No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
موسیٰ انتہائی پریشانی میں اپنے کمرے کے چکر کاٹ رہا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اب کیاکرے….؟
کافی سوچ و بچار کے بعد اُس نے زرناب کا نمبر ڈائل کیا.
یار میں ایک مصیبت میں پھنس گیا ہوں پلیزززز میری مدد کرو….
خیر ہے تم ٹھیک تو ہو….؟
موسیٰ ہاں میں تو بلکل ٹھیک ہوں مگروہ بھائی…..
کیا ہوا حمین کو …..
ابھی تو میں نے کورٹ میں دیکھا ہے اسے بلکل ٹھیک ٹھاک تھا…؟
مجھے سب سے بری تمہاری یہی عادت لگتی ہے تم پوری بات نہیں سنتی ہو ، میں رات سے بہت پریشان ہوں تم اورمرتضیٰ دو ہی میرے دوست ہو . مرتضیٰ کومیں نے فون کر دیاہے اور تمہیں کر رہا ہوں. ایساکروں جلدی سے فورڈ پارک پہنچو.
مجھے ایک ضروری بات کرنی ہے تم دونوں سے ، بلکہ یوں سمجھوکہ تم دونوں سے مدد چاہیے جو تم کرو گے…..
کرو گے ناااااا
آخر میں موسی نے تصدیق کے لیے پوچھا
موسیٰ میں نے آج سےپہلے کبھی تمہیں اتنا پریشان نہیں دیکھا ، ہم کل بھی تمہارے ساتھ تھااور آج بھی…..
پانچ منٹ کا راستہ ہے کچہری سے پارک کا ، میں تمہارے پہنچنے سے پہلےپہنچ جاؤ گی.
شکریہ ، موسیٰ نےسکھ کا سانس لیتے ہوئے فون بند کیا.
زرناب اور مرتضیٰ پچھلے دس منٹ سے موسیٰ کودیکھ رہے تھےجو منہ لٹکائےبیٹھا تھا.
توُ نے ہمیں اپنی شکل دیکھنے کے لیے بلایا ہے ، کچھ بولتا کیوں نہیں …….؟
ویسی ایسی شکلیں عموماً بندہ تب بناتا ہے جب اسے پہلی بار عشق ہوتا ہے وہ بھی اپنے سے ًڈاڈے” بندے سے….
زرناب کی بات پر موسیٰ نے اسے نظریں اٹھاکر دیکھا جبکہ مرتضیٰ نے سرہلا کرزرناب کی تائید کی….
تم دونوں اگر مجھے یوں دیکھو گے تو میں بات نہیں کر سکوں گا پلیز میری طرف مت دیکھو…..
موسیٰ کو کنفیوژ ہوتا دیکھ کر دونوں نے پہلے موسیٰ کو اورپھر ایک دوسرا کو دیکھا اس کے بعد زرناب نے دائیں طرف جبکہ مرتضیٰ نے بائیں طرف منہ کر لیا.
یہ کیسےبیٹھ گئے ہو میری طرف دیکھوناااااا…..
موسیٰ کوسمجھ نہیں آ رہی تھی کہ بات کیسےکرے اسنے کبھی کسی لڑکی کے بارے میں یوں بات نہیں کی تھی پتہ نہیں یہ لوگ کیا سمجھیں گے….؟
کیا مصیبت ہے..!!!
تمہاری طرف دیکھنا نہیں ہے باہر دیکھنے پر بھی اعتراض ہے بتاؤ ہم کیا کریں…..؟
موسیٰ نے زرناب کی طرف دیکھااور ایک لمبا سانس لے کر خود کو نارمل کیا.
تم دونوں وعدہ کرو میری بات مکمل ہونے سے پہلے بولو گے نہیں اور کسی کو بتاؤ گے بھی نہیں…….
او کے ڈن……
ویسے لگتاہی نہیں کہ تم حمین کے بھائی ہو وہ اتنا بےشرم ہے کہ کبھی بھی ، کہیں بھی ، کچھ بھی اور کسی سے بھی ، کچھ بھی بکواس کر سکتا ہے اور تم شرم کے مارے لال ہو رہے ہو……
زرناب نے موسیٰ کی گالوں کی طرف اشارہ کیا.
اچھا وہ بات یہ ہے کہ کل جب بہت بارش ہو رہی تھی تو….
تو….؟؟؟
مرتضیٰ نے توپر زور دیا
رات بھی بہت ہو گئی تھی تو…
تو…؟؟؟
اب کی بار زرناب نے تو کودہرایا
پھر گاڑی کا پٹرول ختم ہو گیا تو….
تو….؟؟؟
زرناب اور مرتضیٰ دونوں نےدبا دبا سا مسکرا کر ایک ساتھ کہا
تو وہ لڑکی…..
لڑکی کا لفظ سنتے ہی زرناب اور مرتضیٰ زور سے چلائے
کیا “لڑکی”
دیکھو تم نے وعدہ کیا تھا بیچ میں نہیں بولو گے.
موسیٰ ٹشو سےاپنا پسینہ صاف کر رہا تھا اسکی حالت دیکھ کر مرتضیٰ کوترس آ گیا ایساکرتے ہیں کہ ہم دونوں نیچے دیکھتے ہیں اور تم اپنی آنکھیں بندکر کے ایک لمبا سانس لو اورجلدی سےسب سنادوٹھیک ہے!!!
موسیٰ نے سچ مچ ایک چھوٹے بچے کی طرح بات پر عمل کیا اور “الف “سے لے کر “ی “تک سب بتا دیا.
بس اتنی سی بات…..مجھے تو اسمیں کچھ ایسا نہیں لگا جس کی وجہ سے تم اتنے کنفیوژ نظر آ رہے تھے…؟
مرتضیٰ نے تبصرہ کیا اور زرناب نے حمایت…..
یار مسئلہ یہ ہے کہ میں اُس لڑکی کو زیادہ دیر حمین بھائی کے فلیٹ پر چھپا کر نہیں رکھ سکتا ، موم کو پتہ چلا انھیں دکھ ہو گا اور اگر خدا نخواستہ پاپا یا بھائی کو پتہ چل گیا تو…..؟؟؟
تو …..
تمہاری شامت پورا پاکستان دیکھے گا.
زرناب نے جملہ پورا کرتے ہی قہقہ لگایا
دیکھو تم اُسےکسی بھی یتیم خانے چھوڑ آؤ اگر وہ اپنے گھر کا ایڈریس نہیں بتاتی تو…..!!!
یہی تو مسئلہ ہے میں جیسے ہی اس کے پاس جانے کی کوشش کرتا ہوں یا کچھ پوچھنا چاہتا ہوں تو وہ چیخنا شروع کر دیتی ہے….
موسیٰ نے اپنی بات کر کہ دونوں کی طرف دیکھا جو اسے مشکوک نظروں سے گھور رہے تھے.
ایسے مت دیکھو میں بہت شریف ہوں.
“سنو لوگوں۔۔۔۔!!!
میں اور میرا بھائی حکومت پاکستان سے منظور شدہ شریف ڈگری ہولڈر لڑکےہیں”
حمین کی آواز پر سب نے پیچھے مڑ کر دیکھا.
“چلو جی بھینس گئی پانی میں”
یہ تم نے کب سے حمین جیسی کہاوتیں پڑھنا شروع کر دیں ہیں.
مرتضٰی نے زریاب کی کہاوت پر آہستہ آواز میں تبصرہ کیا اتنی دیر میں وہ اپنی پوری شان و شوکت ساتھ کرسی پر برا جمال ہو گیا.
آپ کے پاس جو ڈگری ہے وہ شرافت کی ہے یا وکالت کی…..!!!
زرناب کے سوال پر حمین نے اپنے گلاسس اتار کرمیز پر رکھے
وکالت کی مگرشرافت ساتھ ، کوئی شک…!!!
نہیں مجھے یقین ہے.
زرناب نےناک سےمکھی اڑاتے ہوئے کہا
میں توموسیٰ کی گاڑی پارکنگ میں دیکھ کر آیا تھا اس وقت اسے آفس ہونا چاہیے تھا لحاظ میں پریشان ہی گیا. خیرر اب چلتا ہوں انجوائے کرو .
مگر خیال سے میرا بھائی بہت معصوم ہے اسے اپنے جیسا مت کر لینا…
اشارہ زرناب کیطرف تھا.
تو آپ اپنے جیسا کر لیں…!!!
جی بلکل ، بندہ میرے جیسا ہی ہونا چاہیے. میں ہر دل میں بستا ہوں……
حمین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر اپنے گلاسس اٹھائے اور جانے کے لیے کرسی سے اٹھاہی تھا کہ زرناب کے الفاظوں نے اسے دوبارہ بیٹھنے پر مجبور کر دیا
“ہر کسی کے دل میں بستے ہو
فٹے منہ صنم تم کتنے سستے ہو “
کچھ لوگوں کو عزت دو وہ تب بھی نہیں لیتے ہیں پتہ کیوں…..؟
کیونکہ انھیں عزت راز ہی نہیں آتی ، جیسے تم….
اس سے پہلے حمین مزید کچھ کہتااس کے موبائل پر میسج ٹون بجی اور حمین کے یکلخت تاثرات بدل گئے.
مسٹر حنین کہتے ہیں کہ
“پاؤں کی موچ اور چھوٹی سوچ ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیتی”
تمہاری قسمت آج تمہارا ساتھ دے رہی ہے مجھے جلدی کہیں پہنچنا ہے میری طرف تمہارا ادھار رہا…..
حمین کہتا ہوا جلدی سے پارکنگ کی طرف بڑھ گیا.
تم بھائی سے اتنی بحث کیوں کرتی ہو…؟
موسیٰ نےمنہ بنا کر کہا
میں بحث نہیں کرتی وہ کرتا ہے پاگل…..
خیر ، ہم کیا بات کر رہے تھے.
میں تم دونوں کو فلیٹ پر لے جاتا ہوں تم اس سے مل لو اور پھر فیصلہ کرو کہ کیا کرنا ہے ….؟
🌸🌸🌸🌸
رامین کالج کے کیفے ٹیریا میں بیٹھی حسبِ معمول نیو کمرز کو لیکچر دے رہی تھی.
تین طرح کے سٹوڈنٹس ہوتے ہیں
1: پورا کورس تیار کرنے والے
2: اہم اہم سوال تیار کرنے والے
3: یا اللہ مدد والے🙊😂
اور یقین مانے یہ جو تیسری قسم کے سٹوڈنٹ ہوتے ہیں ناااااا یہ تو فیل ہو ہی نہیں سکتے، اب آپ میری مثال لے لیں….
رامین کی بچی بکواس بند کر اور کلاس میں چل ، MOD راؤنڈ پر ہے…….
حبا تقریباً اسے کھینچتی ہوئی کیفے ٹیریا سے باہر لے آئی.
کیا مصیبت ہے مجھے نہیں لینی کلاس…..
رامین نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا
رامین کیوں اس سال بھی فیل ہو گئی کچھ تو خدا خوفی کرو ، حبا نے شرم دلانے کی بےسود کوشش کی…
میرے بابا یعنی تمہارے انکل حنین ملک کہتے ہیں کہ کالج کی لائف بار بار نہیں ملتی اس لیے اسے جی بھر کے انجوائے کرنا چاہیے…
پچھلے چار سال سے تو انجوائے کر رہی ہو اور کتنا انجوائے کرنا ہے. جب سب تم سے تنگ پڑ جائیں گے تب کالج کی جان چھوڑو گی…
(اب دونوں کلاس میں پہنچ چکی تھیں.)
“ہونٹوں پے ہنسی دل میں غم ہے ۔۔۔۔😥
ہاتھ ✋ کھڑا کرو کون کون مجھ سے تنگ ہے
جس نے بھی ہاتھ کھڑا کیا میں کاٹ دوں گی 🔪”
رامین نے حبا کا جواب دیتے ہوئے اونچی آواز میں کہا جس پر پوری کلاس قہقوں سے گونج اٹھی.
🌸🌸🌸🌸
ماہ نور کافی دیر سے ٹیرس پر خاموش بیٹھی تھی. اس زرناب کی باتیں چبھ رہی تھیں. میرے علاوہ اسے کسی سے محبت کیسے ہو سکتی ہے ناممکن….
ایسا ہو ہی نہیں سکتا ، جھوٹ بول رہا تھا وہ میری ضد کی وجہ سے دوسری شادی کر رہا ہے مگر محبت… ناممکن……..
اور اگر اسے کسی دوسری عورت سے محبت ہو گئی ہے تو میں کبھی اس سے محبت کی بھیگ نہیں مانگوں گی….کبھی نہیں
پھر کچھ سوچ کر حنین کا نمبر ملایا.
حنین اس وقت ایک ٹی وی شو دیکھ رہا تھا سکرین پر “آپا کالنگ” جگمگاتا دیکھ کر مسکرایا
بہت دیر کی مہربان آتے آتے…..
(میری امید کے عید مطابق مجھے یاد کیا گیا ہے چل بچے حنین دونوں طرف سے خود ہی بازی چل )
جی آپا کیسے یاد کیا سلام کرنے کے بعد نہایت ادب سے حنین نے پوچھا وہ ماہ نور کے سامنے اپنی چھچھوری حرکتیں کنٹرول رکھتا تھا اسی لیے وہ اسے پسند کرتی تھی.
وہ یہ پوچھنا تھا کہ زریاب کس لڑکی سے شادی کر رہا ہے تم نے دیکھی ہے وہ……؟
ماہ نور کے سوال پر بمشکل حنین نے اپنی ہنسی کنٹرول کی.
نہیں مجھے تو نہیں پتہ….؟
وہ کیوں کرنے لگا دوسری شادی….؟
اتنی محبت کرتا ہے آپ سے….؟
آپ جیسی بیوی کہاں ملے گی اسے…؟
قسمت والوں کو ملتی ہے آپ جیسی بیوی….؟
کمال معصومیت سے جواب دیا
کچھ دیر خاموشی کے بعد ماہ نور نے کہا
تمہیں پتہ ہے محبت کسے کہتے ہیں….؟
( چل بچے حنین فلسفہ جھاڑنے کا ٹائم ہو گیا جزباتی حملہ کر)
جی آپا مجھے معلوم تو نہیں مگر کہیں پڑھا تھا…
دنیا میں بدترین بھیک محبت کی ہوتی ، مانگنے والا خود اس سے مالا مال ہوتا اور جس سے مانگنے کی نوبت آ جاتی اس کے پاس چند سکے بھی نہیں ہوتے اس مال کے۔
سب سے بڑی فن کاری محبت کی فن کاری ہے بڑے بڑے منہ زوروں کو جنبش ابرو پر نچا لیتی
سب سے بدترین دھوکہ محبت ہے کھلی آنکھوں پر ایسی پٹی باندھتی کے اچھا بھلا با عقل انسان انگاروں پر چلنے کو تیار ہو جائے اور اف تک نہ کرے
سب سے بڑا جوا محبت کا جوا ہے اس میں جواری بھی انسان داؤ بھی انسان ہی کا لگتا اور ہارتا بھی انسان جیت صرف محبت کی ہوتی
سب سے خوبصورت راہ محبت کی راہ ہوتی کتنی ہی کٹھن کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو محبوب ساتھ ہو تو جدائی کے موڑ تک ایسے ہی لگتا جیسے ابھی تو چلے تھے سالوں کا سفر لمحوں کی مسافت لگتی
سب سے بدصورت واپسی محبت کے سفر کی واپسی ہوتی پہلے قدم پر ہی حواس جواب دے جاتے نہ انکھوں میں خواب نہ پاؤں میں سکت۔
سب سے بڑا خسارہ محبت کے امر میں ہوتا چند لمحے وصال کے بلکہ کبھی کبھی تو محبوب کی اک محبت بھری نظر کے عوض سب جزبات و احساسات گروی رکھ دئیے جاتے اور باقی کیا بچتا ۔۔۔۔صرف خاک
سب سے بڑا منافع محبت کا منافع محب محبت کے عوض محبوب خریدتا اور محبوب بے مول بک جاتا
اور سب سے بڑی فقیری محبت کی فقیری ہے بانٹتے جاؤ کبھی ختم نہیں ہوتی .
حنین کے خاموش ہوتے ہی ماہ نور نے بھیگی آواز میں خدا حافظ کہا اور کال کٹ گئی.
میرا حساب کے مطابق اب پانچ منٹ کے اندر اندر زریاب کی کال آنی چاہیے…..
حنین نے سوچتے ہوئے موبائل دوبارہ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا.
زریاب جو کافی کا کہنے کچن کی طرف آیا تھاماہ نور کی خود کلامی پر رک گیا.
وہ شاید اللہ سے شکوہ کر رہی تھی یا اپنے آپ سے مگر کافی دکھی لگ رہی تھی.
زریاب کافی کا کہے بغیر چپ چاپ ٹیرس کی طرف بڑھ گیا اور حنین کو کال کی.
تو رجسٹرڈ “بیغیرت” ہے پتہ نہیں کیوں میں تیری بات مان لیتا ہوں اس دن سے ماہ نور اتنی ڈسٹرب ہے آج میں نے اسے خود سے باتیں کرتے بھی سنا ہے حالانکہ وہ ایسا نہیں کرتی ….
زریاب نے کال ملتے ہی ایک سانس میں حنین کو لتاڑا…..
“خود سے باتیں کرنے کا ۔۔۔۔ایک فائدہ
یہ بھی ہوتا ہے کہ ۔۔ “ڈیٹیل ” نہیں بتانی
پڑتی ۔۔سب باتوں کا پہلے ہی پتہ ہوتا ہے “
اس لیے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں دوسرا یہ جو تو اس عمر میں 25 سال کے لڑکے کی طرح Behave کرتا ہے اس سے باز آ جا……
اس عمر میں بندہ “عمرہ حج” کی باتیں کرتا اچھا لگتا ہے. بیٹی جوان ہے مگر تیری محبت بوڑھی ہونے کو تیار نہیں . ….؟
کہاں پڑھتا رہا ہے جوانی میں، مجھے لگتا تو نے “جامعہ عشقیہ معشوقیہ پیار العلوم” سے MBA کیا ہے وہ بھی معاشیات میں نہیں “عشق” میں……
اور قہقے لگانے لگا.
حنین میں تیری جان لے لوں گا سمجھا…..
حوصلہ جانِ ماہ نور………
اتنا غصہ صحت کے لیے اچھا نہین ہوتا.کچھ نہیں ہو گا اسے ، میری گارنٹی ہے سمجھے……
چل اب جا حسبِ روایت اسکی ڈانٹ سن …
ویسے تیری لو سٹوری پر زبردست فلم بن سکتی ہے پتہ اس کانام کیا ہو گا…..؟
“زریاب اور ظالم جادوگرنی”
تجھ پہ نازل ہوا ہے عشق ایسے
جیسے قوموں پہ عذاب آتا ہے
اس سے پہلے کہ زریاب اسے گالیاں نکالتا حنین نے کال کاٹ دی اور اس کے قہقے اسوقت پورے ٹی وی لاؤنچ میں گونج رہے تھے.
🌸🌸🌸🌸
غزالہ بیگم اخبار پڑھ رہیں تھیں اور نرمین کچن میں ناشتہ کی تیاری میں مصروف تھی. جب حنین اوپر سے نیچے سیڑھیاں پھلانگتا ہوا لاؤنچ میں پہنچا.
اس عمر میں یہ حرکتیں تمہیں زیب نہیں دیتیں کہین دانت نہ تڑوا لینا…..
نرمین نے ہنستے ہوئے بیگم غزالہ کی طرف دیکھ کر کہا
“ڈبے میں ڈبہ ڈبے میں پاستا
اٹھ گیا شہزادا لے آو ناشتہ 🙈”
حنین نے بیگم غزالہ کے پاس صوفہ پر گرنے والے انداز میں نرمین کو جواب دیا.
لا رہی ہوں بس زرا آپ کا ٹکی پیک بھی آ جائے….
میرا “ٹکی پیک”…….
حنین نےاپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر اردگرد دیکھا تو حمین اپنے بازو پر کالا کوٹ ڈالے اوپر سےنیچے اتر رہا تھا….
یہ میرا”ٹکی پیک ” نہین ہے یہ میرا شیر ہے شیر سمجھی
گڈ مارننگ مسٹر اینڈ مسسز حنین ملک
اورکرسی گھیسٹ کر بیٹھ گیا.
نہ تمہیں باپ سے بات کرنے کی تمیز تھی اور نہ تمہاری اولاد کو……
نرمین غصہ سے کہتی کچن میں چلی گئی جبکہ حنین اور حمین ہنسنے لگے
ادھر آ میرے شہزادے جب میں تجھے دیکھتی ہوں تو ایسا لگتا ہے حنین دوبارہ جوان ہو گیا ہے
بلکل تمہاری جیسی حرکتیں کرتا تھا فرق صرف اتنا ہے کہ وہ میرے( ماں) زیادہ قریب تھا اور تم اس کے( باپ)…..
یہ لیجیے ناشتہ….
نرمین نے ٹیبل آ گے کر کے اس پر ناشتہ لگایا.
میں سوچ رہی تھی کہ حمین کی شادی اب کر دی جائے کیا خیال ہے تم دونوں کا…
بیگم غزالہ نے حنین اور نرمین کی طرف دیکھ کر کہا جبکہ حمین سلائس پر جیم لگا رہا تھا.
اس سے پوچھ لیں کس سے شادی کرے گا کیونکہ میں کسی پر ظلم نہیں کر سکتی …
نرمین نے ذومعنی انداز میں حنین کی طرف دیکھ کر جواب دیا.
چل میرے شیر آج اپنی پسند کے بارے میں بتا دے تاکہ مجھے جہاں تم لوگوں کی شکایتیں سننے کو ملتی ہیں وہاں بہو کا اضافہ بھی ہو جائے.
ویسےتو ہر لڑکی ہی مجھے اچھی لگتی ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ جب آپ لڑکی دیکھنے جائیں تو چند باتوں کا خیال رکھیں مثلاً
در حقیقت چاند ہو، اس لئے منہ دھلا کر دیکھا جائے.
سریلی آواز ہو، ڈانٹ سن کر ہارٹ اٹیک آنے کا خطرہ نہ ہو.
باحیا ہو سلیقہ مند ہو.
اتنی گوری نہ ہو کہ ٹی وی والے پیچھے دوڑیں.
اتنی کالی بھی نہ ہو کہ افریقہ والے رشتہ دار سمجھیں.
قد اتنا چھوٹا نہ ہو کہ کنڈیکٹر کہے کہ بچی کو گود میں اٹھاؤ.
اتنی لمبی بھی نہ ہو کہ غصہ میں چمانٹ مارنے کیلئے سیڑھی لگانا پڑے
اتنی دبلی نہ ہو کہ قحط سالی کا گمان ہو.
اتنی موٹی نہ ہو کہ تین آدمیوں کے کھانے کا وہ ناشتہ کرلے.
اتنی خوش شکل نہ ہو کہ لوگ کہیں ” حور کے ساتھ وکیل”
اتنی بااخلاق نہ ہو کہ محلے والے بے تکلف ہوجائیں.
اتنی کند ذھن نہ ہو کہ لطیفہ سن کر کہے کہ پھر کیا ہوا.
اتنی چالاک بھی نہ ہو کہ میری ساری چالاکیاں نکال دے.
قصہ مختصر مجھے بلکل” مسسز حنین ” جیسی مسسز چاہیے.
حمین کی بات پر حنین نے مسکرا کر نرمین کی طرف دیکھا
ہم دونوں باپ بیٹے کی چوائس بلکل ایک جیسی ہے.
🌸🌸🌸🌸
