Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

ہاں اب بتا بھی دے کیا بات ہے…؟؟؟
پچھلے ایک گھنٹے میں ، میں دو دفعہ coffee پی چکا ہوں اور تُو نے ایک دفعہ بھی نہیں پی…..
ایڈوکیٹ حمین ملک آپ نے میرے حصے کی بھی پی لی ہے تو میں کیسے پیتا…..؟؟؟
حذیفہ کے جواب پر حمین نے بھر پور قہقہ لگایا میں پوچھ پوچھ کر تھک گیا ہوں کہ “کیا بات ہے”؟ تو کچھ بتاتا ہی نہیں پھر میں صرف تیری شکل دیکھ کر کیا کروں coffee بھی نہ پیوں…..؟؟؟
ایڈوکیٹ بیچارہ کیا کرے ٹھنڈا پانی پی مرے.
“تیری معصومیت پر مر جانے کو جی چاہتا ہے”
زرناب تیرے بارے میں بلکل ٹھیک کہتی ہے .لگتا ہی نہیں کہ تو باہر سے تعلیم حاصل کر کے آیا ہے تیری باتوں سےلگتا ہے کہ تو کسی سکھ گاؤں کی “ماسی بسنتو” ہے.
پتہ نہیں کہاں کہاں سے باتیں نکال کر لاتا ہے انھیں ایجاد کرنے والے بھی اب تک مر کھپ گئے ہونگے. آج تک تیرے منہ سے انگلش میں کوئی کہاوت یا ضرب مثال نہیں سنی.
چھوڑ تو میری تعریفیں نہ کیا کر بس اپنا مسئلہ بتا کہ کیا ہے؟
یار وہ اُس دن تو کہہ رہا تھا نااا کہ….
حذیفہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیسے وہ حمین سے “مس معصومہ” کے بارے میں بات کرے.
انسان تین چیزیں کبھی نہیں چھپا سکتا…
محبت
کھانسی
اور
پاپڑ کھانے کی آواز🤣🤣🤣
کھانسی تجھے ہے نہیں پاپڑ تو کھا نہیں رہا پیچھے بچ گئی”بیچاری محبت” جسے تو کر تو رہا ہے مگر خاصے بیہودہ طریقے سے…….
حمین نے ٹیبل کو اپنی انگلیوں سے بجاتے ہوئے کہا
مجھے وہ بہت اچھی لگنے لگی ہے میں اس کے بارے میں سوچتا نہیں ہوں مگر….؟؟
فلحال تو آپ صرف یہ سوچیں کہ ہائی کمان نے آپ کے بارے میں کیا سوچا ہوا ہے مطلب تو اوپر مورچے میں کب تک جا رہا ہے برف تو بڑے بڑوں کو سیدھا کر دیتی ہے وہ تو پھر سیاہ چن کی برف ہے….
بس یہ ایک ماہ کی چھٹی ہے اُس کے بعد سیدھا اوپرررررر…
بس بس اتنا اوپر نہ چلے جانا کہ پھر سیدھا زمین کے نیچے جانا پڑے.
کمینہ میں اپنی شادی کے خواب دیکھ رہا ہوں اور تو مجھے زمین کے نیچے پہنچا رہا ہے.
حذیفہ نے حمین کو زور سے مکا مارا.
بس مجھے کسی طرح اس مس معصومہ کا پتہ کرنا ہے”کیا چیز ہے یہ مس معصومہ…؟” مجھے یہ مسٹری ہر صورت solve کرنی ہے اور تو اس میں میری مدد کرے گا.
حذیفہ نے مدد طلب نظروں سے حمین کی طرف دیکھا
“عشق تماشا لگائے رکھتا ھے عقل تالیاں بجاتی ھے”
ایڈوکیٹ حمین ملک مجھے تو تیرے بھی حالات کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے بات بات پر شعر……
حمین کے شعر پڑھنے پرحذیفہ نے اسے تفتیشی نظروں سے دیکھا.
میں تیری طرح نہیں کروں گا کہ ہر کسی کے آگے روتا پھروں بلکہ سیدھا لڑکی کے باپ پاس جاؤں گا اور اپنا کیس جیت کر ہی لوٹوں گا سمجھے…..
چل اب کچھ کھانے کا آڈر کر خالی coffee سے پیٹ نہیں بھرتا.
حذیفہ نے ویٹر کو اشارہ کیا جبکہ حمین اپنے موبائل پر ریسیو ہونے والے میسج کو پڑھ کر کچھ پریشان ہو گیا.
🌸🌸🌸🌸
ڈیرے پر اس وقت بہت سے لوگ موجود تھے بڑے سیال یعنی مہر علی سیال کے دادا شوکت علی سیال اُن سے الیکشن کے بارے میں ضروری باتوں میں مصروف تھے جب مہر علی سیال انتہائی غصے کے عالم میں داخل ہوا.
دادا آپ نے ابھی تک اُس کا کچھ نہیں کیا مجھے لگتا ہے جو بھی کرنا ہے مجھے خود ہی کرنا پڑے گا…….
او کاکے آرام سے ، پھر لوگوں کو چلے جانے کا کہا
تیری جوانی تجھے پریشان کر رہی ہے یہ عجیب بات نہیں ، عجیب بات یہ ہے کہ یہ ہمیں بھی پریشان کر ہی ہے تو پہلا انسان نہیں جو جوانی چڑھا ہے سب پر آتی ہے جوانی مستانی…
شوکت علی نے ہنستے ہوئے مہر کو پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا.
اوئے گامے یہ حقہ گرم کر کے لا…..
جیسے ہی گامے جو شوکت علی کا خاص بندہ تھا حقہ لے کر گیا تو شوکت علی نے رازداری سے مہر کے کان میں کہا
اوئے گدھے، بےوقوف تجھے کتنی بار بولا ہے سب کے سامنے اپنی بکواس بند رکھا کر یہاں بہت سے ابھی بھی اُس کے وفادار ہیں.
مگر گاما آپ کا خاص آدمی ہے.شوکت علی کی بات سن کر مہر نے قدرے ناگواری سے جواب دیا
وہ اُس کا بھی خاص آدمی رہ چکا ہے سمجھے…..
میں نے تجھے جس کام سے بھیجا تھا اُس کا کیا ہوا…؟
آپ نے کس مسخرے کے پاس بھیج دیا تھا وہ ایڈوکیٹ حمین ملک وکیل کم اور سرکس میں کام کرنے والا جوکر زیادہ لگتا ہے.
مہر کے جواب پر شوکت علی نے حیرت سے مہر کو دیکھا
پتر تُو کھوتے کا کھوتا ہی رہیں ملک کا سب سے نامور اور قابل وکیل ہے کئی کئی ماہ اسے اپنا مقدمہ دینے کے لیے چکر لگانے پڑتے ہیں پر ایک دفعہ وہ حامی بھر لے تو سمجھو کہ کیس ہم جیت گئے یہی اُس کی خوبی ہے آج تک کوئی مقدمہ ہارا نہیں. ہمیں مستقبل میں اس کی بہت ضرورت پڑنے والی ہے.
ٹھیک ہے پر اُس لڑکی کا کیا کرنا ہے…؟
وہ تو میرے پر چھوڑ دے ابھی الیکشن ہونے والے ہیں میں کسی قسم کا ہنگامہ afford نہیں کر سکتا.
پتہ نہیں آپ اس کا کب بندوبست کریں گے جب پانی گردن تک آ جائے گا….؟
مہر کہتا ہوا ڈیرے سے باہر کھڑی اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا جب شیدا بھاگا بھاگا آیا.
بڑے سیال صاحب آج پھر بی بی ہنگامہ کر رہی ہیں……
اِس کی تو میں خبر لیتا ہوں .مہر جو بیٹھنے کے لیے گاڑی کا دروازہ کھول رہا تھا ضرور سے بند کرتے ہوئے اندر کیطرف بڑھ گیا.
کتنی مرتبہ کہا ہے جوان خون ہے اس کے سامنے مت ایسی باتیں کیا کرو آج پھر گھر میں تماشا لگے گا.
🌸🌸🌸🌸
ماما ایک بات بتائیں آپ شادی سے پہلے بھی ایسے ہی کرتیں تھیں کے بابا ساتھ رہ کر ایسی ہو گئیں ہیں…؟
ارتضیٰ نے ہالہ کے ساتھ دیوار پر پھولوں کی بیلیں سیٹ کرتے ہوئے پوچھا
جی نہیں تمہارے بابا انتہائی بور انسان ہیں انھیں اِن چیزوں سے کوئی غرض نہیں مجھ میں سے خوبیاں خدا کی طرف سے ہیں.
چلو اب نیچے آ جاؤ…..
بہت ہی زبردست ڈیکوریٹ کیا ہے…….
ارتضیٰ نے پورے ٹی وی لاؤنچ میں نظر مارتے ہوئے ہالہ کو داد دی.
شکریہ مگر تم دیکھنا تمہارے بابا کو بلکل بھی یاد نہیں ہو گا کہ آج ہماری شادی کی سالگرہ ہے.
پر ہمیں تو یاد ہے نااااااااا
عترت اور حبا نے لاؤنچ میں داخل ہوتے ہوئے کہا
اوہ ہوچڑیا آئی ہے…..
ارتضیٰ نے حبا کوچڑایا
ایک تو حنین بھائی ہر وقت مجھے تنگ کرتے رہتے ہیں اور اب آپ بھی…..
حبا نے ہالہ سےگلے ملتے ہوئے ارتضیٰ کی طرف دیکھ کر کہا
خبردار جو کسی نے میری بیٹی کو تنگ کیا تو…..
ہالہ نے ارتضیٰ کو تنبہہ کی جبکہ عترت نے خوب دل کھول کردیکوریشن کو سراہا.
آج تمہارے ساتھ “پٹاخہ” نہیں ہے خیر ہے….؟؟؟
ارتضیٰ نے شرٹ کے بازو سیدھے کرتے ہوئے رامین کا پوچھا
آئیں میں آپ کو ایک راز کی بات بتاؤ…
کیا بات ہے ہالہ نے مسکرا کر عترت سے پوچھا
آپی میں چاہ رہی تھی کہ آپ سب لوگ ہمارے ساتھ مل کرحنین بھائی کے گھر چلیں. حذیفہ کی تھوڑی سے چھٹیاں بچیں ہیں پھر وہ تین ماہ بعد آئے گا….
تو…؟؟؟
ہالہ نے ناسمجھی سے پہلے عترت اور پھر حبا کو دیکھا
تو پھپھو ہم سب چاہتے ہیں کہ حذیفہ بھائی کہ جانے سے پہلے رامین اور ان کی منگنی کر دی جائے کیسا….؟
اپنی بات کے آخر میں حبا نے باری باری ہالہ اور ارتضیٰ کی طرف دیکھا جو اس خبر سے زیادہ خوش نظر نہی آ رہے تھے.
🌸🌸🌸🌸
حذیفہ باتھ روم میں تھا جب اس کا موبائل بجنے لگا.
کیا ہے وہاں بھی چین سے رہنے نہیں دیتے.
حذیفہ نے ٹاول سے ہاتھصاف کرتے ہوئے خود کلامی کی مگر موبائل پکڑتے ہی ایک دل فریب مسکراہٹ ہونٹوں پر آ گئی.
زہے نصیب ، آج آپ نے کیسے یاد کیا، کہاں دس دفعہ کال کرنے پرآواز سننے کو ملتی تھی اور کہاں جناب نے خود کال کی سورج کہاں سے نکلا ہے…؟
اوئے سورج تو نکلا ہی نہیں یہ تو بارش ہو رہی ہے .
حذیفہ نے ٹیرس پرنظر مارتے ہوئے کہا
آپ کہاں تھے اتنے دنوں سے کال نہیں کی.
دوسری طرف سے معصومہ کی اداس آواز آئی جسے حذیفہ نے اپنی خوشی میں محسوس ہی نہیں کیا.
“یعنی تم نظر انداز کرو ہمیشہ اور ہم انتظار کریں مسلسل…..”
ایک سوال پوچھو…؟
جی ضرور پوچھیں بلکہ دو پوچھیں…؟
(اس نے مجھے گائیڈ سمجھ لیا ہے حذیفہ نے دل میں سوچا)
یہ مرد عورت کو اپنے پاؤں کی جوتی کیوں سمجھتے ہیں…؟
‏جو لوگ عورت کو پاؤں کی جوتی” سمجھتے ہیں وہ اپنے لئے “رشتے” بھی “باٹا” اور “سروس” کی “دوکانوں” پر “ڈھونڈیں” .
میرا مطلب ہے جاہل لوگ ہیں ورنہ “وجودِ زن” سےہی کائنات میں رنگ ہیں.
آپ کی سوچ کتنی اچھی ہے سب مرد آپ جیسے کیوں نہیں ہوتے…؟
معصومہ کے جواب پر حذیفہ ہنسا
اچھا سنو میں تین ماہ کے لیے اوپر کیمپ میں جا رہا ہوں شاید بات نہ ہو سکے مگر جیسے ہی مجھے ٹائم ملے گا میں ضرور تمہیں کالکروں گا اپنا خیال رکھنا.
حذیفہ کی بات سنتے ہی دوسری طرف سے کال بند ہو گئی. حذیفہ نےحیرت سے موبائل سکرین کو کچھدیر دیکھا پھر سر نفی میں ہلاتا باہر کی جانب بڑھ گیا.
🌸🌸🌸🌸