Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40


زرناب جیسے ہی اپنی گاڑی سے نکلی نہ چاہتے ہوئے بھی اُس نے ایک نظر پارکنگ میں کھڑی دوسری گاڑیوں پر دوڑائی.
ایک گاڑی پر نظر پڑتے ہی گہرا سانس لیا اور اندر کی طرف بڑھ گئی.
آج تو وکیل صاحبہ بہت جلدی میں ہیں…؟
یہ آواز وہ سوتے ہوئے بھی پہچان سکتی تھی.
کیا چیز ہو تم “مسٹر حمین ” ….؟
زرناب نے پلٹتے ہوئے پوچھا
میرا محبت نامہ تو یقیناً مل گیا ہو گا پھر بھی سوچا خود wish کر دوں.
وہ کیا ہے نااااا ، مجھے کافی برا لگے گا تمہارا ہارنا ، میں تو ہار نہیں سکتا کیونکہ میں صرف جیتنے کے لیے پیدا ہوا ہوں.
حمین نے زرناب کو غصہ دلایا
“تکبر چاہے دولت کا ہو ، طاقت کا ہو ، رتبے کا ہو ، حیثیت کا ہو ، حسن کا ہو ، علم کا ہو ، حسب و نسب کا ہو یا تقوی کاہی کیوں نہ ہو ، انسان کو رسوا کر کے ہی چھوڑتا ہے “
میری یہ بات یاد رکھنا اور رہی بات ہار جیت کی تو ابھی آج پہلی پیشی ہے آگے آگے دیکھو کیا ہوتا ہے یہ جو تمہارے چہرے پر مسکراہٹ نہ ناااااا نظر نہیں آئے گی…..
“وکیل صاحبہ جلنا چھوڑ دیں
یہ مسکراہٹ وراثت میں ملی ہے”
اور ایک بات میری بھی یاد رکھنا اچھا وکیل وہ ہے جو جھوٹ اتنی صفائی سے بولے کہ لوگ اُسے سچ سمجھنے لگیں.
اور ایک tip مفت میں لے لو وہ یہ کہ اچھا وکیل کبھی ہائپر نہیں ہوتا بلکہ کرتا ہے.
امید ہے یہ دونوں باتیں تمہاری کافی مدد کریں گی..?.
مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی جھوٹ بولنے کی میں ان پر بلکل عمل نہیں کروں گی مگر پھر بھی یہ کیس جیت کر دکھاؤں گی کیونکہ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے. بےشک شرط لگا لو…..
چلو شرط لگا لیتے ہیں مجھے ویسے بھی شرط لگانے بڑا مزا آتا ہے.
اگر تم جیتی تو میں تمہیں oddi v8 لے کر دوں گا وہ بلکل لیٹس ماڈل کی …
اور اگر میں جیتا جو کہ پکا ہے تو تم شادی کر لو گی….
مجھے منظور ہے اب چلیں…
زرناب نے کہتے ساتھ قدم آگے بڑھائے.
ویسے اگر تم میری بات اپنے پلو سے باندھ لو تو تمہارے کام آئے گی.
اوہ ہو تمہارا تو پلو ہے ہی نہیں ایسا کرو کوٹ کی جیب میں رکھ لو….
زرناب نہ کوئی جواب نہ دیا اور چپ چاپ چلتی رہی.
جواب تو دو منہ میں زبان نہیں ہے کیا…؟
حمین نے چڑایا.
“زبان سب کے پاس ہوتی ہے مگر بات اور بکواس میں فرق ہوتا ہے”
اچھا جی تو یہ بات ہے دیکھتے ہیں کوٹ میں کیا ہوتا ہے….؟
🌸🌸🌸🌸
ارے یہ کیا کر رہے ہو ، تم نے تو کہا تھا کہ پورے ہفتے کے لیے آیا ہوں…..؟
عترت نے حذیفہ کو پیکنگ کرتے ہوئے دیکھ کر کہا
ماما جانی! کپٹن اسد کا فون آیا تھا دو دن کے اندر اندر گجرانوالہ پہنچنا ہے.
یہ تو کوئی بات نہ ہوئی ، ابھی توبمیں نے تم سے بہت باتیں کرنی تھیں.
عترت نے حذیفہ کے پھیلے ہوئے کپڑوں کو سمیٹ کر ایک طرف کیا اور خود بیڈ پر بیٹھ گئی.
حاضر جناب! آپ نے جتنی بھی باتیں کرنی ہیں کریں.
حذیفہ نے سینے پر ہاتھ رکہ کر مودبانہ لہجے میں کہا اور خود کارپٹ پر عترت کے پاؤں میں بیٹھ گیا.
حذیفہ تمہیں پتہ ہے مجھے رامین بہت پسند ہے . میری شروع سے ہی خواہش تھی کہ وہ میرے گھر تمہاری دلہن بن کر آئے. مگر……
مگر کیا….؟
جب دیکھو موصوفہ یہاں ہی پائی جاتی ہے . ویسے میں نے کافی دن سے دیکھا نہیں اُسے ، حبا سے لڑائی ہو گئی ہے . اُس کے ساتھ گزارہ کرنا بھی بہت مشکل کام ہے ہمت ہے حبا کی…….
حذیفہ نے پہلے حیرت سے پھر کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا.
مگر یہ کہ وہ اب دبیر بھائی کے گھر جا رہی ہے ارتضی کی دلہن بن کر…..
اچھا ، اللہ رحم کرے ارتضی کے حال پر…..
حذیفہ نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر عترت نے اُس کے سر پر ہاتھ مارا.
اتنی اچھی بہو کہاں ملے گی مجھے…؟
فکر نہ کریں اس سے زیادہ اچھی بہو ملے گی. آپ نے اگر “ایٹم بم” جیسی بہو لینی ہے تو خود ہی تلاش کریں لیکن اگر اپنے جیسی کوئی معصوم سی ، پیاری سی ، پری سی بہو چاہیے ہو تو “کپٹن حذیفہ بخاری” سے رابطہ کریں.
حذیفہ نے اپنی شرٹ کا کالر درست کرتے ہوئے کہا
مطلب…؟
کیا ہے اب آپ بھی مطلب پوچھیں گئیں مجھے شرم آ رہی ہے کہ اپنے منہ سے بتاؤں مجھے ایک لڑکی بہت پسند آگئی ہے اور میں چاہتا ہوں وہ جلدی سے آپ کی بہو بن جائے.
بڑی جلدی ہے تمہیں شادی کی…..
“ماماجانی! شادی کی جلدی نہیں ہے بس آپ کے پوتے پوتیوں کی پڑھائی لیٹ ہو رہی ہے”.
اچھا تو یہ بات ہے مگر وہ کون ہے ، کہاں رہتی ہے ، کیسی ہے….؟
بس کریں کیا ہو گیا ہے میں نے رابطہ کرنے کو کہا ہے. پہلے آپ مجھ سے رابطہ کریں رشتے کے سلسلے میں ، پھر فیس ادا کریں ، اُس کے بعد آپ کو کوائف دیے جائیں گے………
بے شرم ماں سے فیس لے گا…؟
ہاں بلکل لوں گا اتنی پیاری بہو مفت میں تھوڑی دوں گا…..
حذیفہ کہتےساتھ ہی اٹھنے لگا جب عترت نے اس کا کان پکڑ لیا.
افففففف!!! ماما پلیز میرا کان چھوڑیں. مجھ معصوم پر اتنا ظلم نہ کریں بغیر کان کے میں بلکل بھی اچھا نہیں لگوں گا.
فیس بتا اپنی……
بس ایک کپ چائے اور ایک پلیٹ باداموں والا حلوہ….
حذیفہ نے اپنے کان کو ملتے ہوئے کہا
فیس تجھے ایک گھنٹے میں مل جائے گی مگر لڑکی کب دکھائے گا…؟
جب خود دیکھوں گا تو آپ کو بھی پکا اُسی وقت دکھاؤں گا . اب آپ میری فیس کا بندوبست کریں اور مجھے پیکنگ کرنے دیں. حذیفہ کپڑے دوبارہ طے کرنے لگا.
حذیفہ ایک بات اور بتانی تھی تجھے ، پر وعدہ کر کہ کسی اور کو نہیں بتائے گا.
وہ کیا …؟
عترت کے لہجے میں جھلکتا پیار حذیفہ کو حیران کر گیا.
رامین میری بہو نہیں بن سکی جس کا دکھ مجھے ساری زندگی رہے گا مگر حبا کو حنین بھائی اپنی بہو بنا رہے ہیں اور اس کی مجھے اتنی خوشی ہے کہ کیا بتاؤں………
سچ میں ، اچھا ہے موسی اور حبا کی جوڑی بہت اچھی لگے گی.
جی نہیں ، انھوں نے حمین کے لیے رشتہ مانگا ہے اور میں نے ہاں کر دی ہے حمین جیسا لڑکا کہاں ملتا ہے وہ بھی اس زمانے میں ، ہر لحاظ سے پرفیکٹ…….
عترت کے جملوں پر حذیفہ تھوڑی دیر کے لیے “سکتہ ” میں چلا گیا.
کیا کہا “حمین ، یعنی حمین ملک”…..
جی بلکل حمین ہی ، تمہاری اور اس کی بہت گہری دوستی ہے اچھا نہیں لگا تمہیں…..؟
ماما جانی ! اگر مجھے اچھا نہیں لگے گا تو اور کس کو اچھا لگے گا.
چھوڑو گا نہیں ، مجھے نہیں بتایا آخر “سالا” ہوں . اتنی فیس لیتا رہا ہے مجھ سے……
حذیفہ نے خوشی سے عترت کو گلے لگایا.
حمین کے بچے اگر تو نے مجھے فیس سود سمیت واپس نہ کی تو میں بھی تیرا “سالا” نہیں.
اب مزا آئے گا جب وکیل فوج کے نیچے آئے گا.
🌸🌸🌸🌸
جی جناب کیسے یاد کیا …؟
ارتضی نے رامین کی کال وصول کرتے ہوئے پوچھا
بیمار ہوں اس لیے فون کیا ہے کہ ڈاکٹر کو بتا دوں .
اچھا کیا ہوا ہے….؟
“پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں ڈاکٹر کا کام صرف دوائی دینا ہے مریض کی تشخیص کرنا نہیں کیوں کہ مریض یہ کام خود کرتے ہیں . ڈاکٹر صاحب مجھے بخار ہے ، نزلہ ہے ، زکام ہے ، کھانسی ہے ، پیٹ میں درد ہے وغیرہ”
کبھی تو سیریس ہو جاتا کرو…؟
اچھا جی ہو گئی سیریس ، اب….؟
اب کیا ، تم بتاؤ کیوں فون کیا ہے..؟
بتایا تو ہے تکلیف ہے….؟
کہاں….؟
دل میں….؟
اچھا مگر میں دل کا ڈاکٹر نہیں ہوں . اس لیے میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا.
چلو جی ! فیصلہ ہو گیا آپ میری کوئی مدد نہیں کر سکتے. اب اس بات پر قائم رہنا.
رامین کی دھمکی پر ارتضی چونک پڑا .
اوئے اگر تم نے کوئی “الٹی سیدھی” حرکت کی تو اچھا نہیں ہو گا. سمجھی…..
“الٹی سیدھی ” کا تو پتہ نہیں لیکن ” ایسی ویسی” ضرور کروں گی.
مطلب…؟
مطلب یہ کہ آج میں اپنے سسرال آ رہی ہوں. ہالہ آنٹی کو بتانے کہ تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے.
مگر میں نے یہ کب کہا ….؟
ابھی ابھی تو کہا ہے کہ تم میری کوئی مدد نہیں کر سکتے…؟
وہ بات “دل” کی ہو رہی تھی تمہاری نہیں….؟
دل کے بغیر انسان ، انسان نہین ہوتا “بھوت” ہوتا ہے.
تم کون سا کسی بھوت سےکم ہو…؟
یعنی اب “بھوت” بھی بول دیا.
رامین نے دکھ بھری آواز میں کہا
ارے “بھوت” تم نے بولا ہے میں نے صرف دہرایا ہے.
یہ تو اب پتہ چلے گا کہ “بھوت” تمہارے ساتھ کیا کرتا ہے….؟
رامین خدا کے لیے سیدھی بات کرو اتنا گھمایا پھیرا نہ کرو ….
ارتضی زچ ہو گیا.
میں تمہیں اتنا گھماتی پھیراتی ہوں تو کبھی تم بھی لے جایا کرو مجھ معصوم کو گھمانے پھیرانے……
اچھا تو یہ بات ہے ، یار ابھی تو کچھ دن بہت مصروف ہوں ایمرجنسی میں ڈیوٹی لگی ہوئی ہے . ویک اینڈ پر دیکھتے ہیں.
چلو ٹھیک ہے تم آرام سے ڈیوٹی کرو میں ” دل اور بھوت” والی بات آنٹی ہالہ کو بتا دیتی ہوں وہ بھی مرچ مصالحہ ساتھ ، کیا ہے نااااا میں مصالحہ بہتاچھا لگاتی ہوں. آگے پہر تم جانو اور وہ…….
اس سے پہلے رامین فون بند کرتی ارتضی بول پڑا.
اچھا ناراض مت ہو ، 9 بجے ڈیوٹی ختم ہو گی تم آ جانا ، لے جاؤں گا جہاں کہو گی .
سوری ، آ جانا نہیں “لے جانا” ، میں انتظار کر رہی ہوں اور ہاں ایک بات یاد رکھنا میں وقت کی بہت پابند ہوں اگر تم نہ آئے یا وعدہ خلافی کی ، تو پھر تم مجھ سے گلہ نہ کرنا.
جی بہتر پہنچ جاؤں گا.
ارتضی نے عاجزی سے جواب دیا.
بہتر ہے کہ تم پہنچ جاؤ ورنہ میں پہنچ جاؤں گی.
🌸🌸🌸🌸
کورٹ میں کاروائی شروع ہوئی . حنین اور موسی دونوں کو ہمت دے کر تھوڑی دیر بعد چلے گئے .کچھ سیال فیملی کے لوگ رہ گئے.
اب اس کو زرناب کی خوش قسمتی کہیے یا بدقسمتی مگر جج صاحب سردار دلاور علی خان کے بہت اچھے دوست نکل آئے.
آڈر آڈر ……
آج کی کاروائی شروع کی جائے اور عدالت کا احترام ملحوظِ خاطر رکھا جائے.
کمرہ عدالت میں موجود چےمگوئیاں ختم ہوئیں اور زرناب نے آگے بڑھ کر جج صاحب سے اجازت لی.
مگر پتہ نہیں کیوں جیسے ہی نظر حمین پر پڑی اسے اپنی ہتھیلیاں پسنے سے گیلی ہوتیں ہوئیں محسوس ہوئیں.
زرناب ہمت کر کیا ہو گیا ہے ویسے ہی سب نے حمین کو “ہوا” بنایا ہوا ہے. ایک عام سا وکیل ہے.
زرناب دل ہی دل میں اپنے آپ کو ہمت دے رہی تھی.مگر کچھ عجیب سا احساس تھا.
حمین اپنی تمام تر رعنائیوں سمیت پن انگلیوں میں گھماتا ٹانگ پر ٹانگ رکھے اسے ہی دیکھ رہا تھا.
زرناب نے ایک گہرا سانس لیا اور دلائل دینا شروع کیے.
حمین کی طرف دیکھتے ہوئے وہ شروع میں ہی غلطی کر بیٹھی.
جیسے ہی اُس کے منہ سے نکلا کہ ” مسٹر مہر سیال ” پر میری معزز موکل ابرش کو زبردستی گھر میں بند کرنے ، جائیداد پر قبضہ اور اُن کا پاسپورٹ ہتھیانے کا دعوا دائر کیا گیا ہے میں اس ظمن میں کچھ دستاویز پیش کرتی ہوں.
تو حمین بول پڑا.
Objection you honour..
یہ کیس “زرتاشے ” کیطرف سے کیا گیا ہے “ابرش” کی نہیں. وکیل استغاثہ پہلے اپنی معلومات درست کریں.
ایک منٹ کے لیے زرناب کو سب کچھ گھمتا ہوا محسوس ہوا مگر پھر اسے حمین کی tip یاد آ گئی.
“جھوٹ اتنی صفائی سے بولو کہ سچ لگے”
زرناب نے سنبھلتے ہوئے ایک پیپر جج صاحب کو پیش کیا.
Objection over rule.
جس سے زرناب کو حوصلہ ہوا پھر زرناب نے اعتماد کے ساتھ اپنے دلائل مکمل کیے .
دو گھنٹے کی سماعت کے بعد عدالتنے اگلی سماعت ایک ہفتہ کے لیے ملتوی کر دی.
عدالت سے باہر آتے ہی حمین نے مسکرا کر زرناب کو دیکھا
“میری بلی مجھے ہی میاؤں”
حمین کا اشارہ سمجھتے ہوئے زرناب نے جواب دیا
نہ میں بلی ہوں اور نہ ہی میاؤں کرتی ہوں پہلے اپنی معلومات درست کریں.
ویسے اگر تم بلی ہوتی تو کتنی پیاری ہوتی قسم سے میں تمہیں پال لیتا ……
اور قہقے لگانے لگا جبکہ زرناب تیز تیز قدموں سے باہر آ گئی.
باہر آتے ہی وہ ایک اور مصیبت میں پھنس گئی. باہر میڈیا کے لوگوں کا رش لگا ہوا تھا وہ طرح طرح کے سوال کرنےلگے.
کیا یہ سیال فیملی کو بدنام کرنے کی سازش ہے… ؟
تاکہ مہر سیال الیکشن ہار جائیں…..؟
آپ اپنے بابا کو جتانے کے لیے ایسا کر رہی ہیں…؟
یہ لڑکی کون ہے …؟
کہاں سےآئی ہے آپ کا اس سے کیا تعلق ہے وغیرہ
زرناب کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا جواب دے وہ آج واقعی بہت تھک گئی تھی اوراسے اس بات کا اندازہ بھی ہو گیا تھا کہ حمین سے جیتنا اتنا آسان نہیں جتنا اسے لگ رہا تھا.
آپ لوگ پلیززز سوالات سے پرہیز کریں ابھی کیس عدالت میں ہے ہم کچھ کہہ نہیں سکتے پھر بھی اگر آپ نے کچھ پوچھنا ہے تو “سیال فیملی”سے رابطہ کریں. شکریہ
حمین کہتا ہوا ہاتھ کے اشارے سے جگہ بناتا پارکنگ کی طرف بڑھ گیا اور زرناب نے دل میں شکر کا کلمہ پڑھا اور اس کی پیروی میں چل پڑی.
دیکھا میں نے تمہیں کیسے بچایا میڈیا سے…..
زیادن سمارٹ بننے کی ضرورت نہیں ہے میں بھی یہی کہنے والی تھی.
سیریسلی….
حمین نے اپنی گول مٹول آنکھوں پر گلاسس لگائے.
بلکل سیریس….
اب راستہ چھوڑو مجھے جانا ہے اور اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی.
نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے.
اس کو بیٹھتا دیکھ کر حمین نے کہا اور خود بھی گاڑی کی طرف بڑھ گیا.
🌸🌸🌸🌸