No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
ناشتہ کی ٹیبل پر سب ہی موجود تھے مگر ناشتہ ابھی شروع نہیں کیا تھا کیونکہ ابھی تک اماں بی ناشتہ کرنے کیلئے اپنے روم سے نہیں آئیں تھیں.
ہالہ جاؤ دیکھ کر آؤ ابھی تک اماں بی کیوں نہیں آئیں ..؟
دبیر جو موبائل پر مصروف تھا اک نظر ہالہ پر ڈالتے ہوئے بولا
اس سے پہلے کہ ہالہ اپنی جگہ سے اٹھتی ارتضٰی اپنی کرسی پیچھے کرتے ہوئے بولا
ماما آپ بیٹھیں میں دیکھتا ہوں دادو کو….؟
دبیر میں سوچ رہی تھی ڈائینگ روم کا فرنیچر نہ تبدیل کر لیں…؟
ہالہ کی بات پر دبیر نے حیران آنکھوں سے پہلے اسے دیکھا پھر مرتضٰی کی طرف دیکھا کیونکہ ابھی کچھ ماہ پہلے ہی فرنیچر تبدیل ہوا تھا……..
جو ہالہ کی بات پر مسکرا رہا تھا.
یہ تم دونوں ایک دوسرے کو یوں کیوں دیکھ رہے ہو انوکھی بات کی ہے میں نے….؟
ہالہ کو غصہ میں آتا دیکھ کر مرتضٰی نے اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوئےکہا
نہیں ماما میں تو خود سوچ رہا تھا کتنے دن ہو گئے ہیں ہمارے گھر کوئی نئی چیز نہیں آئی…؟
دبیر نے اپنی مسکراہٹ پر قابو پاتے ہوئے مرتضٰی کی حمایت میں سر ہلایا.
میں سب سمجھتی ہوں تمہیں اور دبیر کو بلکل پسند نہیں آتا جب بھی میں کوئی تبدیلی کرتی ہوں مگر جب لوگ آکر تعریف کرتے ہیں کہ دبیر صاحب آپ کاگھر بہت زبردست ڈیکوریٹڈ ہے..؟؟
کس ڈیزائنر سے ڈیکوریٹ کروایاہے …؟
پھر تمہیں میری اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے…
تم ایک چیز چھ ماہ سے زیادہ کیسے استعمال کر لیتے ہو حیرت ہوتی ہے مجھے تم پر….
آخر میں ہالہ نے دبیر کو دیکھتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے جو مرضی ہے بدلو نئی خریدو مجھے اس سے کیا…..؟؟
“بس یار اتنا خیال رکھناکہ صرف چیزیں ہی بدلنا کہیں مجھے بدلنے کا مت سوچنا….”
دبیر نے ہنستے ہوئے کہا اور موبائل بند کر کے ٹیبل پر رکھ دیا.
اس سے پہلے ہالہ کچھ کہتی ارتضٰی اماں بی کو لے آیا اماں بی کے آتے ہی سب ان کی طرف متوجہ ہو گئے.
دبیر نے انھیں پکڑ کر کرسی پر بیٹھایا.
ہزار بار کہا ہے اب مجھ سے ٹیبل پر ناشتہ نہیں ہوتا تم لوگ کر لیا کروں میں کمرے میں ہی کر لوں گی…
اماں بی نے ہالہ بی سے ناشتہ پکڑتے ہوئے جواب دیا.
پھپھو میں اور مرتضٰی تو کر لیں گے مگر یہ آپ کا چہیتا کبھی آپ کے بغیر ناشتہ نہیں کرے گا…..
ہالہ نے ارتضٰی کی طرف بھی ناشتہ کی پلیٹ کرتے ہوئے جواب دیا.
جبکہ اماں بی نے ایک محبت بھری نظر ساتھ بیٹھے ارتضٰی پر ڈالی…..
اچھا ٹھیک ہے کل سےہم لوگ بھی آپ کے کمرے میں ہی ناشتہ کیا کریں گے….
دبیر نے چائے کا کپ پکڑتے ہوئے کہا
جی بابا بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ارتضٰی نے نپکن سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا……
چلو ارتضٰی ہمیں ہسپتال سے دیر ہو رہی ہے یہ باپ بیٹا تو اپنی مرضی سے آفس جاتے ہیں…
ہالہ نےکرسی سے اٹھتے ہوئے ناراضگی سےدبیر کو دیکھا
ارے واہ ! میں نے کب منع کیا ہے؟ فرنیچر تبدیل کرنے سے جب تمہارا دل کرتا ہے تبدیل کر لو میں payment کر دوں گا
دبیر نے جلدی سے جاتی ہوئی ہالہ کا ہاتھ پکڑا
رہنے دو ہر دفعہ پہلے بحث ہوتی ہے پھر میری بات مانتے ہو…..
ہالہ نے اپنا ہاتھ چھڑایا
اچھا نا اب یوں ناراض ہو کر جاؤ گی تو میرا سارا دن خراب گزرے گا….
دبیر نے نرمی سے ہالہ کا ہاتھ چھوڑ دیا
جی بابا بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ماماپلیزززز مسکرا دیں مرتضٰی نے دونوں کندھوں سے ہالہ کو پکڑتے ہوئے کہاجبکہ ارتضٰی نے smile کہتے ہوئے دبیر، ہالہ ، مرتضٰی ، اماں بی اور اپنی پک لی……
🌸🌸🌸🌸🌸
فوج کی سخت ٹرینگ بھی حذیفہ کی حسہ مزاح کو نقصان نہ پہنچا سکی.
پہلی پوسٹنگ بھی “سیاہ چن ” جیسے محاز پر ہوئی مگر اس کو خوش قسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ ابھی تک بیس کیمپ میں موجود تھا.
تم لوگوں نے یہ کیسی شکلیں بنا رکھی ہیں…؟
“ہنستے رہا کرو اس سے پہلے کہ کوئی آپ پر ہنس کر چلا جائے،
یا پھر آپکو دیکھ کر کسی کی ہنسی نکل جائے…..”
حذیفہ نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور خود ہی آپ بات کو انجوائے کرتے ہوئے خوب ہنسا……
اس کو یوں ہنستا دیکھ کرپہلے سب خاموش رہے پھر ہنسنے لگے
یار کیا چیز ہے تو…؟
ہم لوگ پریشان ہیں اور تجھے جوک سوجھ رہے ہیں…؟
لفٹینٹ اسدنےحذیفہ کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا…
کیوں کیا ہوا کہیں سسرال سے کال تو نہیں آ گئی….؟
حذیفہ کے الفاظ ابھی اس کے منہ میں ہی تھے ایک جوان نے آکر سلوٹ کیا …..
سر حذیفہ آپ کو کرنل صاحب بلا رہے ہیں
حذیفہ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا جبکہ باقیوں نے قہقے لگانا شروع کردیے ……
چلیں لفٹینٹ صاحب سسرال والے آپ کو لینے آئیں ہیں.
