Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

زریاب کو اب سچ مچ ماہ نور کی ضد پریشان کر رہی تھی . اس مسئلہ کا کیا حل نکالا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے یعنی میں شادی بھی نہ کروں اور ماہ نور راضی بھی ہو جائے.
ابھی وہ انھیں سوچوں میں گم تھا کہ اس کا فون جگما اٹھا اور ساتھ ہی زریاب کا چہرہ بھی ….
جی جناب فرمائیں بلکہ حکم کریں ہم پوری قوم کے خادم ہیں مگر آپ کے خاص طور پر……
سردار زریاب علی خاں یہ میں ہوں “حنین ملک” تیری پیرنی نہیں جو یوں شہد ٹپکا رہاہے اُسی طرح بات کر جیسے کرتا ہے تاکہ مجھے کوئی خوش فہمی کا شکار نہ ہوں.
حنین کی بات پر زریاب نے قہقہ لگایا پھر کچھ سوچ کر کہا
یار میں آج کل ماہ نور کی وجہ سے بہت پریشان ہوں بلکہ سیدھے لفظوں میں اس نے مجھے پریشان کیا ہوا ہے
تُو اس کی وجہ سے خوش کب تھا….؟ بلکہ سیدھے لفظوں میں اُس نے تجھے ہمیشہ پریشان ہی کیا ہے……
دکھی آتما…….
یار میں اس ٹنشن سے نکل کر خوش رہنا چاہتا تو میری مدد نہیں کرسکتا….
زریاب کی بات پرحنین نے ہنستے ہوئے کہا
“اگر زندگی میں خوش رہنا چاہتا ہے تو دو ⁦✌️⁩اصول اپنا لے۔۔۔
1-کسی کے معاملے میں”اباجان”مت بن ۔….
2-کسی کو اپنے معاملے میں “اباجان” مت بننے دیں ۔۔”
حنین…………
دل تو کرتا ہے تجھے دفا کردو اورتیرے اوپر فاتحہ پڑھ کر فارغ ہو جاؤں پر کیا کرو تویارہے اپنا…..
بتا کیا مدد کر سکتا ہوں میں تیری……؟
بس بیٹا چاہیے اسے ، اس کے اندر کی محرومی بولتی ہے مجھے شادی کے لیے فورس کر رہی ہے…
بس جی اپنےاپنے نصیب ہیں ، خوش قسمت ہے تو یار ورنہ ہم…….
حنین نے ایک سرد آہ بھری
زیادہ ڈرامہ بازی نہیں میرے مسئلہ کا حل بتا.
واہ جی کمال ہے رعب تو ایسے ڈال رہا ہے جیسے میں تیری بیوی ہوں ، ہاں یار ایک آئیڈیا آیا میرے دماغ میں…..
تُو ایسا کر مجھے اپنی بیوی بنا لے یاپھر تو میری بیوی بن جا ، اگر تو میری بیوی بنا تو جو میں کہوں گا وہ تجھے کرنا پڑے گا اور اگر میں تیری بیوی بنا تو میری ساری ذمہ داریاں تجھ پر مطلب “خرچا ورچہ”…
زیادہ بکواس نہیں سیدھی طرح بتا دے کیا چاہیے تجھے ، لالچ کے بغیر بھی کام کر دیا کر….
میری جان یہ سب پیسے کا کھیل ہے اگر تو مجھے ابھی تھوڑی سی شاپنگ کرا دے تو میں تیرا مسئلہ ایسےحل کروں گا( کہ تو خود بول اٹھے گا اس سے اچھا تو مسئلہ ہی تھا یہ بات حنین نے دل میں کہی) کہ تو حیران رہ جائے گا اور مسکرا کر زریاب کیطرف دیکھا جواپنا کریڈٹ کارڈ حنین کی طرف بڑھا رہا تھا.
بس اب تو میری بات غور سے سن…..
‏بیویاں چاہتی ہیں شوہر ان پر مریں،جب شوہر ان پر مرتے ہیں تو کہتی ہیں
” پراں جاکے مر “
جب وہ پراں جاکے مرتے ہیں , تو کہتی ہیں
” ہاۓ میں مرگئ “
مطلب اب تو ایک بار پھر عشق کر …….وہ کیا ہے ناااا
دوجی واری وی ہویا پیار دوجی واری وی ہویا اے تیرے نال…..
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھوں کو گھما کرکہا جبکہ زریاب نےناسمجھی سےاسے دیکھا
🌸🌸🌸🌸
بی بی جی جلدی کریں میرے کپڑے پہن لیں سچ میں آج بہت اچھا موقعہ ہے مجھے نہیں لگتا کہ ایسا موقع پھر ہمیں ملے گا.
نور (نوکرانی کی بیٹی)نے زرتاشے کو کہا اور ہاتھ میں پکڑے ہوئے کپڑے اس کی طرف بڑھائے
نور تم میری وجہ سے اتنا خطرہ مول مت لو. مجھےکہیں نہیں جانا…..
حد کرتیں ہیں آپ ……
نور نے افسوس سےزرتاشے کو دیکھا
میں یہاں سےنکل کر کہاں جاؤں گی کس کے پاس پناہ لوں گی اگر میرا کوئی ہوتا تو میں بابا کے چہلم والے دن ہی یہاں سے چلی جاتی……
زرتاشے نے آنسو صاف کرتے ہوئے جواب دیا
بی بی یتیم خانے چلی جانا یہاں سے تو اچھا ہو گا…..
نور کےاصرارپر نہ چاہتے ہوئے بھی زرتاشے اسکے کپڑے پہن کر تیار ہو گئی.
بی بی اپنے ضروری کاغذات رکھ لیں اور یہ پیسے بھی….
نور نےاپنے دوپٹے کے کونے میں بندھےہوئےکچھ روپے زرتاشے کو دیے.
میں تمہارا احسان ساری زندگی یاد رکھوں گی. مگر سمجھ نہیں آ رہی کہاں جاؤں….
زرتاشےنے نور کے گلے لگتے ہوئے کہا
بی بی میری مانے تو ٹرین پر بیٹھ کر سکی دور شہرچلی جائیں ٹرین کا سفر لمبا بھی ہوتا ہے اور محفوظ بھی، آپ کو سوچنےکے لیے کافی وقت مل جائے گا. جلدی کریں کہیں چھوٹے صاحب نہ آ جائیں….
نور نے باہر دیکھتے ہوئے کہا
مگرگاؤں والے مجھے پہنچانتے ہیں میں ٹرین تک کیسے پہنچوں گی…؟
زرتاشے کی پریشانی پر نور نے تسلی دیتے ہوئے کہا
اس کا بندوبست میں نے کر لیا ہے. گاؤں میں دوسرے شہر کی بارات آئی ہوئی ہےمیں آپ کو باراتیوں کی بس میں سوارکر دیتی ہوں بس وہاں سے آگے آپ خود سمبھال لیناکسی محفوظ مقام پر پہنچ کر مجھے اطلاع کر دینا….
ٹھیک ہے ، مگر تم میرا دوسرا کام بھی یاد سے کر دینا.
زرتاشے نے دوبارہ گلے لگتے ہوئے کہا
🌸🌸🌸🌸
حمین ڈرائونگ سیٹ پر تھا حذیفہ اس کے ساتھ فرنٹ پر جبکہ موسیٰ،ارتضی اور مرتضی پیچھے بیٹھے ہوئے تھے. یہ سب مل کر آج حذیفہ کو یونٹ چھوڑنے جا رہے تھے.
گاڑی میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی. موسیٰ اور مرتضی موبائل پر اپنی اپنی بزنس اب ڈیٹس چک کر رہے تھے جبکہ ارتضی ایک پیشنٹ کی بائیو گرافی دیکھ رہا تھا جس کا کل آپریشن تھا اور حذیفہ مسلسل مس معصومہ کو کال کر رہا تھا وہ چاہتا تھا کہ جانے سے پہلے ایک بار اُس سے بات ہو جائے .
حمین کب سے سب کی سرگرمیوں کو غور سے دیکھ رہا تھا. بلاآخر اُس کا صبر جواب دے گا.
“طوئیں , ظوئیں , عَین , غین
جاؤ وے عاشقو توانوں کُتے پین”
حمین کے شعر پر سب نے ایک بار سر اٹھا کر اسے حیرت سے دیکھا اور پھر ہنسنے لگے.
یہ تجھے اچانک کیا دورے پڑنے لگتے ہیں مجھے لگتا ہے تُو “اسلام آباد” کی بجائے “امرتسر” میں پیدا ہوا ہے . عجیب سکھوں والے اشعار اورکہاوتیں ہوتیں ہیں تیری……..
حذیفہ نے کہا جس پر حمین نے اپنی گول مٹول آنکھوں سے اُسے گھورا اور ایک سرد آہ بھرتے ہوئے جواب دیا.
ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک بہادر فوجی ہوتا تھا پھر اُسے رانگ نمبر پر ایک حسینہ مل گئی جس کے بعد وہ ہمیشہ یہ کہتا ہوا ملا….
“میرا پاس تم ہو”
ساری کار قہقوں سے گونج اُٹھی.
بس کرو یار اب اس ڈرامے کا پیچھا چھوڑ بھی دو.جبکہ حذیفہ نے حمین کی کمر پر مکا مارتے ہوئے جواب دیا.
“میرے پاس بم ہے”
جس پر ایک بار پھر سب ہنسنے لگے.
ویسے زرناب بلکل ٹھیک کہتی ہے تجھے پڑھنے “لندن” بھیجا تھا مگر شاید تو “لندن ” کی بجائے “امرتسر”چلا گیا اور سکھوں سے یاریاں لگالیں جس کا تیری شخصیت پر گہرا اثر ہوا.
پہلی بات یہ کہ میرے نزدیک “لندن” اور “امرتسر” میں کوئی خاص فرق نہیں دونوں شہروں میں کثیر تعداد میں سکھ نظر آتے ہیں دوسری بات میرا “روم میٹ” ایک سکھ تھا جو اکثر مجھے پنجابی jokes سناتا رہتا تھا. تمہیں بھی میں ایک خشونت سنگھ کا واقعہ سناتا ہوں.
خشونت سنگھ لکھتے ہیں :
“ایک بار میں جہاز میں ممبئی سے سنگاپور جارہا تھا. ایک خاتون میرے برابر کی سیٹ پر بیٹھی ہوئی مجھے مسلسل گھورے جارہی تھیں. میں سمجھ گیا کہ اس عورت نے آج تک کوئی سردار نہیں دیکھا. سفر کے دوران جب ایئر ہوسٹس چائے اور اسنیک لائی تو میں نے سوچا کہ اس خاتون سے گفتگو کا آغاز کروں.
اس کا نام مارگریٹا تھا اور اس کا تعلق اسپین سے تھا.
دوران گفتگو اس نے پوچھا.
” آپ کون ہیں؟”
میں نے انگریزی میں کہا.
” I m sikh”
” آئی ایم سوری” وہ خاتون کہنے لگیں. ” امید ہے آپ جلد ٹھیک ہو جائیں گے”
” میں نے اس پر کہا.
” نہیں محترمہ آپ غلط سمجھی ہیں.
I am not sick as that of the body, I am Sikh as of religion.”
وہ خاتون بہت خوش ہوئیں اور مجھ سے گرم جوشی سے ہاتھ ملایا. کہنے لگیں.
“it is nice meeting you, I am also sick of religion.”
واقعہ سن کر سب ہنسنے لگے.
حد ہے یار تُو وکیل کم اور مزاح نگار زیادہ لگتا ہے ارتضی نے کہا جس پر سب نے اُس کا ساتھ دیا.
اچھا پھریہ حذیفہ کیا لگتا ہے تمہیں……؟؟؟ اس کی حرکتیں بھی تو نوٹ کرو .
حمین کے کہنےپر حذیفہ نے گھور کر اُسے دیکھا.
ہاں جی! فوجی بھائی آپ آج کل کیا کر رہے ہیں. موسیٰ اور مرتضی نے پوچھا.
تمہیں پتہ ہے حمین ہر وقت بکواس کرتا رہتا ہے اس کی باتوں کو سیریس نہ لیا کرویہ مجبور ہے چپ رہ نہیں سکتا….
“میں نے چپ رہ کر دیکھ لیا ہے نہیں رہا جاتا چپ……”
حمین نے شرمندہ ہونے کی بجائے آگے سے اقرار کیا.
یار ویسے ایک بات ہے محبت ہے بڑی ظالم چیز اگر سچ میں ہو جائے تو…..
موسیٰ کے بیان پر ایک بار حمین اور حذیفہ نے بیک مرر میں اسے حیرت سے دیکھا.
زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں نے یہ بات کہیں پڑھی تھیکہ انسان کی پہچان دولت سے نہیں بلکہ……
موسی ابھی اتنا ہی بول پایا تھا کہ حمین نے اس کا جملہ اچک لیا.
“انسان کی پہچان دولت سے نہیں شناختی کارڈ سے ہوتی ہے پاگلو…… کیڑی کیڑی کم دی گل دساں میں توانوں…….”
جس پر سب ہنسنے لگے جبکہ موسیٰ نے نفی میں سر ہلایا.
اس کے ساتھ کوئی بھی کام کی بات کرنا فضول ہے حذیفہ نے موسیٰ کی طرف دیکھ کر کہا اور ایک بار پھرمعصومہ کا نمبر ڈائل کیا.( اللہ خیرکرے کیوں فون نہیں اٹھا رہی..؟ بل تو جا رہی ہے ) پتہ نہیں کیوں مگر حذیفہ کو عجیب سی بےچینی ہو رہی تھی جسے کوئی محسوس کرے نہ کرے مگر حمین محسوس کر رہا تھا.
زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے فون silent پر ہو گا. حمین نے آہستہ آواز میں حذیفہ کو تسلی دی .
جلیں جی کپٹن سید حذیفہ بخاری آپ کا سسرال آ گیا رخصت ہونے کی تیاری کریں.
یونٹ کے سامنے گاڑی روکتے ہوئے حمین نے نیچے اترنے کا اشارہ کیا جس پرسب نیچے اتر گئے اور باری باری حذیفہ کو گلے لگا کر خدا حافظ کہا
اپنا خیال رکھنا اور شہید ہونے کے بارے میں سوچنا بھی مت کیونکہ ہم نے ابھی بہت سارے دن ساتھ گزارنے ہیں.
موسیٰ نے پیار سے کہتے ہوئے حذیفہ کو خود سے الگ کیا اور کمر تھپکی…
“شہیدِ محبت نہ کافر نہ غازی…”
حمین نے مکا بنا کر حذیفہ کے مکے پر مارا اور ہاتھ ملاتے ہوئے مسکرا کر کہا
میں تیراکام کرنے کی پوری کوشش کروں گا.
پھر سب گاڑی میں بیٹھ گئے اور حذیفہ نے انھیں ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کیا.
مگر ان پانچوں میں سے کوئی بھی آنے والے وقت سے باخبر نہیں تھا اگر ہوتا تو وقت کو روک لیتا. کیونکہ شاید آج کے بعد وہ کبھی اس طرح اکھٹے نہیں ہو سکیں گے .
زندگی انتہائی سفاک اور خوفناک حد تک ظالم ہے یہ آپ کو وہ دن بھی دکھاتی ہے جس کا آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا.
زندگی ہر وقت آپ کو ماں کی گود میں لوری نہیں دیتی بلکہ کبھی کبھی یہ آپ کو زمین پر یوں پٹختی ہے کہ آپ چیخنے کے بھی قابل نہیں رہتے ، ہنسا تو بہت دور کی بات ہے….
ان پانچوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہونے والا تھا….
🌸🌸🌸🌸
اب تک کی کہانی صرف ششکوں پر مشتمل تھی مطلب میں نے آپ کو تمام کرداروں اور ان کے تعلق کے بارے میں آگاہی دینا تھی. مگر اب اصل کہانی شروع ہو گی جس کے لیے میں نے پارٹ ٹو لکھا……
جن لوگوں کو پارٹ ٹو پسند نہیں وہ نہ پڑھیں مگر مجھے انباکس میں میسج کر کے پریشان نہ کریں کیونکہ اگرمیں دلبرداشتہ ہو گئی تو ناول نامکمل چھوڑ دوں گی.اس سےآپ لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر میرا ناول ادھورا رہ جائے گا.
ہمارے شہر میں رات سے رم جھم ہو رہی ہے مجھے الحمد اللہ گاجر کا حلوہ اور فش میسر ہے اگر آپ کو بھی ہیں تو کھائیں اور مزے مزےکے کومنٹس کریں .شکریہ