No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
یار تجھے کچھ شرم آتی ہے میرا مطلب ہے کہ تجھے شرم نہیں آ رہی ….
حنین کے سوال پر دبیر نے خشمگین نظروں سے اُسے دیکھا جو بظاہر لاپرواہ سا سیب کھا رہا تھا.
شرم اور مجھے….
میرے خیال سےآپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ حنین ملک کا شرم سے کوئی تعلق نہیں……
ہاہاہا ویری فنی….
حنین نے منہ بنایا.
تُوسیدھی طرح بکواس کرے گا تو سمجھ آئی گی ناااا…..
سیدھی بات یہ ہے کہ تو دو عدد جوان بیٹوں کا باپ ہے مگر تجھے کچھ خیال نہیں اُن کا…..
اچھا…
باپ تو تُو بھی دو عدد بیٹوں کا ہے دبیر نے حنین کے انداز میں اس کی نقل اتاری.
ہاں مگر میرے بیٹے تیرے بیٹوں جیسی حرکتیں نہیں کر رہے…؟
مطلب….؟
اب کی بار دبیر نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے قدرے سیریس انداز میں پوچھا
مطلب یہ میرے جگر…
کہ جو آپ کا ڈاکٹر شہزادہ ہے نا وہ میری بیٹی کو تنگ کر رہا ہے…
حنین کی بات پر جہاں دبیر کے چہرے کے تاثرات بدلے وہیں دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے زریاب کو بھی حیرت کا جھٹکا لگا
ناممکن……
ایسا نہیں ہو سکتا اور اگر ایسا ہوا تو میں اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا.
بس…..؟؟؟
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر پوچھا جبکہ زریاب دونوں سے ہاتھ ملاتے ہوئے کھڑکی پاس کھڑا ہو گیا.
توُ بتا اور کیا کروں جس سے تیری تسلی ہو جائے ….؟
ہممممم….
میرے پاس اس مسئلے کا قدرے مناسب حل ہے اگر تمہیں برا نہ لگے تو کہوں……
ایسا کرتے ہیں کہ ہم سزا کے طور پر ساری زندگی کے لیے یہ حق رامین کو دے دیتے ہیں کہ وہ ارتضیٰ کو تنگ کرے کیا خیال ہے.. ؟
ہیں…..؟؟؟
یہ کیا سزا ہوئی….
دبیر اور زریاب نے ایک ساتھ حیرت کا اظہار کیا.
آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ……
ایک تو جب تک تم لوگوں کو ہر بات کی تشریح نہ کر کے بتائی جائے تمہیں بات سمجھ ہی نہیں آتی……..
اگر دل لگا کر میٹرک میں دو تین سال لگائے ہوتے تو بات شروع ہوتے ہی اُس کے متن تک پہنچ جاتے اب مجھے ہی دیکھ لو ، کوئی بھی کسی بھی قسم کی بات شروع کرتا ہےتو میں سمجھ جاتا ہوں اس کا مقصد کیا ہے…..
حنین نے اپنا کالر سیدھا کیا.
اوووو بھائی رہنے دے میں نے ایک دفعہ ہی بہت مشکل سے میٹرک کے پیپرز دیے تھے دو تین بار توبہ ، زریاب نے جھرجھری لی.
قسم سے زرا بھی مشکل نہیں ہوتے میٹرک کے پیپرز میں نے خود تین بار دیے ہیں.
حنین کے جواب پر دونوں ہنسنے لگے
حنین پلیز سیریس ہو جا مجھےبہت ٹنشن ہو رہی ہے…..
جب مجھے نہیں ہو رہی تو تجھے کیوں ہو رہی ہے میری بیٹی کو تنگ کر رہا ہے تیری کو نہیں ….؟؟
حنین کے جواب پر زریاب نے افسوس سے دبیر کی طرف دیکھا …….
“لگتا ہے آج پھر تیرا تعویذ جعلی نکل آیا ہے
تیرا محبوب قدموں کی بجاۓ گلے پڑ گیا ہے”
حنین نے زریاب کی طرف دیکھ کر کہا جس پر زریاب نے دونوں ہاتھ حنین کے سامنے جوڑ دیے
غلطی ہو گئی مجھ سےتو اپنی بکواس جاری رکھ.
ہاں تو دبیر میں کہہ رہا تھا کہ ارتضیٰ کو میری سر پرستی میں دے دے پھر میں جانو ں اور میری بیٹی…..
کیا پہیلیاں بجھوا رہا ہے کھل کر بات کر…
ہائے میرے ربا کسی کو میرے جیسے ناسمجھ دوست نہ دینا.
سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ تمہارا بیٹا میری بیٹی کو پسند آ گیا ہے جس کی وجہ سے وہ پریشان رہنے لگی ہے اس سے پہلے کہ اس کا زریاب والا حشر ہو میں چاہتا ہوں دونوں کی شادی کر دی جائے.
حنین کی بات ختم ہوتے ہی دبیر کے چہرےپر مسکراہٹ آ گئی
سچی قسم سے حنین تو نےمیرے اور ہالہ کے دل کی بات کہہ دی مجھے منظور ہے.
دبیر نے کھڑے ہو کر حنین کو جپھی کی دعوت دی.
شکریہ میں صرف نرمین سے گلے مل کر خوش ہوتا ہوں.
دبیر نے زبردستی حنین کو گلے لگایا جس پر اُس نے عجیب و غریب منہ بنائے جبکہ زریاب حنین کو دیکھ رہا تھا.
میرے بارے میں اتنا سوچو گے🙈🙈
یقین کرو😑😑
رہی سہی عقل سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے😂
حنین نے زریاب کو اپنی طرف پر سوچ انداز میں دیکھتے ہوئے دیکھ کر کہا
تجھ سے بات کرنا یا تجھے دیکھنا بھی گناہ ہے….
زریاب تیزی سے باہر کی طرف لپکا
چھوڑ کر جارہے ہو ,آخری بات سنتے جاؤ…
سیدھے بھاڑ میں جانا ,دائیں بائیں نہ مڑ جانا….
حنین نےجلتی پر تیل کا کام کیا جبکہ دبیر نے فوراً اسے بازو سے پکڑ کر روکا.
تُو جانتا تو ہے اِسے پھر ناراض کیوں ہو جاتا ہے .
دبیر نے اسے اپنے ساتھ بیٹھاتے ہوئے کہا
یار میں ان دنوں ویسے ہی بہت پریشان ہوں اوپر سے یہ میرا دماغ خراب کر دیتا ہے الیکشن سر پر ہیں اس دفعہ مخالف پارٹی بہت سٹرونگ ہے اور گھر میں ماہ نور….
ابھی اتنا ہی زریاب بول پایا تھا کہ حنین سے رہا نہ گیا
“بعض خاوند اپنی بیویوں کو بےپناہ چاہتے ہیں اور بعض تو بس پناہ چاہتے ہیں.”
لاکھ کنٹرول کرنے پر بھی دبیر کا قہقہ نکل گیا جبکہ زریاب مزید بگڑ گیا.
حنین تو میرے ہاتھوں مارا جائے گا قسم سے…..
زریاب نے برداشت کی آخری حد کو چھوتے ہوئے کشن حنین پر دے مارا جو صوفے پر Tomسٹائل میں لوٹ پوٹ ہنس رہا تھا.
تیری وجہ سے میرا خون بڑھ جاتا ہے حنین نے کشن کیچ کرتے ہوئے زریاب کو جواب دیا.
اور تیری وجہ سے میرا BP…..
زریاب کے جواب پر دبیر نے صرف ہنسنے پر اکتفا کیا کیونکہ اُس کی فیور اور حنین کی دشمنی نبھانا بہت مشکل تھا.مگر وہ حنین کودیکھ کر یہ سوچ رہا تھا کہ
“زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ Positive باتیں کرتے ہیں۔☺
ان سے جب بھی بات ہو بندہ ریلیکس فیل کرتا ہے
جیسے کوئی بوجھ ہلکا ہو گیا ہو بہت الگ ہوتے ہیں❤ ایسے لوگ جو اپنی چند باتوں سے دوسروں کو بہت خوشی دیتے هیں ان سے کی ہوئی دو منٹ کی بات سے آپ کے چہرے پہ مسکراہٹ بنی رہتی ہے….”
🌸🌸🌸🌸
دیکھو موسیٰ میرے خیال سے ہمیں سب سے پہلے اس کا میڈیکل کرانا چاہیے اس کے بعد جو صورتِ حال سامنے آئے گی اُسکے حساب سے ہم اگلا قدم اٹھائیں گے کیا کہتے ہو تم….؟
زرناب نے ساری بات موسیٰ کے گوش گزار کر کہ رائے مانگی.
مگر یار……
اس طرح تو بات پھیل جائے گی جو میں چاہتا نہیں ہوں.
نہیں ہم سب کچھ فلحال رازمیں رکھیں گے تم مجھ پراعتبار کرو.
تم پر اعتبار ہے تو تمہیں بتایا ہے نا….
ٹھیک ہے میں اُس لڑکی سے بات کر لوں پہلےاس کا راضی ہونا ضروری ہے.
زرناب کہتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھ گئی جبکہ موسیٰ وہیں TV لاؤنچ میں کچھ سوچتے ہوئے ارتضیٰ کا نمبر ڈائل کرنے لگا
آپ مجھےجھوٹی امید نہ دلائیں پلیززز ، مجھے معلوم ہے کچھ نہیں ہوگا میں کچھ نہیں کر سکتی ان لوگوں کے خلاف ، اگر آپ میرے لیے یتیم خانے کو بہتر نہیں سمجھتی تو پلیز مجھے میرے ملک واپس بھیج دیں میں آپ کا احسان ساری زندگی یاد رکھوں گی.
لڑکی نے ہاتھ جوڑ کر زرناب کی منت کی…
امید پر دنیا قائم ہے میں تمہیں بتاؤں اُمیدیں ہمیں کیا دیتی ہیں؟
اُمیدیں ہمیں سیاہ میں سفید رنگ بھرنا سیکھاتی ہیں۔اُمیدیں ہمیں حبس میں بھی صبر سے سانس لینا سیکھاتی ہیں۔
اُمیدیں ہمیں اندھیرے میں دیکھنا سیکھاتی ہیں۔اور جب ہم بالکل تنہا ہوتے ہیں اور تنہائی کا خوف ہم پہ کسی عذاب کی طرح نازل ہوتا ہے۔تو اُمیدیں کسی معصوم فرشتے کی طرح ہمارے گرد پھیل جاتی ہیں۔ہمیں تنہائی میں اچھا سوچنا اور مشکلات سے نکلنا سیکھاتی ہیں۔
تو اُمیدوں کو اپنا دوست بنا لو۔دنیا جو بھی کہے اس پہ مت جاؤ۔جو تم آج ہو وہ تم کل نہیں ہو گے۔اس پہ یقین رکھو۔کیونکہ اس دنیا میں کبھی بھی کچھ بھی ایک جگہ رُکتا نہیں ہے۔نہ قسمت اور نہ وقت…
🌸🌸🌸🌸
حذیفہ نے جیسے ہی اپنا موبائل آن کیا تو سکرین پر حمین کا میسج جگمگا رہا تھا.
“وہ پوچھنا یہ تھا کہ اگر نکاح کے وقت گواہ نہ ملے تو وطن کی مٹی گواہ ہو سکتی ہے..؟”
جی ہاں بلکل ہوسکتی ہے مگرشرط یہ ہے کہ مٹی ڈالنے والے بھی موجود ہوں .
جیسے ہی میسج سینڈ کیا کچھ دیر میں توقع کے عین مطابق حمین کی کال آ گئی.
بےغیرت انسان بلکہ بےغیرت فوجی میں نے تجھ سے ایک سیدھا سوال کیا تھا کیونکہ تم لوگ وطن کی مٹی کو ہر جگہ گواہ بنا کر اپنا کام نکلوا لیتے ہو مگر تو نے انتہائی الٹا جواب دیا ہے لگتا ہے برف تیرے دماغ میں جم گئی ہے.
نیچے کیسے آ گیا تو…؟ میرے حساب سے تواب اوپر جانا بنتا تھا تیرا…….
حوصلہ جگر…..
تونے تو ایک دم حوصلہ چھوڑ دیا ہے حوصلہ سیکھنا ہے تو پریشر ککر سے سیکھو ، آگ پر بیٹھا سیٹیاں بجا رہا ہوتا ہے”
حذیفہ شکر کر تو اس وقت میری دسترس سے باہر ہے ورنہ میں نے کم از کم تیرا حوصلہ ضرور چک کرنا تھا چولہے پر بیٹھا کر….
حمین کے جواب پر حذیفہ نے قہقہ لگایا
اچھا بتا میرے کام کا کیا بنا…؟
اب کی بار حذیفہ سیریس تھا.
جیسے ہی زمین پر آتا ہے ویسے ہی تجھے ہری ہری سوجھنے لگتی ہے شرم کر ، میری مان تو اللہ توبہ کیا کر….
مطلب تو نے ابھی تک کچہ نہیں کیا…؟
زیادہ موڈ آف کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں ہوم ورک کر رہا ہوں کیونکہ کچے کام کرنا میری فطرت کا حصہ نہیں ، ویسے ایک بات بتاؤں…؟
بکواس کر…
“سمندر کے کنارے آبادی نہیں ہوتی…
جہاں محبت ہو وہاں شادی نہیں ہوتی..”
پہلی بات یہ کہ مجھے کوئی محبت وحبت نہیں ہے اور دوسری شادی کی جلدی مجھے نہیں میرے ماں باپ کو ہے.
اچھا…
پھر ایسا کر انھیں مشورہ دے کہ وہ شادی کر لیں اور تیری جان بخش دیں تاکہ تو میری جان بخش دے.
آپ کےمشورے کا شکریہ وہ دونوں پہلے سے ہی شادی شدہ نہیں….
حمین کے مشورے پر حذیفہ نے منہ بنایا.
مجھے لگتا ہے تجھے وہ یاد بہت آتی ہے…؟
اگر یاد کرنا اتنا آسان ہوتا تو ہم اپنی کلاس میں ٹاپ نہ کر لیتے….
کوئی یاد واد نہیں آتی.
حذیفہ نے حمین کو جواب دیا.
پھر…..؟؟؟
پھر کچھ نہیں خدا خافظ
اوکے تیرا بھی اللہ ہی حافظ ہے.
حمین نے ذو معنی انداز میں کہتے ہوئے کال بند کر دی
🌸🌸🌸🌸🌸
اطلاع عام و خوار😉😉
پیارے ریڈرز میں نے آپ کو بتایا تھا کہ میرے پیپرززز ہین جو9 مارچ کو ختم ہونگے اس لیے میں ایپی پوسٹ کرنے سے قاصر ہوں .
مگر کچھ مہان ہستیاں مسلسل مجھے میسنجر میں تنگ کر رہیں ہیں براہ مہربانی میری پوسٹ کو غور سے پڑھا کریں اور بونگے سوالوں سے اجتناب کیا کریں.
ہمارے شہر میں دو دن سے بہت پیاری بارش ہو رہی ہے مگرآپ لوگوں کے سوالوں کی وجہ سے مجھے فروری میں جون کا مزا آ رہا ہے.
سمجھدار ریڈرز سمجھ گئے ہونگے میرا مطلب…..
اگر آپ لوگ باز نہ آئےتو مجبوراً مجھے میسنجر کی آپش بند کرنا پڑے گی.
بارش ، psl اوے پیپرز مجھے ایپی لکھنے نہیں دے رہے پھربھی کل آپ لوگوں کے لیےلکھی ہے. حوصلہ افزائی کرنی اور تنقید سے پرہیز ہی بہترہے.
انتہائی مظلوم رائیٹر
آمنہ محمود😇
