No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
حمین نے کمرے میں جھانکا تو نرمین جائے نماز پر بیٹھی تسبیع پڑھ رہی تھی اور حنین کہیں نظر نہیں آ رہا تھا شاید وہ واش روم میں تھا.
حمین نے اپنی گول مٹول آنکھوں سے روم کاجائزہ لیا اور حنین کو نہ پا کر مایوسی سے پلٹنے لگا جب نرمین نے اسے پکارا.
کیا بات ہے ادھر آؤ…..؟
کچھ نہیں وہ ” مسٹر حنین ” کو دیکھنے آیا تھا پر وہ نظر نہیں آ رہے کہاں ہیں…؟
پہلی بات یہ ہے کہ وہ تمہارا باپ ہے “مسٹر حنین ” نہیں . کتنی بار منع کیا ہے مگر اثر نہیں ہوتا اور دوسری بات وہ دبیر کے پاس گیا ہے اگر کوئی خاص بات ہے تو مجھے بتا دو میں اسے بتا دوں گی….؟
سوری ، آئندہ پوری کوشش کروں گا کہ انھیں “ڈیڈ ” کہوں اور جب وہ تشریف لائیں تو انھیں کہنا صبح میرے گھر سے باہر جانے سے پہلے کہیں نہ جائیں کیونکہ میں انھیں دیکھ کر کورٹ جانا چاہتا ہوں .
جب بھی انھیں دیکھ کر جاتا ہوں وہ میرے لیے بہت “لکی” ثابت ہوتے ہیں مشکل سے مشکل کیس چٹکیوں میں جیت جاتا ہوں.
حیرت ہے لوگ اسے دیکھتے ہی راستہ بدل لیتے ہیں کہ صبح صبح سر کھائے گا اور تمہارے لیے “لکی” ہے. خیر کہہ دوں گی.
مام اب آپ زیادتی کر رہی ہیں وہ آپ کے لیے بھی “لکی” ہیں آپ نے کیوں اُن کو دیکھ کر راستہ تبدیل نہیں کیا….؟
حمین جانے لگا مگر پھر کچھ سوچ کر گھٹنوں کے بل نرمین پاس بیٹھ گیا.
ویسے تو میں آپ کو اچھا نہیں لگتا اور آپ کی دعائیں بھی ساری موسی کے لیے ہوتیں ہیں مگر پھر بھی اگر ہو سکے تو صبح میرے حق میں دعا کرنا بہت مشکل کیس ہے میری عزت کا سوال ہے….؟
حمین نے خلاف معمول کافی سنجیدگی سے نرمین کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
ماں کو اپنی ساری اولاد ہی پیاری ہوتی ہے اور وہ اُس کے لیے ہر وقت دیا کرتی رہتی ہے چاہے اس کا بیٹا “چور” ہی کیوں نہ ہو….؟
تم بھی مجھے بہت اچھے لگتے ہو بس تمہاری حرکتیں مجھے پسند نہیں . جب تم پیدا ہوئے تھے تو میں بہت خوش تھی میرا خیال تھا تم مجھ پر جاؤ گے کیونکہ پہلی اولاد بہت پیاری ہوتی ہے مگر تم نے شکل کے ساتھ ساتھ عقل بھی اپنے باپ سے لے لی رہتی کسر حنین نے تمہاری تربیت خود کر کہ نکال دی.
خیر میں دعا کروں گی یاد رکھو
“یہ جو ماں کی “محبت”ہوتی ہے نا ، یہ “محبت” کی بھی ماں ہوتی ہے.”
ارے واہ کمال ہے “مسز حنین” کیا بات کہی ہے.
حمین نے تالی بجا کر نرمین کو داد دی.
پھر “مسز حنین” کتنی بار منع کیا ہے مگر تمہیں اثر نہیں ہوتا. نرمین نے خفگی ہے کہا
اچھا سوری ، موم اور بہت شکریہ دعا کے لیے ، اور یاد سے مسٹر حنین کو کہہ دینا صبح میرا انتظار کریں مجھ سے ملے بغیر باہر مت جائیں.
تم ٹھیک نہیں ہو سکتے ، کہہ دوں گی .
حمین کوجاتا دیکھ کر نرمین نے نفی میں سر ہلایا اور دوبارہ تسبیع پڑھنے لگی.
🌸🌸🌸🌸
بس جی وقت وقت کی بات ہے کبھی ڈاکٹر رائحہ عزت سے گھر بلا کر مزے مزے کے کھانے کھلاتیں تھیں .
ہائے دنیا مطلب کی ، بغیر مطلب کے کون پوچھتا ہے…؟
حالانکہ میرا خیال تھا رشتےداری کہ بعد تم لوگ میرا زیادہ خیال کرو گے مگر افسوس……
حنین ڈرائنگ روم میں بیٹھا اونچا اونچا رونا رو رہا تھا جب ہالہ ٹی ٹرالی لے کر داخل ہوئی.
یہ کیا بات ہوئی ہم اب بھی آپ کی بہت عزت کرتے ہیں یہ دیکھیں میں نے آپ کے لیے کیا کچھ بنوایا ہے.
ہالہ نے ٹرالی حنین کے آگے کر دی.
خاک عزت دی ہے یہ تو وہی پرانے برتن ہیں سو دفعہ آگے بھی ان میں کھا چکا ہوں اب تم مجھے نئے برتنوں میں کھانا پیش نہیں کرتی مطلب صاف ظاہر ہے میری کوئی ویلیو نہیں……
حنین کے الفاظ دبیر پر بم کی طرح پھٹے …
اوئے کوئی خدا خوفی کر کیوں مجھےمروا رہا ہے جبکہ ہالہ فوراً بول پڑی.
دیکھا کتنی بےعزتی کروائی ہے تم نے ، میں نے کہا بھی تھا شاپنگ پر چلتے ہیں مگر…..
سوری حنین ، رئیلی سوری یہ ساری غلطی دبیر کی ہے .
حنین اون دونوں کو آپس میں لڑوا کر خود مزے سے مچھلی کے کباب کھا رہا تھا. جیسے اسے کچھ پتہ ہی نہ ہو کہ کیا ہوا ہے.
بےغیرت ! تجھ سے میرا سکون دیکھا نہیں جاتا . سچ بتا ہالہ کو کہ تو ڈرامہ کر رہا ہے.
دبیر نے غصے سے اس کے ہاتھ سے پلیٹ چھین لی.
یعنی اب تُو مہمان نوازی کے تقاضے بھی بھول گیا ہے. مجھے شک ہے تو “سید” نہیں…..
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر ہالہ کو دیکھا جو منہ پھلائے صوفے پر بیٹھی تھی.
میں سید ہوں یا نہیں مگر تُو “کنفرم بےغیرت” ہے . کیا ملتا ہے تجھے یہ سب کر کے…؟؟؟
دبیر نے ہالہ کی طرف دیکھا جو منہ بناتی ہوئی ڈرائنگ روم سے باہر چلی گئی.
بات کچھ یوں ہے “محترم مکرمی جناب دبیر حسین شاہ صاحب” میں نے عرض کی تھی کہ مجھے بار بی کیو کھانا ہے مگر تمہارے پاس وقت نہیں تھا.
اب جب تم دو تین دن بازاروں میں خوار ہو گے تو پتہ چلے گا. “پنگے” وہ بھی حنین ملک ساتھ ، میں بوڑھا ہوا ہوں میرے “پنگے”نہیں…..
اور رہی بات “understanding ” تو وہ میں نے دیکھ لی ہے.
حنین صوفے پر نیم دراز قہقے لگا رہا تھا جبکہ دبیر نے سارے کشن اس کے اوپر اکٹھے کر دیے تھے.
🌸🌸🌸🌸
موسی! کافی دیر سے زرناب کو دیکھ رہا تھا جو تیزی سے فائل پر ہاتھ چلا رہی تھی.
تم چائے لو نااااا……
زرناب نے خاموش بیٹھے موسی سے کہا
تو بلآخر کل کیس کی پہلی سماعت ہے.
ہاں ، مگر تم اتنا کیوں پریشان ہو رہے ہو سب ٹھیک ہو گا. امید ہمیشہ اچھے کی رکھنی چاہیے . میں نے آگے بھی کئی ایسے کیس لڑے ہیں دو یا تین پیشیوں کے بعد فیصلہ ہو جاتا ہے وہ بھی میرے حق میں….
تم مجھے تسلی دے رہی ہو یا خود کو…….؟
موسی کے الفاظ پر زرناب چونک گئی.
کیا کہنا چاہتے ہو کھل کر بات کرو ، میں جاننا چاہتی ہوں کہ تمہارے دل میں کیا ہے..؟
زرناب نے اپنا پن گھماتے ہوئے پوچھا
زرناب یہ جو سیال فیملی ہے نا ، یہ تمہارے پیچھے کتے کی طرح پڑ جائے گی ، تمہیں بدنام کرنے کی بھی پوری کوشش کی جائے گی اور تمہارا “اغواہ” کرنے کی کوشش…….
اللہ نہ کرے (اپنی بات کے آخر میں موسی نے جھرجھری لی.)
اور……؟؟؟
زرناب نے لقمہ دیا.
اور یہ کہ اِس بار مخالف وکیل بہت مضبوط ہے . میں تمہیں underestimate نہیں کر رہا مگر حمین بھائی کمال کے وکیل ہیں.
بھائی کی محبت بول رہی ہے اچھا لگا مجھے….
زرناب پھیکا سا مسکرائی اور دوبارہ فائل پر جھک گئی.
I am sorry zarnab …….
موسی نے کرسی سے اُٹھتے ہوئے مدہم آواز میں کہا
موسی بیٹھو ، مجھے تم سے بات کرنی ہے .
زرناب نے فائی بند کرتے ہوئے اپنی دونوں کہنیوں کو میز پر رکھا اور ہاتھ میں پن گھمانے لگی.
قائداعظم ایک مایہ ناز وکیل تھے ہم سب جانتے ہیں مگر وہ کیسے ایک کامیاب وکیل بنے یہ کوئی کوئی جانتا ہے.
محترمہ فاطمہ جناح کہتی تھیں کہ میرے بھائی کو 3 سال تک معمولی سے معمولی کیس بھی نہیں ملا مگر انھوں نے ہمت نہیں ہاری وہ روز وقت پر تیار ہو کر اپنے آفس جاتے.
اُنھوں نے ہمت نہیں ہاری بلکہ وہ کہا کرتے تھے.
“فیصلہ اچھا یا برا نہیں ہوتا ہماری کوشش اسے اچھا یا برا بناتی ہے.”
جب ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم یہ کییس لڑیں گے اور جیتیں گے تو پھر ہم یہ کر کے دکھائیں گے.
رہی بات حمین کی تو وہ ” قائداعظم ” سے اچھا وکیل نہیں ہو سکتا اور وکالت میں میرے آئیڈیل ” قاآداعظم ” ہیں حمین نہیں……
اپنے دشمن کو کبھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیےیہ عقل مندی ہے مگر اپنے آپ کو کمزور سمجھنا بےوقوفی ہے .
سمجھے اور ڈرو نہیں ……
فرض کرو ہم ہار جاتے ہیں تب بھی پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں ، ہم نے اس دنیا میں زیادہ دیر نہیں رہنا اس لیے اتنا ہی پریشان ہونا چاہیے جتنا یہاں رہنا ہے مطلب تھوڑی دیر…..
“دنیا میں کمایا گیا مال و دولت ، عزت و شہرت اور زلت و رسوائی سب کچھ چھوڑ جائیں گے . آخر میں آپ کے کام آئینگے تو صرف آپ کے نیک “اعمال” اور صرف وہی اعمال جو اللہ کی رضا کے لیے کیے ہونگے.”
ہممممم…..
اچھا ٹھیک ہے میں چلتا ہوں . موسی جانے کے لیے پلٹا جب زرناب نے پکارا.
موسی مجھے wish نہیں کرو گے.
Wish you best of luck.
موسی تمہیں نہیں لگتا جملہ ادھورا ہے…؟
زرناب نے کہتے ساتھ دوبارہ فائل کھول لی.
Wish you best of luck and i am always with you ever forever…..
ہاں اب ٹھیک ہے اتنا تو حق بنتا تھا میرا…
زرناب نے مسکراتے ہوئے موسی کو دیکھا جو کرسی کے پیچھےکھڑا معمول سے زیادہ سیریس لگ رہا تھا.
کل کورٹ میں آؤ گے یا حمین کے ڈر سے آفس میں بیٹھ کر دعا کرو گے ….؟
میری خواہش ہے کہ تم آؤ ، مجھے حوصلہ رہے گا تمہارے آنے سے ، آگے مرضی تمہاری……
زرناب نے کہہ کر دوبارہ فائی کھول لی وہ موسی کے تاثرات دیکھنا نہیں چاہتی تھی.
جبکہ موسی کچھ دیر اسے دیکھتا رہا اور پھر باہر نکل گیا.
🌸🌸🌸🌸
