Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34


حمین ، موسی ، مرتضی ، دبیر ، کونین ، زریاب اور حنین سب کے سب اس وقت اسلام آباد کچہری کے باہر کھڑے تھے.
ہر طرف افراتفری مچی ہوئی تھی. کیوشن ربن کے آگے کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی.
ہر طرف ایمبولینس شور مچاتی گھوم رہی تھیں . ایک طرف سیکورٹی اہکار ، دوسری جانب میڈیا والے جبکہ تیسری جانب عوام کا رش لگا ہوا تھا ہر کوئی اپنے پیارے کے بارے میں جاننا چاہ رہا تھا مگر سیکورٹی والے کسی کو بھی اندر نہیں جانے دے رہے تھے. مسلسل زخمیوں کو اندر سے باہر نکالا جا رہا تھا.
تھوڑی دیر پہلے جو جگہ اپنی خوبصورتی میں کمال رکھتی تھی اب وہ انتہائی دردناک اور عبرت ناک مناظر پیش کر رہی تھی . ہر طرف آہوں بکا مچی ہوئی تھی.
باری باری سب ہی زرناب کا نمبر ڈائل کر رہی تھا جومسلسل بند جا رہا تھا.
میرے خیال سے ہمیں سب سے پہلے پارکنگ میں زرناب کی گاڑی دیکھنی چاہیے ہو سکتا ہے وہ دھماکے کے وقت کہیں باہر گئی ہو…؟
اچانک حمین نے حنین سے کہا اور حنین نے سر ہلا کر اسے پارکنگ کی طرف جانے کی اجازت دے دی.
حمین اور مرتضی پارکنگ میں گاڑیاں چک کرنے لگے جو کافی تباہ ہو چکیں تھیں اور جلد ہی انھیں زرناب کی گاڑی مل گئی.
Ohhh nooo shuttt….
سنو ابھی یہ بات انکل زریاب کو نہیں بتانی ، جب تک صورت حال واضح نہیں ہو جاتی ، پتہ نہیں کیوں مجھے لگتا ہے وہ اس وقت کچہری میں نہیں تھی…
حمین نے مرتضی کی طرف دیکھ کر کہا جس پر اُس نے ہاں میں سر ہلا دیا.
اندر جانے کی کسی کو بھی اجازت نہ تھی اس لیے باہر کھڑے ہونے کے اور کوئی چارہ نہ تھا.
زریاب مرد تھا اس لیے وہ رو نہیں رہا تھا مگر اس کی شکل اس کے دل کا حال بیان کر رہی تھی.
رائحہ اور ارتضی ہسپتال میں بزی تھے کیونکہ اسلام آباد کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی.
🌸🌸🌸🌸
اب رونے کا کیا فائدہ….؟
تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ تمہاری جان چھوٹ جائے گی. ہر وقت اس کے پیچھے پڑی رہتی تھی . تم نے بیٹی جیسی رحمت کی ناشکری کی ہے اس لیے ایسا ہوا ہے مگر ایک بات یاد رکھنا اگر زرناب کو کچھ ہوا تو میں بھی ساری زندگی تمہاری شکل نہیں دیکھوں گا.
آج پہلی دفعہ ایسا ہوا تھا کہ زریاب ماہ نور کو ڈانٹ رہا تھا اور وہ چپ چاپ آنسو بہاتی اس کی باتیں سن رہی تھی.
بس کرو کیا ہو گیا ہے وہ صرف تمہاری نہیں اس کی بھی بیٹی ہے جتنا تمہیں دکھ ہے اسے بھی ہے آخر ماں ہے وہ…..
نرمین نے ماہ نور کو ساتھ لگاتے ہوئے زریاب سے کہا
نرمین تمہیں نہیں پتہ یہ بہت ناشکری عورت ہے میں نے اسے کہا بھی تھا کہ
“نعمتیں اور محبتیں چھین لی جاتیں ہیں اگر ان کی قدر نہ کی جائے”
مگر اس پر اثر ہی نہیں ہوتا تھا.
زریاب پاؤں جلی بلی کی طرح گھر میں اندر باہر گھوم رہا تھا کبھی ایک کو فون کرتا کبھی دوسرے کو ، تھک کر پھر دوبارہ زرناب کا نمبر ڈائل کر لیتا. چکر لگا لگا کر اس کے پاؤں شیل ہو گئے تھے.
یا اللہ مجھے معاف کر دے میں نے آپ کی نعمتوں کی بہت ناشکری کی ہے.
“بےشک انسان بڑا ناشکرا ہے”
( القرآن )
جو نعمتیں اس کے پاس ہوتیں ہیں وہ اُن کی قدر نہیں کرتا مگر جب وہ چھین لی جاتیں ہیں لا چھن جانے کا خوف ہوتا ہے تب پتہ چلتا ہے کہ اللہ نے اسے کس کس نعمت سے نوازا ہوا ہے.
اگر میری بیٹی کو کچھ ہو گیا تو میری گود اجڑ جائے گی اور میرا شوہر مجھے چھوڑ دے گا. میں بلکل اکیلی رہ جاؤں گی .
پلیززز پیارے اللہ جی !!! مجھے معاف کر دیں آپ نے غلام کو دن میں 70 بار معاف کرنے کا حکم دیا ہے.
تو پھر آپ مجھے بھی معاف کر دیں آئندہ میں کبھی ناشکری نہیں کروں گی . میری بیٹی کی حفاظت کریں اسے اپنی پناہ میں رکھیں.
ماہ نور رو رو کر جائے نماز پر بیٹھی دعائیں مانگ رہی تھی.
“معجزے ہوتے ہیں، دعائیں سن لی جاتی ہیں، زخم بھر دیے جاتے ہیں، دل جوڑ دیے جاتے ہیں، کُن فرما دیا جاتا ہے، صرف ایمان، توکل اور صبر کی ضرورت ہے.”
🌸🌸🌸🌸
حذیفہ جو یونٹ میں بیٹھا خبریں دیکھ رہا تھا کچہری کی خبر سن کر فوراً حمین کا نمبر ملانے لگا .
کیسا ہے تُو ، میں تو سمجھا کہ دھماکے کی نظر ہو کر میرے سے پہلے تو نے جامِ شہادت نوش کر لیا ہے.
حمین کی آواز سنتے ہی حذیفہ نے دل میں شکر ادا کیا.
ہاں میں تو بلکل ٹھیک ہوں مگر وہ “چلی ملی” نہیں مل رہی. قسم سے اتنا صبح سے خوار کیا ہوا ہے دل کرتا ہے دو لگاؤں ….
کون…؟ زرناب
اب کی بار حذیفہ نے فکر مندی سے پوچھا
ہاں وہی کہا بھی تھا گھر بیٹھ ، اگر اپنے گھر نہیں بیٹھا جاتا تو کسی اور کے ہی گھر بیٹھ جا…..
حمین کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے حذیفہ نے ہنستے ہوئے کہا
یار مجھے چھٹی نہیں ہے اس لیے میں تو آ نہیں سکتا مگر تو زریاب انکل کا خیال رکھنا اور مجھے اب ڈیٹ کرتے رہنا.
“کرونا آیا، چُھٹیاں ہویاں ، سارے لوکی گھراں نُوں آئے….
او نہیں آئے حمین ملک ، جیھڑے فوج اچ بھرتی کرائے….”
کر لے بکواس جتنی بھی کرنی ہے مگر مجھے اب دیٹ کرتے رہنا.
حذیفہ نے کہہ کر فون بند کر دیا.