Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39


کب آنا ہے آپ کے شہزادے نے ، میرے خیال سے جر کر خود لے آئیں . اُس کی وجہ سے سب کا ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے.
جی نہیں وہ خود ہی آ جائے گا اگر آپ لوگوں کو جلدی ہے تو ناشتہ کر لیں مجھ سے اس عمر میں بار بار سیڑھیاں نہیں چڑھی جاتیں.
نرمین کے کہنے پر حنین نے اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے جواب دیا جبکہ موسی اور رامین ہنسنے لگے.
سیدھی طرح کیوں نہیں کہتے کہ تم جانا نہیں چاہتے ایک نمبر کے کام چور ہوتے جا رہے ہو……
نرمین ابھی غصے سے اٹھی ہی تھی کہ غزالہ بیگم کی آواز پر رک گئی .
ماشأاللہ میرا شہزادہ آ گیا.
حمین اپنی پوری آب و تاب سے کالا کوٹ بازو پر ڈالے ، مخصوص سٹائل سے بال بنائے گول مٹول صاف شفاف آنکھوں کو گھماتا اور ہمیشہ کی طرح چہرے پر پر اصرار مسکراہٹ سجائے سیڑھیاں اتر رہا تھا.
یقین مانو یہ نہ مانو پر لگتا ہے سیڑھیاں نہیں سیدھا دل میں اتر رہا ہے.
غزالہ بیگم نے نرمین کی طرف دیکھتے ہوئے حنین سے کہا
آنٹی آپ نے ہی ان دونوں باپ بیٹے کا دماغ خراب کیا ہوا ہے . جبکہ وہ خود بھی دل میں اس کی نظر اتار رہی تھی.
Hi sweet lady ,Mr. Hanain and every one……
حمین اپنے مخصوص سٹائل میں غزالہ بیگم سے ملتے ہوئے موسی کے سامنے والی چیئر پر بیٹھ گیا.
ویسے بہت بہت شکریہ مسٹر حنین ، انتظار کے لیے….
حمین نے اپنی سیدھے ہاتھ کی دو انگلیوں کو ماتھے کے ساتھ سلوٹ کے انداز میں لگایا.
اچھا باتیں بعد میں کر لینا پہلے ناشتہ کر لو ٹھنڈا ہو رہا ہے .
نرمین نے سب کے آگے ناشتہ رکھا.
مام میں صرف جوس لوں گا….
حمین نے خلافِ معمول ناشتہ پیچھے کر دیا اور جوس کا گلاس اپنے ہاتھ میں پکڑتے ہوئے موبائل چک کیا جس پر ابھی ابھی ایک میسج موصول ہوا تھا.
کیوں جی آج ناشتہ کیوں نہیں کرنا اور بیمار ہونا ہے کیا …؟
خالی پیٹ گھر سے نہیں جاتے سیانے کہتے ہیں کہ
“اگر گھر سے کھا کر جاؤ توباہر سے بھی پکا پکایا ملتاہے اور اگر گھر سے خالی پیٹ جاؤ تو بندہ باہر بھی بھوکا ہی رہتا ہے”
حنین نے آنکھیں گھما کر کھانے کا اشارہ کیا جبکہ غزالہ بیگم نے پیار سے حمین کے سر پر ہاتھ پھیرا.
پلیززز سویٹ لیڈی میرے بال خراب مت کریں .
بلکل اپنے باپ پر گیا ہے زرا برابر فرق نہیں ہے.
جی پتہ ہے بتانے کی ضرورت نہیں ہے . نرمین نے بیگم غزالہ کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی.
سب اپنی اپنی باتوں میں مست تھے جبکہ موسی بلکل خاموش تھا . اُسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ہو گا اور اگر میرا نام سامنے آ گیا تو……..؟؟؟
ماں کی جان!!! کہاں گم ہو…؟
حمین نے اچانک موسی کو پکارتے ہوئے اس کے آگے چٹکی بجائی . موسی اس کے لیے تیار نہ تھا اس لیے اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ چھوٹ گیا.
او شیٹ……
موسی ٹھیک ہو ہاتھ تو نہیں جلا تمہارا……
نرمین فوراً بول پڑی جبکہ موسی کی بوکھلاہٹ پر حمین اور رامین ہنس رہے تھے .
ماما ٹھیک ہوں بس دھیان نہیں تھاموسی بھی اپنی جگہ شرمندہ ہو رہا تھا اور حنین دونوں بہن بھائی کو گھورنے میں مصروف تھا.
اچھا چلتا ہوں دیر ہو رہی ہے حمین نے غزالہ بیگم کو سلام کیا اور رامین کے سر پر ہاتھ مارتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا موسی کے پاس سےگزرتے ہوئے رکا.
اچھا وحید مراد دعا کرنا بہرحال خون خون ہوتا ہے تمہیں میری جیت ہی عزیز ہونی چاہیے اور یقیناٰ ہو گی بھی….
حمین نے موسی کو دونوں کندھوں سے پکڑتے ہوئے پوچھا ، جس پر وہ مسکرا دیا.
بھائی آپ ہار ہی نہیں سکتے ناممکن……
یہ ہوئی نا بات…..
حمین نے موسی کی طرف اپنے سیدھے ہاتھ کا مکا کیا جس پر موسی نے بھی اپنا مکا بنا کر ملایا.
ویسے میں جانے سے پہلے آپ سب کو یہ بتا دوں کہ میرے مقابل کورٹ میں آج “زرناب علی خان ” ہیں.
کیااااااا…؟
نرمین کے علاوہ کوئی بھی حیران نہیں تھا سب اپنے اپنے کام میں بزی تھے اس سے پہلے نرمین مزید کوئی سوال کرتی حنین اسے C off کرنے کے لیے لاؤنچ سے باہر نکل گیا.
جیسے ہی حمین کی گاڑی گیٹ سے باہر نکلی حنین گیٹ پر کھڑا ہو گیا. گاڑی ریورس کرنے کے بعد حمین نے ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا کہا
Ok Mr. Hanain thank u so much.
Best if luck Hamain.
دونوں نے مسکرا کر ایک دوسرے کودیکھا اور گاڑی زَن سے آگے بڑھ گئی .
حمین جیسے لوگ لاکھوں میں ایک ہوتے ہیں.
حنین نے حمین کی گاڑی گزرتے ہی اپنے آپ سے سرگوشی کی.
مگر حنین جیسے لوگ اربوں میں بھی نہیں ملتے ، یہ کھربوں میں ایک ہوتے ہیں.
جیسے ہی یہ الفاظ حنین کے کانوں میں پڑے وہ اپنے ہی پاؤں پر گھوم گیا. نرمین بلکل اس کے پیچھے کھڑی مسکرا رہی تھی.
وہ چلا گیا ہے تم اندر آ جاؤ ، بڑھاپے کا بخار بھی اتنا ہی جان لیوا ہوتا ہے جتنا بڑھاپے کا عشق ……
“نرمین کی بچی”
نرمین کی ذومعنی باتوں کو سمجھتے ہی حنین نے اُسے پکڑنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے پکارا .
رامین تمہیں تمہارے بابا بلا رہے ہیں……
حنین کو چڑاتے ہوئے نرمین اندر کی طرف بڑھنے لگی.
جی بابا…!!!
ایک دم رامین اندر سے باہر آتے ہوئے نرمین سے ٹکرا گئی.
توبہ ہے تمہاری اولاد سے ، قسم سے “بوتل کے جن” ہیں ادھر آواز دو اُدھر حاضر……
نرمین نے مڑ کر حنین سے کہا اور خود اندر بڑھ گئی جبکہ حنین ، رامین کو لے کر لان میں پڑے جھولے پر بیٹھ گیا.
تمہارا کیا خیال ہے کون کیس جیتے گا….؟
حنین نے بارش سے انجوائے ہوتے ہوئے رامین سے پوچھا
بابا یہ کونسی پوچھنے والی بات ہے آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں اور میں بھی کہ کیس کون جیتے گا…..؟
زرناب بہت اچھی وکیل ہے مگر حمین بھائی تو حمین ہیں.
ہمممم ……
اتنی دیر میں موسی اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا.
موسی ادھر آؤ……
حنین کے پکارنے پر موسی گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے لان میں آ گیا.
کہاں جا رہے ہو…؟
بابا روز کی طرح آفس جا رہا ہوں.
غلط بات ہے ، تمہارے بھائی کا آج ایک اہم کیس ہےتم اُسےسپورٹ کرنے نہیں جاؤ گے…؟
ایسا کرتے ہیں ہم دونوں کورٹ چلتے ہیں ، کبھی ماں کے علاوہ باپ کی بات بھی لیا کرو .کیا خیال ہے…؟
اپنی بات کے آخر میں حنین نے موسی کو دیکھا جو پریشان نظر آ رہا تھا.
جیسا آپ کہیں ، چلیں….؟
موسی نے سائیڈ پر ہوتے ہوئے حنین کو راستہ دیا.
یار کبھی ہنس بھی لیا کر ، اتنا سیریس تو میں اس عمر میں نہیں ہوں جتنا تُو ابھی سے ہے.
موسی نے مسکراتے ہوئے حنین کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا.
🌸🌸🌸🌸
زرناب جیسے ہی اپنے آفس میں داخل ہوئی تو اپنی ٹیبل پر “سرخ گلاب “کے گلدستے تو اپنا منتظر پایا.
پریشانی اور جلدی کے باوجود ایک خوبصورت مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی.
زرناب نے گلدستہ اٹھا کر سونگھا تازہ گلابوں کی خوشبو نے اس کی روح کو تازگی دی .
گلدستہ واپس ٹیبل پر رکھتے ہوئے اسے ایک چھوٹا سا اپنے نام کا envelope نظر آیا.
“مس زرناب علی خان!
میں آپ کو دل کی گہرائیوں سے اپنی نیک تمنائیں پہنچاتا ہوں. اللہ کرے آپ یہ مقدمہ جیت جائیں جس کی مجھے %1 بھی امید نہیں ہے.
حمین ملک”
بےشک تم ایک دور اندیش انسان اور وکیل ہو مگر ضروری نہیں کہ میں تمہاری امیدوں پر پورا اتروں.
زرناب نے خط پڑھنے کے بعد اپنے ہاتھ میں مڑوڑا اور ڈسٹبین میں پھینکنے لگی پھر کسی خیال کے آتے ہی اسے سیدھا کیا پن سے کچھ اس کے پیچھے لکھا اور اپنے پرس میں رکھ لیا.
موبائل اٹھا کر موسی کو فون کیا مگر یہ کیا مگر حیران کن طور پر اسے بل کی آواز اپنے سپیکر اور آفس کے باہر سے آنے لگی.
ابھی تک تم آفس میں ہی ہو میں تو سمجھا کہ تم کورٹ کے لیے نکل گئی ہو گی…؟
اس سے پہلے کہ زرناب کال کاٹ کر باہر دیکھتی حنین آفس میں داخل ہوا.
انکل حنین آپ…..
زرناب نے خوشی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات میں کہا
جی صرف میں ہی نہیں موسی بھی آیا ہے ( اتنی دیر میں موسی بھی داخل ہوا).
مجھے بہت اچھا لگا ہے ویسے بھی میں نے سنا ہے کہ آپ بہت لکی ہیں اگر آپ کو دیکھ کر کام شروع کرو تو انجام بہت اچھا ہوتا ہے.
آپ کا بہت بہت شکریہ اور دعا کریں ابرش کو انصاف مل جائے میں بےشک ہار جاؤں پرواہ نہیں…..
ابرش کو انصاف بھی ملے گا اور میری بیٹی ہی جیتے گی.
اور اگر آپ کا بیٹا جیت گیا تو…؟
زرناب نے سوالیہ نظروں سے حنین کو دیکھا
بات تو ایک ہی ہے بیٹا جیتا تب بھی تم ہی جیتو گی نااااا.
حنین نے موسی کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے جواب دیا جس پر زرناب اور موسی چونک پڑے.
چلو ہم اب چلتے ہیں کورٹ میں بیٹھ کر دیکھتے ہیں آپ دونوں کو……
حنین اور موسی دونوں آفس سے باہر نکل گئے مگر زرناب کو ہمت دے گئے.
🌸🌸🌸🌸
تم کیوں پریشان ہو سچی بہت مزا آئے گا پتہ حمین بھائی اور زرناب تو ویسے بھی فیملی میں لڑتے رہتے ہیں اور ہم سب ہی انجوائے کرتے ہیں .
اب وہ سرعام لڑیں گے اور ساری عوام انجوائے کرے گی. مجھے تو سوچ سوچ کر مزا آ رہا ہے.
رامین نے ابرش کے پاس بیٹھتے ہوئے چائے کا کپ تھامے پر جوش انداز میں کہا
پتہ نہیں کیوں مجھے ڈر لگ رہا ہے….؟
میرے ہوتے ہوئے تمہیں ڈر نہیں لگنا چاہیے. صبر کرو دیکھنا تمہیں بھی بہت مزا آئے گا ابھی تھوڑی دیر میں سوشل میڈیا پر دھوم مچ جائے گی.
سیال فیملی کی عزت کا جنازہ نکلے گا وہ بھی دھوم دھام سے…
تم بہت صبر والی ہو مگر مجھ سے فلحال صبر نہیں ہو رہا.
ابرش کی بات پر رامین حیران رہ گئی “صبر ” اور “میں” لیکن پھر اس کی حسِ مزاح پھڑکی.
“پتہ پہلے مجھ میں بھی صبر نہیں تھا اور پھر میں صبر کی انگلی تھام کے اتنا چلی اتنا چلی ، کہ صبر رک کے بولا بہن میرا گھر آ گیا ہے آگے تو اکیلی چلی جا ، صبر کی بھی میرے آگے بس ہو گئی …..”
رامین نے اپنے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے خود کو داد دی اور ابرش ہنسنے لگی.
تم ہنسا کرو بہت اچھی لگتی ہو پتہ جب تم ہنستی ہو تو تمہاری آنکھیں چمکتی ہیں جو مجھے بہت اچھی لگتی ہیں.
اس سے پہلے کہ ابرش اداس ہوتی رامین نے اس کی توجہ واپس حاصل کی.
“آج بھی تیرے خیالوں میں گم رہ کر چائے تو پی لی بسکٹ رہ گئے۔”
اورپھر ابرش اداس ہوتے ہوتے ہنسنے لگی.
🌸🌸🌸🌸