No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
قسط نمبر 1
معمول کے مطابق گھر میں تمام لائیٹس آف ہو چکی تھیں ہر طرف خاموشی اور اندھیرے کا راج تھا سوائے موسٰی کے کمرے کے ، جہاں لائیٹ آن تھی اور روشنی باہر آ رہی تھی وہ دبے قدموں ایک ہاتھ میں اپنا لیپ ٹاپ اور دوسرے ہاتھ میں اپنا کوٹ پکڑے سڑھیوں کے پاس پہنچا مگر جیسے ہی قدم پہلی سیڑھی پر رکھنے لگا سیدھا زمین سے جا ملا.
بیرسٹر حمین ملک ٹائم دیکھیں ذرا…….
حنین، حمین کو نیچے گرا کر اب خود صوفے پر آرام سے بیٹھا اپنی گول مٹول آنکھوں سے گھڑی کی طرف اشارہ کر رہا تھا.
جبکہ حمین اپنے کپڑے جھاڑتا اور چیزیں سمیٹتا اٹھ کھڑا ہوا تھا.
مسٹر حنین یہ طریقہ بہت غلط ہے آپ ایک معزز شہری اور قابل احتراموکیل کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتے آپ پر کیس ہو سکتا ہے اور پھر سزا ملنے کے چانسز بھی زیادہ ہیں…..؟
کیونکہ میں کیس ہارتا نہیں یہ آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں.
مخصوص دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ اب حمین سمبھل کر کھڑا تھا لیکن سارے دن کی تھکاوٹ چہرے سے عیاں تھی.
مانا کے آپ کافی اچھے وکیل ہیں مگر میرا نام میرے باپ نے حنین رکھا ہے اور وہ بہت پہنچی ہوئی چیز تھے.اس کے باوجود میں نے انھیں دن میں تارے دکھا دیے تھے کیا سمجھے……؟؟؟
حنین نے چڑانے والے انداز میں کہا
نام تو میرا بھی میرے باپ نے رکھا ہے اور وہ کیا کہتے ہیں پنجابی میں “چُٹی ہوئی چیز” ہیں وہ……
حمین نے مسکراہٹ دبا کر جواب دیا
بےغیرت انسان حیا نہیں آتی تجھے ….
پتہ ہے جب تک تو گھر نہیں آ جاتا مجھے نیند نہیں آتی ایک میں تیری وجہ سے نرمین سے باتیں سنتا ہوں دوسرا تو مجھے یعنی اپنے باپ کو”چُٹی ہوئی چیز” کہتا ہے.
حنین اب صوفے سے کھڑا ہو گیا تھا اور زور زور سے بول رہا تھا اس کی آواز سے نرمین کمرے سے باہر نکل آئی ساتھ ہی موسٰی نے بھی اپنے کمرے کا دروازہ کھولا
تم دونوں باپ بیٹے کے شوکا ٹائم ہو گیا ہے…..؟
نرمین نے اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں طنز کرتے ہوئے پوچھا
جبکہ نرمین کو دیکھتے ہی حمین فوراً حنین کے پہلو میں جا کھڑا ہوا
اب دونوں باپ بیٹے نے اپنی گول مٹول آنکھوں سے ایک دوسرے سے اشاروں میں صلح کی.
موم ہم لڑ نہیں رہے بلکہ میں ڈیڈ کو آج کے کیس کے بارے میں بتا رہا تھا آج عدالت میں عجیب واقعہ ہوا……
حمین میں تمہیں اور تمہارے باپ دونوں کو بہت اچھےسے جانتی ہوں اور اب سے نہیں کافی عرصے سے…..سمجھے زیادہ ہوشیاریاں نہ دکھایا کروں اپنے کمرے میں چلو اور گھر جلدی آنے کی عادت ڈالوں
نرمین کہتی ہوئی واپس اپنے کمرے کی طرف چل پڑی
مگر پھر کچھ خیال آتے ہی دوبارہ مڑی…
اور ہاں اگر تم دونوں کامزید کچھ دیر اور یہاں ٹھیٹر لگانے کا پروگرام ہے تو اپنی آوازیں آہستہ اور لائیٹ آن کرلو تاکہ میں اور موسیٰ ڈسٹرب نہ ہوں.
جبکہ موسیٰ اپنے کمرے کی دہلیز سے سب سن کرواپس پلٹ گیا.
اور کریں محبت کی شادی ….
اپنے ساتھ ساتھ مجھےبھی مروا دیتے ہیں.
حمین کہتا ہوا کچن کی جانب بڑھ گیا.
دو کپ کافی کے بنانا…..
حنین ریموٹ سے ٹی وی آن کرتے ہوئے بولا
جی معلوم ہیں روز کا کام ہے تھکاہوا میں آتاہوں اور کافی بھی مجھے ہی بنا کر دینی پڑتی ہے…….
مسٹرحمین تم میرے پر احسان نہیں کرتے ہو میں جوتمہارے لیے سارے زمانے سے لڑتا ہوں اور آدھی آدھی رات تک تمہارے انتظار میں جاگتا ہوں وہ کس “کھاتے” میں…..
اتنا انتظار تو تمہاری بیگم بھی نہ کرے……….
ہائےڈیڈ اب رات کہ اس پہر آپ مجھے رومنٹک کر رہےہیں.
حمین نے کہتے ہوئے ایک کپ حنین کو دیااور دوسرا دونوں ہاتھوں میں تھام کر مسکراتا ہوا حنین کے مقابل صوفہ پر بیٹھ گیا.
رومنٹک تو بیرسٹر صاحب بعدمیں ہوناپہلے یہ بتاؤ آج پھرزرناب کو تنگ کیاتھا…؟؟؟
توبہ ہےاس لڑکی کے پیٹ میں کوئی بات ہضم نہیں ہوتی .خود تومقابلہ کر نہیں سکتی پرکبھی آپکو اور کبھی انکل زریاب سےڈانٹ پڑوا کر خوش ہو جاتی ہے بیچاری….
حمین نے کافی کاسپ لیتے ہوئے مصنوعی افسوس کا اظہار کیا….
پہلی بات یہ کہ وہ ڈرتی ورتی کسی سے نہیں ہے ماہ نور کی بیٹی ہے وہ……
دوسری بات تم دونوں جتنےپنگےایک دوسرے سے لیتے ہو میرے خیال میں تم دونوں کے درمیان صلح کی گنجائش نہیں بلکہ صرف “نکاح” کی گنجائش بچتی ہے……..
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر کپ ٹیبل پررکھا اور اٹھ کھڑا ہوا….
اوبجکشن مسٹر حنین….
اپنے لیے معصوم سی نرمین دیکھ لی اور مجھے “پھولن دیوی” ساتھ شادی کا مشورہ دے رہے ہیں واہ کیا بات ہے آپ کی…..
اس سے پہلے کہ حنین کچھ کہتا ایک بار پھر نرمین کی آواز نے دونوں کو چونکا دیا……
میرے خیال میں تم دونوں آج رات ٹی وی الاؤئج میں ہی گزارنے کا ارادہ رکھتےہو اس لیے اپنے اپنے تکیے کیچ کر لوں ساتھ ہی دو تکیہ نرمین نے اوپر سے نیچے پھینکے جبکہ حنین نے حمین کی طرف حیرانی سے دیکھا….
میں تو رات یہاں گزارنے والا نہیں سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے اس وقت اس چڑیل کوڈسکس کرنا ضروری تھا بڑے فلاسفربنتے ہیں اب حل کریں اس مسٔلہ کو…..
حمین نے صوفے پر گرتے ہوئے کہا
“ﻓﻼﺳﻔﺮ ﻭﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﻮ ﯾﻮﮞ ﺣﻞ ﮐﺮﮮ ﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﺣﻞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱﺳﮯ ﺗﻮ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔”
(ﮈﺍﮐﭩﺮ ﯾﻮﻧﺲ ﺑﭧ)
دونوں باپ بیٹا اب مسکرا رہے تھا کیوں کہ وہ صرف باپ بیٹا نہیں تھے بلکہ دوست اور ہمراز بھی تھے.
