Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 48


تمہیں تمہارے بابا پیار سے زریں کہتے تھے ناااا۔۔۔۔۔زرناب نے ابرش سے پوچھا
جی وہ مجھے پیار سے زریں ہی کہا کرتے تھے ۔
تمہیں کبھی محبت نہیں ہوئی یا تم سے کبھی کسی نے محبت نہیں کی سچی اتنی پیاری ہو تم رامین نے چسکا لیتے ہوئے پوچھا
نہیں محبت تو نہیں ہوئی مجھے لیکن ایک انسان بہت اچھا لگتا تھا میں نے کبھی اسے دیکھا نہیں بس فون پے آواز ہی سنی ہے ۔
جیسے ہی ابرش نے یہ کہا رامین کا پورا منہ کھل گیا بغیر دیکھے کوئی انسان کیسے اچھا لگتا ہے؟
اپنی باتوں سے اور کیسے ؟
بہت ہی پیاری باتیں کرتے تھے مجھے تو یقین نہیں آتا کہ کوئی انسان خاص طور پر مرد اتنا اچھا بھی ہو سکتا ہے ۔
کیوں نہیں ہوسکتا بالکل ہوسکتا ہے اچھے اور برے لوگ دنیا کے ہر حصے میں پائے جاتے ہیں چاہے وہ پاکستان ہو یا لندن۔۔۔۔۔
زرناب نے ابرش کی بات کو آگے بڑھایا
آج رامین ابریش کے پاس زرناب کے کہنے پر اسے تھوڑا سا ریلیکس کرنے آئی تھی۔
اچھا تمہارا دل نہیں کرتا اس شخص کو ملنے کا، تم نے کبھی اس کا نام نہیں پوچھا اس کے گھر کا ایڈریس وغیرہ وغیرہ رامین کو تجسس ہوا
اس نے مجھے اپنا نام بھی بتایا تھا اور گھر کا ایڈریس بھی لیکن میرا دل نہیں کرتا اسے ملنے کو ،میں نے اپنے دل میں اس کا بہت اچھا سا امیج بنایا ہے جس میں کوئی خامی نہیں ہے مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں اس سے ملنے کے بعد وہ امیج خراب نہ ہو جائے وہ بھی مہر کی طرح نہ نکل آئے؟
زری کی اداسی کو نوٹ کرتے ہوئے زرناب نے اسے تسلی دی چلو ہمیں اس کا نام بتاؤ ایڈریس دو تاکہ ہم اسے تمہارے لئے تلاش کر سکیں.
کیوں رامین یہ نیا ٹاسک مزے کا رہے گا ہم زریں کے ہیرو کو تلاش کریں گے .
زرناب نے پرجوش انداز میں کہا
نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے مجھے نہیں ملنا اس سے ویسے بھی اگر اس نے مجھ سے ملنے سے انکار کر دیا یا مجھے دیکھ کر نفرت کا اظہار کیا تو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنی پیاری ہو اتنی خوبصورت ہو تم گولڈن بال، وائٹ چہرہ، بڑی بڑی آنکھیں تم پہ تو بندہ اچھی خاصی شاعری کرسکتا ہے میں لڑکی ہوں پھر بھی یقین مانو میرا تم پر دل آ گیا ہے تُو لڑکے کی کیا مجال ہے جو انکار کرے.
رامین کے تبصرہ پر کمرے میں قہقوں کی آواز گونجی
اب تو تمہارے کیس کا بھی فیصلہ ہوگیا ہے اور میرے خیال سے جو بھی ہوا ہے بہت اچھا ہوا ہے اب بتاؤ تم پاکستان میں رہوں گی یا لندن واپس جاؤں گی ؟
نہیں میں اپنے ملک واپس جاؤں گی میں یہاں کس پاس رہوں گی اور کیسے رہوں گی؟
وہاں پھر بھی میرا اپنا گھر ہے کچھ فرینڈ ہیں وہاں چلی جاؤں گی۔
تم کتنی اچھی ہو تمہارے ساتھ ہمارا دل لگ گیا ہے میرا دل کرتا ہے تم یہیں ہمارے پاس رہو میرا اگر تیسرا کوئی بھائی ہوتا تو میں تمہیں اپنی بھابی بنا کے اپنے پاس ہی رکھ لیتی رامین نے محبت سے زریں کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا
ہاں یہ تو ہے زری کہ ہمارا تمہارے ساتھ دل لگ گیا ہے اب تم چلی جاؤ گی تو ہم سب اداس ہو جائیں گے بہت یاد آئے گی تمہاری سچ میں زرناب نے بھی محبت بھرے لہجے میں اپنی محبت کا اظہار کیا ۔
میں بھی تم سب لوگوں کی محبت کو ہمیشہ یاد رکھو گی تم لوگوں نے میرا بہت خیال رکھا اور ساتھ بھی دیا ہے سچ میں تم سب بہت اچھے ہو۔
زرتاشیہ نے آنکھوں میں پانی بھرتے ہوئے جواب دیا
زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں نے تمہیں کہا تھا نا کہ اب رونا نہیں ہے ہم رابطے میں رہیں گے .چلو رامین چائے بنا کر لاتے ہیں۔
زرناب نے رامین کو اپنے ساتھ کچن میں چلنے کا کہا جبکہ زرتاشیہ کسی گہری سوچ میں گم ہوگئی کہ وہ واپس جاکر کیا کریں گی۔۔۔۔
“ہر کوئی اپنے گھر پلٹ گیا ہے
مسئلہ خیر سے نمٹ گیا ہے
ہاتھ آنکھوں پہ رکھ کے چلتا ہوں
راستہ اب تو اتنا رٹ گیا ہے
وہ بھی خاموش ہو گیا میں بھی
یوں لگا جیسے فون کٹ گیا ہے
اک قدم میں نے آگے کیا رکھا
دو قدم کوئی پیچھے ہٹ گیا ہے
کان مانوس ہوتے جائیں گے
اور لگے گا کہ شور گھٹ گیا ہے”
🌸🌸🌸🌸
ماما میں نے حمین کی باتوں کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں زرتاشے سے شادی کروں گا ہمارے معاشرے میں ہمیشہ عورت کے ساتھ ہی زیادتی ہوتی آئی ہے چاہے اس کی غلطی ہو یا نہ ہو مگر میں یہ رسم اور روایت دونوں بدل دوں گا.
ہمارے نبی پاک جس کے ہم امتی ہیں انہوں نے بیوہ اورطلاق یافتہ عورتوں سے شادیاں کیں تو پھر ہم کیوں نہیں کر سکتے؟
یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک تو لڑکی ساتھ زیادتی ہو اور دوسرا ہم اسے معاشرے میں بد نام بھی کریں.
میں اس نظام کے خلاف بغاوت کرتا ہوں میں زرتاشے سے شادی کروں گا اسے اپنا نام بھی دونگا اور مقام بھی…..
تمہاری باتیں اپنی جگہ ٹھیک ہے مگر لوگ کیا کہیں گے؟
عترت نے جھجکتے ہوئے کہا
ماما آپ لوگوں کو چھوڑیں آپ اپنے بیٹے کی خوشی کا خیال رکھیں پلیز حذیفہ نے لاڈ سے عترت کے قدموں میں بیٹھتے ہوئے کہا
اچھا میں کونین سے بات کرو گی تمہاری دادی سے بھی پوچھتی ہیں پھر فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے؟
تم پریشان نہ ہو میں اپنے بیٹے کی خوشی کیلئے جو کچھ ہو سکے گا کروگی….
عترت نے حذیفہ کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے تسلی دی.
🌸🌸🌸🌸
“شکایت کی پائی پائی جوڑ کر رکھی تھی ہم نے
اس نے چائے پلا کر سارا حساب بگاڑ دیا__”
ویسے تو میں تم سے بہت ناراض تھا مگر اب اس چائے کے بعد معاملہ بدل گیا ہے کہو کیا کرنا ہے تمہارا……..؟؟؟
حنین نے چائے کی پیالی میز پر رکھتے ہوئے عترت سے پوچھا
آپ مجھ سے کیوں ناراض تھے..؟
چلو جی یہ بھی میں ہی بتا دیتا ہوں. میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ کسی کو ابھی حبا اور حمین کے رشتے کے بارے میں مت بتانا مگر تم نے سب کو بتا دیا.
اوہ سوری مگر……
میں نے صرف حذیفہ کو بتایا تھا اور ( کچھ سوچنے کے بعد) دبیر بھائی سے بات کی تھی .
جی جی بلکل ….
اور خیر سے یہ دونوں ہی خاصے “میراثی” ہیں چاروں طرف ڈھول پیٹ دیا.
اب ایسا تو نہ کہیں……
عترت کو برا لگا.
چلو اب زیادہ معصوم شکل مت بناؤ بات بتاؤ یعنی کام بتاؤ؟
جس کے لیے مجھ ناچیز کو یاد کیا ہے.
حنین بھائی وہ اصل میں حذیفہ اُس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے مجھے کونین سے بات کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے آپ پلیززز کچھ کریں.
واہ جی واہ….
ایک تو تم نے ٹھیک ٹھاک “ڈراؤنا” میاں پایا ہے.
دوسرا “بےعزتی” کروانے کے لیے مجھ رکھا ہوا ہے.
تیسری سب سے ضروری بات کہ تم کیسی “بیگم”ہو جو میاں سے ڈرتی ہو.تم دشمن کے بچوں کو پڑھاتی ہو.
حنین نے بڑے مزے سے نقل اتاری جبکہ عترت نے منہ بنایا.
آپ سیریس ہو کر بات کریں نااااااا…..
عترت نے زور سے التجا کی.
خاموش بیٹھی ہوئی عورت اور سیریس مرد تمہیں دنیا میں کم اور ڈراموں ، فلموں میں زیادہ ملیں گے.
مطلب آپ میرا کام نہیں کریں گے…؟
عترت نے سوالیہ نظروں سے حنین کی طرف دیکھا
کر تو دوں گا مگر ایک شرط پر…؟
وہ کیا…؟
وہ یہ کہ سب بچوں کی انگیجمنٹ کا فنکشن میرے گھر ہو گا “ملک ولازز” میں ، بقول نرمین کے چڑیا گھر میں…..
چلیں منظور ہے.
پھر ٹھیک ہے تم سمجھو تمہارا کام ہو گیا. ویسے وہ تمہارا “شوہرِ دُم دار ” کہاں ہے…؟
حنین بھائی…!
عترت چلائی
سوری سوری “شوہرِ نامدار”
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں اِدھر اُدھر گھمائیں.
آفس میں….
عترت کے جواب پر حنین کے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ چھا گئی چلو پھر تمہاری ساس سے ملتے ہیں.
عترت کو کچھ سمجھ نہیں آئی مگر وہ حنین کے پیچھے چل پڑی.
🌸🌸🌸🌸