No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
کونین آج پھر روز کی طرح صبح صبح شور مچا رہا تھا.
ثریا بیگم نے شور سن کر حبا سے پوچھا
یہ آج پھر تیرےباپ نے آسمان کیوں سر پر اٹھایا ہوا ہے…؟؟
حبا نے رامین کو میسجز کرتے ہوئے جواب دیا
کچھ نہیں دادو،وہی جو روز ہوتا ہے پاپا نے کچھ پیپرز ماما کو دیے تھے جو اب مل نہیں رہے……
لیکن اصل مسئلہ تو آپ کو پتہ ہی ہے. پاپا کو حذیفہ بھائی یاد آ رہے ہیں وہ ماما کے کہنے پر فوج میں چلے گے جبکہ پاپا چاہتے تھے کہ وہ بزنس میں پاپا کا ساتھ دیں جیسے مرتضٰی بھائی دیتے ہیں انکل دبیر کا،اور موسٰی بھائی انکل حنین کا….
یہاں ٹیبل پر رکھی تھی میں نے رات کو….
عترت نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے ڈری ڈری آواز میں کہا
پتہ نہیں کس بےوقوف نے مشورہ دیا تھا تم سے شادی کا…..
زرا زرا سے بات پر رونا شروع کر دیتی ہی…؟
کونین نے کمرے میں نظریں دوڑاتے ہوئے عترت سےکہا
آپ بھی تو زرا زرا سی بات پر ڈاٹنے لگتے ہیں بغیر سوچے سمجھے…
عترت نے ٹیبل کے نیچے سے پیپرز نکالتے ہوئے کونین کو جواب دیا
یہ لیں پیپرز …
عترت نے پیپرز کونین کی طرف بڑھائے مگر کونین نے پیپرز کی جگہ عترت کا ہاتھ پکڑ لیا
دیکھو تم جانتی ہو میں آج کل بہت پریشان ہوں اور اوپر سے اکیلا بھی…
کتنی خواہش تھی میری کہ حذیفہ بزنس سمبھالے مگر تم نے میرے سارے خوابوں پر پانی پھیر دیا اور میرے اکلوتے، لاڈلے بیٹے کو فوج میں بھیج دیا.
چلیں چھوڑیں صبح صبح ایسی باتیں نہیں کرتے جو ہوا بلکل ٹھیک ہوا.
عترت نےاپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کونین کو تسلی دی.
اور ہاں مجھے بےوقوف مت کہا کریں اب میں چھوٹی نہیں ہوں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اب میری اولاد بڑی ہو گئی ہے.
واہ جی واہ چیونٹی کو بھی پَر لگ گئے ہیں. میرے لیے تو تم اب بھی وہی ڈرپوک بےوقوف سی عترت ہو جو یونی کی پارکنگ میں ملی تھی.یاد ہے بائیک پر بیٹھ کر تمہارا کیا حال ہوا تھا….
کونین نے اپنی بات کوانجوائے کرتے ہوئے خود ہی قہقے لگائے.
جبکہ عترت سر ہلاتے ہوئے کمرے سےباہرنکل گئی.
کونین بیٹھے بیٹھائے 25 سال پیچھے یونی کے کیفے ٹیریا میں پہنچ گیا اور بہت سی یادیں خوشبو دینے لگیں.
“بھلے دنوں کی بات ہے
بھلی سی اک شکل تھی
بھلی سی اس کی دوستی”
🌸🌸🌸🌸🌸
رامین بڑے مزے سے لحاف میں لیٹی ٹیرس پر پڑتی بارش کے مزے لوٹ رہی تھی .مگر اس کا موبائل بار بار میسج ٹون دے رہا تھا.
اُففففففف اتنے اچھے موسم میں بھی حبا کو چین نہیں…..
مجھے نہیں جانا آج کالج تم نے جانا ہے تو جاؤ……
رامین نے میسج کا reply دیا.
رامین جلدی کرو یار آج کالج ضرور جانا ہے میں نے اسائیمنٹ جمع کروانی ہے پلیززززز
حبانے منت بھر ایموجیززز سینڈ کیے
ڈرپوک کہیں کی ….
اگر میں نہیں جاؤں گی تو وہ بھی نہیں جائے گی.اٹھ بچے رامین تیار ہو…
اپنے آپ سے مخاطب ہو کر رامین بستر سے نیچے اترنے لگی جب دروازے پر دستک کی آواز سن کر مسکرائی بابا…….
اور واپس جلدی سے لحاف میں گھس گئی.
تین بار نوک کرنے پر جب کوئی جواب نہ ملا تو حنین ہینڈل گھما کر اندر آ گیا.
اچھا تو بابا کی جان ابھی تک سو رہی ہے تاکہ بابا خود آ کر جگائیں.
(صرف رامین کو اجازت تھی کہ وہ حنین کو بابا کہہ سکتی ہے ورنہ موسٰی اور خاص طور پر حمین کو اس بات کی بلکل اجازت نہ تھی.ان کے لیے وہ مسٹر حنین تھا.)
صبح سے اتنے لوگ میری گڑیا کو جگانے آئے مگر وہ نہیں جاگی….
حنین نے کہتے ساتھ لحاف اتارا تو رامین مسکراتی ہوئی بولی ..
بابا کون کون آیا تھا…؟؟؟
پریوں کی ملکہ بہت ساری پریوں ساتھ……..
پھولوں کی ملکہ بہت سارے پھولوں ساتھ…….
ستارے اور جگنو…….
میٹھی میٹھی بولیوں والے پرندے….
حنین نے پیار سے رامین کے بال پیچھے کیے.
بابا آپ روز ایسے ہی کہتے ہیں ….
رامین نے منہ بنایا
کسی دن جلدی اٹھو گی تو سب سے ملو گی ناااااااا…
چلو اب جلدی تیار ہو جاؤ حمین جا رہا ہے تمہیں ڈراپ کر دے گا.
🌺🌺🌺🌺🌺🌺
بہت معذرت لکھی توبڑی ایپی تھی مگرڈیلیٹ ہو گئی اور کچھ لوگ اعتراض کر رہے ہیں کہ کہانی شروع نہیں ہو رہی ان کے لیے عرض ہے پہلے مجھے تمام فیملیزززز کا تعارف پیش کرنے دیں پھر کہانی چلے گی نہیں بلکہ بھاگے گی.شکریہ
