No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
آپ کا کیا خیال ہے وہ مسخرا ہمارا کیس لڑے گا…؟؟
مجھے نہیں لگتا کہ وہ یہ کیس لڑے گا کیونکہ بقول آپ کے وہ بہت ذہین ہے تو کیا وہ ہماری چال کو جان نہیں گیا ہو گا.
مہر علی نے حقہ پیتے اپنے دادا شوکت علی سیال سے کہا
پہلی بات تو یہ کہ تو بہت بڑا گھوتا(گدھا) ہے دوسری بات مجھے افسوس ہے کہ تو میرا پوتا ہے اور تیسری بات اگر تیرا منہ نہیں اچھا توبات تو اچھی کر…..
دادا سے ڈانٹ کھانے کے بعد مہر نے ڈیرے سے جانے میں عافیت سمجھی.
کہاں دفا ہو رہا ہے ادھر آ کر بیٹھ اور میری بات غور سے سن ، اُسے جاتا دیکھ کر شوکت علی نے اسے روکا.
آپ دوسروں سے تو بہت اچھے سے بات کرتے ہیں مگر میرے ساتھ…….
مہر منہ بناتا ہوا چارپائی کے کنارے شوکت علی کے ساتھ بیٹھ گیا.
او گھوتے( گدھے) جو تجھے کہا ہے وہ تو کر ، باقی کا کام مجھ پر چھوڑ دے. اس وکیل کو تو میں اتنے چکر دوں گا جہ اُسے ہر وقت زمین گھومتی ہوئی محسوس ہو گی. بڑا تیز سمجھتا ہے اپنے آپ کو……
وہ ہمارا کیس بھی لڑے گا اورجیتے گا بھی مگر اُس کو معلوم بھی نہ ہو گا کہ ہماری جیت اصل میں اُس کی ہار ہے اس مقدمے کے بعد اُس نے وکالت چھوڑ کر ولایت چلے جانا ہے کیونکہ اتنی بےعزتی کے بعد وہ یہاں کرنے کے قابل نہیں رہے گا.
پھر شوکت علی نے بھر پور قہقہ لگایا.جس میں مہر علی نے اُس کا ساتھ دیا.
دادا وہ مجھے سردار زریاب علی کی بیٹی پسند آ گئی ہے. آپ کچھ کریں نااااا…..
مہر علی نے چارپائی سے نیچے شوکت علی کے پاؤں میں بیٹھتے ہوئےلاڈ سے کہا
اچھا اچھا زیادہ مکھن نہ لگا کرتا ہوں تیرا بھی کچھ ، پتہ ہے جوانی تجھے ٹکنے نہیں دے رہی ، کبھی ادھر منہ مارتا ہے تو کبھی ادھر…..
پکا دادا اب کچھ غلط نہیں کروں گا بس اُس سے شادی کرا دیں .
مہر نےکان پکڑتے ہوئے توبہ کی.
جاتا ہوں الیکشن کے بعد تیرا رشتہ لے کر ، مجھے پوری امید ہے زریاب نہ نہیں کرے گا کیونکہ وہ بھی ہماری طرح جاگیردار اور سیاست دان ہے عھر اُس کی بھی اکلوتی اولاد ہے اور ہماری بھی، ویسے بھی وہ ہم سے رشتےداری کر کے فائدے میں رہے گا ہم اسے سیاست میں سپورٹ کریں گے کافی سمجھدار آدمی ہے مگر میری ایک شرط ہے…؟
وہ کیا..؟
مہر جو دادا کی باتوں پر خوش ہو رہا تھا آخری جملہ پر چونک پڑا.
وہ یہکہ تو اس دفعہ الیکشن جیتےگا اور مجھے نیشنل اسمبلی کی سیٹ لا کر دے گا. ادھرتو سیٹ لائے گا ، ادھر میں تیری دلہن ، بول منظور ہے..؟
منظور ، منظور ، منظور
مہر نے خوشی سے دادا کو گلے لگا لیا.
یہ زنانیاں بھی کیسے کیسے گھوتوں ( گدھوں) کو شیر بنا دیتیں ہیں.
🌸🌸🌸🌸
ارتضی کافی دیر سے کچھ reports کو بار بار دیکھ رہا تھا. بلآخر اُس نے reports کو زور سے ٹیبل پر پٹخ دیا .
شٹ بہت برا ہوا….
ارتضی نے دونوں ہاتھوں سےاپنے بالوں میں انگلیاں پھیریں. ابھی وہ اسی حالت میں تھا کہ اس کا فون بجا سکرین پر بلکل واضح زرناب کالنگ لکھا نظر آ رہا تھا.
ہاں بتاؤ کیا بنا ، reports آ گئیں…؟
زرناب نے ارتضی کی آواز سنتے ہی مطلب کی بات پوچھی.
زرناب بات یہہے کہ اُس کی تمام reports مثبت آئیں ہیں.
کیا….؟
زرناب نے کرسی پر تقریباً اچھلتے ہوئے پوچھا.
ہاں بلکل ٹھیک کہہ رہا ہوں میں ابھی اسی کی reports دیکھ رہا تھا.
کچھ ہو سکتا ہے میرا مطلب اسٹیج کیا ہے…؟
زرناب نے امید بھرے لہجے میں پوچھا.
بظاہر تو ایسا نہیں لگتا مگر دیکھتے ہیں تم ایسا کرو پہلی فرصت میں اسے دوبارہ کلینک لاؤ ، میں کچھ مزید ٹیسٹ لینا چاہتا ہوں.
اچھا میں کوشش کروں گی مگر تم سمجھتے ہو نا کہ وہ کس صورتِ حال سے گزر رہی ہے.
زرناب کی اچانک ابرش ساتھ ہمدردیاں کوہ ہمالیہ کو چھونے لگیں.
ہاں میں سمجھتا ہوں مگر اب ہینڈل تو کرنا ہے نااا. ویسے ایک مشورہ دوں اگر تمہیں برا نہ لگے تو….
ارتضی نے تھورا سا ہچکچاتے ہوئے پوچھا
ہاں بولو…..
تم اس پنگے میں نہ پڑو بلکہ میری مانو تو اسے کسی اچھے یتیم خانے میں داخل کرا دو ، تم کس کس کی مدد کرو گی یہاں تو ہر 5 منٹ کے بعد ایک لڑکی ساتھ ایسا حادثہ پیش آ رہا ہے یہ تو ہماری سوسائٹی کا معمول بن گیا ہے کسی کے کان پر جوں تک نہین رینگتی ….
سب کی نہیں مگر جس جس کی کر سکی ضرور کروں گی ، دوسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں موسی کو مایوس نہیں کر سکتی. تم پریشان مت ہو تمہارا نام نہیں آئے گا.
تم غلط سمجھ رہی ہو میں ڈر نہیں رہا بس تمہاری فکر ہو رہی ہے. یہ معاملہ کافی بگڑ بھی سکتا ہے سمجھنے کی کوشش کرو ہمارے ملک میں ایسے کیسس کا کچھ نہیں بنتا یہ سال ہا سال لٹکتے رہتے ہیں اور آخر مدعی خود ہی ہار مان لیتا ہے یا اللہ کو پیارا کر دیا جاتا ہے.
مگر اس دفعہ نہیں ، تاریخ بدلے گی کیونکہ یہ کیس میرے پاس ہے اور ہار ماننا میری فطرت میں شامل ہی نہیں ، ضد مجھے دودھ میں ملی ہے سمجھے….
آخر میں زرناب نے ہنستے ہوئے کال کاٹ دی.
اللہ خیر کرنا مجھے تو خطرے کی گھنٹیاں بجتی سنائی دے رہیں ہیں.
ابھی ارتضی نے فون ٹیبل پر رکھا ہی تھا کہ وہ دوبارہ بج اٹھا.
اب کیا یادآ گیا وکیل صاحبہ کو ، مگر جیسے ہی موبائل سکرین پر نطر پڑی ایک دم ارتضی کی طبیعت گلزار ہو گئی.
جی جناب کیسے یاد کیا.
ارتضی نے کرسی ساتھ پیچھے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا.
“صبح سے پچاس چھینکیں آ گئیں ہیں ، ظالموں!!! یاد کرو رٹا تو نہیں لگاؤ ، مجھ معصوم کو اور بھی کام ہوتے ہیں.”
رامین کی شگفتہ آواز ارتضی کو ہشاش بشاش کر گئی.
مگرمیں تو یاد نہیں کر رہا…؟
اچھا پھر مجھے کون یاد کر رہا تھا….؟
مجھے کیا پتہ…؟
رامین کے سوال کر ارتضی نے مسکرا کرجواب دیا.
تمہیں پتہ ہونا چاہیے مجھے کون یاد کرتا ہے..؟ کیوں یاد کرتا ہے..؟ کب یاد کرتا ہے..؟یہ سارا ریکارڈ تمہارے علم میں ہونا چاہیے..
بہت مان سے جواب ملا.
جی بہتر آئندہ خیال رکھوں گا….
ٹھیک ہے مگرمسئلہ تو وہاں کا وہاں ہی ہے نااااا کہ مجھے صبح سے کون یاد کر رہا تھا چھینکوں نے میری مت مار دی ہے….!!!
میرے خیال سے نزلہ ، زکام یاد کر رہا ہے آپ کو…
جی نہیں ، میرے خیال سے ڈاکٹر یاد کر رہا ہے.
رامین کے جواب پر ارتضی نے قہقہ لگایا.
چلو پھر آ جاؤ ڈاکٹر صاحب ابھی کلینک میں بیٹھے ہوئے ہیں گھر نہیں گئے….
اوکے آتی ہون مگر دوا لینے نہیں شاپنگ کے لیے….
اس کے ساتھ ہی رامین نے کال کاٹ دی.
توبہ ہے انکل حنین کی اولاد سے ، پتہ نہیں کیا کھا کر پیدا ہوئی ہے . سیدھی بات توکرہی نہیں سکتے….
شاپنگ کرنے کے لیے اتنا ڈرامہ ، گھما کر رکھ دیا افففففففف………..
اگر یہ سب محکمہ انکم ٹیکس میں ہوتے تو سارے پاکستان کا ٹیکس چند گھنٹوں میں وصول کر لیتے ، کیسے کیسے طریقے آتے ہیں دوسروں کی جیبوں سے پیسے نکالنے کے…..
ارتضی نے خود کلامی کرتے ہوئے ٹیبل سےچیزیں سمیٹنا شروع کیں اس سے پہلے وہ طوفان آئے اور سب تہس نہس ہو جائے.
🌸🌸🌸🌸
