No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
حذیفہ نے کل یونٹ رپورٹ کرنی تھی اس لیے وہ آج اپنی پیکنگ میں بےحد مصروف تھا کہ اچانک موبائل کی رنگ بجنے لگی…..
جلدی میں بنا دیکھے کال اٹینڈ کی.ہیلو…….
سوری آپ شاید مصروف ہیں میں پھر بات کر لوں گی.
جس طرح حذیفہ نےاپنے مخصوص فوجی سٹائل سے کال اٹینڈ کی اُس سے معصومہ نے یہی اندازہ لگایا کہ وہ بہت مصروف یا غصہ میں ہے وہ مردوں سے ویسے ہی بہت خوفزدہ رہتی تھی.اس لیے معزرت کرنے لگی.
اوہ سوری یارررررر……
حذیفہ نے معصومہ کی آواز میں واضح ڈر کو محسوس کرتے ہوئے کہا میں سمجھا شاید …………
خیر چھوڑو تم بتاؤ کیسے یاد کیا…؟
میرے خیال سے جب تمہارے ذہن میں کوئی سوال آتا ہے تب ہی تم مجھے یاد کرتی ہو. بتاؤں آج کیا پوچھنا ہے مگر زرا جلدی ، کیونکہ صبح یونٹ جانا ہے اور بھی کچھ چھوٹے موٹے کام ہیں جنھیں سمیٹنا ہے.پھر واپسی تین ماہ بعد ہو گی……
حذیفہ نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا
آپ اتنا خوش کیسے رہ لیتے ہیں…؟
معصومہ کے سوال پر حذیفہ نے ایک لمبا سانس کھینچا اور کہا
“ایلی سن سے کسی نے پوچھا کہ” آپ اتنے خوش کیسے رہتے ہیں ۔“
ایلی سن نے کہا :”میں بیوقوف لوگوں سے بحث نہیں کرتا۔“
پوچھا ”پھر کیا کہتے ہیں ؟“
ایلی سن بولا: میں انہیں جواب دیتا ہوں کہ ” آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔“
پوچھنے والے نے کہا:”پھر بھی اپنی بات یا اپنا موقف منوانے کےلئے اسے قائل کرنے کے لئے آپ کو اسے کوئی دلیل کوئی جواز تو دینا چاہیے ۔“
اس پر ایلی سن نے پوچھنے والے کو تاریخی جواب دیا ۔
”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں “
اور سنو لڑکی میں فوجی ہوں phycologists نہیں جو تم نئے نئے مسئلہ لے کر میرے پاس آ جاتی ہو.
جی بہتر….
دوسری طرف سے کمال فرمابرداری کے مظاہرے پر حذیفہ مسکرانے لگا
اپنے بارے میں بھی کچھ بتایا کرو، مجھے بھی تو پتہ ہو کہ جس “روح” سے بات کرتا ہوں اسے کیا پسند ہے اور کیا نہیں….؟
جواب تو تم نے دینا نہیں اس لیے انتظار فضول ہے میرا نمبر 3 ماہ تک بند رہے گا مشکل ہے کال کر سکوں مگر جب بھی ٹائم ملا ضرور کال کروں گا پریشان مت ہونا اور اپنا خیال رکھنا.اور بہت سارے سوال جمع کرنا واپس آ کر تمہارا “سوال نامہ” حل کروں گا اور قوی امید ہے کہ سکالرشپ بھی لے لوں گا…..
حذیفہ نے ہلکا سا قہقہ لگایا
ٹھیک ہے آپ بھی اپنا خیال رکھنا اور مجھے زندگی کا جواز بتانے کا شکریہ
کیا تم شکریہ شکریہ کرتی رہتی ہو عجیب لگتا ہے مجھے……
ایک اور بات پوچھوں…؟
میں تمہیں آج مکمل اجازت دیتا ہوں کہ تم مجھ سے جو مرضی چاہے پوچھ سکتی ہو اس لیے آئندہ یہ جملہ مت بولنا ٹھیک ہے.
جی ٹھیک ہے وہ میں نے یہ پوچھنا تھا کہ آپ شادی شدہ ہیں؟
شادی شدہ تو نہیں مگر جلد ہی منگنی شدہ ہو جاؤں گا. میری اماں آج کل اسی پروجیکٹ پر کام کر رہی ہیں انھیں ایک لڑکی پسند آ گئی ہے میرے لیے…..
حذیفہ کے جواب پر پھر سوال آیا.
کیسی ہے وہ…؟
ایک دم پٹاخہ، ریڈیو کی طرح سارا دن بجتی ہے مگر تھکتی نہیں، چلتا پھرتا انڈین ڈرامہ ہے قسطیں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں، دیکھنے میں تاج محل جیسی اور سننے میں کوئل جیسی….
حذیفہ کی نظروں میں رامین گھوم گئی.
واہ پھر تو آپ دونوں کی جوڑی بہت زبردست ہو گی…؟
ہاں ہو گئی اگر بنی تو…؟
حذیفہ کے جواب پر معصومہ کو حیرت ہوئی.
مطلب….؟؟؟
مطلب یہ کہ محترمہ فرماتی ہیں “خبردار جو مجھے گندی نظر ” سے دیکھا تو…..
حذیفہ خوب ہنسا
گندی نظر…. مطلب..؟؟۔
مس معصومہ وہ لڑکی تمہاری سمجھ سے بہت اوپر کی چیز ہے اس لیے تم اپنے ننھے ذہن پر زور نہ دو.
میں نے تو بتا دیا ہے اب تم بھی تو بتاو کہ تم کیسی ہو…؟
حذیفہ کے سوال پر دوسری طرف مکمل خاموشی چھا گئی.
پلیزززز اب فون بند مت کر دینا کیونکہ تم ہمیشہ ایسا ہی کرتی ہو سوچ لو 3 ماہ بعد بات ہو گی…
حذیفہ نے جذباتی بلیک میل کیا جس میں وہ کامیاب بھی ہو گیا.
میں بہت بدصورت ہوں، چھوٹی چھوٹی آنکھیں ہیں، کالا سیاہ رنگ ہے، بھینس کی طرح موٹی ہوں اور سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ منحوس ہوں.
( معصومہ کی آواز میں ایک کرب تھا).
مطلب تم بچوں کو ڈرانے کے کام آتی ہو….؛
حذیفہ نے اس کی اداسی کو کم کرنا چاہا
میں بڑوں کو بھی ڈرا دیتی ہوں آپ بچوں کی بات کرتے ہیں، کمال کرتے ہیں…؟
اچھا اگر ایسا ہے تو تم مجھے بھی ݙرا کر دیکھاؤ، پھر مانوں گا..؟
نہیں میں اچھے لوگوں کو نہیں ڈراتی، آپ بہت اچھے ہیں.
(بلی کے بچے ہیں.)حذیفہ نے دل میں جملہ پورا کیا.
میرے خیال سے اب مجھے بھی آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اتنی تعریف پر تو بنتا ہے
“بہت بہت شکریہ مس معصومہ”
اور پھر دونوں ہنسنے لگے.
حذیفہ نے پہلی بار معصومہ کو ہنستے ہوئے سنا اس کی ہنسی بہت پیاری تھی جیسے کوئی جھرنا بہہ رہا ہو….
ہنستی رہا کریں اچھی لگتی ہیں اور اب مجھے اجازت دیں وقت کم ہے اور مقابلہ سخت یعنی ابھی بہت کام کرنے ہیں ، اپنا خیال رکھنا اداس بلکل مت ہونا ٹھیک ہے اللہ حافظ
حذیفہ نے کلاک پر نظر مارتے ہوئے کہا
کچھ دیر خاموشی رہی پھر کال کٹ گئی.
“اور سے اور ہوتے جا رہے ہو۔۔۔
قابل غور ہوتے جا رہے ہو۔….”
چل بچے حذیفہ جلدی جلدی کام سمیٹ اس سے پہلے کہ یہ عشق تجھے DC کے ہاتھوں ذلیل کروائے.
حذیفہ نے خودکلامی کرتے ہوئے دوبارہ پیکنگ شروع کر دی.
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﻧﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﺳﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺲ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﻧﺎ ﺧﻮﺵ ﮨﮯ،
ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ؟
ﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ؟
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ؟
ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ؟
ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ، ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯽ، ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﺎ ﺧﻼ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﯾﮏ ﺑﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﯽ ﮐﻤﯽ،
ﮔﻮﯾﺎ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺑﺎﺳﯽ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁ ﻧﮑﻼ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺟﻮ ﮨﺮ ﭘﻞ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺧﻮﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﺳﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺍﺱ ﭘﻞ ﻭﮦ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﮐﭧ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﭘﺘﮧ ﻧﮧ ﻣﻞ ﺳﮑﮯ۔
ﺗﺐ ﻭﮦ ﺑﮯ ﺑﺲ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ، ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺟﻮ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ، ﭘﻮﻧﭽﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﮯ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍس کی ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ﺍﻟﺠﮭﻨﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭﺍس کا ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺟﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭨﻮﭨﻨﮯ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﺎ ﮨﮯ ﺧﻮﺩ ﭘﮧ ﻣﻀﺒﻮﻃﯽ ﮐﺎ ﺧﻮﻝ ﭼﮍﮬﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﺭﺏ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺑﮑﮭﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﮐﮭﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ،
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ پاک ﺫﺍﺕ ﺍﺳﮯ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ، ﺧﻮﺩ ﺳﭙﺮﺩﮔﯽ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ !
معصومہ نے دل میں سوچتے ہوئے بے آواز خدا حافظ کہا اور سر جھکا کر زمین کو دیکھنے لگی.
🌸🌸🌸🌸
تمہارا کیا خیال ہے وہ لوگ کیوں آئے تھے..؟
نرمین نے ڈریسنگ ٹیبل سے لوشن اٹھاتے ہوئے حنین سے پوچھا جو سونے کےلیے بیڈ پر لیٹنے لگا تھا.
میرا خرچہ کرانے اور دماغ چاٹنے آئے تھے…..
کمال کرتی ہو ملنے آئےتھے یار اور کیوں آئے تھے، پتہ نہیں تم کیا سوچتی رہتی ہو.؟
میرے خیال سے وہ رامین کے رشتے کیلئے آئے تھے مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کون مانگا چاہ رہا تھا مطلب حذیفہ یا ارتضیٰ….
مجھے ارتضیٰ زیادہ پسند ہے حذیفہ سے تو توبہ ہے دماغ چاٹ جاتا ہے……
رامین نے لوشن ہاتھ پر ملتے ہوئے پر سوچ انداز میں کہا
پہلے مجھے شک تھا مگر اب یقین ہے کہ تمہارا دماغ بلکل خراب ہو گیا ہے رامین ابھی بچی ہے…..
حمین کو نرمین کی بات بلکل پسند نہیں آئی.
تمہارے لیے چھوٹی ہے مگر دنیا کی نظر میں بڑی ہو گئی ہے.
یار کیسی باتیں کرتی ہو وہ اگر اس گھر سے وہ چلی گئی تو ہمارا گھر ویران ہو جائے گا اسی کے دم سے تو رونق لگی ہوئی ہے میں نے اپنی بیٹی کو رخصت نہیں کرنا سمجھی…..
حنین جو سونے کی نیت سے بیڈ پر لیٹ رہا تھا نرمین کی بات سن کر اٹھ بیٹھا.
اس گھر میں رونق لگانے کے لیے ویسے تو تم اکیلے ہی کافی ہو مگر تمہاری تسلی کے لیے عرض ہے کہ تمہارے لاڈلے(حمین) سے زیادہ رونق کوئی اور نہیں لگا سکتا.
اور یہ کیا کہا تم نے کہ اسے رخصت نہیں کروں گے تو اور کیا کرو گے شادی نہیں کرنی اس کی …؟
کرنی ہےبلکل کرنی ہے بلکہ بہت دھوم دھام سے کرنی ہے مگررخصت نہیں کرنا.
نرمین کی فکر پر حنین مسکرایا.
تم گھر داماد رکھو گے…؟
حنین تم اتنا اُلٹا کیسے سوچ لیتے ہو …؟
پلیززز بیٹی کے معاملہ میں کوئی ایڈونچر نہیں….
واہ نرمین بی بی تم تو بہت ذہین ہو گئی ہو.میں بلکل ایسا ہی کروں گا کیونکہ اگر صبح مجھے میری بیٹی نظر نہ آئے تو مجھے کچھ بھی نظر نہیں آتا.
حنین تم اور تمہارے ڈرامے….؟
اس سے پہلے کہ نرمین اور کچھ کہتی حنین بول پڑا
اچھا تو یہ بات تھی مگر میں پہلے رامین سے پوچھوں گا کہ اسے کوئی اور تو پسند نہیں..؟
حنین نے لیٹنے کے لیے دوبارہ تکیہ سیٹ کیا اسے لیٹتا دیکھ کر نرمین پھربول پڑی
حنین مجھے موسیٰ کے لیے حبا پسند ہے تمہیں کیسی لگتی ہے..؟
نرمین نے بیک وقت اپنی رائے بھی دی اور اس کی مانگ بھی لی.
وہ ڈر پوک سی……..
نہیں یار اس طرح تو دونوں ایک جیسے ہو جائیں گے اور ان کے بچے ان سے بھی چار ہاتھ آگے ہوں گے .میرے خیال سے کوئی تیز تراز سی لڑکی دیکھنی چاہیے موسیٰ کے لیے، تاکہ دونوں میں سے ایک تو شیر ہو…..
مگر…..
اس سےپہلے کہ نرمین کچھ کہتی دروازےپر دستک ہوئی اور حمین اندر آیا .
گرے کلر کی ٹی شرٹ اور بلیک ٹراؤزر میں وہ بہت پیارا لگ رہا تھا.
آ میرے شیر،ادھر بیٹھ….
حنین نے اپنے پاس جگہ بناتے ہوئے کہا
(چلو جی چھٹی ہوئی اب ان باپ بیٹے نے میری ایک نہیں سننی.)
نرمین دل میں سوچتی ہوئی خود بھی سونے کی تیاری کرنی لگی. مگر اس سےپہلے کہ وہ سونے کے لیے لیٹتی ایک بار پھر دستک کی آواز کے ساتھ موسیٰ اور رامین کمرے میں داخل ہوئے.
ارے واہ کمال ہو گیا آج تو ماں کا لاڈلا باپ کی موجودگی میں بھی آ گیا.
بیٹھو…..
حمین بلکل حنین کے سامنے جبکہ رامین اور موسیٰ نیچے کارپٹ پر ہیٹر پاس بیٹھ گئے.
بزنس کیسا جا رہا ہے..؟ صاحبزادے…..
بلکل ٹھیک ٹھاک ، آپ بھی چکر لگائیں نااااا کسی دن….
چلو صبح دیکھتے ہیں .موسیٰ کے کہنے پر حنین نے جواب دیا.
جی نہیں بڑا میں ہوں پہلے میرے آفس آنا پھر جہاں دل کرے جانا…..
ویسے کیا باتیں ہو رہی تھیں اپنی ڈارلنگ سے ، حمین نے آنکھ مار کر حنین سےپوچھا
حنین نے ایک لمبی سانس لی اور دکھی شکل بناتے ہوئے کہا
رومنس تو تمہاری ماں کو چھوکر نہیں گزرا مجھے حسرت ہی رہ گئی…….
اس لیے ہم تم لوگوں کی شادیوں کا سوچ رہے تھے.
مجھے زرناب بہت پسند ہے اور تمہاری ماں حبا کے واری صدقے جا رہی ہے.
وہ چڑیا……چوں چوں چوں
ماما کی چوائس بلکل ماما جیسی ہے اور آپ کی آپ جیسی ایکدم زبردست……
رامین نے مسکراتے ہوئے داد دی.
مسٹر حنین آپ پلیز زرناب کانام نہ لیں میں اُسے کورٹ میں بڑی مشکل سے برداشت کرتا ہوں گھر میں تو بلکل نہیں کروں گا……؟؟؟
بھائی یہاں آپ زیادتی کر رہے ہیں قسم سے اتنی اچھی ہے وہ…
موسیٰ نے زرناب کی سائیڈ لی جس میں رامین نے پورا ساتھ دیا.
براہ مہربانی اس گھر کو گھر رہنے دو چڑیا گھر مت بناؤ…..
نرمین جو کافی دیر سے ان سب کی باتیں برداشت کر رہی تھی بول پڑی.
چڑیا گھر……
تینوں نے ایک ساتھ کہتے ہوئے حنین کو دیکھا
ظاہری سی بات ہے جس گھر میں باپ حنین جیسا، بیٹا حمین جیسا، بیٹی رامین جیسی ، بہو زرناب جیسی اور داماد حذیفہ جیسا ہو تو بس…..
کم از کم ہم اس علاقے میں رہنے کے قابل نہیں رہیں گے.
میری مانو تو اس گھر کے باہر ملک ویلاز کی تختی اتار کر چڑیا,گھر یا پاگل خانہ کی لگا دو.
نرمین نے انتہائی غصہ اور دکھ کے ملے جلے لہجہ میں کہا
Objection u honour…..
یہ تو زیادتی ہے آپ نے اپنے لاڈلے کے علاوہ سب کو رگڑ دیا.
حمین نے احتجاج کیا جبکہ رامین اور حنین نے ہاتھ اوپر کر کے باقاعدہ احتجاج کے نعرے لگائے.
احتجاج…احتجاج…احتجاج
انصاف…..انصاف…..انصاف
بند کرو یہ ڈرامہ بازی، ساری دنیا سو رہی ہے اور تم لوگ شور مچا رہے ہو اپنا نہیں تو دوسروں کا خیال کرو. زرا گھڑی کی طرف دیکھو رات کے 11بج رہے ہیں بھلا یہ وقت شور کرنے کا ہے….
نرمین نے ڈانٹا
اب ہم زیادتی پر احتجاج بھی نہ کریں….
رامین نے معصوم شکل بنا کر حمین کو دیکھا کیونکہ وہ جانتی تھی ایسے موقعوں پر کہاں سے اور کس سے سپوٹ ملے گی.
میری مانو تو تم دونوں اس وقت دھرنا دے دو جب تک “ہوم منسٹر” تمہارے مطالبات مان نہ لے.میں بھی ایسا ہی کرتا تھا.
حنین نے انھیں مزید شہ دی.
شاباش حنین یہ کس طرف لگا رہے ہو اولاد کو…..
(اس ساری کاروائی کے دوران موسیٰ صرف مسکرانے پر اکتفا کر رہا تھا وہ ایسا ہی تھا چپ چاپ سا…)
مجھے لگتا ہے تم لوگوں کی انھی حرکتوں کی وجہ سے ایک دن میرا ہارٹ اٹیک ہو جائے گا یاپھر دماغ کی کوئی رگ پھٹ جائے گی اتنی ٹنشن دیتے ہو تم سب مل کر…..
نرمین نے اپناسر پکڑ لیا.
پھر ایسا کرتے ہیں کہ فوجی داماد کی جگہ ڈاکٹر داماد لے لیتے ہیں اس طرح کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں آپ کو فوراً طبی امداد گھر پر ہی مل جائے گی. کیسا آئیڈیا ہے…؟
رامین نے موسیٰ اور حمین سے پوچھا.
موسیٰ تو چپ رہا جبکہ حمین نے انگوٹھے سے آئیڈیا کو ok کیا. حنین نے پھیکی مسکراہٹ سے رامین کو دیکھا اور ایک گہری سانس خارج کی.(شرم نام کی چیز حنین کی اولاد میں نہیں) نرمین نے افسوس سے سر ہلایا.
چلو اب تم سب آج کا ڈرامہ یہاں روک کر سونے چلے جاؤ بہت دیر ہو گئی ہے کل یہاں سے دوبارہ شروع کر لینا….
نرمین کے کہتے ہی موسیٰ، حمین اور رامین اپنی ہنسی دباتے چلے گئے.
ان سب کے جاتے ہی حنین بھی بیڈ سے نیچے اتر کر اپنے سلیپر پہننے لگا.
اب تم کہاں جا رہے ہو…؟
آتا ہوں مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے رامین سے جو میں سب کے سامنے نہیں پوچھ سکتا تھا.تم شاید ٹھیک کہہ رہی تھی رامین اب بڑی ہو گئی ہے.
حنین کہتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا جبکہ نرمین اسے اداس دیکھ کر اداس ہو گئی اور نم آنکھوں سے مسکرانے لگی. اسے حنین کے اندر ایک شفیق باپ لی جھلک نظر آئی جو اپنی بیٹی کی رخصت کا سوچ کر دکھی ہو گیا.
کتنے روپ ہیں تمہارے “حنین ملک”……
🌸🌸🌸🌸
