No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
زرناب اپنے آفس میں بیٹھی ابرش کے کیس کی تیاری کر رہی تھی جب حمین نے زور سے کچھ پیپرز اس کی میز پر پٹخے.
یہ کیا بتمیزی ہے…؟
میں بھی یہی پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ کیا بتمیزی ہے ، میں نے وارن بھی کیا تھا مگر تمہیں اثر کیوں نہیں ہوا. فوراً اس کیس کی پیروی چھوڑ دو…….
زرناب نے حیرت سے پہلے حمین کو دیکھا پھر پیپرز کو ایک سیکنڈ میں اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ پیپرززز اصل میں اس نوٹس کے ہیں جو ابرش کی طرف سے شوکت سیال کو بھیجے گئے تھے.
سوری ، میں یہ کیس لے چکی ہوں اور مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ تمہیں کیوں اتنی تکلیف ہو رہی ہے…؟
آپ کی معلومات میں اضافے کے لیے عرض ہے کہ میں سیال فیملی کا وکیل ہوں.
حمین کے جواب نے سچ مچ زرناب کے طوطے اڑا دیے.
تم سیال فیملی کہ کب سے وکیل ہوگئے…؟
جب سے اُنھوں نے میری فیس ادا کی ہے…..
حمین نے اپنے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے کہا
تمہیں معلوم ہے وہ ایک مجرم ہے ، گنہگار تم اسے کیسے defend کر سکتے ہو ، ناممکن…..!!!
زرناب نے دکھ اور غصے کے ملے جلے تاثرات میں کہا
مجھے اس سے کیا لگے کہ کون “مجرم” ہے اور کون “مظلوم” ، میں صرف اپنا کلائینٹ کو defend کرتا ہوں اور بس….
ویسے تم نے کب سے جج کے فرائض سرانجام دینا شروع کر دیے. ..؟
تمہیں کیسے پتہ کہ وہ مجرم ہیں ہو سکتا ہے تمہاری کلائینٹ مجرم ہو…؟
نا ممکن !!! عورت ہے ہی مظلوم اور ایسی عورتیں ہمارے انصاف کے ساتھ ساتھ ہمدردی کے بھی قابل ہیں. پلیززز تم اس کیس کی پیروی سے ہٹ جاؤ….
ابھی سے ڈر گئی ” بیرسٹر زرناب علی خان”
حمین کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی.
مانا کہ تم بہت قابل وکیل ہو مگر یہ ضروری تو نہیں کہ میں تم سے ہار جاؤں……
اب کی بار زرناب نے اپنے اعتماد کو بحال کرتے ہوئے جواب دیا.
اکڑ نہیں جاتی تمہاری ، بی بی یہ جو تم مجھ سے جیتنے کہ خواب دیکھ رہی ہو نا یہ بلجل ایسا ہی ہے جیسے “بلی کے خواب میں چھچھڑے” .
وہ کیا ہے نااا آپ کی باتیں سن کر مجھے بھی “کچھوے اور خرگوش “کی کہانی یاد آ گئی ہے.
ارے واہ تم نے بھی یہ کہانی پڑھی تھی. مگر اب کی بار خرگوش کے سونے کی امید مت رکھنا.
میری مانو تو اس کیس سے ہٹ جاؤ کیونکہ مجھ سے جیتنا تمہارے بس کی بات نہین یہ نہ ہو کہ تمہاری کلائینٹ کے ساتھ ساتھ میں تمہارا وکالت کا لائیسنس بھی کنسل کروا دوں.
مجھے تو جانتی ہی ہیں آپ ، جب میں کسی سے دشمنی پر اتر آؤں تو اسے گھر چھوڑ کر ہی آتا ہوں.
حمین کی باتوں سے زرناب کا حلق کڑوا ہو گیا تھوڑی دیر آفس میں خاموشی چھا گئی.
حمین دروازے میں ٹیک لگائے سینے پر ہاتھ باندھے مزے سے زرناب کی کنفیوژ ہوتی حالت سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ زرناب کرسی سے اٹھی اپنی تمام چیزیں سمیٹتی حمین کے مقابل آ کھڑی ہوئی.
باہر کے ملکوں خاص طور پر مغربی ممالک میں “الو ” کو ذہین ترین اور خوش قسمت سمجھا جاتا ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے پاکستان میں اسے “منحوس” سمجھا جاتا ہے. اگر وہ کسی گھر کی دیوار یا تار پر بیٹھ جائے تو لوگ اس کی نحوست سے بچنے کے لیے اسے فوراً اڑا دیتے ہیں.
میرے پیارے گول مٹول الو کی آنکھوں والے لندن کے پڑھے لکھے وکیل صاحب!!!
ایسا نہ ہو کہ پاکستانی عدالت میں ، میں آپ کا وہ حشر کروں جو ہمارے ہاں “الو” سے کیا جاتا ہے.
Get a side plzzzzzz….
زرناب کہتی ہوئی حمین کے پاس سے گزر گئی. جتنی دیر میں حمین کو بات سمجھ آئی کوریڈور میں زرناب کی ہیل کی آواز مدہم ہو چکی تھی.
زرناب کی بچی ، چیلنج اور مجھے……
حمین نے زور سے مکا دیوار پر مارا.
🌸🌸🌸🌸
آج کل تمہارے موبائل پر “پراسرار میسجز” نہیں آ رہے…؟
حنین نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے حمین سے پوچھا. جس پر پہلے حمین چونک پڑا پھر مسکرانے لگا.
نہیں اب نہیں آتے میں نے اُن کا مکمل علاج کر دیا ہے.
چلو اچھا ہے ورنہ مجھے کچھ کرنا پڑتا….؟
تم نے خاک کچھ کرنا ہے بس باتیں ہی بناتے ہو …؟
نرمین نے حنین کی بات کا جواب دیتے ہوئے ٹیبل سے ریموٹ پکڑکر ٹی وی لگایا.
اب اگر تم یہ چاہتی ہو کہ میں کپڑے دھوؤں ، جھاڑو دوں ، کھانا پکاؤں تو سوری میں آپ کا شوہر ہوں “بہو” نہیں…؟
مام آپ اپنی بہو سے یہ سب کام کروائیں گی؟؟؟ حالانکہ دادو نے تو آپ سے یہ کام نہیں کروائے تھے……
حمین نے شرارت سے حنین کی طرف دیکھا.
تم دونوں باپ بیٹا اگر طنززز سے پاک بات کر لو گے تو قیامت نہیں آئے گی…؟
نرمین غصے سے اٹھ کر جانے لگی جب حنین نے اس کا بازو پکڑ کر اسے بیٹھایا.
آپ حکم کریں کیا کام کروں….
یہ جو تمہارا “آوارہ ” لڑکا ہے اب اس کی شادی کر دو شاید یہ ٹھیک ہو جائے جس کی مجھے زرا امید نہیں…..
لفظ “آوارہ” پر حمین منہ کھول کر پہلے نرمین اور پھر حنین کو دیکھنے لگا.
مام آپ قسم سے زیادتی کر رہی ہیں . زرا آپ اخبارات ، رسائل ، اور ٹی وی چینلززز دیکھیں کس طرح سب میری تعریفیں کر رہے ہوتے ہیں اور آپ کہہ رہی ہیں “آوارہ” …..
حمین کو یہ لفظ “آوارہ” ہضم نہیں ہو رہا تھا.
تمہیں کوئی پسند ہے تو بتا دو ورنہ ہم زرناب کے لیے تمہاری بات کریں…؟
زرناب……
حمین ایسے چیخا جیسے اسے سانپ نے کاٹ لیا ہو.
میں اس سے کبھی شادی نہیں کروں گا جومرضی ہو جائے. آپ کو اپنی جیسی ملتی ہے تو آج کر دیں بلکہ ابھی کر دیں.
زرناب میں کیا خرابی ہے..؟
حنین نے پوچھا
کوئی ایک ہو تب نااااا خرابیاں ہی خرابیاں ہیں دماغ اتنا موٹا ہے کہ کوئی بات سمجھ نہیں آتی .
بقول ڈاکٹر یونس بٹ کے
“ذہانت عورت کی وہ خوبی ہے جس کا نا ہونا بھی خوبی سے کم نہیں”۔
آپ کو پتہ ہے محترمہ میرے مقابل میں کیس لڑ رہی ہیں.۔!!
حمین نے اپنے طور پر حنین کو اطلاع دی.
مجھے معلوم ہے اور صاحبزادے مجھے لگتا ہے کہ وہ یہ کیس جیت جائے گی.
سیریسلی….!!!
حمین نے حنین کی رائے پر اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر پوچھا.
بس میرا اندازہ ہے…
حنین نے کندھے اچکائے.
پھر بلکل غلط اندازہ ہے میرے حساب سے تو ہار جائے گی وہ بھی بری طرح….
ابھی دونوں یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ اچانک ٹی وی پر “بریکنگ نیوز” چلنے لگی.
“اسلام آباد کچہری میں بم دھماکہ”
اور اس کے ساتھ ساتھ کچہری کی صورتِ حال دیکھا رہے تھے.
حمین اور حنین کے منہ سے ایک ساتھ نکلا “زرناب” .
اللہ خیر کرے ایک ہی اولاد ہے زریاب کی…..
نرمین نے اپنے ہاتھ منہ پر رکھتے ہوئے کہا
🌸🌸🌸🌸
