Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 49


کبھی کبھی ہم بہت خوش ہوتے ہیں اِس لیے نہیں کہ ہمیں کوئی ذاتی خوشی چڑھی ہوتی ہے بلکہ اِس لیے کہ کوئی دوسرا بہت خوش ہوتا کہ جیسے کہ آپ….؟
حنین نے ٹیرس پر موجود حمین کے برابر کھڑے ہوتے ہوئے کہا
ماما بلکل ٹھیک کہیتں ہیں پتہ ہی نہیں چلتا آپ کہاں سے اور کس وقت نمودار ہو جائیں؟
اچھا خاصا بندہ اپنی سوچوں میں گم ہوتا ہے کہ آپ……
بیڑہ غرق کر دیتے ہیں….
حنین نے حمین کا جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی اُچک لیا.
قسم سے آپ آئیٹم ہیں وہ بھی اسپیشل قسم کی….
حمین نے ہنستے ہوئے دوبارہ ریلنگ پر اپنی کہنیاں رکھ کر باہر دیکھنا شروع کر دیا.
ویسا اس وقت باہر ایسا کونسا مناظر دیکھ رہے ہو کہ نگاہ نہیں
ہٹ رہی….؟
ظاہری سی بات ہے جب گھر میں کچھ ایسا نہیں ہو گا کہ جس پر نگاہ ٹکے تو بندہ باہر ہی دیکھے گا ناااا…..
حمین نے ذومعنی انداز میں جواب دیا.
بندوبست تو کیا ہے میں نے تمہارا ….
ہاں مگر مجھے وہ کچھ خاص پسند نہیں آیا.
حمین نے منہ بنایا
وجہ……؟
عقل نام کی چیزززز نہیں اُس میں…..
حمین نے گردن موڑ کر حنین کو دیکھا
بلکل ایسے ہی جیسے شرم نام کی چیززز نہیں تم میں ….
مسٹر حنین اَب آپ زیادتی کر رہے ہیں. حمین نے دوبارہ باہر دیکھنا شروع کر دیا.
بیوی جتنی بےوقوف اور کم عقل ہو اُتنا ہی اچھا ہے میری یہ بات لکھ کر رکھ لو تمہارے کام آئے گی.
وہ کیسے…..؟
وہ ایسے بیٹا جی!!!
جتنی سادہ ، معصوم ، بھولی اور کم عقل بیوی ہو گی اُتنی جلدی تمہاری بات وہ بغیر دلیل کے مان جائے گی نتیجے کے طور پر آپ دیر تک جوان اور خوبصورت رہیں گے.
اَب تم مجھے ہی دیکھ لو ، تمہارے خیال سے میری خوبصورتی کی کیا وجہ ہے؟
“فئیر اینڈ لولی” تو کم از کم نہیں ہے…..
حمین نے مسکراہٹ دباتے ہوئے جواب دیا
درست جواب ……
اس خوبصورتی کے پیچھے جتنا ہاتھ میرے ماں باپ کے لاڈ پیار کا ہے اُتنا ہی نرمین کا بھی ہے.
جب گھر کیطرف سے آپ ٹنشن فری ہو جائیں تو آپ کی زندگی اور خوبصورتی نکھر جاتی ہے.
مجھے یہ اقرار کرنے میں بلکل شرم محسوس نہیں ہو رہی کہ میری مطمئن اور خوشگوار زندگی کے پیچھے میری بیوی کا ہاتھ ہے.
سوچ لیں اس طرح تو لوگ آپ کو “زن مرید” کہیں گے…؟
کہتے رہیں ، ساری زندگی میں بھی اُنھیں یہی کہتا رہا ہوں.
دونوں باپ بیٹا ہنسنے لگے.
دیکھو میں نےتمہارے حق میں بہترین فیصلہ کیا ہے تمہیں پورا اختیار ہے کہ تم اس فیصلے کے خلاف “اپیل” کرو. مگر…..
مگر کیا….؟
مگر یہ کہ میں نے کبھی چاند سورج کو ایک ساتھ نہیں دیکھا اور نہ ہی یہ ایک ساتھ اچھے لگتے ہیں…..
دونوں بہترین ہیں مگر اپنی اپنی جگہ پر ، ان میں سے ایک کی جگہ بھی بدلی کر دو گے تو سب اُلٹ پلٹ ہو جائے گا.
بلکل ایسے ہی میاں بیوی بھی ہوتے ہیں اگر دونوں ہی برابر کے ہوں تو شادی زیادہ عرصہ نہیں چلتی زندگی کی” بریکیں ” فیل ہو جاتیں ہیں.
لحاظ اگر ایک “سپیڈ” ہے تو لازمی طور پر دوسرے کو “بریک” ہونا چاہیے ورنہ دوسری صورت میں “ایکسیڈنٹ”……..
آپ پر ہالہ آنٹی کا اثر ہو گیا ہے……
یہ تو ہو گا اتنا ساتھ ہے ہمارا…….
تُو آپ نے اپنی زندگی اسی تجربے کی بنیاد پر گزاری ہے.
جی نہیں ، مجھے یہ تجربہ زندگی گزار کر حاصل ہوا ہے.
تو پھر “اپیل” کرنے کا ارادہ رکھتے ہو….؛
نہیں میرا پہلےبھی ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا اَب تو بلکل بھی نہیں ہے.
گڈ…..
ویسے ایک اور راز کی بات بتاؤں…؟
خیریت ہے آج ہی ساری باتیں بتانی ہیں. آپ “حج ” پر جا رہے ہیں….؟
حمین کے جواب پر دونوں ایک بار پھر کھکھلا کر ہنس پڑے.
امتحان تمہارا یا میرا نہیں بلکہ اصل امتحان نرمین اور حبا کا ہے.
خوبصورت مرد”، خوبصورت عورت سے زیادہ “خطرناک ہوتا ہے .
حنین نے حمین کے کان میں سرگوشی کی.
سیریسلی…….
حمین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھمائیں.
%100 سیریسلی….
باقی جناب بیوی تو بیوی ہوتی ہے. بیوی اور ٹی وی میں کوئی فرق نہیں ہوتا ، اک ڈرامہ ختم دوسرا شروع…..
اب کی بار دونوں کے قہقے کافی جانداز تھے. کیونکہ یہ دونوں ہی زندگی ، خوشیوں اور محبتوں کے “لاڈلے” تھے.
🌸🌸🌸🌸
چلو جی یہ کام تو مکمل ہوا اب تم آرام سے اپنے ملک واپس جا سکتی ہو…
زرناب نے زرتاشے کو اُس کا پاسپورٹ اور ضروری کاغذات دیتے ہوئے کہا
بہت بہت شکریہ
زرتاشے نے افسردہ سی آواز میں کہا
میرا تو خیال تھا کہ تم بہت خوش ہو گی مگر…..
خوش تو ہوں پر مجھے میرے بابا یاد آ رہے ہیں. پتہ جب ہم دونوں پاکستان آئے تھے تو بہت خوش تھے اور سوچا تھا جلد ہی خوشگوار یادوں کے ساتھ واپس لوٹ جائیں گے لیکن میں یہاں سے بہت تلخ یادیں لے کر جا رہی ہوں اور جسے چھوڑ کر جا رہی ہوں وہ میرے پیارے بابا ہیں.
اب تم پھر رونے لگی. اتنے آنسو کہاں سے لاتی ہو پلیززز چپ کر جاؤ مجھے اچھا نہیں لگتا جب تم روتی ہو.
زرناب نے اُسے اپنے ساتھ لگا کر چپ کرایا.
سنو اگر تمہیں برا نہ لگے تو میرے ایک کزن ہیں وہ فوج میں ہیں اورمزے کی بات یہ ہے کہ ایوی ایشن میں ہیں تمہیں ایوی ایشن پسند ہیں ناااا…..؟
اپنی بات کہ آخر میں زرناب نے زرتاشے کے تاثرات نوٹ کیے.
ہاں مجھے بہت پسند ہے مگر آپ کو کیسے پتہ چلا….؟
ابھی میری بات پوری نہیں ہوئی تم کیوں بولی بیچ میں..؟
سوری آپ کہیں میں سن رہی ہوں.
ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ جو میرے کزن ہیں وہ خیر سے آرمی ایوی ایشن میں میجر ہیں ہم اُن کے لیے ایک پیاری سی ، معصوم سی لڑکی تلاش کر رہے تھے بہت ہی اچھی فیملی ہے اُن کی….
ان کا کیا نام ہے…؟
زرتاشے کو اپنا دل باہر آتا محسوس ہوا.
حذیفہ ، پائلٹ میجر حذیفہ بخاری!!!
زرناب کے منہ سے نکلنے والے یہ
الفاظ کسی بارود کی طرح زرتاشے پر پھٹے.
تمہارا رنگ کیوں فق ہو گیا ہے طبیعت تو ٹھیک ہے ناااااا……..
زرناب نے جلدی سے آگے بڑھ کر زرتاشے کے ماتھے کو چھوا.
جی میں ٹھیک…..
پر مجھے تو کہیں سے نہیں لگ رہی…؟
چھوڑیں آپ بتائیں کیا بتا رہی تھیں.
یار میں کہہ رہی تھی ہم اپنے کزن کے لیے لڑکی تلاش کر رہے تھے میں نے اسے تمہاری تصویر دیکھائی ، معزرت تمہاری اجازت کے بغیر ، جو اسے پسند آ گئی.وہ تم سے ملنا چاہتا ہے. کوا تم اس سے ملو گی….؟
آپ کو ایک بات بتاؤ؟
زرتاشے نے جواب دینے کی بجائےالٹا سوال کیا.
تم اجازت مت لیا کرو بس کہہ دیا کرو جو دل میں ہے.
میری پہلی محبت “ہیلی” ہے مجھے ہیلی بہت پسند ہیں میں جب چھوٹی تھی تب سے ان کو آسمان میں اڑتا دیکھ رہی ہوں اور دل کرتا ہے ہاتھ بڑھا کر پکڑ لوں.
اپنی بات کے آخر میں زرتاشے ہنسنے لگی اور اس کی آنکھیں چمکنے……
اور دوسری محبت ..؟
زرناب کے سوال پر زرتاشے خاموش ہو گئی.
اچھااااااااا……..
تم ایک بار پلیززز میرے کزن سےمل لو بلکہ یوں کرتے ہیں کہ میں تمہیں کال ملا دیتی ہوں جو تم نے بتانا ہو گا بتا دینا اور جو اُس نے پوچھنا ہو گا وہ پوچھ لے گا ٹھیک ہے…
زرناب نے کہتے ساتھ ہی موبائل پر کال ملائی.
مگر میں کسی سے بات نہیں کرنا چاہتی اور کیوں کروں…؟آپ پلیززز ایسا مت کریں.
شییییییییی……
زرناب نے انگلی ہونٹوں پر رکھتے ہوئے چپ کرنے کا اشارہ کیا.
ہاں پائیلٹ صاحب کیسے ہیں؟ میں نے سوچا آپ کی صبح اچھی کر دی جائے بدلے میں مجھے ہیلی پر ایک “جھولا ” ہی دے دینا اتنا تو بنتا ہے.
تم دونوں بغیر شرط اور بدلے کے بھی کچھ کام کر دیا کرو دکھی انسانیت کی خدمت کرنا بہت ثواب کا کام ہے.
حذیفہ کی چہکتی ہوئی آواز آئی.
مجھے مت ملایا کرو اُس سے ،سمجھے ……
زرناب ناراض ہوئی.
اچھا چھوڑو نااااااا…..
بات کرو کیونکہ بات کرو گے تو بات بنے گی نااااا( زرناب نے ہنستے ہوئے موبائل زرتاشےکو دیا جسے لینے سے اُس نے انکار کر دیا.)
تم بات نہیں کرنا چاہتی ملنا چاہتی ہو….؟
زرناب نے سوالیہ نظروں سے پوچھا.
میں کیوں ملنا چاہوں گی…؟
چلو پھر اچھے بچوں کی طرح بات کر لو یقین مانو وہ موبائل سے باہر نہیں آئے گا یہ میری گارنٹی ہے. تم بات کرو میں کافی بنا لاؤں.
زرناب اپنی بات مکمل کرتی باہر کی طرف بڑھ گئی اور موبائل زرتاشے کو دے گئی.
ہیلو مس معصومہ کیسی ہیں…؟ جیسے ہی زرتاشے نے موبائل کان ساتھ لگایا.حذیفہ کی آواز سننے کو ملی . زرتاشے کی آنکھوں سے آنسو روا ہو گئے اور وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر خاموش رونے لگی.
ہیلو ، ہیلو…تم مجھے سن رہی ہو..۔؟
کافی دیر بعد زرتاشے نے اپنے جذبات پر کنٹرول کیا.
آپ کیسے ہیں..؟
یہ تو سوال برائے سوال ہوا..؟
حذیفہ مسکرایا.
میں ٹھیک ہوں .زرتاشے نے نم آواز سے جواب دیا.
تو پھر میں بھی ٹھیک ہوں.
زرتاشے اپنے آپ میں بہت شرمندہ ہو رہی تھی کہ جانے اب کیا کیا سوال پوچھیں جائیں گے…؟
دیکھو میں نے تمہیں تلاش کرلیا اب مجھے انعام کے طور پر “محبت” ملنی چاہیے.
محبت….؟
مگر میں نے تو کبھی کی ہی نہیں اور نہ ہی میں اس چیز کے حق میں ہوں.میرے خیال سےاس قسم کے فضول کام نہیں کرنے چاہیے.
“زندگی میں ایک بار محبت ضرور کرنی چاہیے تاکہ علم ہو جائے کے کیوں نہیں کرنی چاہیے۔”
حذیفہ کے جواب پر زرتاشے پتہ نہیں کتنے دنوں بعد مسکرائی اور پھر آہستہ آہستہ اسکے اندر کا ڈر ختم ہو گیا وہ باتیں کرنے لگی.
مجھے پورا یقین ہےکہ اللہ نے تمہیں میرے لیے ہی بنایا ہے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے….
“کوئی تو ہے جو ملا رہا ہے
نظامِ ہستی چلا رہا ہے”
مگر شاعر نے ایسا تو نہیں کہا
زرتاشے کی حیرت پر حذیفہ نے قہقہ لگایا.
چلو جیسا بھی کہا ہے میرا تو کام ہو گیا ناااا ، تم صرف میری بات کا مطلب سمجھو….
آپ میرے ساتھ اتنا برا ہونے کے بعد بھی ، زرتاشے نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی.
لڑکی اب تم مجھے “دیوانِ غالب” کھولنے پر مجبور کر رہی ہو . بس بات کو سمجھ لو نا اب میں کتنے شعر سناؤں
یقین مانواگر میرے بس میں ہوتا تو قدرت کی طرف سے لکھے تمہارے بُرے دن میں “خود” کاٹ لیتا.مگر یہ ناممکن ہے جس کے نصیب میں جو کھا ہوتا ہے وہ مل کر رہتا ہے بلکل ایسے جیسے میرے نصیب میں “تم”لکھ دی گئی ہو اور مجھے “تم” مل گئی.
حذیفہ کی باتوں سے ایک بار پھر زرتاشے کیآنکھوں سے آنسو بہنے لگے.
اللہ تیرا شکر ہے تو بے شک مہربان ہے ہم تو خاہ مخواہ ہی ہمت ہار دیتے ہیں گلے شکوؤں پر اتر آتے ہیں.
تو میرے مالک میرےپرکتنا مہربان ہے دنیا میں ہر ہر منٹ میں کتنی لڑکیوں ساتھ ایسا ہوتا ہے مگر میری طرح سب کو اتنا مان اور انصاف نہیں ملتا اور سب سے بڑھ کر حذیفہ جیسا “ساتھی”….
حذیفہ جانے کیا کیا کہہ رہا تھا مگر زرتاشے اس وقت صرف اپنے رب کا شکر ادا کر رہی تھی.
“اللہ تُو بہت مہربان ہے یہ انسان ہی ہے جو اپنے اوپر خود ظلم کرتا ہے”
( مفہومِ القرآن)
🌸🌸🌸🌸