No Download Link
Rate this Novel
Episode 45
تم نے ضروری نہیں سمجھا مجھے ساتھ لے جانا اگر مجھے بھی ساتھ لے جاتے تو کیا فرق پڑتا ۔۔۔؟
خود ہی بیٹی کا رشتہ کر رہے ہو، خود ہی بیٹوں کا……… جیسے وہ میری تو اولاد ہے ہی نہیں ،میرا تو ان سے کوئی رشتہ ہی نہیں ہے…..
نرمین نے حنین ساتھ ناراضگی کا اظہار کیا.
تم خود ہی تو ہر وقت کہتی رہتی ہو میری اولاد میری اولاد تو پھر اپنی اولاد کا رشتہ میں خود ہی کروں گا ناااااا…
حنین کبھی تو شرمندہ ہو جایا کرو اپنے کرتوتوں پر…..
نرمین تمہیں مبارک ہو آج تمہیں اپنی اولاد کا پتہ چل گیا ورنہ کل تک تو وہ صرف میری اولاد تھی حنین نے ہنستے ہوئے کہا.
دیکھو ابھی میں نے صرف بات کی ہے جب کوئی رسم کریں گے تو ظاہری سی بات ہے تم تو ساتھ جاؤں گی نااااا ۔۔۔۔۔۔
جی نہیں جب رشتہ تم نے میرے بغیر کیا ہے تو رسمیں بھی خود ہی کرنا میں کسی رسم میں نہیں جاؤں گی سمجھے ،میری طرف سے بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہاری اولاد۔۔۔۔۔
میں نے اکثر لوگوں سے یہ جملہ سنا ہے بھاڑ میں جاؤ لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ بھاڑ کدھر ہے اور وہاں جاتے کیسے ہیں؟
اگر تمہارا خیال ہے کہ میں تمہاری اس بکواس پر ہنسںوں گی تو تمہاری غلط فہمی ہے۔۔۔۔
کیا ہوگیا ہے کیوں اتنا غصہ کر رہی ہو ؟
حنین نے جب نرمین کو زیادہ بگڑتے ہوئے دیکھا تو صلح جو انداز میں پوچھا
دیکھو جہاں تک حبا کی بات ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے مگر زرناب کے بارے میں اگر ہم آپس میں بیٹھ کر بات کر لیتے تو بہتر نہیں تھا ۔۔۔؟
تمہیں زرناب ساتھ مسئلہ ہے یا زرناب کی موسی کے ساتھ رشتے پر مسئلہ ہے صاف صاف بات کرو جو تمہارے دل میں ہے حنین نے نرمین کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
حنین موسی بہت معصوم ہے میرے خیال سے وہ کسی مشکل میں نہ پڑ جائے تم سمجھو نااااا……
عجیب و غریب قسم کے پھڈے لیتی ہے اب تم دیکھ لو کہ یہ مقدمہ لڑنے کی اسے کیا ضرورت تھی مجھے ڈر لگتا ہے ایسے کاموں میں جان کا بھی خطرہ ہوتا ہے ۔۔۔۔
پہلی بات یہ کہ تمہارا موسی اتنا معصوم نہیں جتنا تم سمجھتی ہو کسی سیانے نے کیا خوب کہا ہے۔
“انسان اتنا برا نہیں ہوتا جتنا اس کی بیوی اسے سمجھتی ہے اور نہ ہی اتنا اچھا ہوتا ہے جتنا اس کی ماں اسے سمجھتی ہے”
دوسری بات، جان تو آنی جانی ہے اس کی فکر نہیں کرتے۔ تم بھول رہی ہو تمہارا اپنا ایک بیٹا بھی وکیل ہے جو اس سے بھی زیادہ بڑے بڑے پھڈے لیتا ہے اس کی جان قیمتی نہیں۔۔۔؟
حنین کے پوچھنے پر نرمین کچھ خاموش سی ہوگئی ۔
ٹھیک ہے اگر تمہاری ابھی بھی تسلی نہیں ہوئی تو تم موسی سے پوچھ لو اگر وہ نہ کرتا ہے تو میں بھی نہ کر دوں گا اب خوش ۔۔۔۔۔۔
ہم نے آخر میں تجویز دیتے ہوئے مسکرا کر نرمین کی طرف دیکھا۔
ابھی دونوں میں بحث جاری تھی کہ نوکر نے آکر دبیر اور ڈاکٹر رائحہ کے آنے کی اطلاع دی۔
نرمین تم ریفریشمنٹ کا انتظام کرو میں انہیں دیکھتا ہوں حنین یہ کہہ کر ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گیا جبکہ نرمین نے کچن کا رخ کیا ۔
اللہ جانتا ہے مجھے کوئی بیماری نہیں ہے نہ ہی کوئی “کرونا” کا مسئلہ ہے بس ویسے ہی گھر میں بیٹھا ہوا ہوں۔
رائحہ کی طرف دیکھ کر حنین نے شرارتی انداز میں کہا اور دبیر کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا۔
اللہ نہ کرے تمہیں کچھ ہو ہم تو آج ایک ضروری کام سے تمہارے پاس آئے ہیں۔۔۔۔
بس کبھی بغیر کام کے نہ آنا تم نے تو مجھے اپنے باپ کا نوکر سمجھا ہوا ہے حنین نے رائحہ کے سوال پر جواب دیا ۔
جس پر دبیر ہنسنے لگا اسی وقت نرمین ریفریشمنٹ سے بھری ہوئی چائے کی ٹرالی لے کر ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی ۔
کبھی تو سیریس ہو جایا کرو آج ہم ارتضی اور رامین کی منگنی کے بارے میں بات کرنے آئیں ہیں۔ کیا خیال ہے تم لوگوں کا اس بارے میں رائحہ نے نرمین کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
میری کیا رائے ہے جو حنین کہتا ہے ویسا کر لیتے ہیں نرمین نے بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کیا
ہائے اللہ نرمین میں تمہاری معصومیت پر سارے کا سارا صدقے واری ۔۔۔۔
کتنی معصوم لگ رہی ہو تم اس وقت، دبیر اگر تو تھوڑی دیر پہلے اسے دیکھتا نہ تو تجھے یقین نہیں آتا کہ یہ وہی نرمین ہے معصوم سی، سارے پنجے،نوکیلے دانت اور سینگ نکالے ہوئے تھے اس نے تیرے معصوم دوست پر ۔۔۔۔۔۔
حنین نے اپنے گول مٹول آنکھوں کو گھما کر دبیر پر اپنی مظلومیت کا رونا رویا ۔۔۔۔۔
بس کر حنین مجھے پتا ہے تو کتنا معصوم ہے اور نرمین کتنی ظالم….؟؟؟
دبیر کے تسلی دینے پر حنین نے اپنے مصنوعی آنسو صاف کیے اور بسکٹ کی پلیٹ اٹھا کر اپنے اور دبیر کے درمیان صوفے پر رکھ لی۔
برائے مہربانی اب تم ہماری درخواست پر بھی غور کرو اور کوئی تاریخ بتا دو بہت عرصہ ہوا کوئی ہلا گلا نہیں ہوا ۔۔۔
رائحہ نے حنین کی توجہ پھر منگنی کی طرف دلائی
دیکھو جی بات میں بالکل صاف صاف کرتا ہوں اور بات یہ ہے کہ حذیفہ کو چھٹی لینے دو میں چاہتا ہوں حبا ، حمین، رامین، ارتضیٰ، موسی اور زرناب کی منگنی کا ایک گرینڈ فنکشن کیا جائے وہ بھی “ملک ولازز” میں ، سارا خرچہ میں خود کروں گا کیوں کہ یہ سارے بچے میرے ہیں اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
چلو ٹھیک ہے جیسے تم خوش ویسے ہم خوش دبیر نے آگے سے بات ختم کی اور چائے کا کپ اٹھا لیا
آپ تو سدا کے کنجوس ہیں میں نے خود ساری ڈیکوریشن کرنی ہے رائحہ کو آئیڈیا پسند نہیں آیا
نرمین اب تم دیکھنا ان دونوں میں کتنی انڈرسٹینڈنگ ہے حنین دبیر اور رائحہ کی لڑائی کو انجوائے کرنے لگا
یار تو جلتی پر تیل نہ گرا دبیر نے حنین کو کہنی ماری ۔
اچھا جی قصّہ مختصر ڈیکوریشن ساری رائحہ کریں گی اب خوش، ویسے بھی ہم آپ کی ڈیکوریشن کے شروع سے قائل ہیں ۔
حنین نے رائحہ کی تعریف کی جس پر اس کا موڈ بہتر ہو گیا۔
🌸🌸🌸🌸
فون بند کرکے کافی دیر زرناب مہر کی بات کو سوچتی رہی پھر اس نتیجے پر پہنچی کہ وہ اس مقدمے کو شروع سے دوبارہ چیک کرے گی کہ کہاں غلطی ہوئی ہے اور ایسا کون سا نکتہ ہے جو اس کی نظر سے بچ گیا ہے۔۔۔؟
ابھی وہ اپنی سوچ کے تانے بانے بنا ہی رہی تھی کہ ماہ نور اس کے روم میں داخل ہوئی ۔
زریاب مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔۔؟
جی ماما کہیں میں سن رہی ہوں۔زرناب نے کھوئے ہوئے لہجے میں جواب دیا
کل حمین آیا تھا تمہارے رشتے کی بات کرنے کے لیے مگر ۔۔۔۔۔
اتنا کہہ کے ماہ نور چپ ہو گئی زرناب نے واضح طور پر ماہ نور کی اداسی کو نوٹ کیا۔
مگرماما کیا۔۔۔۔؟
مگر یہ کہ انہوں نے تمہارا رشتہ حمین کیلئے نہیں بلکہ موسی کے لیے مانگا ہے اور تم اچھی طرح جانتی ہو کہ مجھے حمین کتنا پسند ہے۔
بس اتنی سی بات جس پہ پریشان ہو رہی ہیں۔ اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟ آپ بھی اچھی طرح جانتی ہیں کہ مجھے حمین بالکل پسند نہیں جبکہ موسی مجھے بہت پسند ہیں۔
زرناب کے جواب نے ماہ نور کو عجیب کشمکش میں ڈال دیا۔
تمہیں موسی پسند ہے مجھے یقین نہیں آرہا یہ کیا کہہ رہی ہو۔۔۔۔؟ موسی اور تمہارے مزاج میں زمین آسمان کا فرق ہے میرا مطلب ہے کہ۔۔
ماما مجھے اس کی سنجیدہ سی، سحر انگیز اور خاموش پرسنلٹی بہت پسند ہے۔اگر آپ مجھ سے میری رائے پوچھتی ہیں تو مجھے یہ رشتہ پسند ہے بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ مجھے یہ رشتہ دل و جان سے قبول ہے آگے آپ کی مرضی ہے ۔۔۔۔۔۔
ماہ نور کچھ دیر زریاب وہ دیکھتی رہی پھر اٹھ کے کمرے میں آگئی جہاں زریاب لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا
کیا ہوا ہے تم کیوں اتنا منہ بنا کر بیٹھ گئی ہو۔۔۔۔؟
مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ صرف میری ہی زندگی میں محرومیاں اتنی کیوں ہیں۔ ۔۔؟
جو بھی چیز مجھے اچھی لگتی ہے یا بہت زیادہ پسند آجاتی ہے وہ مجھے بالکل نہیں ملتی کیوں آخر کیوں ۔۔۔۔؟
ماہ نور کو ایک دفعہ پھر پرانے والا دورہ پڑتا دیکھ کر زریاب نے افسوس سے اس کی طرف دیکھا ایک سرد آہ بھری اور لیپ ٹاپ بند کر دیا ۔
یہ تمہیں کچھ دنوں بعد کیوں دورے پڑنے لگ جاتے ہیں اللہ کا دیا سب کچھ تو ہے اب کس محرومی کا شکار ہوگئی ہو تم ۔۔۔۔؟
زریاب تم اچھی طرح جانتے ہو نہ کہ مجھے حمین کتنا پسند ہے آپ سے نہیں شروع سے ہی ،میں جب بھی اسے دیکھتی تھی میرا دل کرتا تھا کاش یہ میرا اپنا بیٹا ہوتا۔ ۔۔۔
کل جب حنین ہمارے گھر آیا تو مجھے ایسا لگا جیسے میری خواہش پوری ہو جائے گی داماد بھی بیٹا ہی ہوتا ہے مگر انہوں نے حمین کے لئے نہیں بلکہ موسی کے لئے زرناب کا ہاتھ مانگا ۔
تم خود مجھے سچ سچ بتاؤ؟ کیا ہماری بیٹی حبا سے زیادہ اچھی پیاری اور سمجھدار نہیں ہے پھر انہوں نے حمین کے لیے حبا کا رشتہ کیوں مانگا۔۔۔۔؟
ہماری بیٹی کا نہیں مانگ سکتے تھے ہماری بیٹی میں کیا کمی ہے ۔۔۔؟
پہلی بات تو یہ کہہ حبا بھی ہماری ہی بیٹی ہے زرناب کی طرح ، دونوں بچیوں کا مقابلہ کرنا بالکل غلط بات ہے۔
دوسرا حمین اس کا بیٹا ہے ہمارا نہیں ، اس کی مرضی جہاں مرضی اپنے بیٹے کا رشتہ کرے۔
اور سب سے آخری اور ضروری بات یہ کہ مجھے لگتا ہے زرناب بھی موسی کو پسند کرتی ہے حمین نے جس اعتماد کے ساتھ زرناب کا رشتہ مانگا ہے مجھے پورا یقین ہے کہ اسے اس بات کا علم ہوگا کیونکہ حنین کوئی غلط کام نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔
اسی بات کا تو دکھ ہے ابھی میں نے زرناب سے پوچھا ہے تو اس نے بھی موسی کے حق میں ہی ووٹ دیا ہے مجھے سمجھ نہیں آتی میری پسند لوگوں کو پسند کیوں نہیں آتی میری دعا کیوں نہیں قبول ہوتی جو میں چاہتی ہوں وہ کیوں نہیں ہوتا آخر کیوں زریاب کیوں۔۔۔۔؟؟؟
میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی ۔۔۔۔
اگر زرناب خوش ہے پھر تو بات ہی ختم ہو گئی ہمیں اپنی بیٹی کی خوشی عزیز ہونی چاہیے نہ کہ اپنی ضد۔۔۔۔۔۔
ماہ نور خدا کے لئے مثبت سوچا کرو اتنا منفی نہ سوچا کرو ہمارے لئے ہماری بیٹی کی خوشی سب سے اہم ہے اگر وہ موسی ساتھ شادی کر کے خوش ہے تو ہمارے لئے موسی ہی سب سے اچھا ہے ۔
ویسے بھی مجھے موسی میں کوئی برائی نظر نہیں آتی اور حنین وہ میرے سگے بھائیوں سے بھی زیادہ میرا خیال رکھتا ہے محبت کرتا ہے مجھ سے ، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ میری بیٹی سے محبت نہ کرے وہ میری بیٹی کو ویسے ہی رکھے گا جیسے ہم نے رکھا ہوا ہے اسی طرح اس کے ناز اٹھائے گا جیسے ہم اٹھاتے ہیں اس لیے میرا دل بالکل مطمئن ہے ۔
تم بھی سب اللہ پر چھوڑ دو اور اپنا دل مطمئن کرلو ماہ نور ہم تقدیر سے لڑ نہیں سکتے، اپنی قسمت کو لکھ نہیں سکتے ہیں اللہ نے جو جس کے نصیب میں لکھ دیا ہے اس پر راضی رہنا چاہیے ہماری زرناب کے لیے موسی بہترین انتخاب ہے کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور وہ ہم سے بہترجانتا ہے.
🌸🌸🌸🌸
حمین نے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا جب اسے حذیفہ کی کال آئی۔
ہاں جی “وطن کے بیٹے” کیا حال ہے؟
میں ایک دم ٹھیک ٹھاک ویسے تو بھی وطن کا ہی بیٹا ہے۔۔۔
جی نہیں میں صرف اور صرف اپنے بابا کا بیٹا۔۔۔۔
وطن کا بیٹا بنا سراسر نقصان کا سودا ہے پاکستان میں ففٹی پرسنٹ سے اوپر فیمیل آبادی ہے اور سب کا بیٹا بننا گھٹے کا سودا ہے۔ تمہیں ہی مبارک ہو ایسی ممتاااااا۔ ۔۔۔
میں نے پوچھا تھا کہ جناب کہاں ہے حذیفہ نے مزید بحث ختم کرتے ہوئے اپنا سوال دہرایا
کاش میں کہہ سکتا “تیرے دل میں” مگر یہاں تو آگے سے ہی جگہ بک ہے حمین نے سرد آہ بھری اور ساتھ ہی قہقہ لگایا
کیوں میرے زخموں کو چھیڑتا ہے حذیفہ نے دکھی آواز میں جواب دیا
” وہ تجھے بھولے ہیں تو تم پر بھی لازم ہے چائے پی ، فلمیں دیکھ ، عیاشی کر۔ ۔۔۔۔۔۔”حمین نے تسلی دی۔
میں نے تجھے یہی بتانا تھا کہ میں کل اسلام آباد آرہا ہوں ایک ہفتے کی چھٹی پر ۔۔۔۔
نہ میں تیری “ماں” ہوں اور نا ہی تیری “محبوبہ” اور نہ ہونے والی “بیوی” پھر یہ اطلاع مجھے کیوں دے رہا ہے ؟
تو کمینے کی بھی کوئی آخری قسم ہے، ذلیل انسان !!! خود ھی کہتا ہے مجھے بتا دیا کر اور خود ہی نخرے دیکھا رہا ہے دفع ہو میں نہیں بات کرتا اب تجھ سے۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ حذیفہ فون بند کرتا حمین بول پڑا۔
“سب مطلب کی بات سمجھتے ہیں
کاش کوٸی بات کا مطلب سمجھتا”
میری بات کا مطلب یہ تھا کہ سب سے پہلے گھر والوں کو بتا مجھے تو پتا چل ہی جائے گا
بس کر زیادہ ڈرامے نہ کیا کر ،حذیفہ نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا بڑے نخرے ہیں سالے کے۔۔۔
حمین کے الفاظ ابھی اس کے منہ میں ہی تھے کہ اس کی نظر سڑک کنارے کھڑی حبا پر پڑی “رابن نیک کی چڑیا” یہاں اور اس وقت۔۔۔۔
🌸🌸🌸🌸
دیکھو ابرش تم مجھے آج شروع سے ہر بات بتاؤ وہ بھی آہستہ آہستہ کہ کیا ہوا تھا تمہارے ساتھ، تمہارے والدین کے ساتھ ،میں وہ دوبارہ سننا چاہتی ہوں۔
مگر میں نے آپ کو سب بتا تو دیا تھا ۔
ہاں مگر میں چاہتی ہوں کہ تم ایک دفعہ دوبارہ مجھے بتاؤ۔
زرناب کی اصرار پر ابرش نے دوبارہ بتانا شروع کیا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابرش کا مرضی
میرے بابا یعنی حمزہ علی سیال لندن میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے گئے تھے انہیں گاؤں کی زمینوں اور سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔وہاں انہیں میری ماما پسند آگئی وہ بابا کی کلاس فیلو ٹھیک دونوں نے شادی کر لی۔
دادا کو یعنی شوکت علی سیال صاحب کو یہ شادی سخت ناگوار گزری وہ چاہتے تھے بابا باہر سے پڑھ لکھ کر پاکستان واپس آئے سیاست میں حصہ لیں اور پھر یہاں ہی کسی بڑے سیاسی خاندان کی لڑکی سے شادی کریں ۔
دادا نے کیوں کہ بابا کی شادی کو پسند نہیں کیا تھا اور نہ ہی ماما کو کبھی اپنی بہو مانا تھا اس لئے پاپا نے پاکستان کو ہمیشہ کیلئے خیرباد کہہ دیا اور فیصلہ کیا کہ وہ کبھی بھی پاکستان نہیں جائیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ لندن میں ہی رہیں گے ۔
پانچ سال تک بابا کے گھر کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی جب انھوں نے ڈاکٹر سے رابطہ کیا تو پتا چلا ماما کبھی بھی ماما نہیں بن سکتیں۔
بابا اور ماما ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے ۔ بابا دوسری شادی نہیں کرنا چاہتے تھے اس لئے دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک بچی گود لیں گے۔
یہ سب باتیں بابا نے مجھے ماما کی ڈیتھ کے بات بتائیں ۔
ابرش کی آنکھوں سے آنسو پانی کی طرح بہہ رہے تھے وہ ہچکیاں لے کر رونے لگی۔
تم ایک بہادر لڑکی ہو، ہمت سے کام لو اللہ سب ٹھیک کر دیں گے۔ مجھے اللہ سے پوری امید ہے اور اگر اچھے دن نہیں رہے تو یاد رکھو برے دن بھی گزر جائیں گے زرناب نے اسے تسلی دی ۔
میں اور بابا ماما کی ڈیتھ کے بعد بھی ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے کہ ایک دن دادا کا فون آیا ان کی طبیعت بہت خراب تھی وہ بابا کو پاکستان بلا رہے تھے ان سے ملنا چاہتے تھے ۔
بابا مجھے اپنے ساتھ پاکستان نہیں لانا چاہتے تھے مگر میں اس وقت پاکستان کے حالات اور لوگوں سے باخبر نہیں تھی اس لیے میں نے ضد کی کہ میں بھی ان کے ساتھ پاکستان جاؤنگی۔
پاکستان آکر شروع میں تو سب مجھے بہت اچھے سے ملے دادا بھی مہر بھی بلکہ مہر نے مجھے بہت سیر کرائی گھمایا پھرایا ۔
پھر ایک دن دادا اور بابا میں لڑائی شروع ہوگئی مجھے سمجھ نہیں آیا یہ کیا ہو رہا ہے اونچی اونچی آوازیں حویلی میں گونجنے لگی بہت شور شرابا ہوا۔
بابا غصے سے کمرے میں آئے اور کہا کہ کل ہم لندن واپس جا رہے ہیں ہم یہاں نہیں رہیں گے۔۔۔۔
میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ انہوں نے یہاں بہاولپور کچھ زمین ماما کے نام پر لینا چاہیے تھی جب وہ شادی کے بعد ایک دفعہ ماما کو پاکستان لائے تھے ۔
مگر ماما نے اپنے نام زمین خریدنے سے انکار کردیا تھا وہ چاہتی تھی کہ بابا کے نام زمین خریدی جائے بالآخر یہ فیصلہ ہوا کہ نہ بابا کے نام سے اور نہ ہی ماں کے نام سے بلکہ زمین میرے نام پر خریدی جائے۔ جس پر بابا اور ماما دونوں راضی ہو گے۔
اس وقت وہ زمین اتنی مہنگی نہیں تھی بلکہ زمین پر باغات تھے جو ماما کو پسند آ گئے تھے مگر اب اس زمین کے پاس سے موٹر وے گزرنے کی وجہ سے اس کی قیمت اچانک بہت بڑھ گئی تھی۔
دادا چاہ رہے تھے کہ یہ زمین مہر کے نام کردی جائے ۔ اسی لیے دادا نے بابا کو باہر سے بلایا تھا دوسرا وہ میری شادی مہر ساتھ کرانا چاہتے تھے۔
بابا کیوں کے اپنے لوگوں کو اچھے سے جانتے تھے انہیں یہ دونوں باتیں ہی منظور نہیں تھیں اس لیے بابا اور دادا میں تلخ کلامی ہو گئی۔
میں اور بابا دوسری صبح تیار ہو کے گھر سے نکلے لیکن اسے بدنصیب ہی کہا جا سکتا ہے یا دادا کی سازش مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی۔۔۔۔؟
ابھی ہم گاؤں سے باہر نہیں نکلے تھے کہ ہماری گاڑی پر فائرنگ ہوگی بابا تو جگہ پر ہی ختم ہوگئے جبکہ مجھے ایک بھی گولی نہ لگی۔جو انتہائی حیران کن بات تھی ایسا لگتا تھا جیسے کوئی صرف بابا کو ہی مارنا چاہتا تھا مجھے نہیں۔۔۔۔۔
بابا کی آخری رسومات سے فارغ ہوتے ہی سب کے رویے اور نظریں مجھ سے پھر گئیں میرے سے انتہائی برا سلوک شروع ہوگیا میرا پاسپورٹ لے لیا گیا میرے واپس جانے پر پابندی لگادی گئی مجھے ایک کمرے میں بند کر دیا اور مسلسل یہی زور دیا گیا کہ تم یہ زمین ہمارے نام کر دوں ۔
بالآخر میں نے ان کی بات مان لی کہ اگر وہ مجھے واپس جانے دیں تو میں یہ زمین ان کے نام کر دوں گی پتہ نہیں انہوں نے کس کی طرف سے یہ کیا مقدمہ عدالت میں دائر کیا بہرحال مجھے ہر پیشی پر وہ عدالت لے جاتی اور وہاں جاکے میں یہی بیان دیتی کہ یہ زمین میری ہے میری والدہ نے میرے لیے خریدی تھی اور میں یہ زمین مہر کے نام کرنا چاہتی ہوں ۔
ابھی عدالت کا فیصلہ نہیں آیا تھا شاید ایک پیشی رہتی تھی کہ ایک دن مہر نے نشے کی حالت میں میرے ساتھ ۔۔۔۔،
اتنا کہہ کے ابرش دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر رونے لگی۔
اس وقت مجھے احساس ہوا کہ جن بچوں کے ماں باپ نہیں ہوتے ان پر یہ زمین کتنی تنگ ہوجاتی ہے ہر کوئی مفت کا مال سمجھ کر سلوک کرتا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا ۔
حویلی میں ایک نوکرانی تھی وہ مجھ سے بہت پیار کیا کرتی تھیں وہ مجھے کبھی اچھا کھانا بھی دے دیتی تھیں اسی نے مجھے حویلی سے نکلنے کا مشورہ بھی دیا اور میری مدد بھی کی ۔۔۔۔
ہممممم۔ ۔۔۔۔
کیا تم مجھے اس نے نوکرانی کا نام پتہ بتا سکتی ہو ۔۔۔؟
زرناب کے پوچھنے پر ابرش نے اسے نوکرانی کی تمام تفصیل بتا دیں ۔
🌸🌸🌸🌸
