Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32


جب میں چھوٹی تھی تب “اللہ” سے باتیں کرتی تھی.
پھر جب میں بڑی ہوئی تو اللہ کو چھوڑ کر زمین والوں سے باتیں کرنے لگ گئی.
پھر میں زمین والوں سے باتوں میں اتنا گم ہوگئی کہ اللہ کو بھول ہی گئی.
پھر ایسا ہوا کہ زمین والوں نے مجھے سننا چھوڑ دیا.
اب میں آسمان پر اول تو اللہ سے نظریں ہی نہیں ملا پاتی اور اگر کبھی ہمت کر بھی لوں تو مجھ سے بولا ہی نہیں جاتا .
پھر سوچتی ہوں وہ تو آنسوؤں کی زبان بھی سنتا ہے .
وہ تو اللہ ہے ناراض ہو تب بھی سنتا ہے.
اچھے ہوں تب بھی سنتا ہے، برے ہوجائیں تب بھی سنتا ہے.
زمین والے تو سب فریب ہیں.
“سچا سمیع” تو اللہ ہے.
جیسے ہی ابرش نے اپنی بات کے آخر میں رامین کو دیکھا تو اُس نے پھیکی سی مسکراہٹ اُس کی طرف اچھالی اور زرناب کو روم سے باہر آنے کا اشارہ کیا.
کیا ہے بتمیززز لڑکی ! کتنا برا لگتا ہے اس طرح کمرے سے باہر آنا ، پتہ نہیں ابرش کیا سوچ رہی ہو گی…؟
پہلے آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ نے میرے ساتھ چیٹنگ کیوں کی ہے..؟
چٹینگ اور میں نے…..
رامین کے الزام پر زرناب کی پوری آنکھیں باہر آ گئیں.
جی بلکل……
آپ نے کہا تھا چھوٹی سی لڑکی ہے ، معصوم سی ، بھولی بھالی مگر یہ تو بہت تیز ہے کیسی پڑھی لکھی اور مشکل باتیں کر رہی ہے اب میں کیا جواب دوں…..؟
حد ہے رامین ، مجھے تم سے یہ امید نہ تھی بھئی تم نے اُسے ریلیکس کرنا ہے…..
مگر کیسے مجھے تو اللہ والی باتیں نہیں آتیں…؟
رامین نے منہ بنایا
یہ جو تم ہر وقت بکواس کرتی رہتی ہو اس کا استعمال کرو ناااا……
زرناب آپ مجھے ہلکا لے رہی ہیں…..
نہیں میری جان میرا مطلب ہے وہ جو آپ ہر وقت ہمارا دماغ روشن( کھاتی) کرتی رہتی ہیں وہ اب اس لڑکی کا بھی (کھاؤ) اپنی پیاری باتوں سے روشن کر دو….
زرناب یہ جو آپ میری عزت کر رہی ہیں پتہ آپ کو مہنگاپڑ سکتا ہے سوچ لیں…..
نہیں یارررر…
زرناب نے پیار سےرامین کو دیکھا تمہارے لیے تو میرے دل سے دعائیں نکلتی ہیں. تمہاری بات ہی کیا ہے تم اوروں سے بہت مختلف ہو…
ہمممم ، اصل میں تم کہنا چاہ رہی ہو کہ
” ‏ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ذﺭﺍ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨـﮯ ﺍﻭﺭﻭﮞ ﺳﮯ…
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ لئے ﺩﻝ ﺳﮯ گالیاں ﻧﮑﻠﺘﯽ ہیں…”
بس ایسی ہی باتیں کرنی ہد رامین کے کہنے پر زرناب نے ہنسنتے ہوئے اُس کے کان میں کہا اور دونوں دوبارہ کمرے کی طرف بڑھ گئیں.
🌸🌸🌸🌸
اچھا تو اب کیا ہو گا پتہ نہیں کیوں مگر مجھے ڈر لگ رہا ہے…؟
موسیٰ نے کافی کا آڈر دیتے ہوئے مرتضی سے پوچھا.
کیوں پریشان رہتا ہے ہر وقت ، کبھی تو ریلیکس کیا کر…
تجھے مزاق سوجھ رہا ہے اور میری جان نکل رہی ہے اگر بھائی یا ماما کو پتہ چلا تو نجانے میرے بارے میں وہ کیا سوچیں گے….؟
زرناب کس مرض کی دوا ہے کیا فائدہ اس کے وکیل ہونے کا جب ہم نے ہی پریشان ہونا ہے.
مرتضی نے تسلی دی مگر موسیٰ کا لٹکا ہوا چہرہ دیکھ کر ہنسنے لگا.
بندہ وہ کام ہی نہ کرے جس پر بےعزتی کا خطرہ ہو…..
مرتضیٰ مجھےکم از کم تجھ سے یہ اُمید نہ تھی خیرررر…..
اتنی دیر میں ویٹر آڈر لے آیا. اس سےپہلے کہ موسیٰ چائے کا سپ لیتا اسے پارکنگ میں حمین کی گاڑی نظر آئی.
اوئے بھائی یہاں ہی ہیں مگر کہاں …؟
ہال میں نظر مارتے ہوئے موسیٰ نے اونچی آواز سے کہا
وہ دیکھ وہاں ہیں کسی لڑکی ساتھ…..
مرتضی نے ایک کونے میں ٹیبل کی طرف اشارہ کیا.
بھائی اور لڑکی ، ناممکن بات ہے ……
کیوں اُن کے سینے میں دل نہیں ہے..؟
موسیٰ مسلسل تاک جھانک کرنے کی کوشش کر رہا تھا .
اتنی بےچینی ہو رہی ہے تو ٹیبل پر چلیں !!! مگرمیرےخیال سے کسی کو ڈسٹرب کرنا بری بات ہے…؟
مرتضیٰ نے کافی کا گھونٹ لیا.
بے چینی کی بات نہین ہے مجھے بس حیرت ہے…؟
لڑکی حلیے سے کسی گاؤں کی لگتی ہے…؟
مرتضی نے تبصرہ کیا.
ہاں مگر…..
ابھی موسیٰ کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ حمین اپنی کرسی سے اٹھ گیا اور اس کے پیچھے پیچھےوہ لڑکی جس نے کالی چادر سے اپنا منہ ڈھانپا ہوا تھا چل پڑی.
اوئے منہ نیچےکر ، بھائی ادھر ہی آ رہےہیں.
حمین تیزی سے اُن دونوں کے قریب سے گزر گیا جیسے دیکھا ہی نہ ہو.
شکر ہے حمین بھائی نے ہمیں نہیں دیکھا..؟
تمہاری غلط فہمی ہے کہ انھوں نے نہیں دیکھا ، اُن کی دو نہیں چار آنکھیں ہیں پتہ نہین اب کونسا بم پھوڑیں گے….؟
موسیٰ نے اپنی پریشانی کو چھوڑ کر حمین کےبارے میں سوچتے ہوئے کہا
🌸🌸🌸🌸
رائحہ ہسپتال میں سخت بزی تھی جب زرناب کا کارڈ آیا نے لا کر دیا. ٹھیک ہے اندر بھیج دو.
آؤ آؤ بیٹا کیسی ہو ، مگر اس وقت ، خیریت ہے نااااا؟
رائحہ نےگھڑی پر نظر مارتے ہوئے پوچھا.
ہاں آنٹی وہ کچھ reports دیکھانی تھیں آپ کو اگر آپ کچھ کر سکیں…؟
رائحہ نے زرناب کے ہاتھ سے فائل لیتے ہوئے سرسری سی نظر ماری اور واپس کر دی.
سوری اس سٹیج پر کچھ نہیں ہو سکتا اور اگر کچھ کرنے کی کوشش کی تو مریض کو نقصان پہنچ سکتا ہے . ویسے بھی میں ایسے غیر قانونی اور غیر شرعی کام نہیں کرتی.
جی بہتر…..
زرناب جانے کے لوے اٹھی تو رائحہ نے پوچھا
یہ تمہاری دوست ہے یا کلائنٹ….؟
آنٹی کلائنٹ ہے.
رائحہ کے روم سے نکلتے زرناب ہسپتال کے کوریڈور میں تھک کر بیٹھ گئی .
اب کیا کرو بیچاری مفت میں پھنس گئی…؟
زرناب سر جھکائے بیٹھی تھی جب حنین نے اُسے پکارا
انکل آپ اور یہاں….؟
ہاں میں stylooo سے ملنے آیا تھا مگر تم یہاں خیریت….؟
نہیں کچھ نہیں بس ویسے ہی…؟
یہ جو کچھ نہیں ، ویسے ہی ہوتا ہے نااااا یہ ہی بتا دو کیونکہ یہی سارا مسئلہ ہوتا ہے…..
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھوں پر عینک درست کرتے ہوئے کہا
ایک شرط پر بتاؤں گی کہ آپ اُسے نہیں بتائیں گے ورنہ میرا پلان لیک ہو جائے گا….
زرناب نے حنین نے وعدہ لیا.
چلو پکا وعدہ میں اسے کچھ نہیں بتاؤں گا مگر تمہیں آج ایک راز کی بات بتاؤں اس کے قبضے میں “جنات” ہیں. جو اسے سب بتا دیتے ہیں.
انکل……
زرناب نے ناراض ہوتے ہوئے منہ بنایا .
اچھا اب بتا بھی دو کہیں وہ شیطان آ ہی نہ جائے ……
زرناب نے “الف” سے لے کر “ے” تک سب بتا دیا. جسے سن کر حنین کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا مگر وہ اپنے تاثرات چھپا گیا.
اب بتائیں کیا کروں ، کیا میں صبح کورٹ میں کیس فائل کرا دوں…؟
ہاں بلکل کیوں نہیں….؟
میری بیٹی ہمت کرے باقی سب رب پر چھوڑ دے کیونکہ جو رب ہے وہی سب ہے.
حنین نے کہتے ہوئے پیار سے زرناب کے سر پر ہاتھ پھیرا اور خود زرناب اور حمین کی اوس دن لان والی گفتگو کے تانے بانے بننے لگا جس سے جلدی ہی “تصویر” مکمل ہو گئی.
🌸🌸🌸🌸
زرناب ابرش کا کیس فائل کروا کر ابھی کورٹ سے نکلی ہی تھی کہ کوریڈور میں حمین سے ٹکرا گئی.
لوگ کہتے ہیں اگر کالی بلی راستہ کاٹ لے تو راستہ بدل لوں مگر میں کہتی ہوں کہ اگر “حمین ملک” راستہ کاٹ لے تو راستہ بدل لو.
اچھا حیرت ہے لوگ مجھے دیکھ کر راستہ بدلتے نہیں بلکہ میرے راستے میں آ جاتے ہیں جیسے “آپ”…..
حمین تمیززز کے دائرے میں رہ کر بات کیا کرو….؟
مگر مجھے تو کہیں دائرہ نظر نہیں آ رہا…؟
(حمین نے زمین پر ادھر اُدھر نظر مارتے ہوئے جواب دیا.)
کیونکہ تم دائرے کے باہر کھڑے ہو……
اچھا اور تم دائرے کے اندر ہو ، مگر میری نظرکے مطابق تم گٹر کے ڈھکن پر کھڑی ہو جسے تم تمیززز کا دائرہ کہہ رہی ہو…
زرناب نے جلدی سے اپنی جگہ تبدیل کی مگر وہاں کوئی گٹر یا اس کا ڈھکن نہیں تھا.
چلو مبارک ہو اب تم بھی تمیززز کے دائرے سے باہر نکل گئی.
حمین میں آگے ہی بہت پریشان ہوں مزید نہ کرو پلیزززز
اچھا تم پریشان ہو…؟
حمین کا لہجہ ایک دم دوستانہ ہو گیا.
ہاں…….
تو پھر میں کیا کروں اپنی پریشانی کو خود حل کروں میرا وقت ضائع نہ کرو چلو شاباش سائیڈ پر ہو….
ابھی ابھی زرناب کے دل میں حمین کے لیے جو نرمی پیدا ہوئی تھی وہ ایکدم ہوا ہو گئی.
تم سےبحث فضول ہے کوئی نہیں جیت سکتا.
میں بھی یہی سمجھانا چاہ رہا ہوں مجھ سے کوئی جیت نہیں سکتا میں صحیح ہوں یا غلط ، جیت میری ہی ہوتی ہے.
کبھی کورٹ میں میرے مدمقابل آنے کی کوشش مت کرنا اتنا برا حال کروں گا کہ تم وکالت چھوڑ دو گی.
اسے میری وارنگ سمجھو “بیرسٹر زرناب علی خان”
اور خود زرناب کے قریب سے گزر گیا.
اِسے کیا ہوا….؟
زرناب حمین کے رویے پر سوچتی رہ گئی. اتنی سختی…..
🌸🌸🌸🌸