No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
رامین کلینک میں بیٹھی بیٹھی بور ہو گئی تھی کیونکہ آج مریضوں کا کافی رش تھا اس لیے وہ ارتضٰی کو تنگ نہیں کر سکتی تھی.
ارتضٰی بھی وقفے وقفے سے رامین کو دیکھ رہا تھا کیونکہ خاموش بیٹھنا وہ بھی شرارت کے بغیر یہ اس کی نیچر کے خلاف تھا.
شکر ہے باری آئی اگر کچھ دیر اور لگتی تو میں نے چلے جانا تھا پلس آنٹی ہالہ کو آپ کی شکایت بھی کرنی تھی….
چوٹ کیسے لگی…؟
ارتضٰی نے رامین کی بات کو اگنور کرتے ہوئے پوچھا
کچھ زیادہ جلدی نہیں پوچھ لیا اتنی جلدی کس بات کی ہے…؟؟؟
آرام سے سارے مریضوں کو فارغ کر کے کلینک بند کرتے ہوئے پوچھ لینا تھا.
رامین نے غصہ اور ناراضگی کہ ملے جلے لہجے میں جواب دیا
بھئی یہ کلینک ہے گھر نہیں جہاں ہم اپنی مرضی کر لیں اب جو مریض پہلے آیا ہے وہی پہلے چک ہو گا اُسے چھوڑ کر میں تمہیں تو دیکھ نہیں سکتا.
خیر دیکھ تو آپ مجھے ہی رہے تھے مریضوں کو چھوڑ کر….
رامین نے بینڈیچ کرتے ارتضٰی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جس پروہ مسکرانے لگا
ہاں میں دیکھ رہا تھا”جنگلی بلی” کیسے اتنے آرام سے بیٹھی ہوئی ہے جوکہ اُس کے لیے ایک ناممکن بات ہے.
خاموشی اور رامین یہ دونوں الفاظ متضاد ہیں.چلو شاباش اب اچھا بچوں کی طرح ایک ٹیکا بھی لگوا لو….
شکر ہے ڈاکٹر یہ نہیں کہتے
کھلے پیسے نہیں ہیں
ایک اور انجیکشن لگا دوں🤔🤔🤔🤔
جیسے ہی رامین نے اپنا بازو ملتے ہوئے یہ الفاظ کہے بے ساختہ ارتضٰی کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی.
پتہ چلتا ہے کہ تم انکل حنین کی بیٹی ہو…
مگر آپ کا بلکل پتہ نہیں چلتا کہ دبیر انکل کے بیٹے ہیں.
اپنا بیگ اٹھاتے کمال بے نیازی سے کومنٹ پاس کیے گئے.
مطلب…..
ارتضٰی نے پیڈ پر میڈسن لکھتے ہوئے قدرے حیرت سے پوچھا
الفاظ جو بھی ہوں…..جیسے بھی ہوں…
لوگ مطلب ہمیشہ اپنی مرضی کا نکالتے ہیں…
آپ بھی یہی کریں مجھے دیر ہو رہی ہے….
رامین کہتی ہوئی ٹیبل سے پیپر لیتی باہر کی طرف چل پڑی.مگر پھر کچھ سوچ کر مڑی
میں اتنی دیر سے بور ہو رہی تھی آپ کم از کم مجھے کوئی نظم ہی سنا دیتے
میں ڈاکٹر ہوں بی بی کوئی شاعر نہیں جو تمہیں نظم سناؤں.
حیرت ہے مجھے دیکھ کر بھی آپ کو شاعری نہیں آتی..؟
آتی ہے …..
آتی ہے…….
سناو؟
نیکی اور پوچھ پوچھ…
رامین نے فوراً ارتضٰی کو جواب دیا.
اک بلی موٹی تازی تھی وہ مزے سے ڈنگ ڈونگ کھاتی تھی…
ارتضٰی اب رامین کے تاثرات دیکھ کر مسکرا رہا تھا جبکہ رامین اسے خشمگین نگاہوں سے دیکھ رہی تھی جیسے بلی اپنے شکار کو شکار سے پہلے دیکھتی ہے.
🌸🌸🌸🌸🌸
حذیفہ اب تقریباً روز ہی اُس لڑکی سے بات کرتا تھا.مگر ابھی تک اُس کا نام نہیں پوچھا تھا. کچھ سوچ کر وہ اپنے روم سے باہر آیا اور اس کا نمبر ڈائل کیا. وہ کبھی بھی پہلی بار کال کرنے پر فون نہیں اٹھاتی تھی اب بھی ایسا ہی ہوا .
تم بار کال کیوں نہیں اٹینڈ کرتی کم از کم دو یا تین بار فون کرو تو تب جا کر کہیں جناب کی آواز سننے کو ملتی ہے…؟
حذیفہ نے گلہ کیا
میرا ایک اصول ہے لفٹینٹ صاحب، وہ یہ کہ جسے آپ سے بات کرنے کی چاہت ہو گی وہ بار بار فون کرے گا اور جو نہ کرے اسے کوئی چاہت نہیں.
“تمہیں چاہ نہیں ہمیں پرواہ نہیں”
معصومیت بھری آواز میں دوسری طرف سے جواب موصول ہوا.
پتہ تم بہت معصوم ہو میں نے سوچا ہے تمہارا نام “مس معصومہ” رکھ دیا جائے تم نے تو اپنا نام بتانا نہیں …
کیسا لگا نام….؟
حذیفہ کے پوچھنے پر وہ ہنسنے لگی.
اچھا ہے پر آپ کی معلومات کہ لیے عرض ہے میں معصوم نہیں..؟
تم نے مجھے کبھی اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا اور مجھ سے سب پوچھ لیا. یہ علط بات ہے.
میں ایک عام سی لڑکی ہوں اور بلکل معمولی فیملی سے تعلق رکھتی ہوں پھر کیا بتاؤں اپنے بارے میں کچھ ہے ہی نہیں بتانے کے لائق….
جبکہ آپ کی فیملی امیر کبیر نوبل اور بہت زندہ دل ہے اوپر سے سونے پر سہاگا آپ آرمی آفیسر ہیں مجھے آپ اور آپ کی فیملی کے بارے میں جان کر بہت اچھا لگتا ہے.
آپ آرمی ایوی ایشن کیوں نہیں جوائن کرتے ..؟ پتہ مجھے ایوی ایشن بہت پسند ہے خاص طور پر “ہیلی کاپٹر”. ہمارے گھر کی بیک سائیڈ پر آرمی بیس ہے اور رن وے بھی بلکل clear نظر آتا ہے میں بچپن سے ہیلی کاپٹر اڑتے اور لینڈ کرتے دیکھتی آئی ہوں میرا بھی دل کرتا ہے ہیلی اڑانے کو ….
اگر میں لڑکا ہوتی تو یقیناً آرمی ایوی ایشن میں ہوتی…
وہ nonstop بولے جا رہی تھی اورحذیفہ اسے پورے انہماک سے سن رہا تھا حالانکہ وہ واقعی ہی ایک عام سی لڑکی تھی اس میں کچھ خاص نہ تھا پھر بھی حذیفہ کو اس سے بات کر کہ بہت اچھا لگنے لگا تھا. شاید اُس کی وجہ اُس لڑکی کی صاف گوئی تھی.
ایک سوال پوچھوں…؟
اچانک بات کرتے کرتے اُس نے حذیفہ سے پوچھا
ایک نہیں دو، تین، چار جتنے مرضی پوچھو میں اس وقت بلکل فری ہوں..؟
حذیفہ نے اپنے کمرے کے باہر سیڑھیوں پر بیٹھتے ہوئے جواب دیا.
1.اگر نارنجی رنگ نہ ہوتا تو کیا ہوتا…؟
2.گاڑیاں کس کام آتیں ہیں…؟
3.فون کا کیا فائدہ ہے….؟
حذیفہ اس کے سوال سن کر ہنس پڑا( لڑکی یہ کیا پوچھا ہے جھلی).
1 .اگر نارنجی رنگ نہ ہوتا تو لڑکیاں اس رنگ کےدوپٹے کیسے لیتیں..
2.گاڑیاں نہ ہوتیں تو بچے سکول کیسے جاتے..
اور فون کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ میں اس برف پوش پہاڑوں کے درمیان بیٹھ کر تمہاری آواز سن سکتا ہوں.
بس کہ اور کچھ…؟
حذیفہ کے جواب پر دوسری طرف خاموشی چھا گئی اور پھر فون بند ہوگیا.
اکثر ایسا ہی ہوتا تھا کہ بات کرتے کرتے فون بند ہو جاتا اب بھی ایسا ہی ہوا تھا.
حذیفہ کچھ دیر فون سکرین کو گھورتا رہا پھر اٹھ کر روم میں واپس چلا گیا.
🌸🌸🌸🌸🌸
یار میں نے سوچا کیوں نا آج تمہارے ساتھ کچن میں دن گزاروں. بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ تمہیں کھانا پکانا سیکھاؤں.
تم نے مجھے 25 سال تک روایتی کھانے کھلا کھلا کر موٹا کرنے کی جو ناکام کوشش کی ہے وہ مجھے کچھ خاص پسند نہیں آئی. اس لیے میں نے سوچا جہاں تمہیں اتنا کچھ سیکھایا ہے وہاں “کھانا پکانا” بھی سیکھا دوں.
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھوں میں شرارت بھرتے ہوئے شلف سے ٹیک لگائی جبکہ نرمین کے چہرے پر حیرت کے تاثرات ابھرے.
تم اور مجھے سیکھاؤ گے وہ بھی “کھانا پکانا”….؟
میرے خیال سے مسٹر حنین تم کچھ غلط بول گئے .
کہنا تم یہ چاہ رہے تھے کہ
“تم مجھے لوگوں کا دماغ پکانا سیکھاؤ گے….”
ہے ناااااا
نرمین نے حمایتی نظروں سے حنین کو دیکھا
اُس دن بھی میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ مجھ سے پنگا نہ لیا کرو مگر تمہیں تو اثر ہی نہیں ہوتا لحاظ اب سزا کے لیے تیار ہو جاؤ.
حنین نے فریج سے ٹماٹر نکالتے ہوئے نرمین کو دھمکی دی جس کا کافی اثر بھی ہوا…
حنین پلیزززز مجھے موسٰی کے لیے ویجیٹیبل سوپ بنانا ہے اس لیے تم اپنا سزا والا پروگرام آج کینسل کر دو.
نرمین نے سبزیاں کاٹتے ہوئے جواب دیا
کیوں جی صرف آپ کا صاحب ذادہ سوپ پی سکتا ہے مجھے اور حمین کو ڈاکٹر نے منع کیا ہوا ہے..؟ ہم کیوں نہیں پی سکتے..؟
حنین نے ٹماٹر دونوں ہاتھوں میں اچھالتے ہوئے پوچھا
حمین اور تمہیں چکن سوپ پسند ہے جو اس گھر میں تقریباًروز ہی بنتا ہے.
جبکہ موسٰی کو ویجیٹیبل سوپ پسند ہے جو اس گھر میں بنتا نہیں. میں نے سوچا آج اس کی برتھ ڈے ہے تو کیوں نہ میں اپنے ہاتھوں سے اُس کی پسند کا سوپ بناؤں…۔
نرمین نے جواب پر حنین نے ٹماٹر اچھال کر کہا
نرمین بچے اپنے استاد سے ہوشیاریاں نہیں، وہ صرف تمہارا نہیں میرا بھی بیٹا ہے اس لیے سوپ آج میں بناؤں گا.
حنین تنگ نہ کرو ٹماٹر ادھر دو.
نرمین نے حنین سے ٹماٹرلینے کو ہاتھ بڑھایا.
“اگر تم یہ کہو کہ بن تمہارے نہیں گزارا.
تو یہ گول مٹول پیارا سا ٹماٹر تمہارا.”
واہ واہ واہ
مکر مکرر مکرر
حنین نے خود کو خودی داد دی (کیا شاعری کرتا ہے تو حنین)
” اگر میں کہہ دوں بن تمہارے نہیں میرا گزارا
تو آج سوپ بنانے کا ارادہ کینسل تمہارا”
اب بھی کہو…
واہ واہ واہ
مکرر مکرر مکرر
نرمین نے حنین کی نقل اتاری
جناب اسے شاعری نہیں بکواس کرنا کہتے ہیں جو آپ یونی کے زمانے سے ہی بہت اچھی کرتے آئے ہیں.
جبکہ حنین حیرت سےنرمین کو دیکھ رہا تھا.
چھا گئی ہو یاررررر
مجھے تو آج اپنے اوپر فخر ہو رہا ہے کیا تھی تم اور کیا بنا دیا ہے میں نے…
میں صدقے واری حنین تیرے
حنین خود پر پیاز، ٹماٹر، گاجر وار رہا تھا جبکہ نرمین ہنس رہی تھی
🌸🌸🌸🌸🌸
یہ ایپی میرے میٹھے پیارے اور ان ریڈرز کے نام جنھوں نے مجھے مزے مزے کے کومنٹس کیے.
شکریہ
