Hichkiyan Muhabbat Ki

Season 2

By Amna Mehmood

زریاب بزنس کے ساتھ ساتھ سیاست بھی کر رہا تھا اس لیے آج کل اس کی مصروفیت کافی بڑھ گئیں تھیں جس کی وجہ سے وہ حنین کے غصہ کا خوب شکار ہوتا.آج بھی وہ اپنے آفس میں بزی تھا جب اس کے PA نے حنین کے آنے کی اطلاع دی..... ٹھیک ہے انھیں اندر بھیج دیں. زریاب نے کہتے ساتھ ہی ایک لمبا سانس لیا کیونکہ اب جو حنین نے اس کی کرنی تھی اس کے لیے صبر کا ہونا بہت ضروری تھا..... تُو خود کو کیا سمجھتا ہے..؟ بہت بڑا آدمی بن گیا ہے...؟ میرے لیے تُو آج بھی وہی زریاب ہے جو جناح سپر سے"پچاس روپے کی پائل" خریدتا تھا... حنین اندر آتے ہی non_stop بولنا شروع ہو گیا جبکہ "پچاس روپے کی پائل" کا سن کر زریاب کا ایک دفعہ رنگ اُڑ گیا. کیا کرتا ہے یار یہ میرا آفس ہے. کوئی سن لے گا میری کیا عزت رہ جائے گی...؟ سوچ سمجھ کر بولا کر اب تُو بڑا ہو گیا ہے... زریاب نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور حنین کو صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود انٹر کام پر کافی کا آڈر دیا. اب بتا کیا بات ہے اتنے جارحانہ انداز میں انٹری کیوں ماری ہے تُو نے...؟ زریاب نے مسکراتے ہوئے حنین کی طرف دیکھا پہلی بات یہ کہ میں اکیلا بڑا نہیں ہوا تم دونوں یعنی دبیر اور تُو بھی میرے ساتھ ہی بڑے ہوئے ہو. لحاظِ آج کے بعد سے مجھے بڑے ہونے کا طعنہ مت دینا ویسے بھی بقول شاعر "عمر کہتی ہے اب سنجیدہ ہوا جاۓ دل کہتا ہے کچھ نادانیاں اور سہی" اور دوسری بات تُو لوگوں کے لیے کوئی توپ چیز ہو گا مگر میرے لیے وہی ہے جو چھپ چھپ کر محبت میں "روتا" تھا. حنین نے پھر زریاب کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور اپنا مطلوبہ مقصد حاصل کیا یعنی اسے تنگ کر کے اپنی منت پر مجبور کر دیا. زریاب اب کی بار منت بھرے لہجے میں بولا یار بس کر ناااااا...... یہ گھر نہیں ہے باقی کٹ گھر پر لگا لینا. اتنی دیر میںPA کافی لے آیا. اچھا کیا یاد کرے گا بخش دیتا ہوں تجھے مگر ایک شرط پر....... حنین نے کافی کا سپ لیتے ہوئے جواب دیا بول جلدی کر مجھے بہت کام ہیں. زریاب نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا حنین نے زریاب کی بات سن کر اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر زریاب کو دیکھا جس پر زریاب نے ڈھیلاپڑتے ہوئے صوفے سے ٹیک لگا لی. بول میں بلکل فری ہوں کوئی کام نہیں مجھے..... زریاب کی بات سن کر حنین ہنسنے لگا 1.آج کے بعد تیرا PA مجھے نہیں روکے گا... 2.آج رات کا کھانا میرا اور دبیر کا تیری طرف.... 3.تُو مجھے جرمانے کے طور پر آج ہی نیا موبائل لے کر دے گا..... "تُو جتنا کمینہ کل تھا آج بھی اتنا ہی ہے زرا برابر فرق نہیں پڑا بلکہ اضافہ ہی ہوا ہے" زریاب نے چڑ کر کافی کا کپ منہ ساتھ لگایا جبکہ حنین صوفے پر ہنس رہا تھا.... ایک شرط بولی تھی تو نےاور بتائی تین ہیں یہ ناانصافی ہے. زریاب نے دہائی دی ایک ہی شرط ہے باقی یہ تینوں اسی ایک کے جز ہیں. تُو شاید بھول رہا ہے میں "حنین ملک" ہوں اور اب ایک وکیل کا باپ بھی...... مجھ سے سوچ سمجھ کر پنگا لیا کر. اچھا ،ویسے یہ سب کرنے کی کوئی خاص وجہ...؟؟؟ زریاب نے پوچھا میں نے تیری "منحوس " شکل دس دن سے نہیں دیکھی.یہ وجہ کم ہے کیا....؟؟؟ پتہ میں تجھے نہ دیکھوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں دنیا میں نہیں بلکہ جنت میں ہوں جہاں کوئی مسئلہ نہیں تجھے اس لیے دیکھنا ضروری ہے تاکہ مجھے لگے کہ میں ابھی زندہ اوراس دنیا میں ہوں.... ابھی حنین کی تقریر جاری تھی کہ دبیر نے آفس کا دروازہ کھولا وہ دیکھ میرا "شیر" آ گیا.حنین نے دبیر کو دیکھتے ہی نعرہ لگایا. یارررر خدا خوفی کر ایک MNA کے آفس سے ایسی آوازیں..

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!