Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36


زرناب کی باتیں سننے کے بعد زریاب کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمودار ہو گئے جبکہ ماہ نور کو غصہ آ گیا.
تمہیں کس نے کہا ہے کہ تم یہ کیس لڑو. خامخواہ دوسروں کی لڑائی کا حصہ نہیں بنتے . حمین سے ہی کچھ سیکھ لیا ہوتا . اگر حمین اُس لڑکی کی فیور نہیں کر رہا تو مجھے یقین ہے کوئی خاص بات ہو گی کیونکہ وہ بچہ غلطی کر ہی نہیں سکتا بہت دور اندیش ہے.
ماما آپ ہمیشہ حمین کی سائیڈ لیتی ہیں جبکہ میں آپ کو ابھو ابھی سب سچ سچ بتا چکی ہوں پھر بھی…..
زرناب نے لاچارگی سے زریاب کی طرف دیکھا جو فکر مند نظر آ رہا تھا.
تمہاری بات بلکل ٹھیک ہے مگر بیٹا حمین…..
جب میرے گھر والے ہی میرا ساتھ نہیں دے رہے میری بات کو نہیں سمجھ رہے تو دوسرے کیسے سمجھیں گے..؟
حمین بھی ہماری طرح ایک “عام” انسان ہے جسے آپ لوگوں نے “خاص” بنا دیا ہے وہ بھی غلطی کر سکتا ہے پلیززز اُس کے اثر سے نکل آئیں…..
زرناب اب بری طرح تپ چکی تھی.
بیٹا یہ بات نہیں ہے میرا مطلب ہے کہ حمین اگر اُس لڑکی کی فیور نہیں کر رہا تو کوئی مسئلہ ہو گا مطلب “خطرہ”……
آپ کو کیا لگتا ہے حمین کسی خطرے سے ڈرتا ہے نہیں بلکل بھی نہیں ، وہ ڈرتا نہیں ہے بس سیال فیملی کا کیس مضبوط ہے اُسے اپنے جیتنے کی 90% امید ہے وہ اپنا ریکارڈ خراب نہیں کرنا چاہتا……
دوسرا میرے خیال سے وہ لالچ میں آ گیا ہے کیونکہ سیال فیملی نے اسے منہ مانگی فیس ادا کی ہے .
اپنی بات ختم کرتے ہی زرناب نے ماہ نور اور زریاب کی طرف دیکھا جو اُس سے متفق نظر نہیں آ رہے تھے.
اب تم بلکل غلط بول رہی ہو وہ لالچی نہیں ہے ارب پتی باپ کا بیٹا ہے ویسے بھی حنین اور نرمین کی اولاد ایسی نہیں ہو سکتی…..؟
ماہ نور سے برداشت نہ ہوا تو پھر حمین کی حمایت میں بول پڑی.
ماما حضرت نوع علیہ سلام کا بیٹا برا نکل آیا تھا تو انکل حنین کا بیٹا “جس کھیت کی مولی ” ہے.
زرناب کی کہاوت پر زریاب مسکرا دیا مگر پھر کچھ سوچتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا.
🌸🌸🌸🌸
اب بولو بھی کیا بات ہے…..؟
زریاب اور دبیر دونوں ہی خاصے سیریس دکھائی دے رہے تھے.
دیکھو حنین ہماری بات زرا غور سے سنو…..
کیا خاک سنو ، تم کچھ بولو گے تو سنو گا نااااا ، اب تمہارے دل کی دھڑکنیں جو زور زور سے دھڑک رہی ہیں ان کا کیا مطلب سمجھوں……؟
تمہیں کیسے پتہ ہمارے دل زور زور سے دھڑک رہے ہیں….؟
دبیر کو حیرت ہوئی.
بکواس کرتے ہو یا میں جاؤں…؟
حنین نے گاڑی کی چابی اور موبائل اٹھاتے ہوئے دھمکی دی.
زریاب نے اُس کی دھمکی پر ساری بات اس کے گوش گزار کر دی جسے سن کر حنین اتنا ہی مطمئن نظر آ رہا تھا جتنا پہلے تھا.
تمہیں حیرت نہیں ہوئی کہ حمین کیا کرنے جا رہا ہے ….؟
زریاب سے حنین کا اطمینان ہضم نہیں ہو رہا تھا.
میں اپنے بیٹے کے ذاتی معاملات میں تانگ نہیں اڑاتا وہ اپنے کاموں کا خود ذمہ دار ہے .
مگر اُس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے…؟
دبیر نے فوراً حنین کی بات کاٹی.
ہونے دو اچھا ہے زرا ٹھکائی ہو گی تو طبیعت سیٹ ہو جائے گی .میں اُن والدین میں سے نہیں جو اولاد کو سمجھانے کے لیے خود بول بول کر اپنا BP ہائی کر لیتے ہیں بچوں کو اُن کے حال پر چھوڑ دونا چاہیے تاکہ وہ خوداپنی جنگ لڑیں اور سیکھیں. شیر کے بچے اسی طرح بڑے ہوتے ہیں.
تم حمین کی فکرچھوڑو اور یہ بتاؤ تمہاری اصل پریشانی کیا ہے…؟
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر براہ راست زریاب سے پوچھا
وہ زرناب…..
زریاب نے ہچکچاتے ہوئے اپنی بات شروع کی.
میری ایک بات تم دونوں کان کھول کر سن لو. حمین کی وجہ سے اگر کبھو بھی زریاب کو زرا سا بھو نقصان پہنچا تو میں یہ بھول جاؤں گا کہ وہ میرا بیٹا ہے.
کیونکہ زرناب مجھے بہت پیاری ہے اور اگر کبھی دوبارہ تم نے اس طرح مجھسے زرناب کے بارے میں بات کی تو میں تم دونوں کی جان لے لوں گا سمجھے….؟
حنین کی باتوں سے زریاب کے چہرے پر اطمینان پھیل گیا اور اُس نے مسکرا کر دبیر کی طرف دیکھا جو سکھ کا سانس لے رہا تھا.
ویسے بےغیرتوں ! تم دونوں نے مجھے یہاں حمین کے کرتوت بتانے کے لیے بلایا تھا. زرا شرم نہیں آئی تمہیں….
کبھی میں نے بھی تمہارے کرتوت تمہاری “بیگمات ” کو بتائے ہیں….؟
ہم نے کیا کیا ہے…..؟
دونوں نے ایک ساتھ کہا
ماشأاللہ کیا اتفاق ہے…..
ویسے تمہیں یقین ہے کہ تم دونوں نے کبھی کچھ نہیں کیا.
حنین نے اپنی آنکھیں گھما کر دونوں کو دیکھا اور شرارت کی.
اگر کہو تو میں یاد کرا دوں….؟
نہیں شکریہ …..
دبیر نے منہ بنایا.
🌸🌸🌸🌸
حمین اپنے روم میں بیٹھا کیس کی سٹڈی کر رہا تھا جب حنین روم میں داخل ہوا.
کیا کر رہے ہو میرے ہیرو…؟
فلحال تو بلکل زیرو ہوں آپ کی نظر میں ، تبھی طنز کر رہے ہیں ورنہ آج تک تو کبھی ہیرو نہیں کہا
حمین نے اپنا پن پیڈ پر رکھتے ہوئے جواب دیا ابھی وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر اپنے مخصوص سٹائل سے بیٹھنے ہی لگا تھا کہ حنین کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے سیدھا ہو کربیٹھ گیا.
تم زرناب کو کیوں پریشان کر رہے ہو….؟
کیا تکلیف ہے تمہیں ، اگر تکلیف کا آرام نہیں آ رہا تو ڈاکٹر سے رجوع کرو …..
اچھا تو یہ بات ہے آپ کی لاڈلی نے آپ کو اپنا سفارشی بنا کر بھیجا ہے ڈر گئی ہے بیچاری……
حمین نے افسوس سے گردن ہلائی.
ڈرتی تو ابھی تک اس کی “ماں” نہیں ہے تو وہ کیا ڈرے گی….؟
سردار زریاب علی خان کی بیٹی ہے وہ بھی “اکلوتی” بہت ہلکا لے رہے ہو .
یہ نہ ہو کہ وہ تمہیں عدالت میں “ننگا” کر دے یقین مانو مجھے بہت شرم آئے گی حالانکہ میں رجسٹرڈ بےشرم ہوں.
مسٹر حنین آپ مجھے بہت ہلکا لے رہے ہیں اگر آپ کی لاڈلی کا لائیسنس کینسل نہ کروا دیا تو میرا نام “حمین ملک ” نہیں….
چلو دیکھتے ہیں حنین کہتا ہوا دروازے کی طرف بڑھنے لگے پھر کچھ سوچ کر پلٹا.
حمین اگر تم نے کسی بھی قسم کا ذاتی انتقام لیا یا اُسے تمہاری وجہ سے کوئی تکلیف پہنچی تو یاد رکھنا میں یہ بھول جاؤں گا کہ تم میرے بیٹے ہو وہ بھی “لاڈلے”…..
دروازہ بند ہوتے ہی حمین نے اپنا پن پورے زور سے دیوار پر مارا
زرناب کی بچی!
اب تو بلکل معاف نہیں کروں گا دھمکیاں وہ بھی حمین ملک کو…..
🌸🌸🌸🌸