No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
حذیفہ نے حمین سے بات کرنے کے بعد کچھ سوچتے ہوئے زرناب کا نمبر ڈائل کیا اسے خوش قسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ دوسری بیل کے بعد زرناب نے فون اُٹھا لیا.
ہیلو زرناب !!!
کہاں ہو قسم سے تم نے تو ہلا کر رکھ دیا ہے..؟
مطلب…؟
زرناب کے جواب نے سچ مچ حذیفہ کو ہلا دیا.
مطلب کیا ، تم کہاں ہو ، نیوز نہیں دیکھی تم نے….؟
کیوں کیا ہے نیوز میں….؟
بےوقوف کچہری میں دھماکہ ہوا ہے ہم سب تمہارے لیے پریشان ہیں اور تم ……
اوہ….اچھا ، مجھے نہیں پتہ وہ اصل میں ، میں اس وقت ایک ضروری کام سےکسی کے ساتھ قریبی گاؤں گئی ہوئی تھی. موبائل شاید بیٹری لو کی وجہ سے خودبخود ہی آف ہو گیا ابھی چارج کر کے آن کیا توتمہاری کال آ گئی.
چلو تم فون بند کرو میں زرا بابا کو فون کر لوں….؟
زرناب نے ابھی کال بند ہی کی تھی کہ زریاب کا فون آ گیا.
شکر ہے تم ٹھیک ہو مگر کہاں ہو میری جان نکل گئی تھی زرناب میرے بیٹے کہاں ہو بولو….؟
بابا میں بلکل ٹھیک ہوں . آپ پلیززز پریشان نہ ہوں اسلام آباد میں ہی ہوں وہ میری گاڑی میں کچھ مسئلہ ہو گیا تھا تو میں پرائیویٹ چلی گئی.
اچھا اپنی لوکیشن بتاؤ میں لینے آتا ہوں.
زرناب نے جلدی جلدی اپنی لوکیشن بتائی.
یہ تو وہی بات ہوئی…
“بچہ بغل میں ڈھنڈورا شہر میں”
حمین نے زریاب کی بات سنتے ہی مرتضی کے کان میں اپنی عادت کے مطابق سرگوشی کی.
تم سب لوگوں کا بہت بہت شکریہ
زریاب نے باری باری سب کو گلے لگایا.
مگر زرناب کہاں ہے اور کس کے ساتھ….؟
دال کالی لگ رہی ہے.
حمین کے سوال پر مرتضی نے تبصرہ کیا.
دال کا تو پتہ نہیں ، فلحال وکیل صاحبہ کے کرتوت کالے لگ رہے ہیں.
بکواس بند کرو اپنی اپنی ہر وقت مسخرہ پن اچھا نہیں لگتا حالات کی سنگینی کو سمجھو ، چلو شاباش گھر کا راستہ لو…..
حنین نے دونوں کو ڈانٹا اور سب اپنی اپنی گاڑیوں کی طرف بڑھ گئے.
“سوچنے والی بات ہے!!
پلاسٹک کی خالی تھیلیاں ہوں یا خالی دماغ والے لوگ، مناسب انتظام نہ کیا جائے تو ہواؤں میں اڑنے لگتے ہیں۔”
گاڑی چلاتے ہوئے حمین نے کہا
تم زرناب کی بات کر رہےہو نااااا
نہیں وزیراعظم کی…
ظاہری سی بات ہے جس نے صبح سے نچایا ہوا ہے اُسی کی کر رہا ہوں.
ویسے وہ اتنی نالائق نہیں جتنا تم اُسے سمجھتے ہو..
اور اتنی لائق بھی نہیں جتنا تم لوگ اُسے سمجھتے ہو.
خیر میں پتہ تو کر ہی لوں گا ، ویسے ایک بات ہے میں پریشانی میں بھی بہت “خوبصورت” لگتا ہوں.
حمین نے بیک مرر میں دیکھتے ہوئے کہا
پتہ نہیں تو کیسے اپنی تعریفیں اپنے منہ سے کر لیتا ہے حالانکہ میرے خیال سے اِس کی ضروت کم از کم تجھے نہیں .
ہر کوئی تیری تعریفیں کر رہا ہوتا ہے پھر بھی تو ” اکبر بادشاہ ” کی طرح جارحیت پسند ہوتا جا رہا ہے…..
مرتضی کی بات ابھی جاری تھی گاڑی ایک جھٹکے سے رکی.
کیا ہوا….؟
جیسے یہ گاڑی پٹرول کے بغیر نہیں چل سکتی بلکل اُسی طرح میں تعریف کے بغیر کام نہیں کر سکتا. میں خود پسند بھی ہوں اور جارحیت پسند بھی…..
“زندگی میں پیسہ، پیار، دوست سب آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ٹوٹے ہوئے دانت واپس نہیں آتے، اس لیے شرافت سے میری تعریف کرو ۔”
اوہ سوری ، اے عظیم وکیل اور اعلیٰ ظرف انسان کیا آپ مجھ ناچیز کو گھر پہنچا دیں گے…؟
مرتضی نے حمین کی بات سمجھتے ہوئے بھرپور ایکٹنگ کی جس پر دونوں ہنسنے لگے اور گاڑی چل پڑی.
🌸🌸🌸🌸
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تم بلکل خیریت سے ہو .
ماہ نور بار بار زرناب کو گلے لگا رہی تھی.
ماما کیا ہو گیا ہے آپ کیوں ایسے کر رہی ہیں دیکھیں میں بلجل بلکل ٹھیک ہوں آپ کے سامنے ہوں …..
تم کہاں گئی تھی وہ بھی اکیلی….؟
زریاب نے قدرے غصے سے پوچھا
بابا وہ ایک ضروری کام تھا خیر چھوڑے نااااا
زرناب نے لاڈ سے زریاب کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
سردار صاحب کوئی “شوکت سیال” نامی شخص آپ سے ملنے آیا ہے. کہتا ہے سردار دلاور علی خان نے بھیجا ہے.
اس سے پہلے کہ زریاب کچھ کہتا نوکر نے آ کر اطلاع دی.
اچھا بیٹھاؤ میں آتا ہوں ، کب سے ان کا فون آ رہا تھا تمہارے بارے میں ہی بات کر رہے تھے زریاب کہتا ہوا ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گیا جبکہ زرناب کچھ سوچنے لگی.
ہمارے آباؤاجداد کے آپس میں بہت اچھے تعلقات رہے ہیں اور ہمارے بھی….
سلام دعا کے بعد شوکت سیال نے اپنی لاٹھی کو ہاتھ سے گھماتے ہوئے کہا
آپ بھی اگر ہمارے ساتھ چلیں گے تو ہم یاروں کے یار ہیں ہم الیکشن میں آپ کی ہر طرح سے مدد کریں گے .
ہم خود چاہتے ہیں کہ آپ جیسے بندے اس قوم کی خدمت کریں. میں نے صرف آپ کی خاطر اپنے پوتے مہر علی سیال کو آپ کے مقابلے میں الیکشن لڑنے سے منع کر دیا ہے.
اب ہم نے آپ کے لیے اتنا کچھ کیا ہے تو آپ کا بھو فرض بنتا ہے کہ کچھ آپ بھی ہمارے لیے کریں.
زریاب جو کب سے یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ زرناب کی خیریت پر اُسے مبارک باد دینے آئے ہیں اُن کی بات سن کر حیران ہو گیا.
آپ بات کھل کر کریں یقین جانیے مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آ رہی….
ویسے تو آپ کافی سمجھدار ہیں مگر مجھے حیرت ہے سردار صاحب کے آپ ہماری بات کا مطلب سمجھے نہیں یا سمجھنا چاہ نہیں رہے…؟
قصہ مختصر آپ اپنی بیٹی کو سمجھائیں کہ وہ ہمارے خلاف کیس نہ لڑے حالانکہ ہمارا وکیل بہت اچھا ہے کیا نام ہے اُس کا( شوکت علی نے مہر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا) ہاں یاد آیا ” حمین ملک ” ……
زریاب کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی زرناب کا اُن پر کیس کرنا ، حمین کا اُن کا دفاع کرنا. اگر زرناب حق پر ہے تو حمین ان کا ساتھ کیوں دے رہا ہے اور اگر زرناب غلط ہے نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے…..؟
آپ پلیز صاف الفاظ استعمال کریں بات کو گھمائیں نہیں.
اگر تم یہ بات ہماری بجائے اپنی بیٹی سے کہو تو زیادہ بہتر ہو گا اور ہاں ہم نے تمہارے تایا ” حشمت علی خان ” سے بھی بات کی ہے کہو تو تمہاری بھی کرا دیں.
شوکت علی سیال کے چہرےپر معنی خیز مسکراہٹ تھی جس کا مطلب زریاب بخوبی سمجھ سکتا تھا.
اس کی ضرورت نہیں میں زرناب سے بات کرتا ہوں مگر میں اپنی بیٹی کو اچھے سے جانتا ہوں وہ کبھی غلط کام نہیں کرتی….؟
زریاب نے ان سےہاتھ ملاتے ہوئے خوش اخلاقی سے جواب دیا.
بہتر ہے معاملات اچھے طریقے سے حل ہو جائیں ورنہ تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ بیٹی کی عزت کتنی نازک ہوتی ہے…..
سیال صاحب کے آخری الفاظوں نے زریاب کا دماغ گھمادیا.
وہ میری بیٹی نہیں میرا بیٹا ہے میرافخر……
دوسرا عزت سب کی ہی نازک ہوتی ہے اگر بڑھاپے میں خراب ہو جائے تب بھی مسئلہ ہی ہوتا ہے.
پھر اپنے نوکر کو مخاطب کیا
کرم داد مہمانوں کو عزت سے رخصت کر دو اور خود اندر کی طرف بڑھ گیا.
🌸🌸🌸🌸
ارے واہ آج تو صبح ہی بہت پیاری ہوئی ہے میرا شہزادہ آ گیا ہے.
عترت فجر کی نماز پڑھ رہی تھی جب حذیفہ نے کمرے میں قدم رکھا.
جی بلکل آپ کا شہزادہ حاضر ہے مجھے لگا آپ مجھے یاد کر رہیں ہیں تو…..
حذیفہ عترت کی گود میں سر رکھ کر کارپٹ پر لیٹ گیا.
تم مجھے بھولتے ہی کب ہو ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے رہتے ہو.
عترت نے حذیفہ کے بالوں میں لاڈ سے ہاتھ پھیرا.
یہ تو غلط بات ہے ماما جانی ، آنکھوں کے سامنے ہر وقت میں اور بابا ہوتے ہیں .
حبا نے حذیفہ کی آواز سنتے ہی کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا
جلنے کی بُو آ رہی ہے.حذیفہ نے اپنی ناک سکیڑتے ہوئے کمرے میں ادھر اُدھر نظر گھمائی. جبکہ حبا اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی.
مت لڑا کر ہر وقت…..
عترت نے مصنوعی غصے سے دونوں کو دیکھا.
بھائی بتائیں نا کیسے آنا ہوا ، کس کی یاد ستا رہی تھی….؟
حبا نے شرارت کی مگر حذیفہ کا ذہن معصومہ کی طرف چلا گیا.
“تو میرا کچھ نہیں لگتا مگر اے جانِ حیات
جانے کیوں تیرے لیے دل کو ڈهڑکتا دیکھوں”
زیادہ ڈرامہ نہیں ، وہ میں نے ایوی ایشن کے لیے اپلائی کیا تھا ماما کی دعا سے سلیکٹ ہو گیا ہوں اگلے ہفتہ گجرانوالہ کورس کے لیے جا رہا ہوں. اس لیے ملنے آیا تھا تاکہ ماما کی ڈھیروں دعائیں لے سکوں.
اپنی بات کے آخر میں حذیفہ نے محبت سے عترت کی طرف دیکھا
ماشا ٔاللہ میرا بیٹا اب جہاز اڑائے گا.
عترت نے حذیفہ کا ماتھا چوما.
جہاز نہیں ہیلی کاپٹر ماں جی حذیفہ نے عترت کی معلومات میں اضافہ کیا.
اوہ اچھے خاصے فوجی تھے اب آپ رکشے چلائیں گے…؟
حبا نے افسوس سے اپنی گردن گھمائیں.
بہری لڑکی! میں نے ہیلی کاپٹر بولا ہے رکشہ نہیں…
ایک ہی بات ہے دونوں ہی بہت شور کرتے ہیں ، رکشہ ڈرائیور
حبا نے حذیفہ کی بات کا جواب دیا اور ہنسنے لگی.
🌸🌸🌸🌸
