No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
زریاب کافی دیر سے حنین کی بتائی ہوئی ترکیب پر عمل کرنے کا سوچ رہا تھا. مگر وہ ماہ نور کو دکھ نہیں دینا چاہتا تھا. اسے آج بھی ماہ نور سے اُتنی ہی محبت تھی جتنی 25 سال پہلے ، وہ آج بھی اسکے لیے اِتنی ہی حسین تھی جتنی 25 سال پہلے تھی.
چائے…..
ماہ نور کی سرد آواز نے اسے سوچوں سے نکالا اس سے پہلے کہ ماہ نور چائے کا کپ رکھ کر پلٹتی زریاب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھا لیا.
بیٹھو مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے.
زریاب دل میں حنین سے مخاطب ہوا(یار مروا نہ دینا تیرے مشورے بھی تیری طرح عجیب ہوتے ہیں).
ہاں کہو….ماہ نور نے رخ موڑتے ہوئے پوچھا جس کا مطلب تھا وہ زریاب سے ناراض ہے.
میں نے بہت سوچا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مجھے تمہاری بات مان لینی چاہیے میں دوسری شادی کے لیے تیار ہوں….
زریاب کی بات پر ماہ نور پوری اس کی طرف گھوم گئی.
کیا تم دوسری شادی کرو گے…؟
انداز اور لہجہ سے بےیقینی عیاں تھی.
تم خود ہی تو کہتی ہو….( زریاب کو تیر نشانے پے لگتا ہوا نظر آیا.)
نہیں…. میرا مطلب ہے سچ کہہ رہے ہو…
اب کی بار ماہ نور نے اپنے لہجے کو نارمل کیا.
ہاں بلکل سچ ، اور میں نے ایک لڑکی پسند بھی کر لی ہے پر ایک مسئلہ ہے…؟
زریاب نے ماہ نور کے تاثرات نوٹ کرتے ہوئے پرسوچ انداز میں کہا
کیا…؟یک لفظی جواب آیا
وہ تمہارے اور زرناب ساتھ رہنا نہیں چاہتی. زرناب کو تو خیر میں ہاسٹل میں شفٹ کر دوں گا مگر تم…..
زریاب نے سوچنے کی ایکٹنگ کی…
تم ایسا کرنا گاؤں چلی جانا….ہاں یہ ٹھیک رہے گا.
زریاب نے دیکھا کہ ماہ نور کے چہرے پر کافی شکنیں نمودار ہوئیں جو اس بات کاثبوت تھا کہ اسے زریاب کا مشورہ پسند نہیں آیا.
کون ہے وہ……؟
لڑکی ہے .( زریاب نے مزے سے کہتے ہوئے صوفے ساتھ ٹیک لگا لی).
دفع کرو اسے اور کوئی اور دیکھو……
ماہ نور کہتی ہوئی اٹھنے لگی جب زریاب کی بات نے اسے چونکا دیا.
“مجھے وہ بہت اچھی لگتی ہے مطلب وہ مجھے پسند آ گئی ہے یعنی ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے ہیں شاید نہیں بلکل یقیناً مجھے دوسری بار محبت ہو گئی ہے.”
🌸🌸🌸🌸
رامین کو کافی دن ہو گئے تھے ارتضی کو تنگ کیے ہوئے اس لیے وہ آج حبا ساتھ ہالہ کے گھر آئی تھی.
پھپھو کیسی ہیں ..؟
حبا نے گلے لگتے ہوئے پوچھا جبکہ رامین کو ہالہ نے خود ہی گلےلگا لیا. جسے دیکھ کر حبا نے کہا
ویسے انکل حنین کے بچوں کو ہر کسی سے محبت وراثت مں ملی ہے….؟؟؟
تم جیلس ہو رہی ہو….
رامین نے آنکھ دبا کر کہا جس سے حبا مزید چڑ گی.
بیٹھو آتے ہی کیا لڑنا شروع کر دیا ہے.
ہالہ نے ہنستے ہوئے دونوں کو صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
آتی رہا کرو تم دونوں سے ہی میرے گھر میں رونق ہے بیٹیوں کے بغیرگھر بلکل خالی ہوتا ہے…..
یہ تو آپ زیادتی کر رہی ہیں
ارتضی جو کلینک جانے کے لیے سڑھیاں سے اترتا ہوا لیدر کی جیکٹ پہن رہا تھا ہالہ کی بات سنتے ہوئے کہنے لگا جبکہ نظریں رامین پر تھیں.
آؤ”پٹاخے” کیسی ہو بہت دنوں بعد چکر لگایا خیر ہے….؟
ارتضی نےرامین کے سامنے صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
جبکہ حبا ، ہالہ ساتھ کچن میں یہ کہتے ہوئے چلی گی کہ میں آپ لوگوں کی فضول گفتگو سننے کے موڈ میں نہیں ہوں.
رامین کو موقع اچھا لگا کچھ سوچ کراُس نے کہا
“اگر میں کہوں کہ مجھے تم سے شادی نہیں کرنی تو؟”
رامین کے کہنے پر اُسے حیرت ہوئی پر یہ سوچ کر کہ شاید ماما نے کوئی ایسی بات آنٹی نرمین سے کی ہو مطمئن ہو گیا
“تو آپ کہہ لیں میں جانتا ہوں آپ کچھ بھی کہہ سکتی ہیں-کچھ بھی-“
اُس نے مسکرا کر کہا تو وہ رامین کو پہلی بارزہر لگا-
“ایسی بات تو نہیں ہے-“
رامین کو اُس کا یوں کہنا برا لگا تھا-
“ایسی ہی بات ہے کیوں کہ مجھےخبر ہے محبت کسی لحاظ کسی صورت ہر بار میرے ہی آڑے آتی ہے آپ تو ہمیشہ سے ہر لحاظ سے آزاد ہیں-“
وہ پھر مسکرایا اور اسے اُسی کے انداز میں جواب دینے لگا-
“اسی لئے آپ کہیں جو آپ کہنا چاہتی ہیں-“
اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا-
“میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی”
بالآخر رامین نے اسے مزید چڑایا
“اچھا! مگر ایسا ہے کہ میں آپ سے ہی شادی کرنا چاہتا ہوں”
اس نے رسانیت سے کہا-
“مگر میں نہیں چاہتی”.
رامین کے سختی سے کہنے پر اُس نے پل بھر کو دیکھا-
“یہ میرا دردِسر نہیں ہے شادی تو بہرحال آپ کی مجھ سے ہی ہوگی آپ چاہیں یا نہ چاہیں- رو کے ہنس کے، لڑ کے جھگڑ کے، آپ کو رہنا میرے ساتھ ہی ہے”.
سخت لہجے میں کہتا وہ رامین کے دل کو مطمئن کر گیا.
مگر پھر بھی تم میرے ساتھ بہرحال زبردستی نہیں کر سکتے-“
وہ ہنسنے لگا…..
” آپ میری نرمی کا ہر بار ناجائز فائدہ اُٹھاتی ہیں اور اُٹھانا بھی چاہئے یہ آپ پر جچتا ہے مگر جو آپ مجھ سے کہہ رہی ہیں اُسے مان لینا دراصل مجھ پر نہیں جچتا-تو اگر مجھے زبردستی کرنی پڑی تو میں وہ بھی کروں گا کیوں کہ میں آپ کو کھونا افورڈ نہیں کر سکتا- آپ کی خوشی کے لئے بھی نہیں-“
رامین کا دل چاہا وہ بولتا ہی جائے مگر وہ چپ ہوگیا-
”تم ایک انتہائی ڈھیٹ انسان ہو-“
ایسے کہنے پر وہ مسکرا کر کہنے لگا،
”ہاں بس آپ سے تھوڑا سا ہی زیادہ ہوں-“ اس کے بائیں گال میں پڑتا ڈمپل رامین کو بہت اچھا لگا.
”میں صرف مزاق کر رہی تھی-“
گفتگو سیریس ہونے لگی تھی تو رامین نے سائیڈ بدلی کہیں ہالہ یا حبا نہ آ جائیں.
”ہاں جانتا ہوں یہ مزاق نہ ہوتا تو آپ دوبارہ کبھی کچھ بولنے کے قابل نہیں رہتیں“-
”کیا مطلب ہے تمہارا؟“
”مطلب صاف ہے- اگر یہ سچ ہوتا تو میں آپ کی گُدی سے آپ کی زبان کھینچ لیتا اور آپ پھر دوبارہ کچھ بولنے کے قابل نہیں رہتیں-“
”تم اتنے بدتمیز کبھی نہیں تھے-“
”آپ بھی اتنی بدلحاظ کبھی نہیں تھیں-“
”تم مجھے زہر لگتے ہو-“
”اور آپ تو جیسے مجھے بہت شہد لگتی ہیں ناں-“
ارتضی نے اُس کا مزاق اُڑایا-
”اگر اتنی ہی بری لگتی ہوں تو پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتے میرا؟“
”پیچھا چھوڑنے کے لئے تو نہیں کیا جاتا-“
”تم بہت ڈھیٹ ہو-“
”پر آپ سے کم-“
”مجھے تم سے ذرا بھی محبت نہیں ہے-“
”مجھے آپ سے ذرا بھی نفرت نہیں ہے-“
”تم مجھے بلکل اچھے نہیں لگتے-“
”آپ مجھے بلکل بری نہیں لگتیں ، بدتمیزی کرتے وقت بھی نہیں-“
”کیا تم واقعی میری زبان کھینچ لیتے؟“
”ہاں-“
”میں جانتی ہوں تم ایسا نہیں کر سکتے-“
”آپ نہیں جانتیں کیوں کہ میں ایسا کر سکتا ہوں- آپ اگر مجھ سے دور جانے کی بات کریں گی تو میں ایسا ہی کروں گا-“
”اور میں بنا بتائے چلی گئی تو؟“
”تو دنیا گول ہے بی بی! آنا آپ نے میرے پاس ہی ہے-“
”تم مجھ سے واقعی اتنی محبت کرتے ہو؟“
”آپ کو برداشت کرتا ہوں یہ میری محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے-“
”تم انتہائی بےہودہ آدمی ہو-“
”ہاں تھوڑا سا تو ہوں-“
”اچھا سنو! تم نے مجھ سے پوچھا ہی نہیں میں تم سے شادی کروں گی یا نہیں-“
”کرنی تو ہے ناں ، پوچھنے کا فائدہ؟“
”اچھا پوچھو ناں-“
”مادام کیا آپ ہمیں اپنے مجازی خدا ہونے کا شرف بخشیں گی؟ کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟“
”ہاں کروں گی- مگر ایک شرط پر-“ رامین نے گلابی ہوتے ہوئے مسکرا کر کہا تو ارتضی اسے گُھورنے لگا-
”کیسی شرط؟“
”تم نے جو مجھ سے آج اتنی بدتمیزی کی ہے اُس کے لئے مجھے سوری کہو-“
”میں نے بدتمیزی کی ہے یا آپ…“
”سوری کہو“ ادا دکھائی-
وہ نثار ہوا،”سوری“-
”اب اُٹھک بیٹھک کرو-“ رامین نے ہنس کر کہا جس پر ارتضی کا حیرت سے منہ کھل گیا
”یار سوری کہا تو ہے“ اُس نے التجا کی-
”اُٹھک بیٹھک کرو“،
رامین نے دوبارہ کہا اور وہ حقیقتاً مان گیا-
رامین کے بلند ہوتے قہقے شاید اُسے پہلی بار برے لگے تھے-کیونکہ حبا اور ہالہ رامین کے قہقے سن کر لاؤنچ میں آ گئیں تھیں.
یہ کیا ہو رہا ہے….؟
آپ خود ہی تو کہتی ہیں اسکے آنے سے اس گھر میں رونق آتی ہے بس وہی لگی ہوئی ہے.
اور اُس لمحے اُس شخص کو رامین نے اپنے رب سے جنت تک کے لئے مانگ لیا ۔۔۔!!!!
🌸🌸🌸🌸
موسیٰ کو آج آفس سے نکلتے نکلتے کافی دیر ہو گئی تھی بارش بھی پورے زوروشور سے جاری تھی اور ٹریفک بلاک……
ماما پریشان ہو رہی ہوں گی اس خیال کے آتے ہی موسیٰ نے نرمین کو کال کی.
ماما ٹریفک بلاک ہے میں ہائی وے کی طرف سے آؤں گا کچھ ٹائم لگے گا مگر آپ پلیززز پریشان مت ہونا.
سلام کرنے کے بعد موسیٰ نے کہا
اپنا خیال رکھنا، گاڑی آہستہ چلانا اور پوری کوشش کرنا گھر جلدی آنے کی، ابھی تک حنین اور حمین بھی نہیں آئے حنین شاید زریاب کی طرف گیا ہے گپے مارتے ہوئے اُسے وقت کا کہاں احساس ہوتاہے مجھے اتنی پریشانی ہو رہی ہے وہ تو شکر ہے تمہاری دادی ابھی جاگ رہی ہیں ورنہ میرا تو تنہائی میں بہت دل گھبراتا ہے.
نرمین نے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا
ماما بےفکر ہو جائیں بس زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ لگے گا اور میں آپ کے پاس….
یہ بتائیں آج کھانے میں کیا ہے….؟؟؟
تمہاری پسند کا ساگ بنا ہے جب تم آؤ گے توہم دونوں ماں بیٹا ساگ ساتھ مکئی کی روٹی کھائیں گے حنین اور حمین کو پسند نہیں اور تمہاری دادی ساتھ رامین نے رات کا کھانا کھا لیا تھا. بس مجھے تمہارا انتظار ہے….
نرمین کے لہجے میں موسیٰ کے لیے محبت ٹپک رہی تھی.
واؤ ……پھر تو آج بہت مزا آئے گا. بات کرتے ہوئے موسیٰ کی نظر میٹر پر پڑی جو “لو فیول” کا اشارہ دے رہا تھا.
اچھا ماما میں پھر بات کرتا ہوں موسیٰ نےجلدی سے کال بند کی اور ادھر ادھر دیکھنے لگا
پتہ نہیں اب پٹرول پمپ کتنی دور ہے رات بھی اور بارش بھی…جناب موسیٰ پھنس گئے آپ…..؟؟
خود کلامی کرتے ہوئے اس نے ایک بار پھر سڑک کنارے لگے بورڈز دیکھے…
اب اسے موسیٰ کی خوش قسمتی سمجھیں یا بد نصیبی بہرحال اسے دور سے ایک پٹرول کی لائٹس نظر آئیں.
پٹرول ڈلوانے کی نیت سے موسیٰ نے گاڑی روڈ سے نیچے سڑک پر اتاری….
دوسرے الفاظ میں بذاتِ خود بانہیں کھول کر مصیبت کو خوش آمدید کہا
صاحب کتنےکا ڈالنا ہے…؟؟؟
سیل بوائے کے پوچھنے پر موسیٰ نے ٹنکی فل کرنے کا کہا جس پر اسے حذیفہ کا لطیفہ یاد آ گیا.
“ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک سادہ سا شخص پٹرول پمپ پر 20 روپے دے کر بولا
ٹنکی فل کر دو…
جس پر سیل بوائے نے جواب دیا
سر اگر آپ 20 روپے اور دے دیں تو ہم پٹرول پمپ میں آپ کا آدھا حصہ ڈال دیتے ہیں….”
خودبخود مسکراہٹ موسیٰ کے ہونٹوں کو چھو گئی.
کیا چیز ہو کپٹن حذیفہ ایم مسنگ یو…..
سر یہ لیں چابی…..
موسیٰ نے چابی لیتے ہوئے payment کی اور گاڑی ریورس کرنے لگا تبھی اس کے کانوں میں کسی لڑکی کے چیخنے کی آواز آئی.
بچاؤ……..بچاؤ……..بچاؤ
موسیٰ نے ایک سرسری نظر اس آواز کی سمت دوڑائی تو اسے پٹرول پمپ کے آفس سے بھاگتی ہوئی ایک لڑکی نظر آئی جس کے پیچھے دو سیل بوائے بھی بھاگ رہے تھے.دیکھتے ہی دیکھتے وہ لڑکی موسیٰ کی گاڑی کے سامنے آ گئی مجبوراً اسے گاڑی روکنا پڑی.
صاحب میری مدد کریں خدا کے لیے یہ لوگ مجھے زبردستی یہاں لے آئیں ہیں.
دیکھنے میں وہ 18 یا 20 سال کی ایک خوبصورت لڑکی تھی ہونٹوں سے خون بہہ رہا تھا ماتھے پر بھی چوٹ لگی ہوئی تھی دوپٹہ کہیں نہیں تھا میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے وہ کوئی مانگنی والی ہی لگ رہی تھی .
موسیٰ نے سر سے پاؤں تک اسے ایک نظر دیکھا اس سے پہلے وہ کچھ کہتا جس سیل بوائے نے موسیٰ کی گاڑی میں پٹرول ڈالا تھا بول پڑا….
صاحب یہ ہمارے دوست کی بہن ہے آج ہی گاوں سے آئی ہے اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں، ہر آئےگئے کے آگے اسی طرح کرتی ہے آپ جائیں یہ بیمار ہے بیچاری….
اتنی دیر میں وہ دونوں سیل بوائے بھی پہنچ گئے جو اس لڑکی کو پکڑنے کے لیے بھاگے تھے.
یہ جھوٹ بول رہا ہے خدا کے لیے صاحب مجھے بچا لیں ان لوگوں سے…
خون اس کے ہونٹوں سے ہوتا ہوا اس کے کپڑے گندے کر رہا تھا وہ بارش میں مکمل بھیگ چکی تھی اور سردی کی وجہ سے کانپ بھی رہی تھی. جبکہ وہ دونوں سیل بوائے اسے دوبارہ گھیسٹنے لگے.
پٹرول پمپ اور اس کی سڑک اُس وقت بلکل ویران تھی موسیٰ نے ایک نظر اس لڑکی پر ماری جو مسلسل اسے ہی دیکھ کر فریاد کر رہی تھی. موسیٰ نے گاڑی سٹارٹ کر دی مگر اس سے پہلے کہ وہ پٹرول پمپ کی حدود سے نکلتا اس کے کانوں میں لڑکی کا آخری جملہ پڑا.
صاحب آپ کو اپنی “ماں” کا واسطہ میری مدد کریں.
موسیٰ اس قسم کے پھڈوں میں نہیں پڑتا تھا اور وہ بھی لڑکی کے…..
موسیٰ نے نہ چاہتے ہوئے آخری نظر اس پر ماری جسے سیل بوائے بری طرح گھیسٹ کر لے جا رہے تھے اور وہ بچاؤ کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی تھی.
یہ تو اس ملک کا حال ہے جدھر دیکھو یہی ہو رہا ہے موسیٰ نے جھرجھری لیتے ہوئے تیزی سے گاڑی روڈ کی طرف ڈال دی.
🌸🌸🌸🌸🌸
