا ہو گا _
حذیفہ کے جواب پر کچھ دیر خاموشی رہی پھرمعصومہ کی آواز سپیکر سے ابھری
آپ کا بہت بہت شکریہ مجھےمیری زندگی کا جواز مل گیا…….
اور ساتھ ہی کال کٹ گئی.
کیا مصیبت ہے یارررررر….
حذیفہ نے زور سے اپنا موبائل بیڈ پر اچھالا
“وہ آخری فیصلہ سنا کر ہوۓ روانہ…..
میں لاکھ چیخا..!!
جناب عالی.! جناب عالی.!”
🌸🌸🌸🌸