No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
دبیر اپنے کمرے میں کافی دیر سے کچھ تلاش کر رہا تھا جب ہالہ کو اندر آتا دیکھ کر رک گیا.
مجھے تم معاف نہیں کر سکتی…
مطلب..؟
ہالہ نے جان بجھ کر انجان بنتے ہوئے پوچھا
مطلب تم اچھی طرح سمجھ رہی ہو. یہ روز روز کمرے کی سیٹنگ بدلنا ضروری ہے میں اپنی چیزیں کہیں اور رکھتا ہوں مگر سیٹنگ کے چکر میں ملتی کہیں اور سے ہیں کل وہ ٹیبل جو آج یہاں سے وہاں شفٹ ہو گیا ہے اس پر میں نے ایک ضروری فائل رکھی تھی جو اب مجھے نہیں مل رہی…
دبیر نے ایک کونے میں پڑے ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
دیکھو اگر میں فرنیچر بدلوں تو بھی تمہیں مسٔلہ ہوتا ہے اب اگر میں نے حنین کے کہنے پر فرنیچر کی جگہ سٹینگ بدل دی ہے تو بھی تمہیں مسٔلہ ہے حالانکہ دیکھو صرف سیٹنگ بدلنے سے کمرے کی لُک کتنی اچھی لگ رہی ہے.
ہالہ کے جواب پر دبیر نے منہ بنا کر پہلے کمرے کو دیکھا اور پھر حنین کا نمبر ملانے لگا.
میں زرا change کر لوں پھر تمہیں فائل تلاش کر کہ دیتی ہوں.
ہالہ کہتی ہوئی واشروم کی طرف بڑھ گئی جبکہ دبیر ٹیرس پر کان ساتھ موبائل لگائے کھڑا ہو گیا.
میری زندگی میں مسٔلے پیدا کرنے کے لیے تو اکیلا ہی کافی ہے برائے مہربانی ہالہ کو اپنی ٹیم سے نکال دے تاکہ میری آتما کو شانتی ملے ورنہ یاد رکھ میں بدروح بن کر بھٹکتا رہوں گا اور تیری زندگی بھی عذاب کر دوں گا …..
کال اٹینڈ ہوتے ہی دبیر نے اپنا دکھڑا رویا.
حنین تو ابھی سو رہا ہے تم اتنے غصے میں کیوں ہو پھر کچھ کیا ہے اس نے…؟
نرمین کی آواز پر دبیر کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑگئے.
کچھ نہیں ہوا کیوں کہ “کچھ” سے حنین کا گزارا نہیں ہوتا جب تک “زیادہ سا کچھ” نہ ہو جائے.
مطلب…..نرمین نے پہلو میں لیٹے حنین پر ایک نظر ڈالی جو دنیا سے بےخبر سو رہا تھا.
نرمین بی بی تمہارے شوہر کا چھوٹی موٹی گڑبڑ سے گزارا نہیں ہوتا جب تک وہ چھوٹی گڑ بڑ کو “ٹائی ٹینک” نہ بنا لے.
میں نے درخواست کی تھی کہ ہالہ روز روز فربیچر بدلتی ہے اسے سمجھائے اس بات کا اُس نے مجھ سے باقاعدہ طور پر معاوضہ بھی لیا.
سچ میں….
نرمین کو یقین نہیں آیا
جی یہ اب پہلے سے زیادہ کمینہ ہو گیا ہے میں زریاب کی اس بات پر ایمان لے آیا ہوں.
اچھا پھر……
صبح صبح نرمین کو دبیر کا کوسنا اچھا نہیں لگ رہا تھا
پھر وہ کہتے ہیں ناااا آسمان سے گرا اور کھجور میں اٹکا…
اب ہالہ روز سیٹنگ بدل دیتی ہے بڑی مشکل سے میں ایک سٹینگ کا عادی ہوتا ہوں اُتنی دیر میں اس سیٹنگ کی جگہ دوسری سیٹنگ لے لیتی ہے بقول اس کے یہ آئیڈیا حنین نے اسےدیا ہے.
تو تم ہالہ کو سمجھاؤ نااااااا
نرمین نے پیار سے حنین کے بال ماتھے سے پیچھے کرتے ہوئے جواب دیا
تم آج تک حنین کو سمجھا سکی ہو جو میں ہالہ کو سمجھاؤ کچھ روحیں زمین پر صرف تنگ کرنے آتیں ہیں جیسے ہالہ، حنین ، حذیفہ اور بڑی معزرت کے ساتھ تم لوگوں بلکہ ہم سب کا لاڈلا حمین…
دبیر نے کہتے ساتھ فون بند کر دیا جس سے نرمین کو اس کے غصے کا اندازہ ہوا.
مجھے تو آج تک یہپتہ نہیں چل سکا کہ حنین جان بجھ کر ایسی حرکتیں کرتا ہے یا اُس سے خودبخود ایسا ہو جاتا ہے
🌸🌸🌸🌸🌸
گیٹ پر کون ہے اتنا شور کر رہا ہے گیٹ کیپر….
زرا جا کر دیکھو حبا
عترت نے کچن سے آواز لگائی
ہونا کس نے ہے بی بی ایک ہی تو ہے آفت کی پڑیا جب آتی ہے تبھی لڑتی ہے اُس بیچارے گیٹ کیپر سے اور لڑنے کی وجہ سو سال پرانی….( گیٹ جلدی کیوں نہیں کھولا)
ثریا بیگم نے تخت پوش پر بیٹھے بیٹھے رامین پر تبصرہ کیا.
ارے پھپھو ایسی بھی کوئی بات نہیں وہ بھی جان بجھ کر رامین کی گاڑی کے لیے گیٹ جلدی نہیں کھولتا
عترت نے فوراً رامین کا دفاع کیا
حنین کی بیٹی کے لیے کوئی کچھ کہے یہ بات اسے گوارا نہیں.
کمرے سے نکلتے کونین نے بات سنتے ہی جواب دیا اور خود اماں کے پاس بیٹھ گیا.
اتنی دیر میں رامین اور حبا الاؤنچ میں داخل ہوئیں
ارے لڑکی تُو کبھی خاموشی سے نہیں آ سکتی اس بیچارے سے خاہ مخواہ کا بیر ہے تجھے…
اماں بی نے عترت کو نظر انداز کرتے ہوئے رامین سے کہا
دادو میں کہاں کسی کو کچھ کہتی ہوں وہ ہی میری گاڑی کے لیے گیٹ نہیں کھولتا
عترت نے رامین کے سر پر پیار سے بوسہ دیا بابا ٹھیک ہیں تمہارے..؟
اُس شیطان کو کیا ہونا ہے…
جواب عترت کی بجائے کونین کی طرف سے آیا جو اسے تپا کر اندر کمرے کی طرف جا رہا تھا.
آپ کو تو میں بعد میں دیکھو گی….
عترت دل میں کہتی ہوئی رامین کی طرف متوجہ ہو گئی.
یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ..؟
حبانے گفٹ بیگ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
یار تیری سالگرہ کا گفٹ ہے پتہ میں نے اور بھائی نے پورے تین گھنٹے کی محنت کے بعد خریدا ہے.رامین نے گفٹ حبا کی طرف بڑھاتے ہوئے بڑے فخر سے بتایا.
تمہیں میری سالگرہ یاد تھی میں سمجھی تم بھول گئی شکریہ
ارے میں کیسے تمہاری سالگرہ بھول سکتی ہوں 11 کو تمہاری ہوتی ہے اور12 کو موسٰی بھائی کی….
اور شکریہ گفٹ دیکھ کر کہنا میرا اور بھائی کا، میں موبائل سے تمہاری ویڈیو بناتی ہوں تم گفٹ کھولو
حبا نے جلدی سے ریپنگ شیٹ اتار کر گفٹ کھولا
مگر جیسے ہی گفٹ کھلا پورا گھر حبا کی چیخ سے گونج اٹھا سب ہکا بکا حبا کو دیکھ رہے تھے جو صوفے پر چڑھی چیخ مارنے کے بعد اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھے دور پڑے گفٹ کو گھور رہی تھی اور رامین کاہنس ہنس کر برا حال تھا.
جتنی دیر میں عترت کو معاملہ کی سمجھ آئی گھر میں بلی چوہے کا کھیل شروع ہو چکا تھا.
قسم سے حبا یہ چوہا کھلونا ہے اصلی نہیں ہے اور بھائی نے خریدا تھا میں نے نہیں…..
رامین بولتی جا رہی تھی اور حبا اس سے موبائل چھیننے کی کوشش میں اس کے پیچھے بھاگ رہی تھی.
🌸🌸🌸🌸🌸
زریاب چیئر پر بیٹھا کسی کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا جب زرناب کمرے میں داخل ہوئی.
بلکل پاگل ہے مجھے تو کہیں سے بھی وہ پڑھا لکھا نہیں لگتا….
زرناب بولتے بولتے زریاب کے پاس پڑے کاؤچ پر بیٹھ کر ہیٹر سے اپنے ہاتھ سیکنے لگی
کیوں موڈ خراب ہے ہماری لاڈلی کا….
زریاب نے پیار سے زرناب کے سر پر ہاتھ پھیرا
اس کا موڈ آن کب ہوتا ہے جب دیکھو آف ہی ملتا ہے کم از کم مجھے تو….
ماہ نور نے کافی والی ٹرے ٹیبل پر رکھتے ہوئے جواب دیا
ایسی تو کوئی بات نہیں ماما
زرناب نے کافی والا مگ ہاتھ میں لیتے ہوئے جواب دیا.
اچھا کس نے تمہیں تنگ کیا ہوا ہے اُس کا نام بتاؤ، ہم ابھی اُس کی خبر لیتے ہیں
زریاب نے کافی کا سپ لیتے ہوئے پوچھا اس سے پہلے کہ زرناب جواب دیتی نوکر نے آ کر حمین
کے آنے کی اطلاع دی جس سے ماہ نور کے چہرے پر رونق آ گئی جبکہ زرناب کے چہرے کے تاثرات بدل گئے.
اسی کمینہ کی بات کر رہی تھی سچی بہت تنگ کیا ہوا ہے.
کس نے تنگ کیا ہے بیریسٹر زرناب علی خان کو…
حمین نے اندر آتے ہوئے زرناب کی بات سن کر جواب دیا. جبکہ ماہ نور اور زریاب اسے اُٹھ کر ملے
کتنے دنوں بعد آئے ہو میں نے کتنے فون کیے اور تم آج شکل دیکھا رہے ہو.
ماہ نور نے شکوہ کیا
بس آنٹی ٹائم ہی نہیں ملتا آپ زرناب سے پوچھ لیں کتنا مصروف ہوتا ہوں میں….
آنکھوں اور چہرے پر شرارت نمایاں تھی جس نے زرناب کو مزید تپا دیا.
مجھے کیا پتہ کہ تم کتنے مصروف ہو میں کوئی تمہاری PA ہوں…
بری بات یہ کس طرح بات کر رہی ہو .ماہ نور کو زرناب کا اس طرح جواب دینا بلکل پسند نہیں آیا اور حمین معصوم نظروں سے زرناب کو دیکھ رہا تھا.
ارے بھئی لڑا کم کرو مجھے تو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ دونوں ایک ہی فیلڈ کہ ہو پھر بھی تمہاری آپس میں نہیں بنتی.
زریاب نے دونوں کو دیکھتے ہوئے صلح کی راہ نکالی
آپ کمال باتیں کرتے ہیں میں اور لڑائی دو متضاد باتیں ہیں مجھے تو لڑانا پسند ہی نہیں اور عورتوں سے لڑنا…
توبہ کریں یہ تو بڑی ہی گھٹیا حرکت ہے
حمین نے کانوں کو ہاتھ لگائے
بکواس کر رہا ہے سچی بابا جانی اتنا تنگ کرتا ہے کہ اللہ کی پناہ، میرے ہر کیس میں جب تک اپنی ٹانگ نہ اڑا لے اسے سکون ہی نہیں ملتا….
زرناب نے فوراً حمین کی شکایت زریاب کو لگائی
بری بات ہے صاحبزادے بہنوں کو تنگ نہیں کرتے.
جیسے ہی زریاب نے لفظ ” بہنوں” استعمال کیا زرناب اور حمین چیخ پڑے.
“بہنوں”
بابا سائیں میں اس کی بہن نہیں ہوں اللہ نے مجھے اکلوتا پیدا کیا ہے اور میں بلکل اکلوتی ہوں.
مگر مجھے تو حمین اپنا بیٹا لگتا ہے ماہ نور نے پیار ہے حمین کو دیکھا
دنیا میں دو لوگ ہی خوبصورت ہیں ایک میں اور دوسری آپ…
سچی آنٹی آپ اتنی پیاری ہیں کہ آج کل کی لڑکیاں آپ کے آگے کافی پیتی نظر آتیں ہیں….
اوئے لڑکے احتیاط سے ہم بھی یہاں موجود ہیں…
زریاب نے مسکرا کر ماہ نور کی طرف دیکھا
کچھ لوگوں کی فطرت “کتے کی دُم ” جیسی ہوتی ہے جتنا مرضی سمجھا لو مگر سمجھ نہیں آتی
زرناب کی بات پر ماہ نور اور زریاب دونوں نے حیرت سے پہلے اُسے اور پھر حمین کو دیکھا جبکہ حمین بلکل نارمل انداز میں زریاب کو دیکھ رہا تھا( زرناب کو تپانے کا مشن کامیابی سے مکمل ہو رہا تھا.)
میرا خیال سے ہمیں موم پھلی کھانی چاہیے ہیٹر کے آگے بیٹھ کر اسے کھانے کا اپنا ہی مزا ہے کیوں….؟
زریاب نے بات بدلتے ہوئے موم پھلی والی باسکٹ ٹیبل سےاٹھا کر حمین کے آگے کی.
نہیں انکل شکریہ اب میں چلتا ہوں ویسے بھی
“موم پھلی اور آوارگی میں یہ خرابی ہے کہ بندہ انھیں ایک بار شروع کر دے تو سمجھ نہیں آتی ختم کیسے کرے”
