Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

حذیفہ ٹیرس پر بیٹھا بظاہرباہر دیکھ رہا تھا لیکن حقیقت میں وہ مس معصومہ کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اُسے کال کرے یا نہ کرے جب حبا چائے لے کر آئی.
یہ لیں بھائی جان گرم گرم چائے اور گاجر کا حلوہ…..
ارے واہ اتنی خدمت اگر مجھے معلوم ہوتا کہ فوج میں بھرتی ہونے کے بعد گھر والے اتنی عزت کرنے لگے گئے تو میں بہت پہلے فوج میں چلا جاتا.
اچھا ایک بات بتائیں آپ سب سے زیادہ کس کو مِس کرتے ہیں؟
یہ سب سے زیادہ اپنی ماں کو مس کرتا ہے ہمیں تو بلکل یاد نہیں کرتا….
حبا کے سوال کا جواب کونین نے دیا جو ابھی ابھی ٹیرس پر آیا تھا.
یہ تو غلط بات ہے میں آپ سب کو بہت مس کرتا ہوں.
حذیفہ نے اپنی ساتھ والی کرسی پر کونین کو بیٹھتے ہوئے دیکھ کر کہا
باتیں تو تم ساری اپنی ماں کی مانتے ہو ، کتنا میں نے کہا کہ میرے بزنس کو سمبھالو ،تمہیں اندازہ نہیں کہ کتنی محنت کی ہے میں نے، مجھے یہ بزنس وراثت میں نہیں ملا. دبیر بھائی اور حنین کی طرح….
ایک ہی بیٹے ہو، ہر وقت تمہاری طرف دھیان رہتا ہے کہ کہیں کوئی بری خبر سننے کو نہ ملے اوپر سے باڈر کے حالات بھی اچھے نہیں….
اچھا زیادہ پریشان نہ ہوں موت تو ہر کسی کو آنی ہے بزنس مین کو بھی اور فوجی کو بھی…
یہ بلکل غلط concept ہے کہ فوجی جلدی مر جاتے ہیں.
حذیفہ نے کونین کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے جواب دیا
تم اب بڑے ہو گئے ہو…..
کونین نے اپنے ہاتھ سے حذیفہ کے ہاتھ کو تھپتھپایا.
ظاہری سی بات ہے 2020 شروع ہو گیا ہے تو اس سال زندگی بھی بدلے گی.
بیٹا جی ……
زندگی 👈سال بدلنے سے نہیں ویاہ ہونے سے بدلتی ہے.
یہ کی ہے ناااا ابو آپ نے بات…..
اب ہم بھابی لائیں گے،بھائی کی شادی کریں گے اور خوب ہلا گلا کریں گے پورے ایک مہینے کی ڈھولکی رکھیں گے خوب مزا کریں گے میرا ایک ہی بھائی ہے ……..
حبا نے جوش سے کونین کی طرف دیکھا جبکہ حذیفہ چائے کے سپ لیتا مسکرا رہا تھا.
اور وہ آ کر تمہاری چھٹی کر دے گی ، تم سے خوب لڑے گی …..
عترت جو نماز پڑھ کر ابھی ابھی فارغ ہوئی تھی ٹیرس پر سب کو جمع دیکھ کر اُدھر ہی آ گئی.
جی نہیں ہم معصوم سی بھابی لائیں گے…؟
حبا نے حذیفہ کی طرف دیکھ کر کہا جبکہ حذیفہ نے زیِر لب دہرایا “معصوم سی”……
مجھے تو معصوم بہو نہیں چاہیے….
عترت نے مسکرا کر جواب دیا اور کونین کے ساتھ بیٹھ گئی.
کیا….؟؟؟
حبا اور حذیفہ نے ایک ساتھ تقریباً چیختے ہوئے کہا
مجھے رامین جیسی بہو چاہیے جس کے آنے سے گھر میں رونق لگ جائے.
حنین کی بیٹی….؟؟؟
کونین نے تصدیق کے لیے پوچھا جبکہ اُسے پتہ تھا اور کسی رامین کو عترت نہیں جانتی.
جی بلکل……
پہلے میرا خیال تھا کہ تم بہت معصوم ہو مگر اب تمہارے ساتھ زندگی گزارنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ تم معصوم نہیں بلکہ “بےوقوف” ہو.کوئی ایسی بہو بھی لاتا ہے اُس نے تمہیں دن میں تارے دکھا دینے ہیں.
کونین نے عترت کے جواب پر کہا
تم بتاؤ رامین کیسی لگتی ہے تمہیں…؟
عترت نے کونین کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے حذیفہ سے پوچھا
جیسی ہے بلکل ویسی ہی لگتی ہے ایک دم “پٹاخہ ” آپ کی لاڈلی…
عترت کے سوال پر حذیفہ نے کندھے اُچکا کر کہا
مجھے بھی رامین بہت پسند ہے
حبا نے خوشی سے چیخ کر کہا
حبا کے جوش کو دیکھتے ہوئے حذیفہ نے آہستہ سا اُس کی طرف جھک کر کہا پھر تم اُس سے شادی کر لو میں رہنے دیتا ہوں.
بھائی……
حبا نے زور سے حذیفہ کے مکا مارا.
ہائے کی جگہ جلدی میں حذیفہ کے منہ سے “گائے” میرابازو نکل گیا.
بس اب دونوں بہن بھائی لڑ رہے تھے جبکہ عترت رامین کو بہو کے روپ میں سوچ کر مسکرا رہی تھی اور کونین عترت کو خوش دیکھ کر ….
🌸🌸🌸🌸
حمین اپنے آفس میں تھا جب تین لوگ اندر داخل ہوئے اور ساتھ ہی اُس کا پی اے بھی…
سر میں نے انھیں منع بھی کیا ہے مگر یہ بغیر اجازت اندر آ گئے ہین.
ٹھیک ہے تم جاؤ ،جی فرمائیے……
آنےوالوں سے حمین نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا تاکہ انھیں اندازہ ہو جائے کہ میرے پاس وقت کم ہے.
میں احمد پور سیال کے جاگیردار کا بیٹا ہوں.
آنے والے نے اپنا تعارف کروایا جبکہ باقی دو بندے ہاتھ باندھے اُس کے پیچھے کھڑے تھے.
بڑا عجیب نام ہے”احمد پور سیال کے جاگیردار”…..
ویسے پیار سے کیا بلاتے ہوں گے آپ کو…..
احمد نہیں، میرے خیال سے سیال، یہ بھی ٹھیک نہیں لگ رہا پور…….
حمین کے سوچنے والے انداز پر آنے والا تپ گیا.
میرا نام ” مہر علی سیال” ہے خاصا چبا کر کہا گیا.
Nice meet u Mr. Mahr Ali
حمین نے بڑے دوستانہ لہجے میں ہاتھ ملایا.
آپ کے ہاں آنے والوں کو بیٹھنے کا نہیں کہا جاتا….
مہر علی نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے طنزاً مسکرا کر کہا
کہتے ہیں مگر جس طرح آپ خود بخود آئے ہیں تو بیٹھ بھی خودی جائیں میں بن بلائےمہمانوں کی خاطر نہیں کیا کرتا.
ہم کسی سے اجازت لیتے نہیں بلکہ لوگ ہم سے اجازت مانگتے ہیں.
آپ اگر اپنے آنےکا مقصد بتا دیتے تو گفتگو میں آسانی رہتی…..
حمین نے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوئے پوچھا
بات یہ ہے مسٹر حمین آپ ہمارے معاملات میں ٹانگ اڑانا چھوڑ دیں ورنہ آپ ٹانگ پر ٹانگ رکھنے کے قابل نہیں رہیں گے.(مہر نے حمین کی ٹانگ کو دیکھتے ہوئے کہا کیونکہ حمین کے بوٹ کا رخ مہر کی طرف تھا).
میں آپ کو جانتا تک نہیں ، اور دیکھنے میں کہیں سے بھی ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ آپ پاگل خانے سے بھاگے ہوئے ہیں کہ مجھے آپ کی ذہنی حالت پر شک ہو………
حمین نے سر سے پاؤں تک مہر کا جائزہ لیتے ہوئے کہا
میں چاہتا ہوں کہ میرا کیس ایڈوکیٹ زرناب کورٹ میں پیش کریں مگر آپ……
حمین کو اُس دن کوریڈور والا واقعہ یاد آ گیا.
(حمین کی پرسنلٹی کہ کئی شیڈ تھے وہ جتنا اپنوں کے لیے مہربان تھا اُس سے کئی زیادہ اپنے دشمنوں کے لیے سفاک ، بے رحم اور انتہائی ظالم تھا…)
اوہ ، آئی سی …..
برائے مہربانی آپ مجھے دھمکی دینا بند کریں اور رہی بات ٹانگ اڑانے کی تو میں پورے کا پورا اڑا ہوا ہوں ایڈوکیٹ زرناب پر……
مرضی ہے آپ کی ….
دیکھنے میں تو کافی سمجھدار لگتے تو…
مہر علی نام ہے میرا، یہ میرا وزٹنگ کارڈ ، کبھی ضرورت پڑی تو یاد کیجیے گا اس ناچیز کو…
مہر علی یہ کہتا تیزی سے باہر کی طرف بڑھ گیا.
زرناب تیرے پنگے میں لگتا ٹانگ ٹوٹے گی میری…..
حمین نے وزیٹنگ کارڈ دیکھتے ہو موبائل پر ایک نمبر ڈائل کیا.
🌸🌸🌸🌸
حنین کا فون کافی دیر سے بج رہا تھا مگر وہ دیکھ کر رکھ دیتا اٹینڈ نہیں کرتا.
کیا بات ہے ، کس کا فون ہے ، اٹھا کیوں نہیں رہا…؟؟؟
بیگم غزالہ جو کافی دیر سے یہ سب دیکھ رہیں تھیں آخر چپ نہ رہ سکیں تو بول پڑیں.
موم دبیر کا فون ہے اُس کی styloo نے پھر کچھ غلط کیا ہو گا اور وہ مجھے گالیاں نکالنے کے لیے بےتاب ہو گا.
(اتنے میں پھر فون بجا)
آپ کا مطلوبہ نمبر فلحال موم ساتھ مصروف ہے برائےمہربانی کچھ دیر بعد کال کریں.
حنین نے کال اٹینڈ کرتے ہی آپریٹر کی طرح کہا
حنین تو کبھی سدھر نہیں سکتا.ہالہ نے فش کے کباب بنائے ہیں سوچا تجھے بھی چکھا دوں.
دبیر کی آفر سنتے ہی حنین سیدھا ہو کر بیٹھ گیا.
اچھا پھر جلدی سے لے آ، میں گھر پر ہی ہوں.
سوری جناب اس کے لیے آپ کو خود آنا پڑے گا اور یاد رکھ یہ آفر صرف آج رات تک ہے……
دبیر نے حنین کو واضح کیا.
یار باہر بہت سردی ہے قسم سے اسلام آباد میں اس دفعہ ایسی سردی پڑ رہی ہے جیسے
واپڈا والوں کو جون میں گالیاں پڑتی ہیں.
مطلب یہ کہ تو نہیں آ رہا…؟
میرے نال پنگے۔۔۔۔۔
میرے دل نے مجھ سےپوچھا
کہ میں آجکل کمبل سے کیوں نہیں نکلتا ۔۔۔
میں نے دل کو بتایا کہ باہر بہت ٹھنڈ ہے ۔۔۔
آگے سے دل ہنسنے لگا کہ مجھے تو نہیں لگ رہی۔۔۔۔
پھر میں نے فریج میں سے یخ ٹھنڈا پانی پیا۔۔۔۔۔
اب دل صاحب دھک دھک کم اور کانپ رہے زیادہ ہیں ۔۔۔
میں نے دل کو نہیں بخشا تو تیری کیا اوقات ہے پر تُو اتنے پیار سے بلا رہا ہے تو آجاتا ہوں ورنہ نخرے تو کبھی نرمین کے نہیں اٹھائے تیرے کیا اٹھاؤں گا اور سن زریاب کو بھی بُلا لے اُس کے بغیر مجھے مزا نہیں آتا.
حنین نے صوفے سے اپنی جیکٹ اٹھاتے ہوئے کہا
آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے اسے میں نے پہلے ہی بلا لیا ہے کیونکہ اس کے بغیر تجھے کھانا ہضم نہیں ہوتا.
دبیر نے ہنستے ہوئے کال بند کر دی.
🌸🌸🌸