370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 46)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

“اہم ترین خبروں کے مطابق ملک انوار کرپشن کیس کا پردہ پاش کرنے والے ایس۔پی نوفل اب خطرے سے بالکل باہر ہیں۔۔۔ جی ہاں یہ وہی افسر ہیں جنہوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک انوار جیسے کرپٹ سیاستدان کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا مگر افسوس جس دن انہوں نے سارے ثبوت میڈیا کو پیش کیے اسی دن ایس۔پی نوفل پر جان لیوا حملہ کرکے کسی نے ان کو مارنے کی کوشش کی مگر جو اطلاعات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق ایس۔ پی نوفل اب خطرے سے باہر ہیں”

صبح کے چھ بجے کا وقت جب شانزے کی آنکھ کھلی بے دلی سے وہ ٹی وی کے سامنے بیٹھ گئی مگر نیوز چینل پر چلنے والی خبر کو دیکھ کر ایک پل کے لیے وہ سن ہوگئی۔۔۔ اس کے دل کو کچھ ہوا نوفل سلامت تھا اس بات کا سوچ کر ایک اطمینان کی لہر اس کے اندر دوڑی

گولی چلاتے ہوئے اس کے ہاتھ بھی کانپے، دل بھی لرزا مگر جب فرحین کا چہرہ اس کے سامنے آیا تو ٹریگر خود بخود اس کی انگلی سے دب گیا۔۔۔ وہ اب عجیب دوراہے پر کھڑی تھی ایک طرف بہن تو دوسری طرف شوہر جو اس کی بہن کا مجرم تھا

پوری دنیا میں ایک یہی شخص رہ گیا تھا مجھے جس سے محبت ہونی تھی۔۔۔ شانزے نے سوچتے ہوئے سر جھٹکا۔۔۔ ٹی وی بند کر کے وہ صوفے سے اٹھی مگر ڈور بیل کی آواز نے اس کے قدم روک لیے اتنی صبح آخر کون آ سکتا ہے شانزے سوچتی ہوئی شال اپنے گرد لپیٹ کر باہر دروازہ کھولنے گٙئی۔۔۔ دو دن کی بانسبت آج خاصی سردی تھی شانزے نے دروازہ کھولا تو اپنے سامنے عنایہ کو دیکھ کر وہ حیرت زدہ ہوگئی

“عنایہ تم یہاں اس وقت”

شانزے حیرت سے اسے اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر بولی عنایہ نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا۔۔۔ وہ عنایہ سے مل کر ابھی کشمکش میں تھی اس کی نظر دروازے پر کھڑے نوفل اور نمیر پر گئی اب وہ عنایہ سے الگ ہوکر اسے شکایتی نظروں سے دیکھنے لگی

“اپنی سہیلی سے بھی بدگمان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ یہاں میں تمہارے ہر سوال کا جواب دینے ہی آیا ہوں”

شانزے کے عنایہ کو یوں دیکھنے پر نوفل شانزے کو دیکھتا ہوا بولا

“میرے پاس سب سوالوں کے جوابات موجود ہیں مجھے کسی سے بھی کوئی جواب طلب نہیں کرنا”

شانزے نوفل کو دیکھتی ہوئی بولی اور کمرے میں جانے لگی

“سارے کے سارے جوابات تمہارے اپنے اخذ کیے ہوئے ہیں۔۔۔ حقیقت سے تم ابھی بھی لاعلم ہوں”

نوفل شانزے کا ہاتھ تھام کر بولا

“مجھے کچھ بھی جاننے کی خواہش نہیں ہے چلے جاو سے”

شانزے نوفل کو دیکھ کر اپنا ہاتھ چھڑاتی ہوئی دوبارہ جانے لگی

“فرحین کا مجرم نوفل نہیں نہال ہے” نمیر کی آواز پر شانزے کے قدم روکے وہ مڑ کر بے یقینی سے نمیر کو دیکھنے لگی

“واہ قابل تعریف ہے آپ کی دوستی یعنی اپنے دوست کو اس کی بیوی کی نظر میں بے گناہ ثابت کرنے کے لیے آپ سارا کا سارا الزام اپنے ہی سگے بھائی پر لگا رہے ہیں۔۔ کیا کہنا ہے آپ کا، آپ کی دوستی کی مثال تو تاریخ کے پنوں میں سنہری حرفوں سے لکھنی چاہیے”

شانزے نمیر کو دیکھتی ہوئی طنزیہ لہجے میں بولی

“اس میں کوئی شک نہیں ہے نوفل ان لوگوں میں سے ہے جو میرے دل کے بے حد قریب اور ہم دونوں کی دوستی ہمیشہ سے مثالی ہی رہی ہے مگر کوئی بھی بھائی اپنے دوست کا کیا گیا گناہ اپنے سگے بھائی پر نہیں تھوپے گا۔۔۔ جس بات کو تم حقیقت سمجھ رہی ہو وہ تمہاری غلط فہمی ہے اور اس غلط فہمی کو ہی ہم لوگ دور کرنے یہاں آئے ہیں۔۔۔ ورنہ میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی بیوی سے گولی کھانے کے بعد اسے وضاحتیں دینے کے خود چل کر اس کے پاس آئے”

نمیر شانزے کو دیکھتا ہوا بولا اتنے میں نائلہ باہر سے آئی وہ نوفل سمیت نمیر اور عنایہ کو دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔۔۔ نوفل کے اور باری باری سب کے سلام کے جواب کے بعد اس نے سب کو اندر کمرے میں آنے کو کہا کیوکہ باہر کافی ٹھنڈ تھی

ہیٹر نے کمرے کا درجہ حرارت کافی حد تک نارمل کر دیا تھا۔۔۔ نمیر کی زبانی اصل حقائق جاننے کے بعد اس وقت کمرے میں خاموشی پھیلی ہوئی تھی

نمیر نوفل شانزے عنایہ کے علاوہ نائلہ اور اس کی کزن (صائمہ جس کا یہ گھر تھا) اس وقت کمرے میں موجود تھی

“اس سارے قصے میں پورا کا پورا قصور وار میں بھی صرف نہال کو نہیں سمجھتا،، کاش میں نے اس دن شرارت میں فرحین کو کلاس میں نہیں جانے کا بولا ہوتا تو یہ سب کچھ اسکے ساتھ نہیں ہوا ہوتا۔۔۔ نمیر کی طرح میں بھی اپنے کیے کی آپ سے معافی چاہتا ہوں آنٹی”

جب نمیر نے سارا قصہ بیان کرنے کے بعد اپنی غلطی پر پشیمانی ظاہر کرتے ہوئے نائلہ سے معافی مانگی تو نوفل جو کافی دیر سے خاموش تھا نائلہ کو دیکھتا ہوا شرمندگی سے بولا

“یہ حادثہ میری فرحین کی قسمت میں لکھا تھا جو اس کے ساتھ پیش آیا عورت کی عزت ایسی شے ہوتی ہے ایک بار جانے کے بعد دوبارہ واپس نہیں آسکتی چاہے کوئی کتنا ہی پچھتا لے یا معافی مانگ لے مگر جو اس نے برداشت کیا اور جو وہ اب تک برداشت کر رہی ہے۔۔۔ اس کا ہرجانا کوئی بھی پورا نہیں کر سکتا تم دونوں کے دلوں میں خوف خدا ہے جبھی تم دونوں یہاں آئے۔۔۔ بس میرے دل سے ایک بوجھ اتر گیا کہ میری ایک بیٹی کو اجاڑنے والا دوسری بیٹی کا شوہر نہیں ہے۔۔ اس حقیقت کے ساتھ جینا میرے لیے واقعی تکلیف دہ عمل ہوتا اور شانزے کے لئے مجھ سے بھی زیادہ”

نائلہ کی بات پر نوفل اور شانزے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا شانزے نے فوراً نظروں کا زاویہ دوسری طرف کر لیا

“بچے لمبا سفر طے کر کے آئے ہیں نائلہ تھک گئے ہوگے انہیں کمرے دکھا دو تاکہ آرام کرلیں تھوڑا”

سارے عرصے میں خاموش بیٹھی نائلہ کی کزن صائمہ بولی

فرحین کے ساتھ جب یہ حادثہ پیش آیا۔۔۔ اس کے سر پر چوٹ لگنے اور بھیانک حادثے کی وجہ سے فرحین کے دماغ پر اس واقعے کا گہرا اثر پڑا۔۔۔ وہ ہر کسی کو دیکھ کر بری طرح چیختی ڈر کے مارے روتی۔۔ کئی کئی دن تک کسی سے بات نہیں کرتی وہ خوفزدہ نظروں سے شانزے اور نائلہ کو دیکھتی۔۔۔ نائلہ نے شروع شروع میں جب اس کے مجرم کا نام پوچھنا چاہ تب اس کی حالت بگھڑ جاتی چیخ چیخ کر روتی کسی کو کچھ نہیں بتاتی۔۔ اسکی دن بدن بگڑتی حالت دیکھ کر صائمہ اسے اپنے ساتھ کوئٹہ لے گئی

صائمہ کا شوہر ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر تھا۔۔۔ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے اور کافی جائیداد ہونے کے سبب۔۔۔ صائمہ نے اپنے بڑے سے گھر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے گھر کے ایک حصے کے پورشن کو مظلوم اور بے سہارا عورتوں کے لئے اکیڈمی بنائی تھی۔۔

شروع شروع میں فرحین کو سنبھالنے نے میں اسے بھی کافی مشکل درپیش آئی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اب کافی حد تک سنبھل گئی تھی بلکہ وہ اسی ماحول کی عادی بھی ہوگئی تھی وہ گھر کے دوسرے پورشن میں ہی رہتی۔۔۔ شانزے اور نائلہ اس سے ملنے آتی تو وہ ان کو پہچان لیتی وہ دونوں جب اس سے خود سے بات کرتی تو وہ ان کی باتوں کا جواب دے دیتی ڈاکٹرز کے مطابق اس کے ساتھ ہونے والے حادثے نے اس کے ذہن پر کافی گہرا اثر چھوڑا تھا جو وہ گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہوتا لہذا نائلہ نے اس سے دوبارہ اس واقعے کے بارے میں پوچھنا چھوڑ دیا تھا

****

نائلہ نے نمیر اور نوفل کو ان کے کمرے دکھائے۔۔۔ نمیر کمرے میں آکر کمرے میں موجود بیڈ پر لیٹ گیا اور لیتے ہی اس کی آنکھ لگ گئی کیوکہ مسلسل آٹھ گھنٹے اس نے ڈرائیو کی اسکے بعد وہ لوگ کوئٹہ پہنچے تھے

عنایہ تقریباً سارے راستے ہی سوتی ہوئی آئی تھی نوفل وقفے وقفے سے جاگ رہا تھا اور سو رہا تھا اس نے کئی بار نمیر سے خود ڈرائیو کرنے کا کہا مگر نمیر نے اسے منع کر دیا

رات جب نمیر نے نوفل کو شانزے کے بارے میں بتایا تو نوفل بھی اس کے اور فریدہ کے لاکھ منع کرنے کے باوجود وہاں جانے کے لئے تیار ہوگیا۔۔۔ دوسری طرف نمیر نے ثروت کو ضروری کام کا بتا کر کوئٹہ جانے کا بتایا۔۔۔ نمیر کے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ نمیر سے کہہ چکی تھی کہ عنایہ کو اپنے ساتھ لے جائے ورنہ وہ سارا دن گھر میں اداس پھرے گی اور یہ بھی ثروت نے اسے اطمینان دلا دیا کہ اب اس کی طبیعت بہتر ہے اور حمیدہ اس کے پاس رک جائے گی اور پھر گھر میں ہی نہال بھی موجود ہے تو اسے فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں

یہ الگ بات تھی نہال گھر میں آنے کے بعد اپنا کمرہ بند کر کے بیٹھ گیا تھا وہ کسی سے بھی بات نہیں کر رہا تھا۔۔۔ ثروت کے پوچھنے پر اس نے طبیعت خرابی کا بولا تھا

نمیر کی دو گھنٹے بعد آنکھ کھلی تو بیڈ پر عنایہ موجود نہیں تھی وہ اس کے سونے سے پہلے ہی نمیر کو بتا چکی تھی کہ وہ شانزے کے کمرے میں موجود ہے۔۔۔ نمیر روم سے باہر نکلا،، نوفل کے روم میں جھانک کر دیکھا تو وہ بھی سو رہا تھا

دوسرے روم سے باتوں کی آواز آ رہی تھی یقیناً دونوں سہیلیاں اپنی باتوں میں مصروف تھی نمیر نے نفی میں سر ہلا کر دروازہ ناک کیا تو شانزے نے دروازہ کھولا

“نمیر بھائی آپ سو کر اٹھ گئے ہیں میں ناشتہ بھیجو آتی ہوں آپ کے لیے” شانزے نمیر کو دیکھ کر کہنے لگی

“نہیں ناشتہ تو راستے میں کرلیا تھا آپ پلیز عنایہ کو بھیج دیں اور یہ نوفل کی میڈیسن ہے اس کو دے دئیے گا یاد سے۔۔۔ زخم دینے والا اگر اس زخم پر مرہم رکھے تو زخم جلدی بھر جاتا ہے”

نمیر اپنی جیکٹ کی پاکٹ سے میڈیسن نکال کر شانزے کو دیتا ہوا بولا تو شانزے اسے دیکھنے لگی نمیر اسمائل دے کر اپنے روم میں واپس چلا گیا

****

نوفل کی کھٹکے کی آواز سے آنکھ کھلی کمرے میں کسی دوسرے کی موجودگی کا احساس ہوا تو اس کا ذہن بیدار ہوا شانزے سائیڈ ٹیبل پر ٹرے رکھ رہی تھی جس میں بریڈ کے پیس کے ساتھ دودھ کا گلاس اور اس کی میڈیسن رکھی تھی

“اٹھ کر بیٹھو اور ناشتہ کرو تاکہ یہ میڈیسن لے سکوں”

کمرہ کافی ٹھنڈا ہو رہا تھا وہ ہیٹر آن کرنے لگی

“ہینڈ موو نہیں ہوگا مجھ سے۔۔ نمیر کو بلادو، وہ ناشتہ کرا دے گا مجھے”

نوفل اٹھ کر بیٹھ گیا اور شانزے کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔

نوفل کی بات سن کر شانزے نے خاموشی سے کمرے میں موجود چیئر کو بیڈ کے پاس رکھا اس پر بیٹھ کر وہ نوفل کو اپنے ہاتھ سے ناشتہ کرانے لگی۔۔۔ ناشتہ کرواتے وقت وہ نوفل کو دیکھنے سے مکمل گرہز کر رہی تھی جبکہ نوفل شانزے کے ہاتھ سے ناشتہ کرتے ہوئے صرف اسی کو دیکھا جا رہا تھا

“تم میرے بارے میں ایسا کیسے سوچ سکتی ہوں شانزے، تمہیں میں اتنا گھٹیا انسان لگتا ہوں کہ کسی لڑکی کے ساتھ اس طرح کروں گا”

شانزے ناشتہ کروانے کے بعد نوفل کو دوا کھلا کر ٹرے لے کر جانے لگی تب نوفل اس کا ہاتھ پکڑ کر کھڑا ہوتا ہوا پوچھنے لگا ۔۔۔ شانزے نظر اٹھا کر نوفل کو دیکھا اس کی آنکھوں میں ندامت کے آنسو بھی تھے

“سوری”

شانزے نوفل کے گلے میں ہاتھ ڈال کر سینے سے لگتی ہوئی رونے لگی نوفل نے اس کی کمر کے گرد اپنا دایاں ہاتھ رکھا

“دنیا کی پہلی بیوی ہو تم،، جو شوہر کو گولی مارنے کے بعد اتنے پیار سے سوری بول رہی ہے”

نوفل کے بولنے پر شانزے کے رونے میں مزید اضافہ ہوا

“اس طرح اگر میرے سینے سے لگی روتی رہوں گی تو تھوڑی دیر میں بھی رو جاؤ گا۔۔۔ تمہارے رونے کا احساس کرتے ہوئے نہیں بلکہ تکلیف سے۔۔۔۔ تم نے کافی دیر سے میرے زخم پر ہاتھ رکھا ہے اور مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے”

نوفل نے جتنے آرام سے بولا شانزے ایک دم چار قدم پیچھے ہوئی اب وہ ہونقوں کی طرح نوفل کا چہرہ دیکھ رہی تھی جس پر درد کے آثار رقم تھے۔۔۔

وہ گھبراتی ہوئی دوبارہ نوفل کے پاس آئی۔۔۔ اس کی شرٹ کے بٹن کھول کر کندھے سے اس کی شرٹ نیچے کر کے دیکھنے لگی۔۔۔ جہاں بینڈیج میں سے خون کا سرخ دھبہ ابھرا ہوا تھا

شانزے کا دل ایک بار پھر ڈوبنے لگا ایک بار پھر اس کو رونا آنے لگا وہ دوبارہ بہت آہستہ سے نوفل کے کندھے پر سر ٹکا کر رونے لگ گئی

“اب بس یوں کھڑے کھڑے روتے رہنا ہے یا پھر میرے زخم پر مرہم بھی رکھنا ہے”

نوفل نرم لہجے میں شانزے سے پوچھنے لگا شانزے نے بغیر آنسو صاف کیے آئستہ سے نوفل کے کندھے پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے

“تمہیں معلوم ہے پسٹل کی گولی لگے تو یہاں بہت درد ہوتا ہے”

نوفل نے شانزے کی کمر سے ہاتھ ہٹا کر اپنے دل کے مقام پر انگلی رکھتے ہوئے سنجیدگی سے بتایا۔۔۔

شانزے آنکھوں میں آنسوں لیے نوفل کو دیکھنے لگی۔۔ نوفل بھی اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ شانزے نے اس کی انگلی ہٹا کر دل کے مقام پر اپنے ہونٹ رکھے۔۔۔ پھر پیچھے ہوکر اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی نوفل کی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگی

“تمہیں معلوم ہے گولی لگنے کے بعد میں نیچے گرا تھا تب میرا یہ گال بہت زور سے فرش پر لگا تھا”

نوفل اب بھی چہرے پر سنجیدگی لائے اسے دیکھتا ہوا بتانے لگا۔۔۔ شانزے نے اس کی دکھ بھری داستان سن کر ایک بار پھر اپنے ہونٹ اسکے گال پر رکھ دیئے، نوفل نے دوبارہ اسکی کمر کے گرد بازو حائل کیا

“ایک تو مسلئہ یہ ہے مرد روتا ہوا بہت برا لگتا ہے تمہیں معلوم ہے جب میں ہوش میں آیا تو مجھے اتنا درد ہو رہا تھا مگر میں پھر بھی نہیں رویا کتنا برداشت کیا میری آنکھوں نے”

وہ اب بھی چہرے پر سنجیدگی طاری کیے شانزے کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ شانزے نے باری باری اس کی دونوں آنکھوں پر اپنے ہونٹ رکھے

“تمہیں معلوم ہے ہوش میں آنے کے بعد ڈاکٹر نے تین گھنٹے کے لیے مجھے کچھ بھی کھانے پینے سے منع کیا۔۔۔ مجھے کتنی پیاس لگ رہی تھی اس وقت”

نوفل سنجیدگی سے شانزے کے ہونٹوں کو دیکھتا ہوا بولا

“اب تم بہت زیادہ فری ہو رہے ہو نوفل شرافت سے بیڈ پر واپس بیٹھ جاؤ”

شانزے بھی اتنی ہی سنجیدگی سے نوفل کو دیکھ کر کہنے لگی۔۔۔ جس پر نوفل مسکرایا

“آج میرا ہی دن ہے فری ہونے کا۔۔۔ شرافت سے اپنے ہونٹوں سے میری پیاس بجھاو۔۔۔ ورنہ میری بےوقت کی بھوک سے تم اچھی طرح واقف ہو”

نوفل نے اسے سنجیدگی سے دھمکی دیتے ہوئے کہا

“شرم کرو نوفل اپنی حالت دیکھو گولی کھا کر بھی تمہارے ارمان نہیں نکلے۔ ۔۔ بیٹھو یہاں سکون سے اور مجھے بینڈیج کرنے دو”

وہ نوفل کو بیڈ پر بٹھا کر فرسٹ ایڈ باکس لینے گئی،، تو نوفل مسکرانے لگا۔۔۔ تبھی اسکے موبائل پر نہال کی کال آئی۔ ۔۔ کچھ سوچ کر اس نے کال ریسیو کری

*****

“چین نہیں ہے تمہیں واپس آؤ کمرے میں”

نمیر نے دوسری بار ڈانٹتے ہوئے عنایہ کو بولا تو وہ منہ بنا کر بیڈ پر واپس آکر بیٹھی

نمیر اسے شانزے کے کمرے سے بلانے کے بعد خود ریلکس ہو کر بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔ اس کا اس وقت باتوں کا موڈ ہرگز نہیں تھا کیوکہ مسلسل آٹھ گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد دو گھنٹے کی نیند لےکر ابھی اس کی تھکن نہیں اتری تھی جبکہ عنایہ سارے راستے گہری نیند میں سوتی آئی تھی اس لئے وہ اس وقت بلکل فریش تھی۔۔۔ وہ نمیر کو بیڈ پر لیٹا ہوا دیکھ کر دو دفعہ دروازے تک گئی تاکہ شانزے کے پاس جاکر اس سے باتیں کرلے مگر دونوں ہی دفعہ نمیر نے اسے جھڑک کر بیڈ پر بیٹھنے کے لیے کہا

“کیا ہے نمیر آپ کو نہ خود آپ مجھ سے بات کر رہے ہیں نہ مجھے شانزے کے پاس جانے دے رہے ہیں”

عنایہ تنگ آکے نمیر سے بولی تو وہ عنایہ کو گھورنے لگا

“کیا کرنا ہے تمہیں شانزے کے پاس جا کر اپنے شوہر کے کمرے میں موجود ہوگی وہ۔۔۔ تم بھی شرافت سے یہی بیٹھی رہو”

نمیر اس کے پھولے ہوئے منہ کو دیکھ کر آنکھیں دکھاتا ہوا بولا

“اگر وہ اپنے شوہر کے پاس موجود ہو گی تو نوفل بھائی آپ کی طرح سو نہیں رہے ہوں گے” عنایہ کو اس وقت نمیر کے سونے سے چڑ ہونے لگی

“تمہیں بڑا معلوم ہے نوفل بھائی کا، کہ وہ اس وقت سو نہیں رہے ہوگے۔۔۔۔ ویسے اگر تم چاہو تو میری نیند آسانی سے دور بھگا سکتی ہو”

نمیر نے اپنی طرف عنایہ کا بازو کھینچا تو وہ اس کے سینے پر آکر گری

“اف نمیر کیا ہوگیا آپ کو ہم یہاں پر گیسٹ ہیں کچھ خیال کریں”

عنایہ نمیر کو ایک دم چارج ہوتا ہوا دیکھ کر گھبرا کر بولی۔۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو نمیر نے اس کی کمر پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسکی کوشش ناکام بنا دی

“تو کون سا ہم گیسٹ کے سامنے کچھ کر رہے ہیں جو وہ برا مانیں گے۔۔ اور ابھی تم نے خود ہی تو کہا کہ نوفل بھائی کونسا سو رہے ہوگے”

دوسری بار اسکی نیند خراب کرنے پر نمیر اب اس کو بخشنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا

“کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ میں نے کب کہا کہ وہ لوگ ایسا ویسا کچھ کر رہے ہیں۔۔۔ پلیز مجھ سے باتیں کریں نا نمیر میں بور ہو رہی ہوں”

عنایہ کی بات سن کر نمیر نے اس کی کمر سے اپنا ہاتھ ہٹا کر عنایہ کا سر اپنے سینے پر رکھا

“کرو باتیں کیا باتیں کرنی ہے تمہیں”

نمیر نے اپنا ایک ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھا دوسرا ہاتھ عنایہ کے کندھے کے گرد لپیٹا ہوا بولا

“تو مجھے بتائیں فرحین آپی اس رات آپ سے کلاس روم میں کیو ملنے آنا چاہ رہی تھی مطلب انہیں کیا ضروری بات کرنی تھی”

عنایہ نمیر کے سینے پر سر رکھ کر اس سے پوچھنے لگی تبھی چونک کر نمیر نے عنایہ کے سر کو دیکھا

“یہ کون سی پرانی باتیں لے کر بیٹھ گئی ہو یار تم”

نمیر نے ٹالتے ہوئے اس کا جواب دیا یہ بات تو اس کے لئے آج بھی بے معنی تھی پہلے کی طرح

“شانزے کی سسٹر آپ کو لائک کرتی تھی نہ نمیر”

عنایہ نمیر کے سینے سے سر اٹھا کر اسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔ نمیر اسے کوئی جواب دیئے بغیر خاموشی سے دیکھنے لگا

“مطلب کرتی تھی” عنایہ نمیر کے خاموشی سے دیکھنے پر خود سے بولی

“میں نے کبھی اس کے بارے میں ایسا نہیں سوچا،، اب خاموش ہو کر لیٹ جاؤ”

نمیر دوبارہ اس کا سر اپنے سینے پر رکھتا ہوا بولا

“منال آپی بھی تو آپ کو لائک کرتی ہے نا نمیر”

عنایہ دوبارہ سر اٹھا کر اسے دیکھتی ہوئی کہنے لگی تو نمیر اس کو گھورنے لگا

“تمہارا شوہر تمہیں لائک کرتا ہے یار تمہارے لیے یہ بات معنیٰ رکھنی چاہیے” نمیر نے پہلے سوچا وہ اس کو اسی کی باتوں سے تنگ کرے مگر عنایہ اتنی معصوم شکل بنا کر اس سے باتیں کر رہی تھی کہ اسے اپنی بیوی کو اپنی چاہت کا یقین دلانا پڑا

“تو پھر منال آپی کو آپ نے اپنی جیکٹ کیوں دی۔۔۔ مجھے ذرا اچھا نہیں لگا تھا جب انہوں نے وہ جیکٹ مجھے واپس کری”

عنایہ خود سے نمیر کے سینے پر سر رکھ کر کہنے لگی تو نمیر نے جھک کر اس کے سر کو چوما

“یار تم بھی ابھی تک اس بات کو لے کر بیٹھی ہوں۔۔۔ اس نے مجھے باہر واک کرنے کا بولا۔ ۔۔ میں اسکے ساتھ واک کرنے لگا اس نے مجھ سے جیکٹ مانگی تو میں سمجھا سردی لگنے کی وجہ سے مانگ رہی ہوگی۔۔۔ مجھے اس کی نیت کا اندازہ نہیں تھا وہ اور کوئی دوسری چیز مانگتی تو میں ہرگز نہیں دیتا مگر اس کی فضول قسم کی ڈریسنگ کو دیکھتے ہوئے میں نے اسے اپنی جیکٹ دے دی جس کا اس نے پورا فائدہ اٹھا کر تمہیں بیوقوف بنایا اور الٹی سیدھی باتیں کی تم سے۔۔۔۔ عنایہ مجھے ایک بات بتاؤ اگر میرا اس سے کوئی تعلق ہوتا ہے یا میں اس میں ابھی بھی انولو ہوتا تو کیا میں اس سے بھی شادی نہیں کرلیتا۔۔۔ ویل سیٹل ہو دو بیویاں آرام سے رکھ سکتا ہوں مگر میرا معیار ان مردوں کی طرح ہرگز نہیں ہے کہ کوئی مجھ پر کسی دوسری چیز کو فوقیت دے اور میں اسی کے پیچھے مرا جاؤں۔۔۔ منال نے اپنے کیریئر کو چنا میرا ساتھ چھوڑا اب میں زندگی میں کبھی بھی اس کی طرف دوبارہ مائل نہیں ہوسکتا”

نمیر نے عنایہ کو مکمل وضاحت کے ساتھ منال کی طرف سے اطمینان دلایا مگر عنایہ دوبارہ اس کے سینے سے سر اٹھا کر بیٹھ گئی اور کنفیوز ہو کر نمیر کو دیکھنے لگی

“وہ تو ٹھیک ہے مگر آپ نے دو شادیوں کی بات کیوں بولی ویل سیٹلڈ ہونے کا یہ مطلب تو نہیں آدمی دو شادیاں کر لے”

عنایہ نمیر کو دیکھتی ہوئی بولی جس پر نمیر کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گئی

“چندا مثال دے رہا تھا تمہیں سمجھانے کے لیے میرا آگے ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے تمہاری قسم”

نمیر نے دوبارہ اس کا بازو پکڑ کر اپنے قریب کیا اور دوبارہ اس کا سر اپنے سینے پر رکھا

“ایسی فضول کی مثالیں دے کر کوئی ڈراتا ہے اپنی بیوی کو”

عنایہ اس کے سینے پر سر رکھ کر شکوہ کرنے لگی

“تمہیں کیا ضرورت ہے ڈرنے کی اپنی سہیلی سے پسٹل چلانا تم بھی سیکھ لو ذرا سا بھی شک ہوا تو اڑا دینا مجھے”

نمیر مزے سے مشورہ دیتا ہوا بولا جس پر عنایہ نے اللہ نہ کرے بول کر اس کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا

****