No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
حذیفہ آج کل کافی زیادہ اُس لڑکی کے بارے میں سوچنے لگا تھا .عجیب لڑکی ہےاپنے بارے میں کچھ بتاتی ہی نہیں بس مجھ سے میرے بارے میں پوچھتی رہتی ہے اب بات نہیں کروں گا یہ تو میرے حواسوں پر سوار ہوتی جا دہی ہے وہ اپنے خیالوں میں گم تھا جب سٹاف نے آ کر سلویٹ کیا.
سلام صاحب….
سلام کیا بات ہے؟
صاحب آپ کی کال ہے
اچھا آتا ہوں.
حذیفہ بے دلی سے ٹیلی فون والے کمرے کی طرف بڑھ گیا مگر جیسے ہی ریسیور کان ساتھ لگایا اس کی بوریت دور بھاگ گئ.
کمینے ہم نے تجھے فوج میں خود اپنے ہاتھوں سے رخصت کیا ہے مگر تُو ہمارے ساتھ ایسا سلوک کر رہا ہے جیسے گھر سے بھاگی لڑکیاں کرتیں ہیں کوئی خیر خبر نہیں…..
پتہ کتنا مس کرتا ہوں میں تجھے، بتا کب چھٹیوں پرآ رہا ہے؟
حمین نے کوٹ کرسی پر رکھتے ہوئے اپنے شوز اتارے.
فلحال تو سرکار اوپر پہنچانے کا بندوبست کر رہی ہے.
وہ تو ٹھیک ہے تیرے جیسے انسان ساتھ یہی سلوک ہونا چاہیے پر ایک آخری ملاقات تو بنتی ہے کیا خیال ہے ؟
حمین نے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ہوئےاپنےآپ کو مرر میں دیکھا
جی اُمید تو ہے سرکار اوپرپہنچانے سے پہلے ایک بار آپ کا دیدار کروا دیں گے.
ٹھیک ہے پھر ملتے ہیں…
حمین نے کہتے ہوئے فون بند کیا اور خود واشروم میں چلا گیا
🌸🌸🌸🌸🌸
حمین ابھی ابھی چمبر میں داخل ہوا تھا اور بہت جلدی میں تھا مگر بدقسمتی سے زرناب کے کیبن پر نظر پڑ گئی اور رات والا واقعہ پوری آب و تاب سے نظروں کے سامنے گھوم گیا
حمین نے آج تک کسی کا ادھار نہیں رکھا “مس زرناب علی خان” میری شکایتیں وہ بھی “اماں باوا ” سے…
دل میں سوچتا ہوا زرناب کے کیبن کا دروازہ نوک کر کے اندر داخل ہو گیا
سیانے کہتے ہیں پنگا ہمیشہ اپنے برابر والے سے لینا چاہیے…؟
زرناب جو اب مکمل مطمیٔن تھی کہ رات والے واقعہ کے بعد کم از کم حمین مجھے اب تنگ کرتے ہوئے سو بار سوچے گا اس کی آواز پر چونک پڑی….
تم
کیا چیزززز ہو حمین ملک….؟
اپنے جذبات کنٹرول کرتے ہوئے اتنا ہی کہہ سکی
دعا دینے آیا تھا تمہیں
“ﺧﺪﺍ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮐﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺑﻼﻭﮞ ﺳﮯ
ﻭﮐﯿﻠﻮﮞ ﺳﮯ، ﺣﮑﯿﻤﻮﮞ ﺳﮯ، ﺣﺴﯿﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮬﻮﮞ ﺳﮯ😂”
حمین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھماتے ہوئے چڑا دینے والی مسکراہٹ سے ایک نظر زریاب کے لال ہوتے چہرے کو دیکھا اور جانے کے لیے مڑا. کیونکہ وہ جو آگ لگانے آیا تھا وہ فوراً لگ گئی تھی.
ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻣﻄﻠﺐ
ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ
ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺗﮭﭙﮍ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﭘﺮ
ﯾﻘﯿﻦ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮ۔
زرناب کے الفاظوں نے باہر نکلتے ہوئے حمین کے قدم روک دیے دوسرے اور سادہ الفاظ میں زرناب نے اپنی شامت کو خود آواز دی.
ایک منٹ ایک منٹ کیا کہا آپ نے زرا دہرانا میں نے ٹھیک سے سنا نہیں…
حمین کہتا ہوا کرسی گھیسٹ کر بیٹھ گیا.
دیکھو میں اس وقت بحث کے موڈ میں نہیں ہوں
So plzzz leave…
اب تم منت کر رہی ہو تو چلا جاتا ہوں مگر مجھ سے بات سوچ سمجھ کر کیا کرو.
حمین انگلی سے وارن کرتا ہوا باہر کی طرف بڑھ گیا
🌸🌸🌸🌸🌸
موسٰی آج گھر میں داخل ہوا تو خلافِ معمول کافی خاموشی اور اندھیرا تھا.
موسٰی نے گھڑی پر نظر مارتے ہوئے نوکر کو آواز دی مگر کوئی آواز نہ آنے پر ٹی وی الاؤنچ کی جانب بڑھ گیا.
مام کہاں ہیں آپ…؟
موسٰی نے سوئچ پر ہاتھ مارتے ہوئے زور سے نرمین کو پکارا اُسے سخت الجھن ہو رہی تھی کیا مصیبت ہے..۔
لائٹ کیوں آن نہیں ہو رہی…؟
اس سے پہلے وہ مذید کچھ کہتا اسے اپنے پیچھے قدموں کی آواز سنائی دی…
خبردار حرکت کرنے کی کوشش کی تو جان سے جاؤ گے چپ چاپ گھر کی بیک سائیڈ پر چلو
موسٰی نے اپنی کمر پر پسٹل کو محسوس کیا اور اس کی آنکھوں پر رومال باندھ دیا گیا.
یا اللہ خیر ہمارے گھر میں واردات ناممکن….
اتنی سخت سیکورٹی کے باوجود بھی….اور باقی سب گھر والے….
موسٰی چلتا جا رہا تھا اور ذہن عجیب وسوسوں کی لپیٹ میں تھا.
ٹھیک ہے
1
2
3
Go
Happy birthday 2 u
Happy birthday 2 u
Happy birthday 2 u
Dear Mosa…..
جیسے ہی آنکھوں سے پٹی اتاری چاروں طرف روشنیاں ہی روشنیاں اور پھولوں سے زبردست ڈیکوریشن کی گئی تھی.
موسٰی کی فیملی کہ علاوہ زریاب ، دبیر اور کونین کی فیملیز بھی موجود تھیں.سب لوگوں نے مل کر موسٰی کو سالگرہ مبارک کہا
موسٰی نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو نقاب پوش شخص مسکرا رہا تھا.
کیسا لگا سرپرائز…؟
کون ہو تم میں تمہیں پہچان نہیں سکا…
موسٰی نے حیرت سے پوچھا اس کے پوچھنے پر حنین ہنسا اور آگے بڑھ کر نقاب اتار دیا.
حذیفہ….
موسٰی نے چیختے ہوئے حذیفہ کو گلے لگایا
What a pleasrnt surprise ..???
آج تیری سالگرہ ہے دیکھو ہم کو یاد ہے ناااااااا
حذیفہ نے الگ ہوتے ہوئے کہا
🌸🌸🌸🌸🌸
زرتاشے کے جب سے ماں باپ فوت ہو گئے تھے تب سے وہ اپنے چچا اور اُس کی فیملی کے ظلم برداشت کر رہی تھی.
آج بھی معمولی بات پر چچی نے اُسے بہت مارا تھا ہمیشہ کی طرح سزا کے طور پر سارا دن کتے کے کمرے میں بند کر دیا کتا کیونکہ پالتو تھا اس لیے وہ زرتاشے کو کچھ نہیں کہتا تھا مگر اُس کے بدبو دار کمرے میں بھوکے پیاسے دن گزارنا کسی عذاب سے کم نہ تھا.
پیارے اللہ جی اگر آپ نے میرے ماں باپ کو اپنے پاس بلا لیا ہے تو مجھے بھی بلا لیں اس دنیا میں کسی کو میری ضرورت نہیں
سوچتے سوچتے کب اسے نیند آ گئی اسی خود بھی پتہ نہ چلا مگر سونے کا یہ فائدہ ہوا کہ سوتے ہی وہ دوبارہ اپنی عالی شان حویلی میں پہنچ گئی جہاں اس کی مرضی کے بغیر پتا بھی نہیں ہلتا تھا.
🌸🌸🌸🌸🌸
اس وقت سب کزنز دائرے کی صورت میں بیٹھے آگ سیک رہے تھے کہ حنین کے ذہن میں ایک شرارت آئی.
تم لوگ کیا بوڑھوں کی طرح بیٹھے ہو ( اشارہ زریاب اور دبیر کی طرف تھا) یچھ ہلا گلہ کرو..
مثلاً …..
حمین نے اپنی گول مٹول آنکھوں کو گھما کر کہا
مثلاً
کوئی ٹپے ، ماہیے گا لو یا کہاوتیں ہی کہاوتیں کھیلو….
حنین کے جواب پر حذیفہ نے کہاوتوں کی حمایت کی کیونکہ ٹپے ، ماہیے تو ہم فوج میں بہت گاتے ہیں کچھ نیا ہونا چاہیے…
دیکھتے ہیں سب سے مزیدار کہاوت کون سنائے گا
ٹھیک ہے پہلی کہاوت میری طرف سے حنین نے حذیفہ کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے جواب دیا
روسی کہاوت ہے کہ بیوی خاوند کی دریافت ہوتی ہے اور خاوند بیوی کی ایجاد ۔
کیسا..؟
(حنین نے داد لینے کے لیے نرمین کی طرف دیکھا جو افسوس سے سر ہلا رہی تھی.)
تمہیں تو میری کوئی بات پسند ہی نہیں آتی جبکہ باقی ہنس رہے تھے.
پرتگالی کہتے ہیں کہ کوئی بندہ اپنی بیوی کا ہیرو نہیں ہوتا اور کوئی عورت اپنے ہیرو کی بیوی نہیں ہوتی ۔
حذیفہ کی کہاوت پر سب سے زیادہ داد حمین اور حنین نے دی اب سب خواتین اور لڑکیاں بھی اس مقابلے کو انجوائے کرنے لگیں.
امریکی سیانوں کا خیال ہے کہ بوڑھے کا شادی کرنا ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی ان پڑھ اخبار خریدنا شروع کردے ۔
ڈاکٹر ارتضٰی کی کہاوتپر رامین کا منہ کھل گیا جو حبا نے کہہ کر بند کروایا.
اٹلی والوں کی رائے ہے کہ جس مرد کی جرابیں پھٹی یا بٹن ٹوٹے ہوئے ہوں تو اسے دو میں سے ایک کام فوراً کر لینا چاہیے یا شادی کر لے یا طلاق دیدے۔
موسٰی کی کہاوت پر حنین بول پڑی دیکھو نرمین تمہاری “ٹڈی” کے بھی پر نکل آئے ہیں.
مصری دانشور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ شادی چھوٹے قد کی عورت سے کرنی چاہیے کیونکہ مصیبت جتنی چھوٹی ہو اتنی ہی بہتر ہے۔
حمین نے اپنی کہاوت کے آخر میں زرناب کو دیکھا جو کہ دراز قد تھی.
جب آدمی شادی کرتا ہے تو اسے پتا چلتا ہے کہ اصل خوشی کیا ہے مگر تب تک دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
دبیر کی کہاوت پر سب نے خوب شور مچایا اور حنین نے جمہوریت کا ساتھ دیتے ہوئے دبیر کو ونر قرار دیا.
