370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 20)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

“ہہم تو پڑھائی ہو رہی ہے گڈ،، کونسا پیپر ہے کل تمہارا”

رات کے کھانے کے بعد نمیر اپنے کمرے میں آیا تو عنایہ کو کتابوں میں گم دیکھا وہ بیڈ پر اپنے نوٹس پھیلائے پڑھائی میں مگن تھی۔۔۔ فرمان کے گھر سے آنے کے بعد،، دو دن سے وہ دوسرے کمرے میں پڑھتے پڑھتے وہی سو جاتی تھی۔۔۔ آج نمیر ہسپتال سے کافی لیٹ آیا تو عنایہ بیڈ روم میں ہی بیٹھے پڑھنے لگی

“کل نہیں پرسوں ہے پیپر کیمسٹری کا” عنایہ نمیر کے لئے بیڈ خالی کرتی نوٹس اور بکس سمیٹ کر دوسرے کمرے میں جانے لگی

“وہاں جانے کی ضرورت نہیں ہے یہی بیٹھ کر پڑھو” نمیر اس کا ارادہ بھانپ کر اس کے ہاتھ سے بکس اور نوٹس لے کر دوبارہ سائیڈ پر رکھتا ہوا بولا اور خود بیڈ پر اس کے برابر میں نیم دراز ہو گیا

عنایہ کچھ کہے بغیر بیڈ پر ہی نمیر سے تھوڑے فیصلہ قائم کرتی ہوئی بیٹھی اور نمیر کی طرف ہاتھ بڑھا کر اپنا دوپٹہ بیڈ سے اٹھانا چاہا تب ہی نمیر نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور دوسرے ہاتھ سے دوپٹہ لے کر سائیڈ پر رکھا

“جیسے میرے آنے سے پہلے ریلیکس پڑھ رہی تھی ویسے ہی پڑھو”

نمیر عنایہ کو دیکھ کر بولا اسکے ہاتھ پر سے اپنا ہاتھ ہٹایا عنایہ دوبارہ اپنے نوٹس میں سرجھکائے پڑھنے لگی مگر اب اس کا دھیان پڑھائی کے ساتھ ساتھ نمیر پر بھی تھا وہ کن اکھیوں سے اپنے برابر میں لیٹے ہوئے نمیر پر نظر ڈال کر اپنا پڑھنے لگی۔۔۔ نمیر خود بھی اس کی بک اٹھائے دیکھنے لگا

“کبھی چیٹنگ کی ہے”

نمیر بک میں دیکھتا ہوا یقیناً عنایہ سے پوچھ رہا تھا۔۔۔ عنایہ نے گھور کر اس کو دیکھا

“آپ کو شکل سے میں ایسی اسٹوڈنٹ لگتی ہوں”

عنایہ برا مانتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی

“ایسی اسٹوڈنٹ سے کیا مراد ہے،، چیٹنگ کرنا بھی ایک مہارت کا کام ہے ہر کسی میں چیٹنگ کرنے کے گڈز تھوڑی ہوتے ہیں”

نمیر عنایہ کی بکس رکھتا ہوا اب اس کو دیکھ کر بولنے لگا عنایہ کو اسکے خیالات سن کر افسوس ہوا۔۔ کیسے اسکی خالہ جانی فخر سے بتاتی تھی نمیر نے یونیورسٹی میں ٹاپ کیا ہے۔۔۔ اب کوئی ان کو جاکر ان کی لاڈلے بھانجے کے کارنامے بتائے

“اور اس مہارت کے کام سے آپ یقیناً واقف ہوں گے”

عنایہ طنزیہ لہجے میں کہنے لگی

“تمہارا شوہر ہر کام میں مہارت رکھتا ہے آزما کے دیکھ لینا”

نمیر اس کو دیکھ کر معنی خیزی سے بولا عنایہ نے ایک بار پھر اپنی نظریں نوٹس میں جھکالی

“مجھے کیا ضرورت پڑی ہے آپ کو آزمانے کی،،، اب تو ویسے بھی آپکا کام بس مجھے ڈرانا اور میری جان کو ہلکان کرنا رہ گیا ہے”

عنایہ اپنے نوٹس میں دیکھ کر افسوس کرتی ہوئی بولی جبکہ نمیر اس کی بات سن کر اپنی مسکراہٹ چھپا گیا

“مجھے کیا ملے گا بھلا ننھی سی جان کو ڈرا کر اور ہلکان کر کے۔۔۔۔ میں نے تو تم سے ہمدردی کرتے ہوئے پوچھا اگر پڑھا نہیں جارہا تو چیٹنگ کرنے کی ایک دو ٹرکس سمجھا دیتا ہو”

نمیر شرارتی انداز میں اس سے گویا ہوا عنایہ نے تعجب سے نمیر کو دیکھا وہ یقیناً دنیا کا پہلا شوہر ہوگا جو اپنی بیوی کو نقل کرنے کے گُر سے اگاہی دے رہا تھا

“کوئی ضرورت نہیں ہے مجھے ٹرکس سیکھنے کی،،، میری بہت اچھی تیاری ہے اور اب تو میں ریوائز کر رہی ہو”

عنایہ مغرورانہ انداز اختیار کرتی ہوئی بولی

“ڈیٹس گڈ،،، چلو پھر دیکھ لیتے ہیں کتنی تیاری ہے تمہاری”

نمیر عنایہ کے آگے سے نوٹس اٹھاتے ہوئے بولا

“Explain the structure of co2”

“نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا

“Carbon dioxide is a linear molecule with two double bonds between…..

“اسطرح تو مت دیکھیں ورنہ مجھ سے بولا نہیں جائے گا”

عنایہ نمیر کے دیکھنے کے انداز سے کنفیوز ہوتی ہوئی بولی

“کسطرح دیکھ رہا ہوں میں”

نمیر اپنی مسکراہٹ چھپاتا حیرانگی سے پوچھنے لگا

“یہی جو آپ مجھے اسطرح گھور رہے ہیں بلکے کنفیوز کر رہے ہیں۔۔۔ اسطرح تو میں یاد کیا ہوا سب سبق بھول جاو گی”

عنایہ اس کو دیکھ کر شکوہ کرنے لگی

“یہ بولو تمہاری خود کی کوئی تیاری نہیں ہے نکمی اسٹوڈینٹ ہو تم”

نمیر اس کو چڑاتا ہوا بولا

“کوئی نکمی اسٹوڈینٹ نہیں ہوں میں،، بک میں سے کہیں سے بھی کچھ بھی پوچھ لیں سب لکھ کر بتا دو گی میں۔ ۔۔۔ بہت اچھی ہو میں کیمسٹری میں یقین نہیں آتا تو بے شک اپنے بھائی سے پوچھ لیں”

عنایہ اپنی رو میں بولتی چلے گئی آخری جملے پر اس نے نمیر کے تنے ہوئے نقوش دیکھے تو اپنی غلطی کا احساس ہوا وہ چپ ہو گئی

“آپ کو صبح افس جانا ہوگا میں دوسرے روم میں جاکر ریویژن کر لیتی ہوں”

عنایہ نے اس کے ہاتھ سے نوٹس لیتے ہوئے کہا

“اب کی بار میں جو بھی کوئیسٹن کروں گا اس کا آنسر مجھے دیکھ کر بنا کنفیوز ہوئے کونفیڈنس سے دینا۔۔۔ ورنہ آج رات تم سو سکوں گی یہ تم بھول جاؤ”

نمیر اس کے ہاتھ سے دوبارہ نوٹس لیتے ہوئے کہنے لگا

اب وہ اس سے دوبارہ سے سوالات کر رہا تھا۔۔۔ عنایہ اب کی بار بھی اس کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اس کی آنکھوں کی تپش نہ سہہ پائی تو بنا بیچ میں رکے اپنا جواب نظریں جھکائے مکمل کرتی رہی

نمیر اس کا ایک ایک انداز نوٹ کر رہا تھا وہ آنکھیں جھکائے اس کے پوچھے گئے ہر سوال کا جواب آہستہ سے دے رہی تھی۔۔۔۔ کافی دیر سے وہ اس کے سامنے بنا دوپٹے کے بیٹھی تھی نمیر اس کا بھرپور جائزہ لینے کے بعد اب اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔۔۔۔ اب عنایہ اپنی جمائیوں کو روک کر اس کے سوالات کا جواب دے رہی تھی۔۔۔ تب نمیر کو اس پر ترس آیا اور اس نے عنایہ سے مزید سوالات پوچھنے کا ارادہ ترک کیا۔۔۔ نوٹس کو ایک طرف اچھال کر وہ خود بھی بیڈ پر سونے کے لئے لیٹ گیا۔۔۔ اس کو لیٹا دیکھ کر عنایہ نے بھی شکر ادا کیا اور بکس اٹھا کر اپنی جگہ پر رکھی۔۔۔ اب وہ اپنا دوپٹہ دیکھنے لگی جو آدھا نمیر کے کندھے کے نیچے دبا ہوا تھا۔۔۔ کتنی دیر سے وہ نمیر کے سامنے بغیر دوپٹے کے بیٹھی تھی عنایہ کو احساس ہی نہیں ہوا

“نمیر مجھے اپنا دوپٹہ چاہیے پلیز تھوڑا سا ہٹیں”

عنایہ جھجھکتی ہوئی نمیر سے بولنے لگی

“کس لئے چاہیے دوپٹہ”

وہ گہری نظروں سے ایک بار پھر اس کا بھرپور جائزہ لینے میں مصروف ہوگیا

“اوڑھنا ہے مجھے”

عنایہ نظریں نیچی کر کے اس سے کہنے لگی

“کیوں یہاں پر کمرے میں اور کون موجود ہے جو تمہیں دوپٹہ اوڑھنا ہے”

نمیر غور سے اس کا چہرا دیکھتا ہوا پوچھنے لگا،، عنایہ کی جھکی نظریں دیکھ کر اس کا دل شرارت پر آمادہ تھا

“کیوں کمرے میں آپ موجود نہیں ہیں کیا”

عنایہ نے بولنے کے ساتھ خود ہاتھ بڑھا کر اپنا دوپٹہ لینا چاہا تبھی نمیر نے اس کی کلائی پکڑی

“میں کون ہوں تمہارا”

نمیر عنایہ کی نازک کلائی تھامے،، اسکو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے پوچھنے لگا

“ہاتھ چھوڑیے نیند آرہی ہے مجھے”

عنایہ نے بولنے کے ساتھ ہلکی سی مزاحمت کی جس پر نمیر نے اس کی کلائی پر گرفت اور تنگ کردی

“پہلے میرے سوال کا جواب دو میں کون ہو تمہارا”

عنایہ کے ہاتھ پر گرفت سخت رکھنے کے باوجود وہ لہجے میں نرمی لاتا ہوا پوچھنے لگا

“شش۔۔۔ شوہر”

عنایہ کو پچھتاوا ہوا دوپٹہ مانگ کر اس نے اچھی مصیبت خود اپنے گلے میں ڈالی

“شش۔ ۔۔ شوہر کا مطلب جانتی ہو”

نمیر بہت پیار سے لہجے میں نرمی لائے اس سے پوچھنے لگا

“نمیر،، اب آپ مجھے تنگ کر رہے ہیں”

عنایہ نے مزاحمت ترک کی مگر نظریں ابھی بھی اسکی جھکی ہوئی تھی

“یہ بھی الزام ہے تنگ میں نہیں تم مجھے کرنے لگی ہو اب”

نمیر نے اس پر ترس کھا کر اس کی کلائی چھوڑتے ہوئے کہا

“دوپٹے کو میرے سامنے کمرے میں اوڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ہاں کمرے سے باہر احتیاط اچھی چیز ہے،، چلو اب کمرے کی لائٹ بند کرو”

نمیر اس کو ارڈر دیتا ہوا بولا۔۔۔ عنایہ بغیر دوپٹہ لیے کمرے کی لائٹ بند کر کے نائٹ بلب جلاتی واپس بیڈ پر آئی تاکہ اپنا تکیہ لے کر صوفے پر جاسکے وہ تکیہ اٹھا کر صوفے پر لیٹنے ہی والی تھی کہ نمیر کی آواز پر اس کے قدم تھم گئے

“کیا مجھے یہ روز روز بتانا پڑے گا کہ تمہیں اب کہا پر سونا ہے۔۔۔۔ واپس آکر بیڈ پر لیٹو”

عنایہ نے بیچارگی سے اس کی طرف دیکھا تو نمیر اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ عنایہ سست قدم اٹھاتی۔۔۔۔ بیڈ پر آئی اور لیٹ گئی مگر دو دن پہلے کی طرح تکیہ بیچ میں رکھنا نہیں بھولی

“ویسے یہ تکیہ بیچ میں رکھنے کی کیا لاجک ہے ذرا بتانا”

نمیر زیرو بلب کی روشنی میں اس کا روشن چہرہ دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“تاکہ آپ مجھے سکون سے سونے دیں”

عنایہ جھلا کر بولی وہ آج پھر اپنی باتوں سے اسے زچ کر رہا تھا

“اووو تو تمہارا مطلب ہے رات میں اگر میں تم پر حملہ آور ہوجاو تو یہ تمہارا حفاظتی ہتھیار ہے”

نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا شرارت اسکی آنکھوں میں ناچتی ہوئی عنایہ کو صاف دکھائی دی

“اگر آپ نے اب مجھے تنگ کیا تو میں آنٹی سے جاکر بولوں گی نمیر”

عنایہ نے اپنی طرف سے اسے ڈرانا چاہا

“کیا بولو گی ماما کو جاکر،،، آپکا بیٹا تنگ کر رہا ہے مجھے”

نمیر معصومیت سے اس سے پوچھنے لگا

“بہت برے ہیں آپ،، مجھے معلوم ہے آپ مجھے یہاں پر سونے ہی نہیں دے گیں”

عنایہ واقعی تنگ آکر اپنا تکیہ اٹھا کر صوفے پر جانے لگی

“اے شرافت سے لیٹو یہی پر۔۔۔ آتا کیا ہے تمہیں سونے کے علاوہ۔۔ شکر کرو بچت ہوئی وی ہے تمہاری اور یہ بارڈر لائن میں پار نہیں کر رہا”

اس کو بیڈ سے اٹھتا دیکھ کر نمیر نے ڈپٹنے کے انداز میں کہا عنایہ خاموشی سے واپس لیٹ گئی نمیر بھی اسکو تنگ کرنا بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگا

****

چھ سال پہلے

آج یونیورسٹی کے آڈیٹوریم ہال میں فائنل آئیر کے پاس آؤٹ ہونے والے اسٹوڈنٹ کی الوداعی پارٹی منعقد کی گئی تھی

“نہال نہیں پہنچا ابھی تک”

نوفل نے اپنی ریسٹ واچ میں ٹائم دیکھتے ہوئے نمیر سے پوچھا

“طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس کی صبح سے،،، بول رہا تھا بہتر فیل کرے گا تو آئے جائے گا۔۔۔ اس کو چھوڑ وہ دیکھ علشباہ”

نمیر نے نوفل کی توجہ علشباہ کی طرف مندمل کی جو کہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھڑی تھی

“اسے چھوڑ بہن جیسی لگنے لگی ہے وہ مجھے۔۔۔ وہاں دیکھ فرحین”

نوفل نے نمیر کی توجہ آڈیٹوریم ہال کے دروازے دلائی جہاں سے فرحین اندر آ رہی تھی۔۔۔ اسے دیکھ کر نمیر کے چہرے پر بیزاری کے تاثرات ابھرےے

“چیونگم کی طرح فل چپکو ٹائپ چیز ہے۔۔۔ خاص قسم کی چڑ ہے مجھے اس لڑکی سے”

نمیر کی بات سن کر نوفل ہنسا

“اتنی بری بھی نہیں شاید وہ تمہیں لائک کرتی ہے ورنہ آج تک کسی دوسرے لڑکے کو تو لفٹ نہیں کرائی”

نوفل نمیر کا بےزار چہرہ دیکھ کر اسے بتانے لگا

“ہاہا لائک کرتی ہے۔۔۔ اگر لائک کرتی تو چار مہینے پہلے جب میں،، تم،، شہریار اور فواد کلاس روم میں اسموکنگ کر رہے تھے تو ہماری ڈین سے کمپلین نہیں کرتی،، یاد ہے کس طرح ہم چاروں کو وارننگ ملی تھی اور وہ بات بھول گئے تم،، جب اس نے مجھے سر امتیاز کے سامنے کیسا گندہ کروایا تھا۔۔۔ کہ میں اس کی دوست کو چھیڑ رہا ہوں۔۔۔ شازمین اس کو چھیڑوں گا میں اتنے برے دن آگئے ہیں میرے”

نمیر نے فرحین سے چڑ کی اپنی اصل وجہ بتائی

“یار شازمین کو لے کر تو اسے غلط فہمی ہوئی تھی جس کی اس نے بعد میں تم سے معافی مانگ لی تھی”

نوفل نے بھی نمیر کو یاد دلایا

“اس کے سوری بولنے سے کیا ہوتا ہے سر امتیاز کے سامنے تو میرا امیج خراب ہوگیا نہ”

نمیر سر جھٹکتا ہوا بولا

“چل پھر آج ان دونوں باتوں کا اس سے بدلہ لے لیتے ہیں تاکہ فیورل پارٹی ہمارے لیے بھی یادگار رہ جائے اور فرحین صاحبہ کے لیے بھی”

نوفل کی آنکھوں میں نمیر کو چھلکتی ہوئی شرارت اسے صاف دکھائی دی

“وہ کیسے”

نمیر نے نوفل سے جاننا چاہا

“تمہیں وہ کلاس روم یاد ہے جس میں چند سال پہلے بائیلوجی گروپ کی ایک اسٹوڈینٹ نے سوسائڈ کی تھی”

نوفل نے نمیر کو دیکھ کر پوچھا

“وہ روم تو لاک ہے شاید وہاں کسی کو جانا بھی الاؤ نہیں”

نمیر نوفل کو دیکھتا ہوا بتانے لگا جس پر نوفل مسکرایا

“آج وہ لاک نہیں ہے۔۔۔ اب آگے کا آئیڈیا سن”

نوفل نمیر کے کان میں بولنے لگا جس پر نمیر کے چہرے پر مسکراہٹ آئی