Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30


میری ساری زندگی محرومیوں میں گزری ہے نعمتوں کی کمی رہی ہے میں نے جو بھی چاہا مجھے کبھی نہیں ملا. آخر کیوں……؟
یہ وہ سوال تھا جب بھی ماہ نور اس کی تکرار کرتی پھر نہ ختم ہونے والی بارش اس کی آنکھوں سے روا ہو جاتی. وہ بہت تلخ ہو جاتی سب سے ، زریاب تو خاص طور پر اس کے نشانے پر ہوتا.
مہینے میں ایک بار تو ضرور اسے دورہ پڑتا تھا اور جب بھی وہ چانک چپ ہو جاتی تو اس کا مطلب ایک ہی ہوتا کہ….
اس کی زندگی میں تمام تر ناکامیوں اور محرومیوں کا ذمہ دار صرف ایک شخص ہے اور وہ کوئی اور نہیں اس کا اپنا شوہر “سردار زریاب علی خان ” ہے.
اللہ جی میرے ساتھ ہی ایسا کیوں…؟
مجھے باپ کا ویسا پیار نہیں ملا جیسابیٹیوں کو ملتا ہے ، جیسا زریاب اپنی بیٹی سے کرتا ہے.
مجھے عترت جیسا پیار کرنے والا بھائی کیوں نہیں ملا….
مجھے میری محبت نہیں ملی….
مگر آپ نے زریاب کو اس کی محبت دے دی وہ مجھے سے زیادہ پیارا ہے آپ کا ، اسے تو سب ہی پیار کرتے ہین مگر مجھے…
اور سب سے بڑھ کر آپ نے سب کو بیٹے دیے مگر مجھے نہیں….
کیوں ، آخر کیوں…..!!
اتنی محرومیاں ، میں جب بھی کسی چیز کو خواہش کرتی ہوں وہ مجھ سے دور چلی جاتی ہے.
برستی بارش سے تیز ماہ نور کی آنکھیں برس رہی تھیں.
وہ خدا سے شکوہ کرنے میں بہت آگے نکل گئی اور اس کی نعمتوں اور رحمتوں کو یکسر نظر انداز کر بیٹھی.
حالانکہ اس پر سب سے بڑی نعمت “زریاب” کی شکل میں موجود تھی جو تمام محرومیوں پر اکیلی ہی بھاری تھی.
ماہ نور اندر چلو دیکھو ساری گیلی ہو گئی ہو ، یہ جو آخری سردیوں کے دن ہوتے ہیں نااا صحت کے لیے بہت ہی خطر ناک ہوتے ہیں . چلو شاباش
زریاب جو کافی دیر سے اس کے پیچھے کھڑا اس کے شکوے سن رہا تھا اس کی بگڑتی حالت دیکھ کر بول پڑا.
زریاب تم جاؤ میں آتی ہوں ، مجھے ابھی ڈسٹرب نہ کرو پلیززز میرا موڈ اچھا نہیں ہے یہ نہ ہو کہ میں تم سے بتمیزی کر بیٹھو….
کونسا پہلی دفعہ کرو گی مجھے عادت ہو گئی ہے.
زریاب نے اس کے سامنے آتے ہوئے کہا
زریاب پلیززززز!!!
پتہ نہیں ماہ نور کیا جادو کیا ہے تم نے مجھ پر ، میں چاہ کر بھی تمہارے طلسم سے نہیں نکل سکتا ، میرے نزدیک آج بھی تم دنیا کی حسین ترین پیاری سی لڑکی ہو. مجھے تم سے اچھا کوئی نہیں لگتا تم ڈانٹو یا پیار کرو ، (پیار تو خیر کبھی کیا نہیں) پر مجھے برا نہیں لگتا. اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے غصہ نہیں آتا پر تم پر نہیں آتا. مجھے اچھا لگتا ہے تمہارے لاڈ اٹھانا. ورنہ کس کی مجال ہے کوئی میرے آگے بول جائے ٹانگیں نہ توڑ دوں….
زریاب نے ماہ نور کو نارمل کرنے کے لیے مسکراتے ہوئے کہا
اچھا ، حنین کی تو توڑی نہیں ابھی تک……
وہ بھی لاڈلا ہے میرا ، اس کے لاڈ اٹھانا بھی قچھا لگتا ہے بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہو گا کہ وہ لاد اٹھوانا جانتا ہے ، ملک انکل کی موت کے بعد وہ کافی بجھ گیا تھا تب میں نے اور دبیر نے فیصلہ کیا کہ اسے کچھ نہیں کہنا اس کے غلط خود ٹھیک کر لیا کریں گے پر اسے کچھ نہیں کہیں گے ملک انکل کی طرح …
اس وجہ سے وہ مزید لاڈلا بن گیا ہےرہتی کسر نرمین نے اس کے لاڈ اتھا کر نکال دی ، ہماری تو ایسی قسمت نہیں….
آخر میں زریاب نے پھیکی مسکراہٹ سے بارش کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
اسی لیے کہتی ہوں کسی ایسی لڑکی سے شادیکر لو جو تمہارے نخرے اٹھائے….
تمہیں کیا مسئلہ ہے تم کیوں نہیں اٹھاتی…؟
زریاب نے بارش میں ہاتھ پھیلاتے ہوئے پوچھا
ماہ نورپلیززز اتنا اچھا موسم ہے فلحال میں فارغ بھی ہوں اگلے مہینے سے بہت مصروف ہو جاؤں گاالیکشن کمپین چلانی ہے. اس لیے اگر کچھ وقت ہمیں مل گیا ہے تو فضول بحث میں کیوں گزاریں.
تم میرا دل توڑ دیتی ہو بہت تکلیف ہوتی ہے مجھے ، اتنی اللہ والی ہو ایک بات تو بتاؤ…؟
ہممممم پوچھو ، ویسے میں اللہ والی نہیں….
میرے لیے ہوکیونکہ میں نے تمہیں اپنے سے بہتر پایا ہے.
جب دل ٹوٹ جائے توکیاکرنا چاہیے…؟
“جب دِل ٹوٹ جائے تو اُٹھا کر اُسی مُصوّر کے پاس لے جاؤ جس نے اسے بنایا ہے کیونکہ اُس سے بہتر تو کوئی جان ہی نہیں سکتا کہ کون سا رنگ کہاں بھرنا ہے اور کِس دھاگے سے کہاں پِیوندّ لگانا ہے زندگی آسان نہیں ھوتی اسے آسان بنانا پڑتا ھے کچھ صبر کر کے کچھ برداشت کر کے اور بہت کچھ نظر انداز کر کے …..”
مجھے معلوم تھا تم یقیناً ایسا ہی کچھ کہو گی ، اس پر خود بھی عمل کرو یقین مانو ہم بہت خوش رہیں گے.
زریاب کہتا ہوا روم کی طرف بڑھ گیا اور ماہ نور کو اسی کے لفظوں سے اس کے تمام شکوں کے جواب مل گئے.
🌸🌸🌸🌸
حذیفہ یخ بستہ سردی میں جمی ہوئی برف کو دیکھ رہا تھا.
معصومہ کی بچی !!! نہیں چھوڑوں گا . تجھے معلوم ہے کس کو ڈسٹرب کیا ہے ؟ اب جو میں ڈسٹرب کروں گا ناااا تیری سات پشتیں بھی یاد رکھیں گی . شکر کر میں یہاں ہوں ورنہ …….
سر کیا سوچ رہے ہین…؟
جب بٹ مین نےچائے کا کپ پیش کرتے ہوئے پوچھا
سزا دینے کا سوچ رہا ہوں کسی کو……
پھر ایسا کریں اسے اپنے پاس رکھ لیں آپ ساتھ رہنا بھی کسی سزا سے کم نہیں…..
بٹ مین کہتا ہوا چل دیا جبکہ حذیفہ کے چہرے پر کوسِ قزع کے رنگ بکھر گئے.
یہ جو عشق ہوتا ہے ناا یہ چھپتا نہیں ہے خاص طور پر پہلی دفعہ کااااا….؟
اسد بھی اپنا کپ لے کر حذیفہ کے پاس بیٹھ گیا.
تُو بہت بکواس کرنے لگا ہے….
ظاہری سی بات ہے جب تُو نہیں کرے گا تُو میں کروں گا ایک نے تو کرنی ہوتی ہے….؟
کیا…؟
بکواس …..
اور دونوں ہنسنے لگے.
اتنے میں حذیفہ کا موبائل بول پڑا. چل تو بات کر میں آتا ہوں.
جی جناب حکم!!!
ویسے تیرے اندر اچھے دوست والی ایک بھی خوبی نہیں پائی جاتی مگر بہترین خاوند کی تمام خوبیاں بمع بونس موجود ہیں.
حمین کی آواز نے حذیفہ کو خوش کر دیا.
تجھے ہی یاد کر رہا تھا.
کھا قسم کہ مجھے ہی یادکر رہا تھا..؟
حمین کے سوال پر حذیفہ نے قہقہ لگایا.
بچو !!! چلاکیاں ہو بھی وکیل ساتھ ، تو اور مجھے یادکر رہا تھا ….
اچھا اب بس بھی کر…..
یہی میں کہنے والا تھا کہ اب تو بھی بس کر ، میں نے تمام ڈیٹا حاصل کر لیا ہے تیرا کام مکمل ، مگر میری دعا ہے کہ تیرا پیار جھوٹا نکلے…
کیوں…؟

پیار جھوٹا نکلے تو صرف خود کو سنبھالنا پڑتا ہے اور اگر سچا نکلے تو بچوں کو ..”
میری مان خود کو ہی سنبھال لے…..
مشورہ ہے یا…….
حذیفہ نےبات ادھوری چھوڑی.
خواہش!! یار میری دلی خواہش ہے کہ تو شہید ہو مگر وطن پر ، بےموت مرنے کا کیا فائدہ..؟
وہ تو وکیل صاحب جب فرشتہ آئے گا تو لے کر ہی جائے گا.
حذیفہ نے سرد آہ بھرتے ہوئے جذبات سے کہا
“تم جو کہتے ہو تو مان لیتے ہیں
کہ “صرف فرشتے”ہی جان لیتے ہیں.”
تیرے سے دلائل میں کوئی جیتا ہے جو میں آج جیت جاؤں گا.
مطلب تو خود کو سنبھال لے گا ، ورنہ دوسری صورت میں بچوں کے ڈائپر ، ہر اتوار Holy place پر حاضری….
رک رک باقی تو ٹھیک ہے مگر یہ Holy Placeکیا ہے…؟
حذیفہ نے حیرت سے پوچھا.
یہ جو سسرال ہوتا ہے نااا مطلب بچوں کا ننھال وہ آپ کا Holy place ہوتا ہے جہاں ہر اتوار حاضری ضروری ، بصورتِ دیگر بیگم کا موڈ آف اور آپ جیسے یہ afford نہیں کر سکتے..
حمین نے قہقہ لگایا.
تیرا Holy place کہاں ہے..؟
میرا کیا ہے جہاں بھی چلا جاؤں وہی میرا Holy Place.
جناب “چار” کی اجازت ہے “چار سو” کی نہیں…
اب کی بار دونوں نے قہقہے لگائے.
چل پھر سن اگر تو کنواں میں چھلانگ لگانا ہی چاہتا ہے تو میں تجھے دھکا ہی دے سکتا ہوں.
مہربانی ہے جناب کی…
حذیفہ نے جواب دیا اور غور سے حمین کی باتیں سننے لگا.
🌸🌸🌸🌸
موسیٰ خبر کوئی اچھی نہیں ہے مگر….
مگرکیا بولو ناااا….
موسیٰ نے لوپ ٹاپ پر تیزی سے انگلیاں چلاتے ہوئے زرناب سے پوچھا
وہ پریگننٹ ہے.
کیا…؟
موسی کرنٹ کھا کر اپنی کرسی سے کھڑا ہو گیا.
ناممکن…..
یہ کیسے ہو سکتا ہے ، وہ بہت چھوٹی ہے.
مرد “شادی “کرنے کےلیے لڑکی کی عمر دیکھتا ہے” زنا” کے لیے نہیں…
زرناب مگر…..
مجھے پہلے ہی ابرش کی باتوں سے شک ہو گیا تھااسی لیے میں نے میڈیکل کا کرایا تھا.
توپھر اب….؟
وہی جو ہم نے سوچا تھا سب سے پہلے ابرش کو نارمل کرنا ہے اس کے لیے مجھے رامین کی مدد لینا ہو گی کیونکہ وہ اسے نفسیاتی دباؤ سے نکالے گی ابھی میں نے اسے نہیں بتایا.
ہممممم….
اور پھر ہم کیس کریں گے….؟
باقی خدا کی مرضی ، میرا بھی حساب نکلتا ہے کچھ لوگوں کی طرف ….
زرناب نے سوچتے ہوئے جواب دیا.
دیکھ لو جو بھی تم کرو گی میں تمہارا ساتھ دوں گا مگر احتیاط سے….
موسیٰ کو زرناب کی فکر ہوئی.
ویسے اگر تم یہ کیس حمین کے حوالے کرو تو…
زرناب کی بات ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ موسیٰ بول پڑا.
کیسی باتیں کرتی ہو بھائی میرے بارے میں کیا سوچیں گے نہیں میں ایسا نہیں کر سکتا .
اچھا پریشان مت ہو میں دیکھ لوں گی.
موسی کو پریشان ہوتا دیکھ کر زرناب نے تسلی دی.
🌸🌸🌸🌸