No Download Link
Rate this Novel
Episode 46
حمین نے گاڑی حبا کے قریب جا کر روکی اور اسے اشارے سے بیٹھنے کا کہا جس پر حبا نے فورا” عمل کیا ۔
تم یہاں اس وقت اکیلے کیا کر رہی ہو کون ہے تمہارے ساتھ اور گاڑی کدھر ہے تمہاری۔۔۔۔؟
وہ میں کچھ چیزیں لینے مارکیٹ آئی تھی تو گاڑی خراب ہوگئی ڈرائیور گاڑی ٹھیک کرانے گیا ہے ابھی تک واپس نہیں آیا۔
اور تمہارا موبائل فون کہاں ہے فون کرکے کسی اور کو بلالیتی کب سے یہاں اکیلی کھڑی ہو۔۔۔؟
وہ میرا بیگ تو گاڑی میں ہے۔۔؟
کیا پاگل لڑکی۔۔۔۔؟
بیگ تمہارا گاڑی میں کیا کر رہا ہے، تمہارے پاس کیوں نہیں ہے ؟ گھر چلی جاتی یہاں سے تمہارے گھر کا فاصلہ کتنا ہے دس پندرہ یا زیادہ سے زیادہ بیس منٹ۔۔۔۔۔؟
حمین کو اس کی عقل پر افسوس ہوا۔
وہ مجھے گھر کا راستہ نہیں آتا میں کبھی اکیلی باہر آئی ہی نہیں مجھے پتا ہی نہیں یہاں سے کدھر جانا ہے۔
حبا نے پریشان ہوتے ہوئے حمین کو بتایا ۔
تم کس دنیا میں رہتی ہو ؟ تمہیں اپنے گھر کا راستہ تک نہیں معلوم۔ یہاں سے فاصلہ کتنا ہے اگر میں یہاں سے نہ گزر رہا ہوتا اور ڈرائیور دیر کر دیتا جو کر رہا ہے تمہارے پاس موبائل فون بھی نہیں ہے تو کیا ساری رات یہاں ہی کھڑی رہتی۔۔۔؟
حمین نے اسے اس کی غلطی کا احساس دلانا چاہا ۔
نہیں کھڑی تو نہیں رہتی پھر میں بیٹھ جاتی نااااا اتنی دیر تو میں کھڑی نہیں رہ سکتی تھک جاتی۔
حبا کے جواب پر حمین نے اپنی گول مٹول آنکھوں سے حبا کی طرف دیکھا جیسے یقین کر رہا ہوں کہ اِس نے وہی کہا ہے جو اُس نے سنا ہے ۔۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف حبا بالکل مطمئن تھی مطلب کے اُس نے وہی کہا تھا جو حمین نے سنا تھا ۔
تم تو مجھے پاگل کر رہی ہو میرا دل کر رہا ہے کہ میں اپنا سر گاڑی کے سٹیرنگ پر مار دو ۔
آپ مجھ پر غصہ ہو رہے ہیں میری بات بری لگی ہے میں نے عجیب بات کی ہے ۔۔؟
اب یہ بتانا بھی پڑے کرے گا کہ میں غصہ ہو رہا ہوں اتنی عقل بھی نہیں ہے کہ اگلا بندہ غصے میں ہے۔ ڈیڈ آپ نے مجھے کدھر پھنسا دیا ہے۔۔۔
حمین نے افسوس کرتے ہوئے اپنا سر ہلایا۔ جبکہ حبا انتہائی سنجیدگی سے حمین کی طرف دیکھ رہی تھی جیسے اس نے کچھ کیا ہی نہ ہو۔۔۔؟
تو تم اڑ کر چلی جاتی “رابن نیل کی چڑیا” ہحمین نے اس کی اداسی دور کرنے کے لیے کہا
کتنی بار کہا ہے مجھے چڑیا نہ کہا کریں حبا کو غصہ آگیا۔
تم مجھ پر غصہ کر رہی۔۔۔؟ حمین نے تھوڑی دیر پہلے حبا کا کہا ہوا جملہ دوہرایا اور مسکرانے لگا
آپ میری نقل اتار رہے ہیں ۔۔۔؟
چلو شکر ہے اتنی عقل ہے تم میں میں سمجھا کہ بالکل ہی پیدل ہو ۔۔۔؟
پیدل کہاں ہوں اب تو گاڑی میں بیٹھی ہوئی ہوں۔
حبا کے جواب پر حمین ایک دفع پھر شاکڈ ہو گیا۔
کیا چیز ہو تم ، ویسے ہماری فیملی میں اپنی ان حرکتوں کی وجہ سے آرام سے سیٹ ہو جاؤ گی .پر ماما کا کیا ہو گا…؟
نرمین کا خیال آتے ہی حمین خود بخود مسکرانے لگا .
🌸🌸🌸🌸
کیا ہوا میرا بیٹا پریشان ہے اداس ہے۔۔۔۔؟
زریاب نے زرناب کو ٹیرس پر اداس بیٹھا دیکھا تو اس کے پاس ہی کرسی پر بیٹھ گیا اور محبت سے پوچھا
بابا پریشان نہیں ہوا بلکہ بہت زیادہ پریشان ہوں زرناب نے باپ کی محبت پاتے ہیں اپنا دکھ بابا سے شیئر کیا۔
کیس کی وجہ سے پریشان ہو؟ زرناب کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے محبت سے زریاب نے تسلی دی.
جی بابا اسی وجہ سے پریشان ہوں آج سے پہلے تو کبھی میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا میں جتنا اس کیس کو سلجھا رہی ہوں اتنا ہی یہ الجھتا جا رہا ہے ۔
میرے پاس حمین کی کسی دلیل کا کوئی جواب نہیں ، مجھے لگتا ہے اگلی پیشی میں کیس کا فیصلہ ہوجائے گا اور میں ہار جاؤ گی۔
مجھے اپنے ہارنے کا دکھ نہیں مگر زرتاشہ کو انصاف نہیں ملے گا بہت زیادتی ہو جائے گی اس کے ساتھ میں کیا کروں۔۔؟
اور موسی کا بھی دل ٹوٹ جائے گا کتنے مان سے اس نے مجھے یہ کیس لڑنے کا کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے لوگوں کا مان توڑنے سے ،خاص طور پر ان لوگوں کا جن سے ہم محبت کرتے ہیں ۔
“مان اور محبتیں نصیب والوں کے حصے میں آتی ہیں اور نصیب والے ہی انھیں سنبھال پاتے ہیں ۔کسی کے دل میں جگہ بنانے کے لیے بہت وقت درکار ہوتا ہے لیکن دل سے اترنے کے لئے فقط آپ کی ایک کوتاہی اور غلطی کافی ہے یہی اس دنیا کی رِیت ہے اور انسانی فطرت ہے”
اچھا مجھے اپنا مسئلہ بتاؤ جو تمہیں زیادہ پریشان کر رہا ہے پریشانی شئیر کرنے سے کم ہوتی ہے ۔۔۔۔۔؟
بابا مسئلہ یہ ہے کہ زرتاشے ایک “لےپالک” اولاد ہے اور قانون میں لے پالک اولاد کا دادا یا باپ کی جائیداد میں حصہ نہیں ہوتا ۔
سیال فیملی زرتاشے کی ذاتی جائیداد پر قبضہ کر رہے ہیں مگر اس بیوقوف لڑکی پاس اس کی اپنی جائیداد کے نہ تو کوئی پیپرز موجود ہیں اور نہ ہی کوئی گواہی دینے کو تیار ہے کہ یہ جگہ زرتاشے کی ہے۔
میں نے ذاتی طور پر سب پتہ کروانے کی کوشش کی ہے مگر بے سود ۔۔۔
ایسی صورتحال میں تو سیال فیملی جائیداد کیس جیت جائے گی کیوں کہ ان کا وکیل بہت تگڑا ہے۔ جیسے “سیل مرغے”ہوتے ہیں نااااا لڑائی والے آخر میں زرناب نے ہنستے ہوئے اپنے بابا کی طرف دیکھا
بری بات ہے حمین کو تم مرغا کہہ رہی ہوں اگر حنین نے سن لیا ناااا تو وہ ہمارے پورے خاندان کو مرغا بنا دے گا زریاب نے ہنستے ہوئے جواب دیا
تو پھر اب تم کیا کرو گی ۔۔۔؟
کچھ نہیں جائیداد کا کیس تو وہ جیت جائیں گے اب کوشش کروں گی کہ اس بچی کے ساتھ جو زیادتی ہوئی ہے اسی کا کچھ مسئلہ حل ہوجائے اس کی میڈیکل رپورٹ پیش کروں گی اور مہر کی میڈیکل رپورٹ کا مطالبہ کرونگی آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ۔۔۔؟
ہاں یہ بات تو ہے کوشش جاری رکھنی چاہیے ۔۔۔؟
بابا اگر زردشے کو عدالت میں پیش کردیا جائے تو کیس اہم رخ اختیار کر سکتا ہے مگر اس سے زرتاشے کی جان کو خطرہ ہو گا میں یہ رسک لینا نہیں چاہتی۔
سیال فیملی کے لوگ تو یہی چاہتے ہیں کہ میں جلد از جلد اسے عدالت میں پیش کروں تاکہ وہ لوگ اس کا کام تمام کر سکیں مگر میں یہ ہونے نہیں دوں گی ۔
چلو چھوڑو یہ بتاؤ تمہیں موسی پسند ہے تمہیں اس کے ساتھ منگنی پر کوئی اعتراض تو نہیں ہے۔۔۔؟ کیونکہ تمہاری ماں بہت پریشان ہیں تمہاری وجہ سے ۔۔۔۔
بابا وہ میری وجہ سے پریشان نہیں ہے وہ حمین کی وجہ سے پریشان ہیں یہ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی۔۔۔۔۔
اصل میں تمہاری ماں کو شروع سے ہی حمین بہت پسند ہے خیر تم اپنی خوشی کا خیال رکھو میں اسے دیکھ لوں گا۔
پاپا مجھے لگتا ہے میں موسی ساتھ بہت خوش رہوں گی ہم دونوں ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں وہ میری باتیں سمجھتا ہے میں اس کی۔۔۔۔
ویسے بھی اگر ایک بولنے والا ہو تو ایک سننے والا بھی تو ہونا چاہیے نا کیونکہ اگر دونوں ہی بولیں گے تو سنے گا کون ۔۔۔۔؟
آخر میں زرناب نے شرارتی نظروں سے باپ کی طرف دیکھا اور دونوں مسکرانے لگے
🌸🌸🌸🌸
موسی جلدی اس ایڈریس پر پہنچو ابرش کی طبیعت بہت خراب ہوگئی ہے وہ واش روم گئی تھی اور وہاں پر پھسل گئ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے میں اسے قریبی ہی ایک چھوٹے سے کلینک میں لے آئی ہوں تم تو جانتے ہو نہ کہ اسے ہسپتال لے کے جانا کتنا بڑا رزق ہے جلدی آؤ پلیز !!!
موسی اپنے آفس میں بیٹھا مرتضی کے ساتھ چائے پی رہا تھا جب اسے زرناب کا میسج ملا
او شٹ یار ۔۔۔۔۔
موسی نے میسج پڑھتے ہی بے ساختہ کہا جس پر مرتضی چونک پڑا ۔
کیا ہوا ۔۔۔؟
ہونا کیا ہے ابرش کی طبیعت خراب ہوگئی ہے زرناب اسے کلینک لے گئی ہے چلو جلدی چلتے ہیں موسی نے کہتے ساتھ ہی اپنا موبائل اور گاڑی کی چابیاں اٹھائیں اور باہر کی طرف بڑھ گیا ۔
زرناب انتہائی پریشانی میں کلینک کے باہر ٹہل رہی تھی اور بار بار کچھ نمبرز ملا رہی تھی جب موسی اور مرتضی وہاں پہنچے۔
موسی بہت گڑبڑ ہو گئی ہے اس کا مس کیریج ہوگیا ہے اور خون کی ضرورت ہے اس کا بلڈ گروپ بھی او نیگیٹو ہے مل ہی نہیں رہا کیا کریں۔۔۔۔؟
بلڈ بینک سے پتہ کرو ناااا موسی نے کہتے ہوئے اپنا موبائل بھی باہر نکالا
میرے خیال سے اس سلسلے میں ارتضی سے بات کر لیتے ہیں اسے ہاسپٹل لے جاتے ہیں کیا خیال ہے تم دونوں کا مرتضیٰ نے صورتحال دیکھتے ہوئے اپنی رائے دی۔
نہیں تم بات کو سمجھو اس کو ادھر ادھر لے کر جانا خطرے سے خالی نہیں ہے اسی لئے ہم نے اس کا نام بھی تبدیل کیا ہے تم سمجھ رہے ہو ناااا۔
موسی نے فون ملاتے ساتھ آہستہ آواز میں مرتضی کو جواب دیا۔
ویسے حذیفہ کا خون او نیگیٹو ہے اور میرے خیال سے وہ آج کل چھٹی بھی آیا ہوا ہے کیونکہ میں نے کل عترت پھپھو کو اس کے بارے میں بات کرتے ماما سے سنا تھا ۔
خون کی کتنی بوتلیں چاہیے۔۔۔؟ موسی نے زرناب کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
تین چاہیے۔۔۔۔
ایک کا تو میں نے بندوبست کردیا ہے اور دو کی “فوراً”ضرورت ہے۔ یار اس کی جان کو خطرہ ہے پتہ تو ہے اس کی عمر بھی کتنی کم ہے اور کمزور بھی ہو بہت ہے ۔
زرناب کے لہجے میں واضح پریشانی ٹپک رہی تھی.
میرے خیال سے حمین بھائی کا بلڈ گروپ بھی او نیگیٹو ہی ہے۔
موسی نے کچھ سوچتے ہوئے زرناب اور مرتضی کی طرف دیکھا
جبکہ حمین کے نام سے زرناب کے چہرے پر عجیب تاثرات ابھرے دیکھ لو تمہاری مرضی ہے کہیں کچھ گڑ بڑ نہ ہوجائے ۔۔۔۔؟
زرناب مقدمہ ایک طرف مگر انسانی جان بہت قیمتی ہوتی ہے ہمیں اس وقت صرف اس کی جان بچانی ہے۔ میں حمین بھائی کو کال کرتا ہوں مجھے یقین ہے وہ ضرور آجائیں گے۔
میں کیوں خون دوں۔ ۔۔؟
اتنی مشکل سے تو جان بنائی ہے ایک تو فوج والے ہر وقت ہمارا خون چوستے رہتے ہیں اوپر سے گھر آیا تھا کہ آرام کروں گا اور اب تُو میری جان کے پیچھے پڑ گیا ہے میں تو آگے ہی بہت کمزور ہو گیا ہوں ایوی ایشن کی ٹریننگ کی بعد ، مجھ میں تو خون کی بہت کمی ہے دیکھ میرا رنگ کتنا پیلا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔؟
حذیفہ نے حمین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
تیرا رنگ پیلا نہیں ہے تیری شرٹ کا رنگ پیلا ہے اپ بکواس بند کر اور چپ چاپ یہاں لیٹ خون کی بوتل دے میں نے بھی تو دی ہے۔
حمین نے حذیفہ کو سٹیچر پر لیٹنے کا اشارہ کیا۔
ہم لوگوں نے صرف وطن پر خون دینے کی قسم کھائی ہے ہر جگہ خون دینے کی نہیں ، عجیب زبردستی ہے کدھر پھنس گیا ہوں۔
حذیفہ مسلسل بڑبڑا رہا تھا جب نرس کمرے میں داخل ہوئی۔
اس وقت سب ہی حمین ، مرتضی ، موسی ، حذیفہ ارتضی اور زرناب کوریڈور میں کھڑے تھے جب ڈاکٹر نے آکر کہا
ابھی کچھ دیر میں آپ ان سے مل سکتے ہیں ان کی حالت اب خطرے سے باہر ہے ۔ ڈاکٹر اپنی پیشہ ورانہ انداز بھی کہتی ہوئی دوبارہ اندر چلی گئی جب کہ زرناب نے سکھ کا سانس لیا ۔
یہ جو آپ سکھ کا سانس لے رہی ہیں یہ اگر دکھ کا لیں تو بہتر ہے کیونکہ آپ کے پاس جو دوسرا ثبوت مہر کی خلاف تھا وہ بھی ختم ہوگیا ہے ۔
حمین نے زرناب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
اپنے کام سے کام رکھو مجھے پتا ہے میں نے کیا کرنا ہے زرناب کہتی ہوئی اندر کی طرف بڑھ گئی ۔
بہت بہت شکریہ حذیفہ اور بھائی آپ کا میں تو بہت پریشان ہو گیا تھا ۔
موسی نے حذیفہ سے ہاتھ ملاتے ہوئے حمین کی طرف دیکھ کر کہا
شکریہ کس بات کا یہ زبردستی مجھے لے کر آیا ہے پتا نہیں کس کے لئے میرا خون نکلوایا ہے اس نے۔۔۔۔۔
حذیفہ نے حمین کی طرف دیکھتے ہوئے ناگواری سے کہا
نہیں یار بہت معصوم سی لڑکی ہے بالکل اپنی حبا کی طرح……
حمین کے یہ الفاظ حذیفہ پر کسی تیر کی طرح لگے اور اُس کا رنگ سرخ پڑ گیا.
خبردار !!!جو دوبارہ میری بہن کو کسی ایسی ویسی گندی لڑکی ساتھ ملایا تو، وہ “سادات سید” ہے مطلب “سیدزادی”…….
حبا بخاری نام ہے اس کا ، سات پردوں میں رہنے والی ، انتہائی شریف لڑکی۔۔۔۔۔
یہ جن لڑکیوں ساتھ ایسا ہوتا ہے نااا ان کی اپنی کرتوتیں بھی گندی ہوتی ہیں اسی لیے ان کے ساتھ ایسا ہوتا ہے اس جیسی لڑکیوں کا نام میری بہن کے ساتھ دوبارہ لیاناااااا حمین تو میں تیری جان لے لوں گا۔
تمام مسلمانوں پر اہل بیت کا احترام فرض ہے۔اپنے میں اور ہم میں فرق محسوس کرو.
حذیفہ نے دھمکی آمیز لہجے میں حمین کی طرف دیکھ کر کہا جبکہ باقی سب شاکڈ تھے کہ یہ پل بھر میں کیا ہوگیا ۔۔۔؟
سوری مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا مگر میرا مطلب یہ تھا کہ وہ حبا کی ہم عمر ہے ۔
حمین اور سوری…..
موسی کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا حمین کے منہ سے سوری کے الفاظ سن کر۔
حذیفہ گاڑی کی سیٹ ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا مسلسل اپنی پیشانی اور کنپٹیوں کو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے دبا رہا تھا .
آج سے پہلے وہ کبھی حمین ساتھ اس طرح غصے نہیں ہوا تھا بلکہ ان دونوں میں بچپن سے ہی بہت پیار تھا آج جو کچھ بھی ہوا اس کا اسے بہت دکھ تھا.
کافی دیر بعد اپنے آپ کو نارمل کرکہ وہ گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا تو اسے یاد آیا کہ اسکی چابیاں حمین کے پاس ہی رہ گئیں ہیں.
وہ اس وقت حمین سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے اس نے زرناب کا نمبر ڈائل کیا تاکہ وہ کسی کی ہاتھ اس کی چابیاں باہر بھجوا دے۔
زرناب ابرش کو دودھ پلا رہی تھی جب اس کے نمبر پر حذیفہ کی کال آئی.
ہاں بولو کیا بات ہے۔۔۔؟
زرناب نے کندھے کے ساتھ موبائل لگا کر بات کی اور ہاتھ سے ابرش کو دودھ دیا۔
وہ میری گاڑی کی چابیاں حمین پاس ہیں تم پلیز موسی سے کہو مجھے دے جائے ۔
اچھا میں کہتی ہوں زرناب نے حذیفہ کو جواب دیا اور ابرش سے کہا چلو شاباش جلدی سے دودھ پی لو میں ابھی آتی ہوں ۔
جی اچھا……
زرناب کے لیے ابرش کہ یہ الفاظ بالکل معمولی تھے مگر دوسری طرف کال پر موجود حذیفہ کے لیے یہ الفاظ کسی قیامت سے کم نہ تھے وہ یہ آواز سو آوازوں میں بھی پہچان سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“معصومہ”نہیں یہ نہیں ہو سکتا ؟
حمین کے ساتھ لڑائی ،خون کی بوتل دینا اور اب معصومہ کی آواز حذیفہ کو اپنا سرگھومتا ہوا محسوس ہو رہا تھا.
🌸🌸🌸🌸
