Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 47


زرناب اس وقت شدید پریشانی کا شکار ہو رہی تھی پیشی کی تاریخ قریب آرہی ہے اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ میں ثبوت کے طور پر عدالت میں کیا پیش کروں..؟
نہ جائیداد کے پیپرز ملے ہیں اور نہ ہی میڈیکل رپورٹ پیش کرنے کے قابل رہی ہے.
اگر میں زرتاشے کو عدالت میں پیش کرتی ہوں تو وہ لوگ پھر آسانی سے اسے تلاش کرلیں گے اس طرح تو اس کی جان کو خطرہ ہو گا…..
نہیں نہیں میں ایک معصوم کی زندگی ساتھ نہیں کھیل سکتی مگر پھر کیا کروں کیسے کروں ۔۔۔؟
وہ مسلسل اپنے کمرے میں چکر کاٹ رہی تھی. ذہن عجیب الجھن کا شکار تھا کہ ایسے میں اس کا فون بجا۔
اس نے اپنی سوچوں میں گم ہوتے ہوئے کال اٹینڈ کی مگر دوسری طرف کی آواز سن کر چونک پڑی.
مجھے ایسا لگتا ہے بلکہ میرا خیال نہیں مجھے یقین ہے کہ کبھی کبھی مجھے الہام ہوتا ہے جیسے “بیرسٹر زرناب علی خان ” پریشان ہے کیا ایسا ہی ہے۔۔۔۔؟
حمین کی چہکتی اور طنز بھری آواز نے جلتی پر تیل کا کام کیا.
ظاہری سی بات ہے آپ جیسے انسانوں کے ہوتے ہوئے مجھ جیسے انسان تو پریشان ہی رہے گے نااااا
اگر تم چاہو تو میں تمہاری پریشانی دور کرنے میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں لیکن ایک شرط پر ۔۔۔
مجھے ایک بات بتاؤ کیا تمہاری پیدائش بھی کسی شرط کا نتیجہ ہے کیونکہ جتنا یہ لفظ میں نے تمہارے منہ سے سنا ہے کبھی کسی کے منہ سے نہیں سنا۔
زرناب نے اپنا سارا غصہ اس ایک جملے میں سمیٹ کر حمین پر نکال دیا
تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری سب سے بڑی خامی کیا ہے میں نے آگے بھی تمہیں کئی دفعہ بتایا ہے تمہاری سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ تم بہت جلدی غصہ میں آ جاتی ہو اگر تم اپنے غصے پر قابو پا لو تو بے شک تم ایک بہترین وکیل اور انسان بن سکتی ہو ۔۔۔۔
تم نے میرا دماغ خراب کرنے کے لئے مجھے فون کیا ہے مطلب کی بات بولو میرے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ تمہاری بکواس سنو ۔۔۔
اگر تم چاہتی ہو کہ میں تمھاری مدد کروں تم یہ کیس جیت جاؤ ، زرتاشے کو انصاف ملے تو آج رات 12 بجے تک تمہارے پاس ٹائم موجود ہے میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں مگر صرف ایک شرط پر۔۔۔۔
کیسی شرط…؟
شرط تمہیں تب بتائی جائے گی جب تم مجھے مدد کے لیے فون کروں گی اور ہاں میری ایک بات یاد رکھو یہ آفر صرف آج رات 12 بجے تک کی ہے اس کے بعد میری طرف سے معذرت ہے میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکوں گا۔
اچھا جی اور کچھ ۔۔۔۔۔۔۔
“اس کی جی جی کا لطف لیتا ہوں
جو تھی مشہور بدکلامی میں..!!!”
حمین کی بات سنتے ہی زرناب نے غصے سے کال کاٹ دی جبکہ موبائل کان سے ہٹا کر حمین نے کہا
“زرناب بی بی” آپ کے تو بڑے بھی کال کریں گے آپ کیا چیز ہیں “حمین ملک” نام ہے میرا ، میں جو کرنے کی ٹھان لوں وہ کر کے ہی رہتا ہوں.
اور اپنی رسٹ واچ پر ٹائم دیکھنے لگا
فون تو سن کر ہی سونا ہے چل “حمین ” تب تک Tom & Jarry ہی دیکھ لے. زرناب بی بی کے انتظار میں اس سے زیادہ مزہ کوئی اور چیززز نہیں دے گی.
🌸🌸🌸🌸
حذیفہ جب سے واپس آیا تھا اپنے کمرے میں بند تھا عترت کو اس کی فکر ہو رہی تھی جب شام کو بھی ہو باہر نہیں نکلا تو عترت نے دروازہ کھٹکھٹایا .
دروازہ کھلا ہے آجائیں……..
کیا بات ہے تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے کیوں اس طرح کمرے میں اندھیرا کر کے لیٹے ہوئے ہو…؟
عترت نے کمرے کی لائٹ آن کرتے ہوئے حذیفہ سے پوچھا
مما لائٹ بند کردیں میرا اس وقت کسی سے بات کرنے کو دل نہیں کر رہا ہے .
کیوں کیا ہوا ہے مجھے بتاؤ ؟عترت بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی.
ماما کیا کریں گی سن کر کوئی خاص بات نہیں ہے بس دل ٹوٹ گیا ہے میرا…؟
حذیفہ نے ماں کی گود میں سر رکھتے ہوئے چھوٹے سے بچے کی طرح لاڈ سے کہا
اللہ نہ کرے میر بیٹے کا دل ٹوٹے اچھا بتاؤ کیا بات ہے ..؟
عطرت نے پیار سے حذیفہ کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا
ماما جب میں سیاہ چن تھاناااا تو ایک دفعہ۔۔۔۔۔۔ حذیفہ نے بتانا شروع کیا
حذیفہ کی بات سن کر عترت بھی خاموش سی ہوگئی اس سے پہلے عترت کچھ کہتی نوکر نے آکر حمین کے آنے کی اطلاع دی۔
ماما مجھے نہیں ملنا ہے اس سے آپ پلیز اسے باہر سے ہی بھیج دیں کہہ دیں میں سویا ہوا ہوں ۔
حیرت ہے تم سوتے میں بھی بولتے ہو حذیفہ کی بات کا جواب عترت کی بجائے حمین نے دیا جو روم کے دروازے میں کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا
آو بیٹا ادھر بیٹھو بہت پریشان ہے یہ۔۔۔۔۔۔ میں تم دونوں کیلئے کچھ کھانے کو لاتی ہوں اس نے دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھایا
عترت نے حذیفہ کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا اور باہر کی طرف بڑھ گئی
ہاں تو سالے صاحب!!!
بہت نخرے ہیں آپ کے۔۔۔۔ میں نے سوری تو کی ہے جبکہ دوستی یاری میں سوری نہیں ہوتی .
حمین نے حذیفہ کے پاس بیڈ پہ بیٹھتے ہوئے کہا
حمین پلیز میرا سر گھوم رہا ہے میرے منہ سے الٹے سیدھے الفاظ نکل رہے ہیں جا یہاں سے مجھے تنگ نہ کر….
الٹے سیدھے الفاظ سننے کی مجھے عادت ہے تو کہہ کیا کہنا چاہتا ہے ؟
حمین جا نااااا یہاں سے کہا تو ہے ابھی تنگ نہ کر ،کل بات کریں گے ابھی بہت اپ سیٹ ہوں۔
یقین مان تو اس وقت ایسی حرکتیں کر رہا ہے کہ مجھے یہ فیل ہو رہا ہے جیسے میں اپنی روٹھی بیوی کو منانے سسرال آیا ہوں.
حمین کی بات پر حذیفہ نہ تکیہ کھینچ کے اس کے منہ پر مارا جسے حمین نے کیچ کر کے اپنی گود میں رکھ لیا
چل اب بتا بھی دے کس وجہ سے تیرا منہ خراب ہے اتنا تو مجھے معلوم ہے کہ “میں” اس کی وجہ نہیں
بالآخر حذیفہ نے ہتھیار ڈال دیے اور حمین کو ساری بات بتا دی جسے سن ک حمین اتنا ہی نارمل تھا جتنا پہلے تھا۔
تجھے حیرت نہیں ہوئی ساری بات سن کر حذیفہ نے حیران ہو کر پوچھا
ہو رہی ہے مگر تیری طرح نہیں۔۔۔۔ کیونکہ تیری تو محبوبہ ہے میری نہیں ۔۔۔۔۔
واہ واہ………
حمین تُو تو چھا گیا، شاعر ہوگیا حمین نے اپنے آپ کو خود داد دی جبکہ حذیفہ منہ بنا کر دوبارہ لیٹ گیا
تجھے ڈاکٹر نے “بیڈ رسٹ” لکھ کر نہیں دی زرتاشے کو دی ہے پھر تو کیوں بار بار لیٹ جاتا ہے۔۔۔۔
دل کھول کر بکواس کر تجھے میرے دکھ کا اندازہ نہیں ہے مجھے غلط لڑکی سے محبت ہو گئی.
خیر ایسی بھی بات نہیں اب تو اپنے ساتھ خود زیادتی کر رہا ہے اور وہ لڑکی غلط نہیں بری بات ہے
تیرے خیال سے وہ اچھی لڑکی ہے ابھی بھی تو یہی کہہ رہا ہے
دیکھ میری بات سنو اگر حادثاتی طور پر کسی سے کوئی زیادتی کرتا ہے تو اس میں اس بیچارے کی غلطی نہیں ہوتی.
حمین نے حذیفہ کو سمجھانے کی کوشش کی .
میں یہ بات نہیں مانتا تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اگر لڑکی کی غلطی نہ ہو تو ایسے حادثے رونما نہیں ہوتے.
چل فرض کرتے ہیں تو بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے پر میری ایک بات کا جواب دے.
تم فوجی لوگوں کی زندگی میں بھی حادثے ہوتے ہیں مثلاً تیری پوسٹنگ LOC پر ہوجائے اور تجھے بازو میں یا ٹانگ میں گولی لگ جائے اور حادثاتی طور پر ٹانگ یا بازو کاٹنے پڑ جائیں.
تو کیا جو لڑکی تجھ سے پیار کرتی ہے وہ تجھے صرف اس لیے چھوڑ دے کہ تیرے اندر خامی پیدا ہوگئی ہے اور اس خامی کے پیدا ہونے میں بھی تیری غلطی ہے .
حمین کی بات پر حذیفہ کو غصہ آگیا
مجھے ٹانگ یا بازو میں گولی لگنے کی وجہ یہ ہوگی کہ میں اپنے ملک کا دفاع کر رہا ہوں گا چوری یا ڈاکہ نہیں ڈال رہا ہوں گا ….
قرآن میں صاف صاف لکھا ہے “سورۃنور” کے اندر کہ….
“پاک عورتوں کے لئے پاک مرد اور ناپاک عورتوں کے لئے ناپاک مرد”
تو اس بات سے کیا ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ ناپاک ہے اور تو پاک ہے…؟
لوگ کیا کہیں گے ایک “سید زادے” نے کس سے شادی کرلی..؟
لوگوں کو دفعہ کر ہمیں لوگوں سے کیا لینا دینا لوگ کسی کو جینے نہیں دیتے .
اگر کسی کی شادی نہ ہو تو لوگوں کو ٹینشن ہوتی ہے اس کی شادی کیوں نہیں ہورہی….؟
شادی ہو جائے تو پھر ایک نئی ٹینشن شروع ہوجاتی ہے بچے کیوں نہیں ہورہے ..؟
بچے ہو جائیں تو پھر ٹینشن ہے بیٹے ہیں تو بیٹیاں کیوں نہیں ہیں بیٹیاں ہیں تو ٹینشن بیٹے کیوں نہیں ہیں…؟
لوگ تو کچھ نہ کچھ کیڑے نکالتے ہی رہتے ہیں تو اپنی بات کر ..
میں نے اسے آج تک دیکھا نہیں ہے پر وہ باتوں سے بہت معصوم لگتی تھی .
حذیفہ نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنی کنپٹیوں کو دبایا.
پہلے تو یہ فیصلہ کرلے تجھے اس سے محبت ہے یا نہیں پھر میں تجھے اس کے بارے میں کچھ بتاتا ہوں.
محبت تو اُس کی باتوں سے ہے نااااااا حذیفہ نے ہارنے ماننے والے انداز میں بیڈ کے ساتھ ٹیک لگالی
چل پھر سن کے اس بیچاری پر کیا گزری ہے. بقول شاعر
” شاید تیرے دل میں میری بات اتر جائے…”
🌸🌸🌸🌸
آج کورٹ میں زرناب نے اپنے دلائل حمین کے مقابلے میں پیش کرنے تھے رات کو حمین سے بات کرنے کے بعد زرناب کو اس بات کی تسلی ہوگئی تھی کہ زرتاشے کو انصاف مل جائے گا ۔
معمول کی کارروائی کے بعد کورٹ میں زرناب نے کچھ دلائل کے ساتھ ٹھوس ثبوت پیپرز کی شکل میں پیش کیے جن کی روشنی میں کسی قسم کے شک و شبہات کی گنجائش باقی نہیں رہی تھی. مہر علی سیال واضح طور پر مجرم ثابت ہورہا تھا
زرناب کے دلائل مکمل ہونے کے بعد حنین نے دو دن کی عدالت سے مہلت لی۔
کورٹ سے باہر آتے ہوئے زرناب کا دل کافی بجھا ہوا تھا کیونکہ حقیقت میں وہ یہ کیس ہار گئی تھی اگر حمین اس کی مدد نہ کرتا تو اور وہ اسے اپنی بےعزتی تصور کر رہی تھی ۔وہ اپنے خیالات میں کھوئی ہوئی پارکنگ کی طرف بڑھ رہی تھی جب حمین کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
میری بات سنو کہاں جا رہی ہو؟
کم از کم انسان شکریہ ہی بول دیتا ہے اتنی ہیلپ کی ہے میں نے تمہاری….
جیسے ہی زرناب نے پلٹ کر دیکھا حمین دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے اپنی گول مٹول آنکھوں کے ساتھ اس سے گلہ کر رہا تھا
میں نے رات کو تمہارا شکریہ بول دیا تھا اگر تمہاری یاداشت کمزور نہیں ہے تو تمہیں یاد ہونا چاہیے.
ہو تم تقریباً بتمیززززززز…….
تمہارا کیا خیال ہے اس بارے میں…؟
حمین نے ابرو اچکا کر پوچھا
اپنے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے..؟
زرناب کے سوال پر اس سے پہلے حمین مزید کچھ کہتا اس کا موبائل شوکت علی سیال کے فون سے بج اٹھا.
حمین کال سننے لگا جبکہ زرناب اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی.
تم اتنے نامی گرامی وکیل ہو پھر یہ سب کیا ہے ، تم نے جان بجھ کر ہمیں اندھیرے میں رکھا اور جھوٹ بولتے رہے کہ کیس ہمارے حق میں جا رہا ہے…؟
شوکت علی سیال سخت غصے میں تھے جب سے وہ کورٹ سے واپس آئے تھے.
دیکھیں میں نے تو اپنی پوری کوشش کی ہے مگر مجھے آپ نے بہت سی باتوں کا نہیں بتایا تھا اگر آپ مجھے سب کچھ سچ سچ بتا دیتے تو میں اسی حساب سے کیس لڑتا.
اپ نے آپ کے لئے صرف اتنا ہی کر سکتا ہوں کہ مہر کو کم سے کم سزا اور جرمانہ ہو.
اگر آپ کو منظور ہے تو ٹھیک ہے نہیں تو آپ کوئی اور وکیل کرا لیں .
حمین اچھی طرح جانتا تھا کہ اس موقعے پر کوئی اور وکیل اس کیس پر ہاتھ نہیں رکھے گا.
“اب آیا نہ اونٹ پہاڑ کے نیچے”
حمین دل ہی دل میں شوکت علی سیال کی پریشانی کو انجوائے کر رہا تھا بڈھے تم نے بہت بد تمیزی کی تھی میرے ساتھ مجھے یاد ہے میں نے اسی وقت دل میں تہیہ کیا تھا کہ تجھے ایسی جگہ ماروں گا کہ پانی بھی نہیں ملے گا اب مزے کر تیرا پوتا جیل میں جائےگا اور بینک تیرا جرمانہ بھرتے خالی ہوگا اتنا بھاری جرمانہ کرواؤں گا تجھے…..
حمین نے مسکراتے ہوئے کال کاٹ دی.
” مزے تو حمین اب آئیں گے……”
گنگناتا ہوا اپنی گاڑی کی طرف چل پڑا.
🌸🌸🌸🌸
حمین کی توقع کے عین مطابق جج صاحب نے مہر پر فرد جرم عائد کی.
مہر کو 6مہینے کی جیل بھی ہوگی اور بھاری مالی جرمانہ بھی ہوا . جس میں حمین کا پورا ہاتھ تھا کیونکہ اُس نے زرا بھی مہر کا دفاع نہیں کیا تھا.
مہر پر جرم ثابت ہو گیا اور اس کو سزا بھی ملی اس لیے مہر آئندہ کسی قسم کا کوئی الیکشن لڑنے کے قابل بھی نہ رہا نااہل ہوگیا . یوں حمین نے اُس کا مستقبل بھی برباد کر دیا.
زرتاشے کو اس کی تمام جائیداد اس کا پاسپورٹ دے دیا گیا اور عدالت نے اس کی حفاظت کے لیے اقدامات بھی کیے اور برٹش ایمبیسی سے رجوع بھی…..
میڈیا پر ہر طرف زرناب کی تعریفیں ہو رہی تھی ہر چینل ہی زرناب کی وکالت کو داد دے رہا تھا اور اسے ایک قابل وکیل کے طور پر پیش کر رہا تھا کہ کس طرح اُس نے ایک مظلوم لڑکی کو انصاف دلایا.
ہر چینل ہی اس کا انٹرویو کرنا چاہتا تھا. زرناب ایک دم پورے پاکستانی میڈیا پر چھا گئی. راتوں رات اُس پر قسمت کی دیوی مہربان ہو گئی.اس وقت اس کا شمار پاکستان ک صفِ اول کے وکیلوں میں ہونے لگا.
مگر یہ بات صرف زرناب ہی جانتی تھی کہ یہ مقدمہ اصل میں حمین نے جیتا ہے اُس نے نہیں……
“وہ مہربانی کرتے ہیں نہ مہربانوں کی طرح”
حمین نے ثابت کیا کہ وہ حنین کا بیٹا ہے تربیت اثر رکھتی ہے.
ٹی وی دیکھتے ہوئے کھلے دل سے زرناب نے اپنے دل میں اس بات کا اقرار کیا.
🌸🌸🌸🌸