Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41


بیغیرت کہیں کے رشتہ ہو گیا تیرا اور تُو نے مجھے بتایا بھی نہیں…..؟
کیا بکواس ہے ….؟
کس کا رشتہ ، کونسا رشتہ ، کہاں سے آیا رشتہ…….
حمین نے حذیفہ کی کال رسیو کرتے ہوئے جواب دیا.
تیرا رشتہ اور کس کا…..
اَب مجھ سے بھی جھوٹ بولے گا..؟
“دوست صرف میرے ہی منحوس ہیں یا سب کہ ہی ہوتے ہیں؟”
کہہ تو رہا ہوں مجھے نہیں معلوم ، تُو بتا تجھے کس نے یہ جھوٹی خبر دی ہے….؟
مسٹر حمین مجھے پکے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آپ بہت جلد “رشتہِ ازوداج” میں بندھنے لگے ہیں.
کھا قسم…!!!
حمین کو شدید حیرت کا جھٹکا لگا.
تیری قسم ، خبر ایک دم مصدیقہ ہے.
کس نے کیا ہے میرا رشتہ…؟
تیرے باپ نے اور کس نے کرنا تھا.
یہ حرکت “مسٹر حنین ” نے کی ہے. مجھے یقین نہیں ہو رہا ، تُو ایسا کر ایک منٹ فون بند کر ، میں پہلے زرا اُن کی خبر لے لوں پھر تجھے اپنی دیتا ہوں.
حمین پاکٹ میں فون رکھتے ہوئے تیزی سے روم سے نکلا اور نیچے جاتے حنین سے ٹکرا گیا.
میں یہ کیا سُن رہا ہوں…؟
( حمین نے دیوار ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا جبکہ حنین ریلنگ ساتھ ٹیک لگا کر اُسے گھورنے لگا)
تمہیں پتہ ہو گا کہ تم کیا سن رہے ہو ، مجھے تو کچھ سنائی نہیں دے رہا.
آپ نے مجھ سے پوچھے بغیر میرا رشتہ طے کر دیا ہے.
میں تمہارا “باپ” ہوں تم میرے “باپ”نہیں کہ تم سے پوچھوں ، دوسرا ہماری سوسائٹی میں باپ ہی یہ کام کرتا ہے لیکن اگر تم چاہو تو میرا رشتہ کر سکتے ہو میں بلکل ناراض نہیں ہوں گا.
حنین نے کندھے اُچکائے.
مگر مجھے بتانا تو چاہیے تھا نااااا…
کیا بتاؤں تمہیں اور کیوں بتاؤں..؟
اتنے بڑے ہو گے ہو اور ابھی تک تم کسی لڑکی کو “پٹانے” میں کامیاب نہیں ہوئے.
جب میں تمہاری عمر میں تھا تو نہ صرف میں نے تمہاری ماں سے شادی کر لی تھی بلکہ تم بھی “ٹپکنے” والے تھے.
اس لیے میں نے سوچا تم سے کچھ نہیں ہونے والا میں خود ہی کچھ کروں.
شفیق الرحمٰن صاحب نے میرے جیسے شہزادوں کے لیے فرمایا ہے کہ
“ذہین انسان بڑی مشکل سے عاشق ہوتے ہیں.”
مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ کو میری شادی کی اتنی جلدی کیوں ہے…؟
کیونکہ مجھے اس گھر میں “چوں چوں چا چا ” چاہیے.
ہر وقت تو اس گھر میں “چاچاچاچا” ہوتی رہتی ہے.
حمین نے اکتاہٹ سے جواب دیا.
وہ “چاچاچاچا” ہوتی ہے جبکہ مجھے اب “چوں چوں چوں ” بھی چاہیے یعنی مکمل پیکج “چوں چوں چا چا”……
( حنین کی باتوں پر نیچے موجود بیگم غزالہ اور نرمین ہنسنے لگیں.)
یہ دونوں خواتین کیوں “vibration ” پر لگی ہوئیں ہیں. حمین نے نیچے اشارہ کرتے ہوئے پوچھا.
اِن کو چھوڑو اور تم کیس جلدی ختم کرو تاکہ میں تمہارے کیس بھی ختم کر سکوں اور موسی کا شروع کروں.
میں نے کہا تھا “مسٹر حنین” جیسا میں ہوں ویسی ہی وہ ہو، تو ٹھیک ہے ورنہ میری طرف سے نا ہے.
بالکل ویسی ہی ہے جیسا تم نے کہا تھا نرم مزاج اور اعلی خاندان کی انتہائی شریک لڑکی….
کون ہے وہ…؟
حبا، حبا بخاری…
وہ “روبن نیل کی چڑیا”او نو..
جی بالکل وہی چڑیا جو جلد ہی عقاب بن جائے گی اسے ذرا ادھر تو آ لینے دو تمہاری ماں کی بھی آواز نہیں نکلتی تھی اب دیکھو کیسی کیسی مجھ معصوم کو سناتی ہے……
حنین نے فوراً اپنی گول مٹول آنکھوں کو ادھر ادھر گھما کر معصومانہ ایکٹنگ کی…
اچھا تو یہ بات ہے چھوڑوں گا نہیں “سالے” کو….
حذیفہ کا خیال آتے ہی حمین نے آہستہ آواز میں خود کلامی کی.
کون سالا؟
میں نے کہا ہے کون “سا لاء” مسٹر حنین آپ سہی طرح سنا کریں.آپ بوڑھے ہو گئے ہیں آپ کو سمجھ نہیں آتی میں کہتا کچھ ہوں آ پ سنتے کچھ اور ہی ہیں.
اور جلدی جلدی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
🌸🌸🌸🌸
زریاب آج کل “الیکشن” کی وجہ سے بہت مصروف تھا. اس لیے گھر ٹائم نہیں دے پا رہا تھا.
تم آج کل صرف رات میں ہی نظر آتے ہو ابھی تک ناراض ہو….؟
ماہ نور نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا.
میں ناراض نہیں مصروف ہوں اور تم سے تو بلکل ناراض نہیں رہ سکتا.
دیکھو مجھ سے غلطی ہوئی ہے لیکن اگر تم اپنے آپ کو میری جگہ رکھ کر دیکھو تو شاید تمہیں میری باتیں سہی لگیں.
مجھے کبھی بھی ، کچھ بھی برا نہیں لگتا تم جوبھی کہتی ہو سب ٹھیک ہے سچ ہے.
ہم جس سے محبت کرتے ہیں اُس کی سب باتیں ہمیں سچ اور اچھی لگتیں ہیں. ہم اپنے محبوب میں غلطی برداشت نہیں کرتے. صرف اس کی خوبیاں پر ہی نظر رکھتے ہیں.
مگر……؟
مگر کیا…؟
ماہ نور نے زریاب کو چپ ہوتے دیکھ کر پوچھا.
مگر جن چیزوں پر ہمارا اختیار نہیں اُن کو بار بار دہرانے سے فائدہ…
تم ہر وقت وہی باتیں کرتی ہو جو میرے اختیار میں نہیں.
ماہ نور میں بھی انسان ہوں عام انسان ، تھک جاتا ہوں . مجھے تمہاری باتوں سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں رب ہم سے ناراض نہ ہو جائے. …..
مجھے تم سے بہت زیادہ محبت ہے اور یہ وہ جملہ اور سچ ہے جو میں نے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ دہرایا ہے .تمہیں یقین کیوں نہیں آتا…؟
محبت میں ضد نہیں ہوتی…..
محبت تو ہتهیار ڈال دینے کا نام ہے.جیت کر بهی ہتهیار ڈال دیناصرف محبت کرنے والوں کا ہی تو شیواہ دیتا ہے.
محبت تو بانٹنے کا نام ہے کسی پیاسے کو اپنے حصّے کا پانی پلانا بھی مُحبت ہے.
بھنور میں ڈوبتے کو ساحلوں تک لے کے جانا بھی مُحبت ہے.
کسی کے واسطے ننھی سی قُربانی مُحبت ہے.
کہیں ہم راز سارے کھول سکتے ہوں مگر پھر بھی کسی کی بے بسی کو دیکھ کر خاموش رہ جانا مُحبت ہے .
دل میں دَرد، ویرانی مگر پھر بھیکسی کے واسطے جبرًا ہی ہونٹوں پر ہنسی لانا زبردستی ہی مُسکرانا مُحبت ہے.
کہیں بارش میں بھیگتے بلی کے بچے کو گھر لے کے آنا بھی مُحبت ہے.
کوئی چڑیا جو کمرے میں بھٹکتی آن نکلی ہو تو اس چڑیا کو پنکھا بند کرکے راستہ دِکھلانا
مُحبت ہے.
کسی کے زخم سہلانا کسی روتے ہوئے کے دل کو بہلانا مُحبت ہے.
یہ میٹھا بول میٹھی بات میٹھے لفظ سب کیا ہیں.
مُحبت ہے…..
مُحبت ایک ہی ہےاور وہ بس ایک ہی ہے اللہ کریم کی خاطر مگن رہناانسانوں میں مُحبت بانٹتے رہنا.
تم ایسی ہی تھی نااااا….
اسی لیے مجھے تم سےمحبت ہے میرا مان رکھو میری محبت کی لاج رکھو.
میں عمر کے اس حصے میں محبت سے نفرت نہیں کرنا چاہتا .
پلیزززز…..
زریاب نے ماہ نور کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا جبکہ یہ سب باتیں سن کر ماہ نور کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے.
سوری زریاب….
بمشکل ماہ نور کے منہ سے یہ جملہ نکلا.
🌸🌸🌸🌸
پہلی پیشی سے ہی میڈیا نے شور مچایا ہوا تھا.
جسے دیکھو “سیال فیملی” کی شرافت کی گواہی دینے میڈیا پر پہنچا ہوا تھا.
کوئی اُن کے “سوشل ورک” کے بارے میں لمبا چوڑا پروگرام پیش کر رہا تھا.
کوئی اُن کے “ترقیاتی منصوبوں” کی تفصیل بتا رہا تھا.
کوئی لوگوں کے انٹرویو کر رہا تھا کہ یہ لوگ کتنے “خدا ترس اور نیک” لوگ ہیں.
ہر چینل اسی کوشش میں تھاکہ سیال فیملی کو مکمل پروٹکشن فراہم کی جائے.
یہ لڑکی کون ہے…؟
کہاں سے آئی ہے…؟
یہ دشمنوں نے سیال فیملی کو بدنام کرنے کی سازش کی ہے.
مس زرناب اپنے باپ کو الیکشن میں جتوانے کے لیے اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے ایسے کر رہیں ہیں.
یہ سب کیا ہے…؟
نرمین نے ٹی وی کے ریموٹ سے آواز بند کرتے ہوئے حنین سے پوچھا.
نرمین تم ٹھیک تو ہو نااااا ..؟
کیوں مجھےپریشان کر رہی ہو ، یار تمہیں نظر نہیں آ رہا یا سنائی نہیں دے رہا…؟
حنین نے ایک دم نرمین کے آگے ہاتھ ہلا کر فکرمندانہ لہجے میں پوچھا.
تم ہر وقت کیوں بکواس کرتے رہتے ہو جب کہ مجھے پتہ ہے کہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں کیا پوچھنا چاہ رہی ہوں…؟
مجھے کیا پتہ ، میں کوئی “نجومی” ہوں…..؟
حنین نے جواب دیتے ہوئے ٹی وی کی دوبارہ آواز کھول دی.
ہر چینل بکواس کر رہا ہے مجھے بلکل بھی اچھا نہیں لگ رہا ہے.
نرمیں سے رہا نہ گیا تو پھر بول پڑی.
یار اچھا خاصا “شغل” لگا ہوا ہے ، دیکھو اور انجوائے کرو. تمہارے بیٹے کو تو خوب شہرت مل رہی ہے.
حنین نے کہنے پر جیسے ہی نرمین نے سکرین پر دیکھا تو حمین کا انٹرویو چل رہا تھا. جو بڑے اعتماد سے “سیال فیملی” پر لگائے گئے تمام الزمات کو بےبنیاد قرار دے رہا تھا.
مجھے تم دونوں باپ بیٹے کی “مسٹری” سمجھ نہیں آتی. کرتے کچھ ہو ، کہتے کچھ ہو…..؟
نرمین کہتی ہوئی صوفے سے اٹھنے لگی جب حنین نے روکا.
نرمین تمہیں پتہ ہے باپ کو اپنے “خون” پر جبکہ ماں کو اپنے “دودھ”پر اعتماد ہوتا ہے.
پتہ تمہیں کیوں حمین پر اعتماد نہیں….؟
کیونکہ تم نے اسے اپنا “دودھ” نہیں پلایا. تم نے اسے “MEJI FMT & BF-3” دودھ کے ڈبے پلائے ہیں.
نرمین جو سیریس ہو کر حنین کی باتیں سن رہی تھی آخری جملہ پر اُس کی شرارت سمجھ کر اٹھ کھڑی ہوئی.
پہلے شک تھا اب کامل یقین ہے کہ تم “الٹے “پیدا ہوئے تھے تم کبھی “سیدھی” بات نہیں کر سکتے. جبکہ حنین قہقے لگا رہا تھا.
🌸🌸🌸🌸
پتہ نہیں کیوں مگر مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے بھائی کو ہم پر شک ہو گیا ہے کہ ہم دونوں ملے ہوئے ہیں جب وہ مجھے دیکھتے ہیں تو میرا دل زور زور سے دھڑکتا ہے جیسے کسی چور کی چوری پکڑی گئی ہو…….
موسی نے جیسے ہی یہ کہا زرناب نے قہقے لگانا شروع کر دئیے.
موسی سمجھے تو فلحال تم پر بہت پیار آ رہا ہے وہ بھی منوں کے حساب سے …..
حد ہے کوئی اتنا بھی ڈرتا ہے تم کتنے ڈرپوک ہو مجھے یہ سمجھ نہیں آتی تم اتنا بڑا بزنس کیسے چلا رہے ہو …؟
ایسی بات نہیں کہ میں ڈرتا ہوں بات یہ ہے کہ جب انہیں پتہ چلے گا کہ ابرش مجھے ملی تھی اور میں نے اسے ان کی اجازت کے بغیر ان کے فلٹ میں رکھا تو وہ مجھ پر بہت غصہ کریں گے اور وہ پریگنیٹ بھی ہیں کہیں مجھ پہ کوئی الزام نہ آئے اس لیے ڈرتا ہوں برے وقت کا پتہ تھوڑا چلتا ہے کہ کب آ جائے …..
موسی نے اپنے دل کا ڈر زرناب سے شئیر کیا
موسی میں تم سے آج ایک ضروری بات کرنا چاہتی ہوں
سنو گے ….
ہاں کہو کیوں نہیں سنوں گا تم میری اتنی سنتی ہو تو میرا بھی فرض ہے کہ میں تمہاری سنو.
موسی نے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے ذرناب کی طرف توجہ کی.
میں نے کبھی نہیں سوچا اور نہ ہی کبھی کوئی آئیڈیل بنایا مجھے ایک مخلص انسان کی تلاش تھی جو زندگی کے ہر قدم پر میرا ساتھ دے .
زرناب نے ایک گہرا سانس لیا اور موسی کو دیکھ کر کہا
قصہ مختصر…!!!
مجھے تم اچھے لگتے ہو ، بہت اچھے ، میں چاہتی ہوں تم مجھ سے شادی کر لو. میں زیادہ لمبی چوڑی بات کرنا نہیں چاہتی بس میرے دل میں جو کچھ تھا صاف کہہ دیا تم کیا کہتے ہیں اس بارے میں…؟
آخر میں زرناب نے مسکرا کے موسی کی طرف دیکھا
زرناب میں نے کبھی اس بارے میں نہیں سوچا یہ فیصلہ ماما کریں گی کہ مجھے کس سے شادی کرنی ہے کیونکہ اب تک میری زندگی کے سارے فیصلے انہوں نے ہی کیے ہیں اس لیے میں کیا کہہ سکتا ہوں میں تمہارا دل نہیں توڑا مگر…
ابھی موسی نے اتنا ہی کہا تھا کہ حنین آفس میں داخل ہوا جسے دیکھ کر موسی اپنی کرسی سے کھڑا ہو گیا اور اس کا رنگ فق پڑ گیا .
مگر …..
کیا ہو رہا ہے یہاں حنین نے زرناب کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی برابر والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے موسی سے پوچھا
بابا وہ۔۔۔۔۔
نہیں میں بتاتی ہوں تم چپ کرو موسی نے بولنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ زرناب بول پڑیں
انکل آپ بتائیں میں کیسی ہوں ، اچھی نہیں ہوں ، پیاری نہیں ہوں ، لائق نہیں ہوں….؟
زرناب نے کمال اعتماد سے پوچھا جس پر موسی نے ٹیشو کے ڈبے سے ٹیشو نکال کر اپنا پسینہ صاف کیا.
تم بہت پیاری ہو، اچھی ہو اور سب سے بڑھ کر ایک بہادر لڑکی ہو .
چلیں آدھا مسئلہ تو حل ہو گیا اور باقی کا آدھا اب آپ حل کریں گے زرناب نے موسی کو دیکھتے ہوئے کہا
مسئلہ بتاؤں لڑکی تمہارے باپ کے بھی سارے مسئلے اب تک میں ہی حل کرتا آیا ہوں حنین نے پورا زور زرناب کی طرف مڑتے ہوئے پوچھا
انکل بات یہ ہے کہ مجھے ایک لڑکا پسند آگیا ہے کیا یہ بری بات ہے …؟
بالکل بھی نہیں بلکہ شاباش تم نے سچ بولا مجھے بہت اچھا لگا پھر ….
پھر کیا لڑکا بہت ڈرپوک ہے یا یوں سمجھ لیں کہ ضرورت سے زیادہ ہی شریف ہے اپنے ماما پاپا سے ڈرتا ہے اسے ڈر ہے کہ اس کے ماما پاپا نہ کردیں گے آخر میں زرناب نے منہ بنایا .
ایسے کیسے نہیں مانے گے اس کے ماں باپ ، اول تو لڑکا ہی اٹھا لیں گے اگر سیدھے طریقے سے اس کے ماں باپ نا مانے تو…..
مجھے ساتھ لے کر جانا اور سمجھو تمہارا کام ہو گیا .
سچ انکل آپ مکریں گے تو نہیں….؟
ارے بالکل بھی نہیں تمہارے لئے اس کا باپ بھی اٹھانا پڑا تو میں اٹھا لوں گا بیٹی ہو تم میری….
میں ان لوگوں میں سے نہیں جو بیٹے کو تو پسند کی شادی کی اجازت دیتے ہیں مگر بچیوں پر پابندی لگاتے ہیں یا اپنی مرضی مسلط کرتے ہیں میں نے رامین کا بھی ساتھ دیا تھا اور تمہارا بھی ساتھ کھل کے دوں گا.
شکریہ انکل حنین زندہ باد
اچھا اچھا زیادہ مسکا نہ لگاؤ حنین نے اسے پیار کیا اور موسی کو مخاطب کیا .
تمہارے کیوں بارہ بج رہے ہیں ؟
جی کچھ نہیں بس ویسے ہی……
جبکہ زرناب قہقے لگانے لگی اب اس کے بارہ ہیں بجا کریں گے انکل….
🌸🌸🌸🌸
موسی کی بدقسمتی کہیں یا نرمین کی ، مگر آج نرمین مارکیٹ کسی کام سے گئی تو اس نے موسی کے ساتھ کلینک سے ایک لڑکی کو نکلتے دیکھا جو پریگنیٹ تھی.
موسی ایک پریگنیٹ لڑکی ساتھ نہیں مجھے غلط فہمی ہوئی ہے میرا موسی ایسا نہیں ہوسکتا ناممکن …..
نرمین نے اپنی گاڑی کو دوبارہ ریورس کیا اور اچھی طرح دوبارہ گاڑی میں بیٹھی اس لڑکی کو دیکھا اور پھر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے موسی کو جو اس لڑکی سے باتیں کر رہا تھا .
نہیں میری تربیت اتنی گندی نہیں ہوسکتی یہ کیا موسی ایسے کیسے کر سکتا ہے…؟
نہیں یہ ناممکن ہے……
نرمین کو ایک دم سر میں شدید درد شروع ہوگیا موسی کی گاڑی نرمین کی گاڑی کے قریب سے نکلی اور دور جاتی گاڑی کی نمبر پلیٹ نرمین کو واضح دکھائی دے رہی تھی
🌸🌸🌸🌸