370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 9)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

رات کا پہر تھا خوب گرج چمک کے ساتھ بارش ہو رہی تھی ثروت اپنے کمرے سے نکل کر ہال میں آئی تو اس کی نظر نمیر پر پڑی

“نمیر تم اس وقت کیا کر رہے ہو سوئے نہیں ابھی تک”

ثروت نے نمیر کو دیکھ کر پوچھا

“سو ہی رہا تھا مگر کسی کے رونے کی آواز سے آنکھ کھل گئی آپ کیوں جاگ رہی ہیں اس وقت،، طبیعت ٹھیک ہے آپ کی”

نمیر اب ثروت سے پوچھنے لگا

“عنایہ کو دیکھنے آئی تھی اسے ڈر لگتا ہے بارش سے اور بادلوں کے گرجنے سے”

ثروت عنایہ کے کمرے میں جاتی ہوئی بولی

“اف میرے خدا تو یہ پاگل لڑکی رو رہی تھی میرا تو دماغ ہی نہیں گیا اس کی طرف”

نمیر بھی ثروت کے پیچھے عنایہ کے کمرے میں جاتا ہوا بولا۔۔۔ منال نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہی بار نمیر کو عنایہ کے ڈر کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ بارش سے اور اندھیرے سے ڈرتی ہے

“عنایہ بیٹا کیا ہوگیا ہے اس طرح کیوں بیٹھی ہو”

ثروت عنایہ کے بیڈروم میں پہنچی تو اسے بیڈ کی بجائے کمرے کے کونے میں گھٹنوں میں سر دیے بیٹھے دیکھا شاید وہ رو بھی رہی تھی

“آنٹی مجھے بہت خوف محسوس ہو رہا آپ پلیز ماموں جان کو فون کرکے بلالیں”

عنایہ نے اپنا چہرہ اٹھاتے ہوئے کہا خوف کے آثار اس کے چہرے پر نمایاں تھے مارے خوف کے اس کی آواز بھی نہیں نکل رہی تھی۔۔ ثروت اور نمیر خوف میں مبتلا عنایہ کی حالت دیکھنے لگے

“اٹھو یہاں آؤ میرے پاس،، میرے روم میں میرے ساتھ سو جاؤ چلو”

ثروت اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہنے لگی تبھی عنایہ ثروت کا ہاتھ تھام کر کھڑی ہوئی

“حد ہے یار ویسے، تم تو چھوٹے بچوں سے بھی زیادہ گئی گزری ہو۔۔۔ ماما چھوڑیں آپ اس کا ہاتھ آج میں اس کا بارش سے سارا ڈر نکالتا ہو”

نمیر نے ثروت سے اس کا ہاتھ چھوڑ کر خود عنایہ کا بازو تھاما اور اسے باہر لے جانے لگا

“نہیں۔۔۔ نہیں نمیر بھائی پلیز میرا ہاتھ چھوڑے میں مر جاؤں گی”

عنایہ خوف کے مارے چیختی ہوئی نمیر سے اپنا ہاتھ چھڑانے لگی

“نمیر کیا کر رہے ہو وہ ڈر رہی ہے” ثروت نمیر کے پیچھے آتی ہوئی بولی مگر نمیر ثروت اور عنایہ کی سنے بغیر اسے باہر لے جانے لگا

“نمیر یہ کیا حرکت ہے چھوڑو عنایہ کا ہاتھ”

نہال شور کی آواز سن کر اپنے کمرے سے نکل آیا سامنے کا منظر دیکھتے ہوئے وہ نمیر سے بولا

“یار آج کے دور میں کون اس طرح بارش سے ڈرتا ہے بھلا صرف پانچ منٹ رک جاؤ میں اس کا ڈر آج ہی ختم کر دوں گا”

نمیر نہال سے بولتا ہوا ہاتھ بڑھا کر باہر کا دروازہ کھولنے لگا۔۔۔ جبکہ دوسرے ہاتھ سے اس نے عنایہ کا بازو پکڑا ہوا تھا

“اس طرح ڈر ختم کرو گے تم اس کا۔۔۔اس طرح تو وہ اور زیادہ ڈر جائے گی حالت نہیں دیکھ رہے ہو تم اس وقت اسکی”

نہال ان دونوں کے قریب آتا ہوا بولا اور نمیر کے ہاتھ سے عنایہ کا بازو چھڑایا۔۔۔ عنایہ دوڑتی ہوئی ثروت کے پاس گئی اور اس سے جاکر لپٹ گئی

“ماما اگر آپ ڈسٹرب نہ ہو تو آج عنایہ کو اپنے پاس سلا لیں”

نہال نے ثروت سے کہتے ہوئے ایک نظر عنایہ کو دیکھا وہ سہمی ہوئی ابھی بھی ثروت سے چپک کر کھڑی تھی ثروت عنایہ کو اپنے ساتھ اپنے بیڈروم میں لے گئ

“وہ کیا طریقہ ہے ڈر ختم کرنے کا تم اسے اس طرح ٹریٹ کرو گے۔۔۔ اس طرح تو نہ زندگی بھر اس کا خوف ختم ہوگا اور نہ اس میں کبھی کونفیڈنس آئے گا”

ثروت اور عنایہ کے جانے کے بعد نمیر نہال کو دیکھتا ہوا بولا

“میں عنایہ کی نیچر اور عادت تم سے زیادہ نہیں جانتا نمیر بلکہ یہ کہنا زیادہ ٹھیک ہو گا وہ شروع سے ہی مجھ سے زیادہ تم سے فرینک رہی ہے۔۔۔ تمہارے اس طرح ری ایکٹ کرنے سے یہ نہ ہو کہ وہ تم سے ہی ڈرنے لگے اور میں چاہتا ہوں وہ تم سے ہمیشہ ایسے ہی فرینک رہے اور کونفیڈنس کا کیا ہے شادی کے بعد وہ لڑکی میں آ ہی جاتا ہے،، ویسے بھی وہ جیسی ہے مجھے ایسے ہی کیوٹ لگتی ہے”

نہال کی بات سن کر نمیر کے چہرے پر مسکراہٹ آئی

“یہ منگنی کے بعد سے کچھ زیادہ ہی کیوٹ نہیں لگنے لگی تمہیں اپنی عنایہ”

نمیر آنکھوں میں شرارت لئے نہال کو چھیڑنے لگا اس کے انداز پر نہال کو ہنسی آگئی

“بکواس کم کیا کروں تم،،، وہ حقیقتاً کیوٹ ہی ہے منگنی کا کیا تعلق اس بات سے”

نہال اس کو گھورتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا

*****

“کیسا فیل کررہی ہوں اب”

عنایہ صبح کچن میں ناشتہ بنانے میں مصروف تھی تب نہال کچن میں آکر اسے پوچھنے لگا

“ٹھیک ہوں۔ ۔۔ آئم سوری کل میری وجہ سے آپ سب لوگ ڈسٹرب ہوگئے”

عنایہ نے نہال کو دیکھتے ہوئے کہا وہ شاید آفس جانے کے لئے تیار کھڑا تھا عنایہ مصروف انداز میں کیٹل میں چائے ڈالنے لگی۔۔۔ کیٹل اس نے ٹرالی میں رکھی تو نہال چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور عنایہ کا ہاتھ پکڑا

“کل رات کے لیے سوری کرنے کی ضرورت نہیں ہے کل رات کوئی بھی ڈسٹرب نہیں ہوا سوائے میرے۔۔۔۔ عنایہ میں بہت ڈسٹرب ہو گیا ہوں مگر کل رات سے نہیں بلکہ منگنی کے بعد سے”

نہال غور سے عنایہ کو دیکھتا ہوا کہنے لگا نہال کی بات سن کر عنایہ سر جھکا گئی۔۔۔ نہال نے عنایہ کی تھوڑی کے نیچے اپنی انگلی رکھ کر اس کا چہرہ اوپر کیا

“میرا اب مزید ڈسٹرب رہنے کا کوئی خاص موڈ نہیں ہے۔۔۔ اس لیے سوچ رہا ہوں مما سے شادی کا نیکسٹ منتھ کے لیے کہہ دو”

نہال عنایہ سے رات کو اپنی سوچی گئی پلاننگ شیئر کرنے لگا

“شادی اتنی جلدی کیسے، میرے ایگزمیز ہونے والے ہیں دو مہینے بعد”

عنایہ اس کی بات سن کر ایک دم بوکھلا گئی اور ہچکچاتی ہوئی کہنے لگی

“تو اپنے ایگزیمز شادی کے بعد دے دینا۔۔۔ اچھا ہے نہ میں ٹیوٹر کی بجائے شوہر بن کر زیادہ اچھی تیاری کراو گا”

نہال اس کو گھبراتے ہوئے دلچسپی سے دیکھ رہا تھا اور عنایہ کو ابھی سے اندازہ ہو گیا کہ وہ ایگزیمز میں بری طرح فیل ہونے والی ہے

“نہال یہ بہت جلدی ہے”

عنایہ نے پریشان ہوتے ہوئے کہا

“جلدی کہاں ہے ابھی مہینہ ختم ہونے میں پورے پندرہ دن باقی ہیں۔۔۔ مجھ سے پوچھو یہ پندرہ دن میں کیسے گزاروں گا”

وہ محبت کی پاش نظروں سے عنایہ کو دیکھتا ہوا بولا اس کے ہاتھ پر ہلکا سا دباؤ ڈال کر کچن سے نکلنے لگا کچھ یاد آنے پر کچن کے دروازے سے مڑا

“ایک بات اور اب تمہیں کبھی بھی کسی انسان سے،، بارش سے،، اندھیرے سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ شادی کے بعد میں تمہیں ان سب سے چیزوں سے اپنی بانہوں میں چھپا کر رکھوں گا اور میری پناہوں میں تم ہمیشہ خود کو محفوظ پاؤگی”

عنایہ نے نظریں اٹھا کر نہال کو دیکھا تو وہ آنکھوں میں نرم تاثر لیے اسی کو دیکھ رہا تھا پھر مسکراتا ہوا کچن سے باہر چلا گیا۔۔ عنایہ کے چہرے پر بھی حسین مسکراہٹ آئی وہ ٹرالی میں ناشتہ سیٹ کر کے کچن سے باہر نکلنے لگی

****

“لو بھئی اب تمہیں بھی نہال والی بیماری لگ گئی اکیلے میں بیٹھ کر مسکرانے کی”

عنایہ ابھی ثروت کو سوتا ہوا دیکھ کر روم سے باہر نکلی مطلع صاف تھا تھبی باہر لان میں ٹہلنے لگی اور ٹہلتے ٹہلتے صبح نہال کی باتیں یاد آنے لگی جس سے اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی نمیر جو تھوڑی دیر پہلے آفس سے آیا ہے اس کے پاس آ کر بولا

“آپ تو اب مجھ سے بات ہی نہیں کریں ناراض ہو میں آپ سے”

عنایہ کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی وہ نمیر کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی

“اب مجھ معصوم نے کیا خطا کردی جو مجھ سے گندے بچوں کی طرح ناراض ہوا جا رہا ہے”

نمیر نے حیرانگی سے عنایہ کو دیکھا جو واقعی اسے کسی چھوٹی بچی کی طرح روٹھی ہوئی لگی

“کل رات کو کیا کرنے والے تھے آپ میرے ساتھ”

عنایہ آنکھوں میں شکوہ لیے نمیر سے پوچھنے لگی وہ اس طرح شکوہ کرتے ہوئے نمیر کو بھی کیوٹ لگی نہال اسے صحیح کیوٹ کہتا تھا نمیر اسے دیکھ کر مسکرانے لگا

“یار کل رات نہال نے آکر سارا کام خراب کر دیا ورنہ میں تمہیں بارش میں خوب انجوائے کرانے والا تھا”

نمیر شرارتی انداز میں مسکراتا ہوا بولا

“اگر آئندہ کبھی آپ نے میرے ساتھ ایسا کیا نہ تو بہت بری طرح ناراض ہو جاؤ گی آپ سے”

عنایہ نے نمیر کو وارن کرتے ہوئے کہا

“حسین لڑکی یہ بیویوں والے اسٹائل میں نہال کو دھمکایا کرنا شادی کے بعد،،، شکر کرو تمہارے نہال کی نیچر میری طرح نہیں ہے اگر نہال کی جگہ میں ہوتا نہ تو کل رات تمہارا سارا ڈر خوف دس منٹ میں ہوا کر دیتا”

نمیر اسے چیلنج کرتا ہوا بولا عنایہ ابھی بھی نمیر کو ناراضگی سے دیکھ رہی تھی مگر دل میں اس نے واقعی خدا کا شکر ادا کیا

“یار تم نے تو چھوٹے بچوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا،، بارش جیسے رومنٹک موسم سے بھلا کون ڈرتا ہے۔۔۔ تھوڑا سا بریو بنو۔۔۔ اور آج کل کے دور کے حساب سے خود کو بدلو چلو اب ماما سے مل کر آؤ پھر تمہیں گھر ڈراپ کر دیتا ہوں”

نمیر اس کو دیکھتا ہوا بولا کیوکہ عشرت کا فون اس کے پاس آیا تھا اور وہ عنایہ کو بلوا رہی تھی

****

شانزے کالج سے گھر آئی تو اسے گھر کے باہر نوفل کی گاڑی دکھی وہ ماتھے پر بل لیے گھر میں داخل ہوئی

“آنٹی آپ کو کبھی بھی کسی بھی قسم کی پرابلم ہو یا کوئی بھی کام پڑے آپ بلاجھجک مجھے یاد کریئے گا آپ مجھے اپنے بیٹے کی طرح سمجھیں بلکہ سمجھنے کی ضرورت نہیں میں آپ کا پکا والا بیٹا ہوں”

شانزے صحن میں آئی تو اس کے کانوں سے نوفل کی آواز ٹکرائی

“تو اب تم گھر کے اندر بھی پہنچ گئے۔۔۔ اور یہ کیا باتیں کر رہے ہو میری امی سے۔۔۔ یہ پکا والا بیٹا کیا ہوتا ہے”

شانزے نے ڈرائنگ روم میں داخل ہوکر نوفل کو دیکھتے ہوئے کہا جو نائلہ کے سامنے کرسی پر برجمان تھا

“شانزے جلدی سے کچن میں جاو چائے کا پانی رکھو فوراً”

نائلہ نے مڑ کر اپنے پیچھے شانزے کو آنکھوں میں تنبیہ کرتے ہوئے وہاں سے جانے کے لیے کہا کیوکہ نائلہ شانزے کے بگڑے ہوئے موڈ کا اندازہ اس کی باتوں سے لگا چکی تھی

“صرف چائے سے کہا کام چلے گا آپ کو معلوم نہیں ہے یہ معصوف تو ایسے ادارے سے تعلق رکھتے ہیں پورے پکوانوں کا انتظام کرنا پڑے گا ان کے لیے تو”

شانزے نوفل کو گھورتی ہوئی بولی نوفل اس کو دیکھ کر مسکرائے جا رہا تھا

“شانزے تمیز سے بات کرو تمیز بالکل بھولتی جارہی ہو تم دن بدن۔۔۔ بیٹا تم اس کی بات کا بالکل برا نہیں ماننا،،، آجکل گرمی زیادہ ہے کالج سے آتی ہے تو اس کا دماغ ایسی ہی خراب رہتا ہے”

نائلہ شانزے کو ڈپٹتے کے ساتھ نوفل سے شائستگی سے بولی

“ارے نہیں آنٹی کیسی باتیں کر رہی ہیں اب بھلا اپنوں کی بھی باتوں کا کوئی برا مانتا ہے”

نوفل نے شانزے کو دیکھ کر لفظ “اپنوں” پر زور دیتے ہوئے کہا

“نائلہ بہن ذرا یہاں آکر بات تو سننا”

نائلہ نوفل کو کچھ بولتی اس سے پہلے صحن سے (کرائے دار) کی آواز آئی

“جائیے امی اکرم کی اماں کو ضرور کسی مصالے یا چائے کی پتی کی ضرورت ہوگی”

شانزے منہ کے زاویے بگڑتی ہوئی بولی۔۔۔ نائلہ اس کو گھور کر نوفل کو مسکرا کر دیکھنے لگی اور کمرے سے نکل گئی

“اتنی چھوٹی سی تمہاری ناک ہے اس پر سارا وقت اتنا غصہ کیسے سوار رکھتی ہوں آخر”

نوفل چہرے پر سنجیدگی لائے مسکراتی ہوئی نظروں سے اس کو دیکھ کر پوچھنے لگا

“تم سے مطلب۔۔۔ اپنے کام سے کام رکھا کرو”

شانزے اس کو جواب دے کر اپنے کمرے میں جانے لگی

“رکو ظالم حسینہ میری بات تو سنو”

نوفل نے اس کو جاتا ہوا دیکھ کر ایک دم پکارا

“کیا ظالم حسینہ۔۔۔ خبردار جو ایسے گھٹیا نام سے مجھے آئندہ پکارا تو”

شانزے کو اپنا نیا نام بالکل پسند نہیں آیا جیسے اپنے سامنے بیٹھا ہوا یہ ایس۔پی پسند نہیں آیا

“تو پھر تم خود ہی بتا دو تمہیں پیار سے کس نام سے پکارو”

نوفل شانزے کو دیکھ کر شوخی سے پوچھنے لگا

“تمہیں ضرورت نہیں ہے مجھے پکارنے یا مخاطب کرنے کی،، چائے پیو اور فوراً نکلو یہاں سے”

‏شانزے نے ماتھے پر تیوری چڑھاتے ہوئے نوفل کو جواب دیا

“چائے کون پیے گا اس گرمی میں،، کیوں نہ کچھ میٹھا ہو جائے”

نوفل معنی خیزی سے شانزے کے ہونٹوں کو دیکھتا ہوا بولا اس کی ہمت دے کر اور اس کی بات کا مفہوم سمجھ کے شانزے کو اچھا خاصا غصہ آگیا۔۔۔ وہ صرف دوسروں کے ساتھ نیکی کر سکتا تھا، ،، اسکے سامنے وہ صرف اپنا ٹھرک پن دکھاتا

“میٹھا تو میں تمہیں اچھی طرح کھلاتی ہوں”

شانزے غصے میں نوفل کی طرف بڑھی۔۔۔ ارادہ وہ اس کا گال سُجھانے کا رکھتی تھی مگر بدقسمتی سے ٹیبل میں اٹک کر اس کا پاؤں بری طرح لڑکھڑا آیا،،، اور وہ نوفل کے اوپر جاگری

“اف اتنی فرمابرداری سے تم میری خواہش پوری کرنے میرے پاس آئی ہو یقین نہیں ہو رہا مجھے”

شانزے کا پورا وزن ہی نوفل کے اوپر تھا نوفل نے اسے کمر سے تھاما ہوا تھا

“میری کمر پر سے اپنے ہاتھ ہٹاؤ بیہودہ انسان”

شانزے گھبراہٹ میں نوفل کی شرٹ دونوں کندھوں کی طرف سے پکڑ کر بولی

“پہلے یہ بتاؤ کل پولیس اسٹیشن کیوں آئی تھی”

شانزے کا چہرہ قریب ہونے کی وجہ سے وہ غور سے اس کو دیکھ کر سوال کرنے لگا

“یہ پوچھنے کے لیے کہ ہمارے اوپر ہمدردی اور مہربانیوں کے پیچھے آخر کیا وجہ ہے”

شانزے نے نوفل کے کندھے پر وزن ڈال کر خود اس سے الگ ہونا چاہا تو نوفل میں اس کی کمر پر دباؤ ڈال کر اس کا ارادہ ناکام کیا

“اس دن کار میں تمہیں گھر چھوڑتے ہوئے ساری وجوہات میں بتا چکا ہوں۔۔۔ یہ بات اپنے دماغ میں بٹھا کر رکھو کہ میں تم سے غافل ہرگز نہیں ہوں۔۔۔ جسے تم ہمدردی سمجھ رہی ہو وہ میری کیئر کرنے کا انداز ہے۔۔۔ اب تم جو بھی سمجھو بس خود کو میری امانت سمجھو”

نوفل نے بولتے ہوئے شانزے کو سیدھا کھڑا کیا کیوکہ اب صحن سے اکرم کی اماں کی آواز آنا بند ہو گئی تھی یقینا اکرم کی اماں اب چلی گئی تھی

“بڑے آئے امانت سمجھو زبردستی ہے کیا”

شانزے اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے نوفل کو گھورنے لگی

“ہاں۔۔۔ کچھ ایسا ہی ہے”

نوفل شانزے کو آنکھ مارتا ہوا بولا اتنے میں نائلہ کمرے میں آگئی نوفل دوبارہ شریفانہ انداز میں معصوم سی شکل بنا کر بیٹھ گیا شانزے اس کو گھورتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی