Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31


ٹھیک ہے آپ میری فیس ادا کر دیں میں یہ کیس لینے کو تیار ہوں.
حمین نے جیسےہی یہ کہا بڑے سیال صاحب خوشی سے پھولے نہ سمائے.
اصل میں یہ بلکل بےگناہ ہے مگر ہوا کچھ یوں تھاکہ….
بہت معزرت مگرجب میں کسی سے فیس لے لیتاہوں تو
مجھے اس سے کوئی غرض نہیں رہتی کہ وہ گنہگار ہے یا بےقصور ، میرا کام ہوتا ہے اپنے کلائنٹ کو defend کرنا اور ہرحالت میں اسے جتانا.
آپ پوری تفصیل مجھے بتا دیں اور پھر بے فکر ہو جائیں میں جانو اور کورٹ….
حمین نر مضبوط لہجہ میں جواب دیا ہس پر بڑے سیال نے مہر کی طرف فاتحانہ انداز میں دیکھا.
میں وفادار لوگوں کی بہت قدر کرتا ہوں اگرآپ یہ کیس جیت گئے تو میں آپ کو مالا مال کر دوں گا….؟
آپ میری فیس ادا کردیں یہی کافی ہے کیونکہ میں آپ بادشاہ ہیں اور نہ میں آپ کا درباری…..؟
حالانکہ میرے بندے بہت وفادار ہیں پھر بھی مجھے صرف کتا ہی وفادار لگتا ہے…؟
بڑے سیال نے اپنی بےعزتی کا بدلہ لیتے ہوئے جواب دیا.
حمین نے کرسی سے اٹھتے ہوئے مصافحہ کے لیے سیال صاحب کی طرف ہاتھ بڑھا. مطلب صاف ظاہر تھا کہ اب آپ تشریف لے جا سکتے ہیں.
جیسے ہی سیال صاحب ہاتھ ملانے کے بعد پلٹے.
ویسے ہی کرسی پر اپنے مخصوص سٹائل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھتے ہوئےحمین نے مخاطب کیا
“ضروری نہیں آپکا “کتا” وفادار نکلے
بعض اوقات آپکا وفادار بھی “کتا” نکل سکتا ہے.”
یہ ایسا جملہ تھا کہ جتنی دیر میں اُن دونوں کو سمجھ آیا حمین دوسرے کلائنٹ ساتھ بزی ہو گیا.
🌸🌸🌸🌸
ابرش بہت خاموشی سے اپنی reports دیکھ رہی تھی مگر زرناب کی توقع کے برعکس نہ وہ رو رہی تھی اور نہ ہی کسی قسم کا واویلا کر رہی تھی.
تم ٹھیک تو ہو ، میرا مطلب ہے کہ دیکھو پریشان مت ہو ، ہمت سےکام لو سب ٹھیک ہو جائے گا.
آپ کو لگتا ہے سب ٹھیک ہو جائے گا…؟
ابرش کے سوال پر زرناب نے اپنی نظروں کا زاویہ بدل لیا.
ہم کیس کریں گے اور تمہیں انصاف ملے گا. ان شأاللہ
اس سے کیا ہو گا…؟
ابرش نےسپاٹ لہجہ میں پوچھا
ابرش اس دنیا میں بہت برے لوگ ہیں بہت برائی ہے مگر بعض دفعہ ہم ایسے لوگوں سے ملتے ہیں کہ اپنا بہت کم لگتا ہےصبر سے کام لو اور دعا کرو.
میں نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد بہت دعائیں کیں اپنے لیے ، اپنی رہائی کے لیے ، اپنی عزت بچانے کےلیےمگر….
‏دعا شدت کے ساتھ یقین کے ساتھ، ضد کے ساتھ مانگو۔ لیکن یاد رکھو کہ بعض دعائیں بہرصورت قبول نہیں ہوتیں اور جس شخص نے جتنی شدت سے مانگا ہو اُسے اسی شدت سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے.
بڑے بڑے یقین والوں کے ہاتھ دعا کے لیے اُٹھنا بند ہو جاتے ہیں
یہی امتحان ہے یقین والوں کا ‏خدا سے محبت کی بنیاد شدت نہیں تسلسل ہے تھکا دینے والا روٹین جیسا تسلسل ہی اصل امتحان ہے.عبادات مناجات سب تسلسل ہیں۔
اس لیے دعا مانگنا کبھی مت چھوڑنا یہ مومن کا ہتھیار ہے. جہاں سب تدبیریں اوردلائل ختم ہوتے ہیں وہاں سے دعائیں شروع ہوتیں ہیں.
‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے.
زرناب نے کہہ کرابرش کو اپنے ساتھ لگالیا.
🌸🌸🌸🌸
موسیٰ تم مجھے کتنے دنوں سے کچھ پریشان لگ رہے ہو کیا بات ہے..؟
موسیٰ جو واقعی ہی ابرش کی وجہ سے پریشان تھا نرمین کی بات پر چونک پڑا.
ماما آپ تو سچ مچ ولی ہیں. دل کا حال کیسے معلوم کرلیتیں ہیں…؟
اس سےپہلےکے نرمین جواب دیتی حنین ٹیرس میں داخل ہوا.
کیا خاک دل کا حال جانتی ہے میرا تو آج تک معلوم نہین کر سکی خامخواہ اپنی ماں کو چڑھا رہے ہو زرا پوچھوں تو اس وقت میرے دل میں کیا بات ہے…؟
تمہارے دل کا تمہیں ہی معلوم ہو گا مجھے اس دل سے دور رکھوں دل کم اور” الجبرا” زیادہ ہے زرا سمجھ نہیں آتا…
نرمین نے منہ بناتے ہوئے وہاں سے جانے میں عافیت سمجھی.
ارے واہ !!! یہ تو چٹینگ ہے بیٹے کے دل کا حال معلوم اور معصوم حنین کو صاف جواب….
حمین جو باتوں کی آواز سن کر ادھر آیا تھا حنین کےحق میں بول پڑا.
تم دونوں باپ بیٹا میری سمجھ سے اوپر کی چیز ہو ….
کیوں ہم B 52 طیارے ہیں.؟
حنین کےکہنے پر سب ہنسنے لگے جبکہ نرمین حنین کو گھورنے لگی.
نظر لگانی ہے…؟
ایک تو خوبصورت مرد سے کوئی شادی نہ کرے ساری زندگی ٹنشن میں گزرتی ہے….
یہ تو بہت زیادتی ہے ایک تو آپ نے اتنے زبردست انسان ساتھ زندگی گزاری اور اب ایسا بول رہی ہیں…
حمین نے حنین کے ساتھ والی کرسی پر ٹانگ پرٹانگ رکھتے ہوئےکہا
یہ کیسے بیٹھ رہے ہو ماں باپ کا کچھ احترام ہوتا ہے سیدھا ہو کر بیٹھو …؟
نرمین کے ڈانٹنے پر حمین نے اپنی ٹانگیں سیدھی کیں.
پتہ نہیں مام کو”وحید مراد” جیسےہیرو کیوں پسند ہیں…!
چپ کر اس وقت بہت غصہ میں ہے وہ اپنے لاڈلے ساتھ بزی تھی ہم نےآ کر اپنی ٹانگ اڑا دی.
حنین اور حمین آپس میں سرگوشی کر رہے تھے جبکہ موسیٰ سوچ رہا تھا کہ حمین سے بات کرے یا نہ کرے…
انسان میں بیٹھنے کا شعور ہونا چاہیے ….
نرمین نےاپنے طور پر حمین کو سمجھایا مگر حنین کو شرارت کرنے کے لیے ایک “لفظ “مل گیا.
اچھا زرا یہ تو بتاؤ ” نرمین ملک صاحبہ ” کہ شعور اور شور میں کیا فرق ہوتا ہے..؟
حنین کےسوال پر نرمین نے خاموش بیٹھے موسیٰ کی طرف دیکھ کر کہا
“جہاں سب شور کر رہے ہوں وہاں ایک انسان بھی خاموش نظر آجائے اس کو شعور کہیں گے فرق یہ ہوگا”
جی نہیں “شور” میں اور “شعور” میں فرق صرف “ع” کا ہوتا ہے.
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھوں پر اپنا چشمہ درست کرتے ہوئے کہا جبکہ حمین نے تالی بجا کر داد دی.
اففففففد تم سے تو بحث ہی فضول ہے ……
نرمین کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی.
“یہ دل آپ کا ہوا مسٹر حنین”
حمین نے باآواز بلند کہا جس پر نرمین نے آہستہ سے خود کلامی کی.
“ساری زندگی…..”
🌸🌸🌸🌸