Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 8)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 8)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
“خاموش کیوں ہو گئے ہو نمیر بتاؤ ناں کیسے لگے میرے فرینڈز”
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی جوجو اور ٹینا منال اور نمیر سے مل کر گئے تھے۔۔۔ نمیر منال کو کافی دن سے ٹال رہا تھا مگر آج منال کے بے حد اصرار پر وہ آفس سے بریک ٹائم میں اس کے بتائے گے ریسٹورینٹ میں پہنچا جہاں پہلے سے ہی منال کے علاوہ جوجو اور ٹینا موجود تھے ان سے ملوانے کے لئے منال نے نمیر کو بلایا تھا
“صحیح بتاؤ تو مجھے یہ تمہارے فرینڈز ذرا بھی اچھے نہیں لگے کتنا بناوٹی انداز تھا یار دونوں کا۔۔۔ ٹینا وہ تو ایسے ڈینگے مار رہی تھی جیسے اس کا باپ کتنا بڑا ڈائریکٹر ہے اور وہ جوجو کیسے ہاتھ ہلا ہلا کر بات کر رہا تھا کہیں سے مرد ہی نہیں لگ رہا تھا بلکہ پورا۔۔۔۔”
نمیر منال کے سامنے اپنی رائے دینے لگا مگر منال کے تاثرات دیکھ کر اپنی بات مکمل کی بنا چپ ہوگیا
“تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا نمیر کہ تم یوں میرے فرینڈز کی انسلٹ کرو”
منال نے برا مناتے ہوئے کہا اور چیئر سے اٹھ کر ریسٹورنٹ سے باہر نکلنے لگی منال کو اٹھتا دیکھ کر نمیر بھی اٹھ گیا
“او کم ان منال اس بات کو لے کر منہ بناکر مت بیٹھ جانا پلیز تم نے مجھ سے پوچھا کہ مجھے تمہارے فرینڈز کیسے لگے ہیں،، جو مجھے لگا وہ میں نے بتا دیا بات ختم”
نمیر منال کے ساتھ چلتے ہوئے بولنے لگا
“میں نے کبھی نوفل کے بارے میں تمہیں اس طرح کے ریمارکس دیے ہیں” منال نے چلنے کے ساتھ ہی گردن موڑ کر نمیر کو دیکھ کر پوچھا
“تو نوفل نے کون سے تمہارے سامنے کبھی کوئی کارٹونز والی حرکتیں کی ہیں وہ ایک ڈیسنٹ بندہ ہے”
نمیر نے دوبدو جواب دیا جس پر منال کچھ کہے بناء کار کی طرف آئی،،، نمیر نے آگے بڑھ کر اس کے لئے دروازہ کھولا منال کار کے اندر بیٹھ گئی
“منال پلیز یار کسی تیسرے کو لے کر اپنا اور میرا موڈ خراب مت کیا کرو اور اب بتاؤ چل رہی ہوں نا اس وقت ماما کو دیکھنے”
نمیر نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے منال سے پوچھا جس کا ابھی منہ بنا ہوا تھا
کل رات سے ہی ثروت کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی وہ صبح اپنے روم سے نہیں نکلی جس کی وجہ سے نہال آفس جانے کی بجائے ثروت کو ڈاکٹر کے پاس لے گیا ڈاکٹر نے ثروت کو منٹلی اسٹریس کی وجہ سے میڈیسن دے کر ریسٹ کرنے کا کہا نمیر آفس چلا گیا تھا مگر دو بار اس نے نہال کو کال کرکے ثروت کی طبیعت کا پوچھا
“آف کورس ثروت آنٹی کو دیکھنا بھی ضروری ہے لے چلو مگر زیادہ دیر تک نہیں رک پاؤ گی بہت ضروری اسائنمنٹ ملا ہے” منال نے نمیر کو دیکھتے ہوئے کہا
“آئی نو یار تمہارا شیڈول کافی بزی ہے خیر تمہارا اتنا بھی احسان کافی ہے کہ تم نے ماما کے لئے تھوڑا بہت ٹائم نکالا”
نہ چاھتے ہوۓ بھی نمیر نے طنزیہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا
“نمیر ابھی تھوڑی دیر پہلے تم نے کہا تھا کہ کسی تیسرے کو لے کر میں تمہارا اور اپنا موڈ خراب نہیں کرو اور اب تم اپنی بات سے مکر رہے ہو تھیرڈ پرسن کی وجہ سے میرا موڈ خراب کر رہے ہو”
منال نے اس کو جواب دیا
“لسن منال میری ماں کوئی تھرڈ پرسن نہیں ہے۔۔۔ فرینڈز اور فیملی ممبرز میں فرق ہوتا ہے۔۔۔ ٹھیک ہے میں اپنی غلطی ایکسپٹ کرتا ہو تم اپنے اسائنمنٹ کی وجہ سے نہیں رک سکتی مجھے بھی ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا مگر میرے لئے میری فیملی میری ماں، بھائی بہت ویلو لگتے ہیں تو پلیز آگے سے بات کرتے ہوئے دھیان رکھنا”
نمیر ڈرائیونگ کے دوران بغیر اسے دیکھے بولے جا رہا تھا وہ کچھ دنوں سے نوٹ کر رہا تھا منال ثروت اور نہال کے ذکر سے بیزاری محسوس کرتی تھی یہ بات نمیر کو بالکل پسند نہیں تھی ابھی بھی اس کی بات سن کر منال خاموش ہوگئی
****
“ارے میڈم جی آپ” صدیق شانزے کو دیکھ کر فوراً پہچان گیا جبھی مسکراتا ہوا بولا
“کہاں ہے وہ ایس پی ملنا ہے مجھے اس سے”
شانزے نے پورے پولیس اسٹیشن میں نظر دوڑاتے ہوئے صدیق سے پوچھا
“سر تو ابھی تک ڈیوٹی پر نہیں آئے میں آپ کو ان کے کمرے میں لے چلتا ہوں۔۔۔ آپ وہی بیٹھ کر سر کا انتظار کر لیں”
صدیق شانزے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا
“صدیق کون ہے یہ لڑکی اور کس سے ملنا ہے اسے”
شانزے کو دیکھ کر دوسرا انسپکٹر بولا
“یہ اپنے سر نوفل کی ہیروئن میرا مطلب ہے دوست ہے انہی سے ملنے آئی ہیں”
صدیق کی جیسے ہی زبان پھسلی مگر شانزے کی گھوری پر وہ اپنا جملہ درست کرتا ہوا انسپکٹر کو بتانے لگا
“میں یہی پر بیٹھ کر ویٹ کرلیتی ہوں اندر نہیں بیٹھنا مجھے”
شانزے کو اب اپنی یہاں آنے پر الجھن ہونے لگی کیوکہ وہاں ہر طرف مرد ہی مرد تھے
“سسٹر صدیق صحیح کہہ رہا ہے یہاں پر ہر طرح کے لوگ آرہے ہیں جارہے ہیں آپ سر نوفل کے روم میں ان کا ویٹ کر لیں”
انسپکٹر نے سفید یونیفارم میں شانزے کو دیکھ کر بولا وہ اسے کوئی کالج گرل لگی۔۔۔ شانزے کو بھی وہ کوئی معقول انسان لگا اس لیے شانزے نے اقرار میں سر ہلایا
“صدیق چھوٹے سے بول کر سسٹر کے لئے چائے منگواؤ” صدیق جو ہاتھ کے اشارے سے شانزے کو آگے روم کی طرف جانے کے لیے کہنے انسپیکٹر کی بات سن کر دوبارہ پلٹا
“میڈم جی کو چائے کی نہیں ٹھنڈے کی ضرورت ہے ابھی کولڈرنگ منگواتا ہو کیوں میڈم جی” صدیق نے شانزے کو دیکھ کر دانت نکالتے ہوئے کہا
“اپنے دانت اندر کرو مجھے پیلا رنگ پسند نہیں”
شانزے کے سنجیدگی سے کہنے پر صدیق نے اپنے دانت اندر کرلیے اور نوفل کے کمرے کی طرف چل دی شانزے روم میں پہنچی تو وہاں پر پہلے سے ایک آدمی موجود تھے شاید وہ بھی نوفل کا ہی انتظار کر رہا تھا
“بیٹی آپ یہاں تھانے میں کس وجہ سے آئی ہیں وہ بھی اکیلی”
اس آدمی نے شفقت بھرے انداز سے شانزے کو مخاطب کیا
“مجھے اس تھانے کے ایس۔پی سے کام تھا اس لئے آئی ہوں مگر افسوس ہوتا ہے اس محکمے پر۔۔۔ ایسے عہدے پر کسی سے ذمہ دار شخص کو بیٹھنا چاہیے”
شانزے نے اس آدمی کی شفقت بھرے انداز دیکھ کر مزید اپنی رائے دی
“آپ نوفل صاحب کے بارے میں بات کر رہی ہوں وہ تو بہت ایماندار اچھے اور قابل انسان ہیں” اس آدمی نے بہت اپنائیت سے نوفل کے بارے میں شانزے کو بتایا جس پر شانزے اس آدمی کو دیکھنے لگی
“یقیناً وہ آپ کا کوئی قریبی رشتہ دار ہوگا جبھی وہ آپ کو انسان لگا میرا مطلب ہے قابل اور اچھا انسان لگتا ہے”
شانزے طنزیہ بولی تو وہ آدمی مسکرا دیا
“نہیں نوفل صاحب سے میرا قریبی رشتہ تو دور کی بات،،، دور کا بھی رشتہ نہیں ہے مگر اپنائیت کا رشتہ ضرور ہے اور میں نے انہیں اچھا انسان اس لیے کہا کیوکہ ان میں انسانیت ابھی باقی ہے”
اس آدمی نے دوبارہ مسکرا کر کہا
“آپ کے ساتھ کونسی انسانیت کر بیٹھے ہیں ایس۔ پی صاحب”
شانزے نے اس آدمی کو دیکھ کر پوچھا تو اس آدمی کی مسکراہٹ تھم گئی وہ شانزے پر مرکوز نظریں ہٹا کر بولا
“چند دن پہلے میری چھوٹی بیٹی کے ساتھ ایک لڑکے نے زیادتی کی اور ہم نے انصاف کے خاطر اس لڑکے کے خلاف رپورٹ درج کرائی مگر کسی نے بھی اس کے خلاف ایف۔آئی۔آر کا پرچہ نہیں کاٹا کیوکہ اس لڑکے کے باپ کی پہنچ اوپر تک تھی بہت سے دوسرے انسپکٹر نے تو یہ مشورہ دیا کہ اپنا کیس واپس لے لو،،، میں تو اپنے اندر انصاف کی امید بھی ختم کر چکا تھا مگر ایک دن میری نوفل صاحب سے ملاقات ہوئی انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ وہ مجھے انصاف دلائے گے اور واقعی انہوں نے مجھے کوئی جھوٹی تسلی نہیں دی آج میری بیٹی کا گناہگار جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے”
اس آدمی کی بات سن کر شانزے چپ ہو گئی
آج تک اس نے زندگی میں ایسے مرد دیکھے تھے جو عورت ذات کو کھلونے سے کم نہیں سمجھتے تھے مگر آج عورت کے حق میں بولنے اور لڑنے والے کے بارے میں وہ پہلی دفعہ سن رہی تھی وہ آدمی نوفل کا انتظار کر کے جا چکا تھا
“کہاں رہ گئے ہیں تمہارے سر ایک نمبر کے نکّمے کام چور اور نکھٹو ٹائپ افسر ہیں جنہیں اپنی ذمہ داری عہدے کا احساس نہیں”
ڈیڑھ گھنٹے کا انتظار کر کے وہ نوفل کی تھوڑی دیر پہلے والی اچھائی کے بارے میں بھول گئی اور صدیق کو دیکھتی ہوئی بولی
“میڈم جی ہمارے سر بڑے ہی دل والے میرا مطلب ہے دلیر ایماندار اور ذمہ دار افسر ہیں اور سب سے بڑی بات اب تک کنوارے ہیں میرا مطلب ہے اکیلے رہتے ہیں کوئی نہ کوئی مسئلہ ہوگیا ہوگا ورنہ تو وہ اس ٹائم اپنی ڈیوٹی پر ہوتے ہیں۔۔۔ آپ یہ ناشتہ کریں ورنہ سر ناراض ہوں گے کہ آپ کو چائے پانی کا پوچھا ہی نہیں”
صدیق نے سامنے والے ہوٹل سے شانزے کے لیے کولڈرنگ کے ساتھ ناشتہ بھی منگوایا تھا
“یہ ناشتہ تم خود ٹھونس لینا اور جس کے ہوٹل سے تم یہ ناشتہ مفت میں لے کر آئے ہو اسے یہ پیسے بھی پکڑا دینا۔۔۔ اور میں نے جو تعریفی کلمات تمہارے سر کے لیے تم سے کہیے ہیں وہ انہیں ضرور بولنا” شانزے صدیق کو پیسے تھما کر غصے میں وہاں سے چلی گئی
****
نمیر اور منال گھر پہنچے ثروت کے کمرے میں عنایہ کو دیکھ کر ان دونوں کو حیرت ہوئی جہاں نمیر نے خوش ہو کر عنایہ کی خیریت معلوم کی وہی عنایہ کی موجودگی پر منال کا منہ بن گیا۔۔۔ وہ ثروت سے اس کی طبیعت پوچھنے کے بعد عنایہ کی طرف مڑی
“تو تم یہاں پہلے سے پہنچی ہوں” منال عنایہ کی طرف دیکھتی ہوئی بولی
“آپی آنٹی کی طبیعت کا معلوم ہوا تھا تبھی مامی کی اجازت سے ڈرائیور کے ساتھ یہاں آئی ہوں”
عنایہ نے ثروت کو میڈیسن دیتے ہوئے منال کو جواب دیا
“ویسے تم نمبر بڑھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی”
منال کرسی پر بیٹھتی ہوئی بولی ثروت اور نمیر کو منال کے لہجے کا کھردراپن صاف محسوس ہوا جبکہ عنایہ خاموش ہوگئی۔۔۔۔ مگر کمرے کے اندر آتا نہال منال کی بات سن چکا تھا
“کچھ نمبر تم بھی اپنے بڑھا لوں منال آخر کو تمہیں بھی اسی گھر میں آنا ہے اور ویسے بھی ماما سے تمہارا ایک رشتہ خالہ کا بھی ہے”
نہال ثروت کے پاس بیڈ پر بیٹھتا ہوا بولا جبکہ دوسری سائیڈ پر ثروت کے پاس نمیر بیٹھا ہوا تھا
“اوہو بڑی سائیڈ لی جارہی ہے اپنی ہونے والی بیگم کی”
نہال نے سب کے سامنے اسے مزاقاً بولا تھا مگر منال نے مذاق میں چھپا طنز صاف محسوس کیا
“وہ منگیتر ہے نہال کی،،، نہال کو اب اسی کی سائیڈ لینی ہے اور خیال بھی رکھنا ہے”
نمیر منال کو جتاتا ہوا بولا۔۔۔ نمیر کو شروع سے ہی منال کی عادت بہت بری لگتی تھی،، وہ عشرت کی طرح عنایہ کو کسی خاطر میں نہیں لاتی تھی۔۔۔ اور نمیر منال کو کئی دفعہ اس بات کے لئے ٹوک بھی چکا تھا
“تو تم بھی تھوڑا سا سبق اپنے بھائی سے سیکھ لو ناں” منال کی توپوں کا رخ اب ثروت کے برابر میں بیٹھے نمیر کی طرف ہوگیا
“یار اب تمہاری کیا سائڈ لو تم تو اکیلے ہی سب پر بھاری پڑتی ہو”
نمیر مسکراتا ہوا منال سے کہنے لگا جس پر سب ہی مسکرا دیئے
“نمیر نہیں کرو اسے تنگ ہٹو یہاں سے،، منال یہاں آؤ میرے پاس بیٹھو”
منال کا منہ بنا دیکھ کر ثروت بولی تو نمیر اٹھتا ہوا صوفے پر بیٹھا منال پھولے ہوئے منہ کے ساتھ ثروت کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئی
“یار ویسے نہال یہ کافی انٹرسٹنگ بات نہیں۔۔۔ ہمارے گھر میں جھٹانی دیورانی سے کم عمر ہوگی”
نمیر نے منال کے پھولے ہوئے منہ کو دیکھ کر شرارتاً کہا
“عمر میں بھی اور ویٹ میں بھی”
نہال نے مسکرا کر ٹکڑا لگایا کیو کہ آجکل منال زور و شور سے اپنا ویٹ کم کرنے میں لگی ہوئی تھی۔۔۔ نہال کے بعد سن کر جہاں عنایہ جھینپی وہی منال تپ گئی
“دیکھ رہی آپ ثروت آنٹی ان دونوں کو”
منال اب رونے والی ہوگئی
“خاموش ہو جاؤ تم دونوں بہت زیادہ بدتمیزی کر رہے ہو اور عنایہ بیٹا تم بھی تو باتیں کرو کچھ بولو کب سے خاموش بیٹھی ہوئی ہو”
ثروت نے ان دونوں کو ڈانٹ کر خاموش بیٹھی عنایہ سے کہا سب کی نظروں کا زاویہ عنایہ کی طرف ہوا جس پر وہ سٹپٹا گئی
“جی آنٹی میں سب کی باتیں سن رہی ہوں اچھا لگ رہا ہے مجھے”
عنایہ سب کو اپنی طرف متوجہ پا کر فوراً بولی
“او تو یہ دونوں میرا مزاق اڑا رہے ہیں اور تمہیں یہ سب سن کر اچھا لگ رہا ہے”
منال نے گھور کر کھا جانے والی نظروں سے عنایہ کو دیکھا
“نہیں آپی میرا وہ مطلب ہرگز نہیں تھا”
عنایہ ایک دم منال سے بولی
“منال مذاق اُڑانے اور کرنے میں فرق ہوتا ہے اور یہاں پر کوئی تمہارا مذاق نہیں اڑا رہا”
نمیر نے منال کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
“تم تو چپ ہی رہو نمیر،،، چاہے تمہاری فیملی کی بات آئے یا پھر اس عنایہ کی بات آئے۔۔۔ تم تو کبھی میرے فیور میں نہیں بولو گے”
منال نے غصے میں نمیر کو دیکھتے ہوئے بولا کمرے میں ایک دم خاموشی چھا گئی
“شٹ اپ منال،، آئندہ اپنی زبان کو لگام دے کر مجھ سے تمیز سے بات کرنا۔۔۔ بےشک تم خالہ جانی جیسی ہوگی مگر میں فرمان خالو جیسا نہیں ہوں جو تمہاری بدتمیزیوں کو سب کے سامنے یا اکیلے میں برداشت کرو۔۔۔ اس لیے آئندہ بات کرتے ہوئے احتیاط کرنا”
نمیر منال کو دے کر اس سے زیادہ غصے میں بولا کمرے میں ایک دم دوبارہ خاموشی طاری ہوگئی
“کیا ہوگیا ہے تم دونوں کو کس طرح کی باتیں کر رہے ہو یہ۔۔۔ نمیر یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا”
ثروت ایک دم بیچ میں بولی نمیر نے غصے میں سر جھٹکا
“میں چلتی ثروت آنٹی کافی لیٹ ہوگئی ٹائم بھی کافی ویسٹ ہوگیا میرا یہاں پر بیٹھے بیٹھے”
منال اٹھتی ہوئی بولی
“آو منال تمہیں میں چھوڑ آتا ہوں”
نہال جو کافی دیر سے کمرے میں خاموش بیٹھا تھا منال کو اٹھتا ہوا دیکھ کر خود بھی اٹھتا ہوا بولا۔۔ منال نے غصے میں ایک نظر نمیر کو دیکھا اور دوسری قہر برساتی نظر عنایہ پر ڈالی
“عنایہ تم تو ابھی ہو ناں یہاں پر”
نہال نے ایک نظر خاموش بیٹھی عنایہ کو دیکھ کر پوچھا
“عنایہ آج یہی رکے گی عشرت سے میں نے فون پر بات کر لی تھی”
عنایہ کی بجائے ثروت نے جواب دیا،، عنایہ نے ایک نظر نہال کو دیکھا نہال اسی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا
“زبردست ماما یہ تو آپ نے بہت اچھا کام کیا۔۔۔ فرمان خالو اس کے ہاتھ کی بریانی کی بہت تعریف کر رہے تھے۔۔۔ حسین لڑکی سمجھو آج تمہارے سسرال میں تمہارا پہلا امتحان ہے ہر نئی نویلی دلہن پہلے کھیر بناتی ہے لیکن آج تم ہمیں بریانی بنا کر کھلاو گی”
نمیر اپنے موڈ کو بشاش کرتا ہوا بولا جس سے ماحول پر چھائی ہوئی تلخی چھٹ گئی کمرے میں موجود منال کے علاوہ سب ہی مسکرا دیئے۔۔۔ جبکہ منال سر جھٹک کر کمرے سے باہر چلی گئی اور نہال اس کے پیچھے اس کو گھر چھوڑنے چلا گیا
اب نمیر عنایہ سے باتیں کرنے لگا۔۔۔ نمیر کا انداز بالکل ایسا تھا جیسے منال سے اس کی کوئی جھڑپ ہی نہ ہوئی ہو۔۔۔ عنایہ کو لگا یا تو وہ بہت اچھا ایکٹر ہے یا پھر اسے منال کی پروا ہی نہیں۔۔۔ جبکہ ثروت کو نمیر اور منال کی لڑائی دیکھ کر۔۔۔ وہ نمیر کے مستقبل کے لیے فکر مند ہونے لگی
