Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 45)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 45)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
نمیر، عنایہ اور ثروت کو لے کر نوفل کے گھر پہنچا تھوڑی دیر پہلے ہی خرم اور نہال اسے اسپتال سے گھر لے کر آئے تھے۔۔۔ فریدہ کو اطمینان ہوا اس نے نوفل کے اوپر سے صدقہ اترا۔۔۔ ثروت بھی نوفل کیلئے فکر مند نظر آرہی تھی،،، نہال اور نمیر کا یہ دوست اسے بھی عزیز تھا جبکہ عنایہ نے سر کے اشارے سے سلام کے علاوہ نوفل سے کوئی دوسری بات نہیں پوچھی وہ سب کے درمیان خاموش بیٹھی تھی۔۔۔۔ تھوڑی دیر گزری تو فریدہ ثروت اور عنایہ کو لے کر دوسرے روم میں بیٹھ گئی
“مجھے تو لگتا ہے جیسے ان تینوں کی دوستی کو کسی کی بری نظر لگ گئی ہے، دیکھا تم نے ایک ماہ بھی نہیں ہوا نہال کو کومے سے واپس آئے اور اب نوفل کے ساتھ یہ حادثہ پیش آگیا۔۔۔ بس اللہ پاک ہمارے بیٹوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے” ثروت کو چھوٹی چھوٹی باتوں سے ڈپریشن ہوجاتا تھا اس لئے وہ پریشان ہوکر فریدہ سے بولی
“کہتی تو تم ٹھیک ہو واقعی اللہ ہمارے بچوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے مگر نوفل کی طرف سے اب مجھے بہت فکر ہونے لگی ہے۔۔۔ تمہیں معلوم ہے ثروت اس کو کسی اور نے نہیں اُسی کی اپنی بیوی نے جان سے مارنے کی کوشش کی ہے اور جب میں نے پولیس کو انفارم کرنا چاہا تو نمیر اور خرم نے مجھے منع کردیا اور دیکھو ذرا نوفل کو ہوش میں آنے کے بعد اس نے پولیس کو غلط بیان دیا مجھے تو رہ رہ کر اسکے اوپر بھی حیرت ہو رہی ہے”
فریدہ نے اپنا غصہ دبا کر ثروت کو اصل بات بتائی جس پر ثروت تو شاک ہوئی عنایہ کو بھی یقین آگیا یعنی وہ جو بات سمجھی تھی وہ بالکل ٹھیک تھی
“فریدہ یہ تم کیا کہہ رہی ہوں شانزے وہ تو اتنی پیاری بچی ہے بھلا ایسا کیسے کر سکتی ہے تمہیں غلط فہمی ہوئی ہوگی”
ثروت کو اسکے انکشاف پر حد درجہ حیرت ہوئی
“نوفل جب میری اس سے بات کرواتا تھا تب مجھے بھی وہ بہت پیاری لگتی تھی مگر اب میری رائے اس کی بیوی کے بارے میں بالکل بدل چکی ہے ابھی تو میں نے چیک نہیں کیا نہ جانے وہ کتنا کیش اور قیمتی سامان لے کر فرار ہوئی ہوگی”
فریدہ موڈ آف کرتی ہوئی ثروت سے کہنے لگی
“آنٹی آپ شانزے کو غلط سمجھ رہی ہے وہ ایسی ہرگز نہیں ہے جب ہمیں اپنے کی حقیقت معلوم نہ ہو تو اس طرح کسی دوسرے پر بھی الزام لگانا ٹھیک نہیں”
عنایہ کو فریدہ کا یوں شانزے کے بارے میں بولنا اچھا نہیں لگا اس لئے وہ خاموش رہنے کی بجائے ایک دم بول اُٹھی فریدہ نمیر کی بیوی کو دیکھنے لگی نوفل نے اسے بہت پہلے بتایا تھا کہ شانزے اور نمیر کی وائف بھی بہت اچھی فرینڈز ہیں آپس میں
“حقیقت جو بھی ہو شوہر سے لڑائی کی جاتی ہے،، زیادہ سے زیادہ گھر چھوڑا جاتا ہے۔۔ یوں گولی نہیں ماری جاتی۔۔۔ میں نے تو ارادہ بنا لیا ہے آب نوفل کی ایک نہیں سنی گی بلکہ اب واپس اسے اپنے ساتھ لے کر جاؤگی۔۔۔ پہلے تو اس کی جاب کی وجہ سے ہی کم دھڑکا نہیں لگا رہتا تھا اب تو میں اس کی بیوی سے بھی خوفزدہ ہوگئی ہو معلوم نہیں کب آ جائے اسکو دوبارہ مارنے کے لیے”
فریدہ عنایہ پر نظر ڈال کر ثروت کو اپنا پلان بتانے لگی تب عنایہ اٹھ کر روم میں جانے لگی
“کہاں جا رہی ہو بیٹا”
ثروت میں عنایہ سے پوچھا
“نمیر سے کہتی ہوں تھوڑی دیر مجھے ماموں کی طرف چھوڑ آئے یا ڈرائیور کے ساتھ بھیجوا دیں ضروری کام تھا مجھے وہاں پر، ایک گھنٹے میں واپسی کرلو گی”
عنایہ ثروت کو بتانے لگی تو ثروت نے سر ہلایا عنایہ روم سے باہر نکل گئی
“تم بھی ذرا اس پر نظر رکھو شکل کی تو یہ بھی بہت معصوم لگ رہی ہے بالکل شانزے کی طرح اللہ پاک نمیر کا بھلا کرے”
فریدہ ثروت کو سمجھاتی ہوئی نمیر کو دعا دینے لگی
“اوفو فریدہ کیسی باتیں کر رہی ہو میری بہو شکل کی ہی نہیں ویسے بھی معصوم ہے۔۔۔ معلوم نہیں شانزے ایسا کیسے کر سکتی ہے بچی تو وہ بھی بہت پیاری ہے اللہ آگے بہتر کرے”
ثروت نے فریدہ کو دیکھتے ہوئے کہا
****
“کیسا محسوس کر رہے ہو اب،، طبیعت ٹھیک ہے تمہاری”
فریدہ ثروت اور عنایہ کے روم سے جانے کے بعد نمیر نوفل سے پوچھنے لگا
“پسٹل کی گولی کھا کر آدمی کیسا محسوس کر سکتا ہے کافی درد ہو رہا ہے پین کلر دو مجھے”
نوفل نمیر کو دیکھتا ہوا برا سا منہ بنا کر بولا۔۔۔ ڈاکٹر نے اسے ہر چھ گھنٹے بعد پین کلر دینے کو بولا تھا۔۔۔ نمیر نے پین کلر نکال کر خود سے اس کے منہ میں ڈالی اور پانی پلانے لگا نہال اور خرم بھی اس وقت نوفل کے روم میں ہی موجود تھے
نہال کو نوفل کا رویہ کافی محسوس ہوا وہ جب سے ہوش میں آیا۔۔۔ تو نہال کی طرف دیکھنا تو دور اس سے بات بھی نہیں کر رہا تھا نہال نے اس سے خود سے بات کرنے کی کوشش کی تو وہ کافی روڈ لہجے میں اس کی بات کا جواب سرسری انداز میں دینے لگا تھوڑی دیر پہلے جب فریدہ نوفل کے لیے سوپ بنا کر لائی تھی اور نہال نے اسے سوپ پلانا چاہا تو نوفل نے کہہ دیا
“وہ یہ سوپ خرم سے پینا چاہتا ہے”
نہال کو اس کی بات محسوس ہوئی مگر وہ یہ سوچ کر چپ ہو گیا خرم اس کا چھوٹا بھائی تھا اور کافی عرصے بعد اس سے مل رہا تھا
مگر ابھی تھوڑی دیر پہلے جب پین کلر کا ٹائم ہوا اور نہال نے اسے خود سے اٹھ کر پین کلر دینی چاہی تو نوفل نے صاف کہہ دیا اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے پین کلر وہ کھا لے گا جب اس کا موڈ ہوا
نہال اس کی بات سن کر دوبارہ خاموش ہو گیا وہ خرم کا لحاظ کر کے نوفل سے اس کے رویے کی وجہ نہیں پوچھ سکا،، جو شاید نوفل نے اس سے زندگی میں پہلی دفعہ برتا تھا اور اب وہ پین کلر مزے سے نمیر کے ہاتھ سے کھا رہا تھا
“بھیا میرے دوست ملنے آئے ہیں میں اپنے روم میں موجود ہوں آپ کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو اقبال سے کہہ کر مجھے بلا لینا”
خرم موبائل پر اپنے دوست کی آمد کا سن کر نوفل کو بولتا ہوا دروازہ کھول کر کمرے سے چلا گیا۔۔۔ اب کمرے میں نوفل نمیر اور نہال موجود تھے
“کیا ہوا ایسے کیوں گھور رہے ہو”
نوفل نے جب نمیر کو اپنی طرف مسلسل دیکھتا ہوا محسوس کیا تب وہ نمیر سے پوچھنے لگا
“آدمی جب پسٹل کی گولی کھائے تو اسے درد ہوتا ہے۔۔۔ لیکن جب وہی پسٹل کی گولی وہ اپنی بیوی کے ہاتھ سے کھائے تو زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔۔۔ جھوٹا بیان دے کر کیوں بچایا تم نے شانزے کو”
نمیر کی آواز پر کمرے میں آتی عنایہ کہ قدم وہی رک گئے اب وہ دیوار کے ساتھ لگ کر ان کی بات سننے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔ نمیر کی بات سن کر جہاں نوفل چونکا وہی نہال نے بھی حیرت سے ان دونوں کو باری باری دیکھا اب نوفل مسکرا کر نمیر کو دیکھنے لگا
“کچھ انکشاف ایسے بھی ہوتے ہیں جو بیوی کے ہاتھ کی گولی کھانے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتے ہیں”
نوفل نے نمیر کو بولتے ہوئے ایک نظر نہال کے حیرت زدہ چہرے پر ڈالی اور پھر نمیر کو دیکھتا ہوا بولا سے
“تمہیں معلوم ہے نمیر میں نے اس شخص کے نام کی گولی اپنی بیوی سے اپنے اوپر کھائی ہے” نوفل دانت پیس کرنے نہال کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا ویسے ہی نہال صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا
“یہ کیا فضول بکواس کر رہے ہو تم بھلا تمہاری بیوی اور تمہارے معاملے سے میرا کیا لینا دینا ہے”
نہال غصے میں نوفل کو دیکھتا ہوا بولا جبکہ نمیر خاموش کھڑا نہال کو اور پھر نوفل کو دیکھنے لگا
“تمہارا مجھ سے یا میری بیوی کے معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں مگر میری بیوی کی بہن سے تمہارا ہی لینا دینا ہے”
نوفل لہجے میں تلخی سمائے نہال کو دیکھتا ہوا بولا پھر اس نے نمیر کو دیکھا
“تمہیں معلوم ہے نمیر فرحین کا مجرم اسکا گنہگار کوئی دوسرا شخص نہیں بلکہ یہ شخص ہے۔۔۔ہم تو اس بات کا ملال کرتے رہتے تھے کہ اس رات ہم دونوں نے شرارت میں اس بیچاری کو کلاس روم میں بند کیا مگر اس کے ساتھ بے رحمی سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک اس نے کیا”
نوفل حقارت بھری نظر نہال پر ڈال کر نمیر سے بولا۔۔۔ نمیر بے یقینی اور صدمے کے مارے نہال کا گھبرایا ہوا چہرہ دیکھنے لگا اسے تو جیسے نوفل کی بات سے چپ ہی لگ گئی۔۔۔ یہ سب کچھ نوفل نہال کے بارے میں بول رہا تھا وہ اتنی بڑی بات ایسے ہی نہیں بول سکتا تھا اور نہال کا گھبرایا ہوا چہرہ اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ وہ نوفل کی بات سے پریشان ہوگیا ہے
“کیا بکواس کر رہے ہو تم میرے بارے میں،، اتنی بڑی بات بولتے ہوئے تمہیں پہلے دس مرتبہ سوچنا چاہیے تھا”
نہال اپنی پول کھلتا ہوا دیکھ کر چیختا ہوا بولا
“چیخو مت نہال، یہ بات ہم تینوں کے علاوہ کوئی اور سنے گا تو شرمندگی سے تمہیں اپنا منہ چھپانا پڑے گا”
نوفل نہال کو آپے سے باہر آتا دیکھ کر سختی سے بولا مگر اس کمرے سے باہر کھڑا وجود جو ساری باتیں سن رہا تھا نہ صرف سن رہا تھا بلکہ کمرے میں ہونے والے انکشاف پر عنایہ کا اپنے پیروں پر کھڑے رہنا مشکل ہو گیا تھا
“فیورل پارٹی والی رات ہم دونوں سمجھے کہ یہ طبیعت خرابی کی وجہ سے وہاں نہیں آ سکا ہے مگر سچ تو یہ ہے یہ اس رات یونیورسٹی آیا۔۔۔ فرحین کی آوازیں سن کر کلاس روم کا دروازہ کھولا مگر اس کی مدد کرنے کی بجائے اس نے اس کی آبرو کو پامال کیا۔۔۔ یہی نہیں اس کو زخمی کیا وہ تڑپ رہی ہوگی اس کو بزدلوں کی طرح وہاں سے چھوڑ کر فرار ہو گیا۔۔۔ تم جانتے ہو نمیر اس دن اس نے وہی شرٹ پہنی تھی جو خرم میں مجھے پریزنٹ کی تھی۔۔۔ جو اس نے بعد میں مجھے سوری کہہ کر لوٹائی تھی کہ کسی سے جھگڑے میں اس کی جیب پھٹ گئی۔۔۔ وہ جیب بعد میں فرحین نے شانزے کو دی۔۔۔ اور اسی جیب کی وجہ سے شانزے نے مجھے فرحین کا گنہگار سمجھا۔۔۔ اس نے مجھ سے اپنی بہن کی عزت کی پامالی اور موت کا بدلہ لیا”
نوفل نمیر کو دیکھتا ہوا نہال کی ساری حقیقت بتانے لگا
نہال ابھی اپنی دفاع میں کچھ بولتا اس کی نظر دروازے پر کھڑی عنایہ پر پڑی جو آنسوؤں سے تر چہرے سے نہال کو دیکھ رہی تھی
“عنایہ”
نہال عنایہ کو دیکھ کر اس کو پکارتا ہوا عنایہ کے قریب پہنچا نوفل اور نمیر بھی نہال کے ساتھ عنایہ کو دیکھنے لگے
“وہ سب جھوٹ بول رہا ہے تم پلیز اس کی بات پر یقین نہیں کرنا۔۔۔ مجھے اس طرح مت دیکھو عنایہ”
وہ اپنے جرم کا اعتراف دنیا کے سامنے کر سکتا تھا مگر عنایہ اور ثروت کے سامنے نہیں اس وقت عنایہ کی آنکھوں میں اپنے لیے مان اور وقار کو ٹوٹتا ہوا دیکھ کر اسے شدید تکلیف ہوئی
“میں تو خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی کہ آپ اتنی گری ہوئی حرکت بھی کرسکتے ہیں”
عنایہ کے لفظ اسے چابق کی طرح لگے کے وہ تڑپ کر رہ گیا۔۔۔ نمیر قدم اٹھاتا ہوا عنایہ کے پاس آیا تو عنایہ اسے دیکھنے لگی
“مجھے یہاں سے جانا ہے نمیر پلیز مجھے گھر لے چلیں”
وہ جو فرمان کے پاس جانے کا ارادہ رکھتی تھی نمیر کے پاس آکر اب اس کا دل چاہا وہ اپنے گھر چلی جائے نمیر نے ایک ہاتھ سے اس کے آنسو صاف کیے۔۔۔ دوسرا ہاتھ اس کے کندھے کے گرد حائل کرکے، نہال کو دیکھتا ہوا عنایہ سے بولا
“چلو”
نمیر کا یوں عنایہ کے کندھے کے گرد ہاتھ رکھ کر اس کے پاس سے لے جانا۔۔۔ نہال کو ایسا لگا جیسے نمیر عنایہ کے گرد اپنا حفاظتی حصار باندھ رہا ہو،، عنایہ کو اسکے شر سے بچانے کے لئے۔۔۔ وہ اتنا گرا ہوا انسان تو نہیں تھا جو عنایہ پر بری نظر رکھتا وہ تو اسکی محبت تھی
نمیر کی آنکھوں میں اس وقت کتنی بےاعتباری تھی۔۔۔ نمیر اسکو کن نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ نہال کو اپنا آپ کسی کھائی میں گرتا ہوا محسوس ہوا
“اقبال میرے کمرے کی لائٹ بند کردو میں آرام کرنا چاہتا ہوں اب یہاں آکر کوئی مجھے ڈسٹرب نہ کرے”
نوفل کی آواز پر گم صم کھڑے نہال نے نوفل کو دیکھا وہ اس سے لاتعلق ہوکر بیڈ پر آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا۔۔۔ نہال کو لگا اس کا سانس بند ہو جائے گا۔۔۔ وہ سب لوگ اسے کیا سمجھ رہے تھے بہت مشکلوں سے اپنے پیروں پر زور دے کر وہ خود بھی نوفل کے کمرے سے باہر نکل گیا
****
“کب تک اس طرح بیٹھی رہو گی”
وہ دونوں تھوڑی دیر پہلے نوفل کے گھر سے آئے تھے نمیر اپنے مینیجر کو فون کرکے اسے اپنے آج آفس نہ آنے کا انفارم کر رہا تھا اور چند ضروری ہدایات بھی دے رہا تھا جب وہ کمرے میں واپس آیا تو عنایہ بیڈ پر اسی پوزیشن میں بیٹھی تھی نمیر اسکے پاس بیڈ آکر بیٹھتا ہوا بولا
“آپ کو زرا بھی دکھ نہیں ہورہا نہال بھائی کی حرکت پر”
عنایہ نمیر کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“دکھ تو بہت چھوٹا لفظ ہے اس کی نیچ اور گھٹیا حرکت پر خون کھول رہا ہے میرا۔۔ شرم آ رہی ہے اسے اپنا بھائی کہتے ہوئے”
نمیر نے تلخی سے کہتے ہوئے اپنا سر جھٹکا
“نمیر مجھے شانزے کی بہت فکر ہو رہی ہے وہ سب کچھ بہت غلط سمجھ بیٹھی ہے”
عنایہ نمیر کو دیکھتی ہوئی بولی
“یار اب نوفل ایسے ہی تو نہیں بیٹھے گا وہ معلوم تو لازمی کروائے گا شانزے کے بارے میں آخر کو وہ اس کی بیوی ہے”
نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا کہنے لگا
“نمیر میں جانتی ہوں وہ اس وقت کوئٹہ میں ہوگی اپنی خالہ کے پاس”
عنایہ بہت دھیمی آواز میں نمیر کو بتانے لگی جس پر نمیر نے اس کو گھور کر دیکھا
“یعنی تمہیں معلوم تھا شانزے کا”
نمیر نے ڈپٹتے ہوئے اس سے پوچھا تو وہ سرجھکا گئی
“یہ تھوڑی معلوم تھا وہ اپنے شوہر کو گولی مار کر وہاں سے گئی ہے،، وہ تو بس اس نے فون کرکے مجھے منع کیا کہ آپ کو اور نہال بھائی کو کوئٹہ والے گھر کے بارے میں کچھ نہ بتاؤ”
عنایہ سرجھکائے مجرموں کی طرح اس کی کال کا بھی بتانے لگی
“اور میرے کل رات پوچھنے پر تم نے مجھے کچھ بھی نہیں بتایا یہ اعتبار ہے تمہارا اپنے شوہر پر”
نمیر اس کے جھکے ہوئے سر کو گھورتا ہوا بولا۔۔۔ وہ عنایہ سے ناراض ہوکر اٹھنے لگا تبھی عنایہ جلدی سے اس کے سینے سے لگی
“نمیر پلیز مجھ سے ناراض مت ہوئیے گا پھر مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگے گا”
وہ نمیر کی کمر پر اپنے ہاتھ باندھ کر نمیر اسکے سینے سے لگی کہنے لگی۔۔۔ نمیر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی
“میں بھی یہی چاہتا ہوں تمہیں میرے علاوہ کچھ اچھا بھی نہیں لگے”
نمیر کا جملہ سن کر عنایہ نے نمیر کے سینے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا تو نمیر نے اس کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھے
“جلدی سے شانزے کی خالہ کا ایڈرس دو،، مجھے پکا یقین ہے اپنے دوست کا، بیوی کے ہاتھ سے گولی کھانے کے باوجود وہ ابھی بھی اسی کے لیے پریشان ہو رہا ہوگا۔۔۔ پکا زن مرید نکلا ہے وہ”
نمیر ایک طرف نوفل کے لئے ریلیکس ہوا کہ شانزے کا پتہ معلوم ہوگیا تبھی عنایہ کو خود سے الگ کرتا ہوا بولا
“آپ نہیں ہے اپنے دوست کی طرح زن مرید”
عنایہ اپنی مسکراہٹ کنٹرول کر کے نمیر سے پوچھنے لگی۔۔۔ اسکی بات سن کر نمیر کے چہرے پر سنجیدگی آئی،، وہ گھورتا ہوا عنایہ کو دیکھنے لگا
“سمجھنا بھی نہیں مجھے ایسا”
نمیر نے چہرے کے تاثرات سنجیدہ رکھ کر پوری کوشش کی کہ عنایہ اس سے ڈر جائے
“آپ کتنی ہی بڑی بڑی آنکھیں کرکے مجھے گھوریں میں نہیں ڈرنے والی آپ سے”
عنایہ اب مسکرا کر اسے دیکھتی ہوئی بولی
“واقعی”
وہ اب بھی گھورتا ہوا پوچھ رہا تھا
“واقعی مجھے اب ڈر نہیں لگ رہا”
عنایہ مسکراتی ہوئی نمیر کو دیکھ کر کہنے لگی
“پھر تو اللہ ہی بچائے ہم دو معصوم شوہروں کو”
نمیر سنجیدگی سے اپنے اور نوفل کے لئے دعا کرنے لگا عنایہ دوبارہ مسکرا دی اور اسے دیکھ کر نمیر بھی مسکرا دیا
“آپ نے شانزے کے گھر کا پتہ پوچھا تھا مگر مجھے اس کی خالہ کا لینڈ لائن نمبر معلوم ہے ایڈرس نہیں”
عنایہ اب اصل بات پر آکر اپنی بیڈ سے اٹھتی ہوئی نمیر کو بتانے لگی
“ہاں تو نمبر دو مجھے، ایڈریس معلوم کرنا کون سا مشکل ہے تب میں شانزے کی خالہ کے گھر جاکر اسے سب حقیقت بتا دوں گا”
نمیر کی بات سن کر عنایہ نے مڑ کر اسے دیکھا
“آپ کوئٹہ جائیں گے”
عنایہ اپنا موبائل اٹھا کر نمیر کے پاس آئے اور اس سے پوچھنے لگی
“چندا اب تم یہ مت بولنا تمہیں بھی کوئٹہ جانا ہے۔۔۔یہ مسئلہ سولو ہوجائے ہے پھر ہم دونوں ہنی مون کے لیے چلیں گے”
نمیر اس کے تاثرات دیکھ کر عنایہ کو بہلاتا ہوا بولا
“آف کورس میں چلو گی کوئٹہ نمیر اب کی بار آپ مجھے نہیں روک سکتے۔۔۔ مجھے اپنی دوست سے ملنا ہے وہاں جاکر”
عنایہ نے بولنے کے ساتھ فرمان کے گھر کا نمبر ملایا
“جی بوا میں ٹھیک ہوں آپ ٹھیک ہے اچھا میری بات سنیں۔۔۔ میرے روم میں الماری کی ڈراز میں ایک ریڈ کلر ڈائری ہے وہ مجھے ابھی فوراً چاہیے آپ ڈرائیور کے ہاتھ بھجوادیں”
عنایہ نے بات مکمل کرکے کال کاٹی تو کمرے کی کھڑکی سے ان دونوں کو نہال کی گاڑی آتی دکھائی دی جسے دیکھ کر نمیر نے سر جھٹکا
“نمیر مجھے ایک بات کنفیوز کر رہی ہے نوفل بھائی نے یہ کیوں کہا کہ شانزے نے اپنی بہن کی موت کا بدلہ لیا جبکہ فرحین آپی تو زندہ ہیں”
عنایہ کی بات سن کر نمیر کو ایک بار پھر حیرت کا جھٹکا لگا کل سے اب تک اسے صرف شاک پر شاک ہی لگ رہے تھے
“کیا واقعی فرحین زندہ ہے۔۔۔ او گاڈ یونیورسٹی میں تو یہ بات مشہور تھی اس کی کلاس روم میں ایک لڑکی نے خودکشی کی تھی جبکہ ایک لڑکی کو مارا گیا تھا”
نمیر نفی میں سر ہلاتا ہوا خود سے کہنے لگا مگر اندر کہیں اسے تھوڑا اطمینان ہوا۔۔۔ اب اسے نوفل سے یہ سب باتیں جلد سے جلد شئیر کرنی تھی
“نمیر کیا سوچ رہے میری ایک بات تو سنیں”
عنایہ اسکو غائب دماغ دیکھ کر فوراً بولی
“سنائیے اپنی ایک بات مجھے میری جان”
نمیر اسکو بانہوں میں لیتا ہوا بولا
“آپ نے مجھے بتایا ہی نہیں کہ منال آپی کے پاس آپکی جیکٹ کیسے آئی”
عنایہ کے دماغ میں بھی یہ بات بھی چپک کر رہ گئی تھی۔۔۔ عنایہ کی بات سن کر نمیر نے مسکرا کر اس کا چہرہ تھاما
“یہ ایک بہت امپورٹنٹ بات ہے اور میں چاہتا ہوں تم اب اسی بات کو چوبیس گھنٹے سوچو”
نمیر پیار سے اس کے دونوں گال تھپتھپاتا ہوا بیڈروم سے باہر نکل گیا
