370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 25)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

“بیٹا یقین جانو تمہیں اپنی آنکھوں کے سامنے صحیح سلامت دیکھ کر دل کو بہت اطمینان ہورہا ہے۔۔۔ ورنہ جس حالت میں تمہیں ایکسیڈنٹ کے بعد دیکھا تھا بہت برے خیالات آتے تھے” شام میں فرمان اور عشرت کے ساتھ عنایہ بھی نہال کے ہوش کی خبر سن کر ثروت کے گھر پر موجود تھی مگر اس وقت نے نہال کے کمرے میں فرمان اور عشرت کے علاوہ ثروت اور نمیر موجود تھے

“بے شک اللہ کی ہی ذات ہے جو تنکے میں جان ڈالنے والی ہے، میری وجہ سے آپ سب کو بہت پریشانی ہوئی مجھے اس بات کا افسوس ہے،، ماما نے بتایا تھا آپ کی بھی کافی طبیعت خراب ہوگئی تھی اب کیسی طبیعت ہے آپ کی”

نہال فرمان کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا فرمان نہال سے نظریں چرا گیا

“بس بیٹا اللہ پاک نے زندگی لکھی تھی یا پھر عنایہ کی فکر نے مرنے ہی نہیں دیا”

فرمان نہال کو دیکھ کر بولنے لگا۔۔۔ عنایہ کے نام سے نہال کے ذہن ایک بار پھر ان عنایہ کی طرف چلا گیا۔۔۔۔ فرمان اور عشرت کو دیکھ کر اسے حیرت ہوئی کہ عنایہ اس سے ملنے نہیں آئی۔۔۔ صبح سے سارے رشتے وقفے وقفے سے آئے سب کی کال آئی مگر اسے جس کا انتظار تھا،، انتظار انتظار ہی رہا

“خالہ جانی آپ بات نہیں کررہی مجھ سے،، کیا ناراض ہیں آپ”

عشرت کافی دیر سے خاموش بیٹھی تھی نہال اس کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“ارے نہیں چندا بھلا میں کیوں ناراض ہوگیں تم سے،، میں تو اب تمہاری ناراضگی کا سوچ رہی ہوں کہ تم کس کس سے ناراض ہوتے ہو” عشرت نے بہت میٹھے لہجے میں طنز کیا جس سے کمرے میں موجود تمام نفوس کو سانپ سونگھ گیا

“میں کسی سے کیوں ناراض ہو گا بھلا”

عشرت کی بات نہال کے سر پر سے گزر گئی اس لیے وہ پوچھنے لگا

“یہ بھی جلد معلوم ہو جائے گا بس تم حوصلہ رکھو” عشرت شیریں لہجے میں بولی

آج ثروت کو اپنی بہن کی باتوں پر دلی طور پر بہت افسوس ہوا جبکہ نمیر خار کھانے والی نظروں سے عشرت کو دیکھ رہا تھا

“خالہ جانی عنایہ کیسی ہے، وہ نہیں آئی یہاں پر”

نہال تھوڑا جھجکتا ہوا عشرت سے پوچھنے لگا

“بیٹا جانی عنایہ کو تو آپ بھول جاؤ”

عشرت مزے سے نہال کو بولی

“عشرت”

فرمان نے نظروں میں عشرت کو تنبیہ کرتے ہوئے کچھ بھی کہنے سے باز رکھا جبکہ ثروت اپنی بہن کو ملامتی نظروں سے دیکھنے لگی نمیر سے تو اب عشرت کا وجود اس کمرے میں برداشت کرنا مشکل ہو گیا اس لئے وہ خود کمرے سے باہر نکل گیا

“عنایہ کو بھول جاؤ مطلب کیا ہے اس بات کا”

نہال کو عشرت کا اس طرح بولنا برا لگا جبھی وہ عشرت سے پوچھنے لگا

“میرا مطلب ہے اسے بھول کر خود کو مکمل صحت یاب کرو اپنی فکر کرو اور خیال رکھو” عشرت فرمان کے گھورنے پر اب سمبھل کر بولی

****

کل رات کو نمیر کا یوں اچانک چلے جانا عنایہ کو سمجھ میں نہیں آیا تھا مگر جب صبح بوا نے یہ خبر سنائی کہ نہال ہوش میں آگیا ہے تو چند منٹ کے لئے یہ خبر سن کر عنایہ سکتے میں چلی گئی۔۔۔

فرمان کی پریشان نظریں،،، عشرت کی مذاق اڑاتی نظریں،، وہ صبح سے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔ فرمان کا دوپہر میں ڈاکٹر سے اپوائنمنٹ تھا وہ تینوں ہی ڈرائیور کے ساتھ شام میں نہال کو دیکھنے پہنچے فرمان اور عشرت تو نہال کے کمرے میں اس کو دیکھنے چلے گئے مگر عنایہ کے پاؤں جیسے کسی نے جکڑ لئے ہو۔۔۔ وہ وہی لان میں بیٹھ گئی وہ کافی دیر سے لان میں بیٹھی ہوئی کسی گہری سوچ میں گھم تھی اسے نمیر کے آنے کا احساس ہی نہیں ہوا

“یہاں کیوں بیٹھی ہوں اکیلے”

نمیر نہال کے کمرے سے نکلا تو داخلی دروازے سے لان میں اسے کرسی پر عنایہ بیٹھی ہوئی نظر آئی وہ کل رات کو اسے سے کچھ بتائے بغیر ہی آ گیا تھا،، عنایہ کو گہری سوچ میں گم دیکھ کر نمیر نے اسے متوجہ کرنے کے لیے سوال کیا

“کیوں اب یہاں بیٹھنے پر بھی پابندی لگائیں گے آپ”

عنایہ نے اپنے سامنے کھڑے نمیر سے منہ بنا کر پوچھا اسے نمیر کا کل رات والا انداز بالکل اچھا نہیں لگا تھا اور وہ نمیر سے خفا بھی تھی وہ اسے اپنی خفگی کا احساس دلانا چاہتی تھی

“تم کون سا میری پابند رہتی ہو وہ بیویاں اور ہی ہوتی ہیں جو اپنے شوہر کا حکم بجا لائیں ان کی خواہشات کا احترام کریں”

نمیر عنایہ کے پاس رکھی دوسری کرسی پر ریلیکس انداز میں بیٹھتا ہوا بولا تو عنایہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی یعنی وہ اپنی خفگی کا اظہار کر رہی تھی مگر نمیر کے الٹے اس سے شکوے کم نہیں ہو رہے تھے

“اور کس طرح اپنا پابند بنانا چاہتے ہیں آپ کپڑے تک تو میں آپ کے لائے ہوئے آپ کی مرضی سے پہنتی ہو اب کیا ایکسپیکٹ کر رہے ہیں مجھ سے اپنا سر قلم کرکے آپ کے قدموں میں رکھ دوں”

عنایہ کو نمیر کے اوپر غصہ آنے لگا وہ اپنا غصہ جتاتی ہوئی بولی مگر شاید سامنے بیٹھے ہوئے شخص کو تو اس کے غصے کی پرواہ ہی کہاں تھی وہ ابھی بھی اپنی مسکراہٹ ضبط کیے عنایہ ہی کو دیکھ رہا تھا جس پر عنایہ تپ کر رہ گئی

“بیوی میری ہو تو کپڑے بھی میری پسند کے ہی پہنوں گی کوئی احسان تھوڑی کر رہی ہو میری ذات پر،، شوہر ہوں میں تمہارا،، میرا حکم ماننا تمہارا فرض ہے۔۔۔ اور تمہارے قلم ہوئے سر کا میں کیا کروں گا،، بات اپنے دل کی کرو تو شاید کچھ بات بنے”

نمیر عنایہ کا نازک ہاتھ تھام کر اسے دیکھتا ہوا بولا

“دل کے سودے زبردستی نہیں ہوتے”

عنایہ چڑتی ہوئی بولی۔۔۔ اسے معلوم تھا ان سب باتوں کا کوئی جواز نہیں ہے اب اسے زندگی بھی نمیر کے ساتھ ہی گزارنی ہے

“مگر جو چیز میری ملکیت میں آجائے میں اسے اپنی دسترس سے دور جانے نہیں دیتا” نمیر نے سنجیدگی سے اسے جتانے کے ساتھ اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈالا۔۔۔۔ عنایہ شکوہ کرتی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی شاید وہ اسے انسان نہیں کوئی چیز سمجھتا تھا جو زور زبردستی سے اسے حاصل کرلے

“ان شکوہ کرتی نگاہوں کا میں کیا مطلب سمجھو،، کل رات کونسا کچھ ہوگیا تھا ہمارے درمیان جو یوں ناراضگی دکھا رہی ہو”

نمیر نے جتنی بے باکی سے عنایہ کو دیکھتے ہوئے سوال کیا عنایہ کا چہرہ شرمندگی سے سرخ ہوگیا۔۔۔ کل رات والا منظر یاد آنے پر وہ نظریں چرائے اٹھنے لگی مگر اس کا ہاتھ ابھی بھی نمیر کے ہاتھ میں تھا اور گرفت ایسی جیسے اب وہ اسے کبھی بھی نہیں چھوڑنے والا تھا

“کہاں جا رہی ہو”

نمیر کی نگاہیں اس کے چہرے سے گردن پر گئی کل رات کی طرح اس وقت بھی نمیر کے دل میں خواہش جاگی کے وہ اپنے ہونٹ عنایہ کی گردن پر رکھ دے

“ماموں جان کو بلانے کے لیے کافی دیر ہوگئی ہے، اب ہمیں واپسی کیلئے نکلنا چاہیے”

عنایہ نظریں ملائے بغیر بولی جیسے وہ نمیر کے دل کی خواہش سے باخبر ہو

“عجیب سا نہیں لگے گا تمہیں اپنے ماموں جان اور مامی کو یہ کہتے ہوئے کہ کافی دیر ہو گئی ہے اب آپ لوگوں کو چلنا چاہیے”

نمیر ایسے ہی اس کا ہاتھ پکڑے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولا

“کیا مطلب ہے آپ کی بات وہ دونوں اکیلے تھوڑی جا رہے ہیں میں بھی ان کے ساتھ جاؤں گی”

اب کی بار وہ نمیر کو دیکھتی ہوئی بولی

“تم کہیں نہیں جا رہی ہوں ایک دن ہی کافی ہے بعد میں کبھی میرا موڈ ہوا تو چھوڑ دوں گا تمھیں مزید ایک دن کے لیے”

نمیر کے اتنے آرام سے بولنے پر عنایہ سلگ کر رہ گئی

“میں اپنا سارا سامان لے کر نہیں آئی ہوں میرے کپڑے وہی پر موجود ہیں اور ماموں جان جب پوچھیں گے کہ میں ان کے ساتھ کیوں نہیں جا رہی ہوں تو میں کیا بولوں گی”

عنایہ کو ایک بار پھر اس پر غصہ آنے لگا

“تمہارے کپڑے کل ڈرائیو لے کر آ جائے گا اور رہی بات فرمان خالو کی،، تو انہیں صاف کہہ دینا میرا شوہر مجھے واپس بھیجنے کے موڈ میں نہیں سمپل”

نمیر نے بڑے پرسکون انداز میں اس کے مسئلے کا حل نکالا اور خود بھی اٹھ کر کھڑا ہوگیا

“میں آج صوفے پر ہی سوو گی”

عنایہ غصے میں اپنا ہاتھ اس سے چھڑاتی ہوئے بولی

“کوشش کرکے دیکھ لینا”

نمیر اسے چیلنج کرتا ہوا گھر کے اندر چلا گیا

****

عنایہ فرمان کے ساتھ واپس تو نہیں گئی مگر اس کا موڈ اچھا خاصہ خراب ہوچکا تھا نہال ابھی بھی اٹھ نہیں پا رہا تھا اور ثروت مستقل نہال کے پاس اسکے روم میں ہی بیٹھی ہوئی تھی اس نے رات کا کھانا بھی حمیدہ سے نہال کے کمرے میں ہی منگوایا

“کیا ہوا کھانے کا موڈ نہیں ہے کیا آج”

نمیر اپنے کمرے میں آتا ہوا عنایہ سے بولنے لگا جوکہ موبائل پر شانزے سے محو گفتگو تھی

“میرا موڈ نہیں ہورہا آپ کھالیں”

عنایہ کال کاٹ کر منہ بناتی ہوئی بولی

“میں یہاں تم سے کھانا کھانے کا پوچھنے نہیں آیا ہوں اٹھو اور چل کے مجھے کھانا دو”

نمیر عنایہ کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا جس پر عنایہ مزید تپ اور نمیر کو گھورتی ہوئی کچن میں داخل ہوئی۔۔۔ وہ ابھی حمیدہ سے کھانا نکالنے کا کہنے ہی لگی تھی

“حمیدہ تم جاو ماما سے پوچھو اور کسی چیز کی ضرورت تو نہیں” نمیر نے کچن میں آکر بولا عنایہ نے نمیر کو ایک دفعہ پھر کھا جانے والی نظروں سے دیکھا

“کھانا تم ٹیبل پر رکھو اپنا اور میرا” نمیر عنایہ کو بولتا ہوا چیئر کھسکا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔ عنایہ نے خاموشی سے ٹیبل پر کھانا لگایا

“تمہاری پلیٹ کہاں ہیں”

نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“بتایا تو تھا مجھے کھانا نہیں کھانا” عنایہ دوبارہ منہ بناتی ہوئی بولی

“غصہ کھانے سے بہتر ہے انسان کھانا کھا لے جلدی سے پلیٹ لاؤ”

نمیر اب کی بار نرمی سے بولا

“آپ کو کیا ضرورت ہے میری فکر کرنے کی آپ اپنا پیٹ بھرے بس”

عنایہ نمیر کو دیکھ کر کہنے لگی

“کاش اس وقت خالہ جانی یہاں پر موجود ہوتی اور وہ تمہاری چلتی ہوئی زبان کے نظارے ملاخطہ فرماتی خیر یہ بھی ٹھیک ہے مجھے کیا ضرورت پڑی ہے تمہاری فکر کرنے کی، مجھے تو بس اپنی ضروریات کی پرواہ کرنی چاہیے”

نمیر کندھے اچکا کر لاپروائی سے کہتا ہوا بولا۔ ۔۔ عنایہ اس کی بات سن کر پٹختی ہوئی وہاں سے جانے لگی

“عنایہ”

نمیر کی آواز پر پلٹ کر وہ اسے دیکھنے لگی

“تم ڈش کا اسپون لانا بھول گئی ہو یہ کھانا میں اپنے ہاتھ سے نکالوں گا”

نمیر نے بولتے ہوئے پوری کوشش کی کہ اپنے چہرے پر سنجیدگی برقرار رکھے عنایہ اس کو گھورتی ہوئی کچن میں واپس آئی اور اسپون لا کر ڈش میں ڈالا

“اور کسی چیز کی ضرورت ہے آپ کو”

عنایہ نمیر کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی اسے معلوم تھا وہ تھوڑی دیر بعد پھر اس کا نام پکارے گا

عنایہ کی بات سن کر نمیر کے چہرے پر مسکراہٹ رینگی

“فکر نہیں کرو اگر کسی بھی چیز کی ضرورت ہو گی تو تمہیں سے طلب کروں گا”

نمیر محبت لٹانے والی نظروں سے اس کو دیکھ کر کہنے لگا عنایہ دوبارہ اس کی فضولیات کا جواب دیے بغیر وہاں سے جانے لگی

“عنایہ”

اپنے نام کی پکار پر دانت پیس کر عنایہ نے مڑ کر اسے دیکھا

“پانی بالکل ٹھنڈا نہیں ہے کیوبز ڈالو اس میں”

نمیر بالکل سنجیدگی اختیار کیا ہوا بولا اور کھانے میں مصروف ہوگیا عنایہ فریج کی طرف بڑھی کیوبس نکال کر جگ میں انڈیلی وہ واپس مڑنے ہی لگی

“گلاس میں بھی پانی نکال دو”

نمیر نوالہ چباتا ہوا مگن انداز میں عنایہ سے بولا

“عنایہ نے شدت سے پانی کا گلاس اس کے سر پر مارنے کی اپنی خواہش کو دباتے ہوئے گلاس میں پانی نکالا اور گلاس نمیر کے قریب رکھا وہ بیڈ روم میں جانے لگی

“عنایہ”

عنایہ گھورتی ہوئی دوبارہ پلٹی

“اب کیا نیا مسئلہ نکل آیا آپ کے ساتھ”

عنایہ جنھجنھلاتی ہوئی بولی

“سیلڈ نہیں ہے آج کھانے میں”

نمیر بالکل نارمل انداز میں اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ یقیناً حمیدہ سیلڈنہال کے روم میں لے کر جا چکی تھی

“نہیں ہے تو کیا کروں، مجھے سیلڈ بنا کر کھا جائیں آپ”

عنایہ عشرت کے الفاظ استعمال کرتی ہوئی بولی وہ بدتمیز ہرگز نہیں تھی مگر نمیر جب سے اس کی زندگی میں آیا تھا وہ اسے اب اکثر بدتمیزی کرنے پر مجبور کردیتا تھا

“آئیڈیا برا نہیں ہے مگر یہ رات کو ٹرائی کروں گا اب مجھے یوں کھا جانے والی نظروں سے گھورنا بند کرو اور خاموشی سے سیلڈ بناؤ میرے لیے۔۔ کھیرے کاٹ کر مت رکھ دینا میرے سامنے، ریشین سیلیڈ بناؤ”

نمیر کی نئی فرمائش پر عنایہ کھول کر رہ گئی

دوبارہ کچن میں آکر فرج سے کیبج نکال کر باریک کاٹنے لگی

“ذرا شرم نہیں آتی بیوی کو تنگ کرتے ہوئے بلکہ جان بوجھ کر تنگ کرتے ہوئے”

منہ ہی منہ میں بولتی ہوئی ابلی ہوئی مٹر فریزر سے نکال کر چکن اسٹریڈ میں مکس کرنے لگی جلدی جلدی ہاتھ چلا کر ریشین سیلیڈ تیار کرکے عنایہ نے باول ٹیبل پر رکھا اور وہی چیئر پر بیٹھ گئی اسے معلوم تھا دوبارہ بیڈروم میں جانا بیکار ہے۔۔۔ اس کو چیئر پر بیٹھا دیکھ کر نمیر مسکرایا

نمیر رشین سیلیڈ کا باول اٹھا کر کانٹے کی مدد سے سیلڈ کھانے لگا

“وینیگر نہیں ڈالا اس میں”

ایک نوالہ منہ میں رکھ کر اب نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“میں نے وینیگر ڈالا ہے اس میں”

عنایہ ضبط کرتی ہوئی تحمل سے بولی

“اچھا ٹیسٹ کرکے دیکھو”

وہ کانٹے میں سیلڈ بھر کر وہ کانٹا اس کے منہ کی طرف لے گیا

“میں کسی کا جھوٹا فارک یا اسپون یوز نہیں کرتی”

عنایہ نمیر کو دیکھ کر کہنے لگی

“میں کسی تھوڑی ہوا ہبی ہوں تمہارا،، منہ کھولو شاباش”

نمیر مزید اس کے منہ کے قریب نوالہ لے کر گیا تو عنایہ کو منہ کھولنا پڑا اس نے آج پہلی دفعہ کسی کا جھوٹا فارک یوز کیا تھا

“اچھا خاصہ وینیگر کا ٹیسٹ آرہا ہے” عنایہ نمیر کو دیکھ کر بولی

“اچھا”

نمیر نے دوبارہ اپنے منہ میں فارک کی مدد سے نوالہ ڈالا

“ہاں وینیگر ڈالا ہے تم نے، لیکن بلک پیپر ڈالنا بھول گئی ہو تم”

نمیر نے فارک میں سیلڈ بھر کر عنایہ کے کچھ بولنے سے پہلے اور اس کے منہ میں ڈال دیا

“اس میں بلیک پیپر بھی موجود ہے” عنایہ منہ چلاتی ہوئی نمیر کو گھورتی ہوئی بولی

“اچھا میں نے نوٹ نہیں کیا”

نمیر اب نوالہ اپنے منہ میں ڈال کر بلیک پیپر ٹیسٹ کرنے لگا

“دیکھو مٹر صحیح سے ابلی ہوئی نہیں لگ ری”

نمیر نے اس کے منہ میں نوالہ ڈالتے ہوئے پوچھا

“مٹر پہلے سے ہی بوائل فریز میں رکھی ہوئی تھی

عنایہ منہ میں بھرے ہوئے سیلڈ کی وجہ سے بامشکل بول پائی

“اچھا مجھے فیل نہیں ہوا”

نمیر نے دوسرا نوالہ خود اپنے منہ میں ڈالتے ہوئے کہا

اس طرح نمیر کسی نہ کسی چیز کی کمی ظاہر کرتے ہوئے ایک نوالہ خود اپنے اور دوسرا عنایہ نوالہ عنایہ کے منہ میں ڈال دیتا اسطرح کھانا کھانے کے بعد وہ نہال کے کمرے میں گیا تو عنایہ نے سکون کا سانس لیا اس میں کوئی شک نہیں تھا وہ عنایہ کے لیے کبھی کبھی دوسری عشرت ثابت ہوتا عنایہ بیڈ روم میں آکر اپنا تکیہ لے کر صوفے پر لیٹ گئی

اب اسے نمیر کے کمرے میں آنے سے پہلے سونا تھا اور اسے اپنی نیند پر پورا بھروسہ تھا کہ وہ چند منٹ میں سو جائے گی