370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 49) Last Episode

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

“فرحین کچھ کہنا چاہ رہی ہو یا کوئی بات ہے تو بولو”

نہال ڈریس چینج کرکے نکلا تو فرحین ابھی تک سر جھکائے بیڈ پر بیٹھی، بیڈ شیٹ کے ڈیزائن پر انگلی پھیر رہی تھی نہال کی بات پر سر اٹھائے وہ اسے دیکھنے لگی

“تمہیں کیسے معلوم میں تم سے کچھ کہنا چاہتی ہوں”

فرحین نہال کو دیکھ کر پوچھنے لگی

“ایک ہفتے میں تھوڑا بہت جاننے کی کوشش کی ہے ایک سال گزرے گا تو مجھے یقین ہے میں تمہارے دل کی میں چھپی بات خود سے کہہ دیا کروں گا”

نہال مسکراتا ہوا فرحین کو دیکھ کر بولنے لگا تب فرحین خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگی

“ابھی وہاں تم نے سب کے سامنے کہا دوسری بار منگنی یا مہندی کا چانس لیے بغیر جھٹ سے نکاح کرلیا مطلب تمھاری پہلے”

فرحین کچھ سوچتی ہوئی بولی پھر خاموش ہوگئی

“میری پہلے عنایہ سے شادی ہونے والی تھی پھر میرا ایکسیڈنٹ ہوگیا جس کی وجہ سے اس کی شادی نمیر سے ہوگئی۔۔۔ ہوش میں آنے کے بعد مجھے سب کے ساتھ ساتھ خدا سے بھی شکوہ تھا مگر اب سمجھ میں آیا جو ہوا بہت اچھا ہوا یہ بات بالکل ٹھیک کہی جاتی ہے ہر کام میں خدا کی کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے۔۔۔ نمیر کی شادی عنایہ سے ہونا قسمت میں لکھا تھا کیوکہ تمہیں میری زندگی میں آنا تھا”

نہال دھیمے لہجے میں اسے بتا رہا تھا فرحین غور سے نہال کو دیکھنے لگی

“کیا ہوا یہی سوچ رہی ہوں کہ میں عنایہ کو پسند کرتا تھا۔۔۔ دیکھو میں ابھی سے تمہارے دل کی باتیں جاننے لگ گیا ہوں”

نہال مسکراتا ہوا فرحین سے بولا وہ خاموشی رہی۔۔۔ اس نے اقرار نہیں کیا نہال کی بات کا مگر وہ سچ میں یہی سوچ رہی تھی نہال نے فرحین کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا

“فرحین محبت کے بغیر زندگی گزاری جا سکتی ہے تمہیں بھی تو نمیر پسند تھا ناں مگر مجھے معلوم ہے وہ اب تمہارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا۔۔ اس طرح ایک وقت آئے گا جب عنایہ کا تصور میرے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا،، دو ایسے لوگ جن کو محبت نہ ملے وہ ایک دوسرے کے ساتھ اپنے پاٹنر کی فیلینگز کو سمجھتے ہوئے زندگی گزار سکتے ہیں مجھے یقین ہے” نہال اس کا ہاتھ تھامے نرم لہجے میں سمجھا رہا تھا فرحین ابھی بھی خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی

“مگر ہم دونوں یہ کوشش کریں گے کہ ہمارے بچے کو زندگی میں اس کی محبت ضرور ملے”

نہال اب شرارت سے فرحین کو دیکھتا ہوا کہنے لگا

“بچہ”

فرحین نہال کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ نکالتی ہوئی حیرت سے بولی

“ہاں ہم دونوں کا بچہ”

نہال نے دوبارہ اس کا ہاتھ تھام کر نرمی سے کہا وہ پریشان ہو کر نہال کو دیکھنے لگی

“اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں دس سال تک بھی انتظار کر سکتا ہوں”

نہال مسکراتا ہوں فرحین سے کہنے لگا تو فرحین سر جھکا گئی

****

“یار عنایہ میری بلیک شرٹ کہاں پر رکھ دی تم نے”

نمیر ابھی آفس سے گھر لوٹا تھا روم کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی تو وہ وارڈروب میں اپنی شرٹ دیکھتا ہوا عنایہ کو بولا مگر جب اس کی نظر دروازے پر پڑی

“تم”

نمیر کے تاثرات سنجیدہ ہوئے وہ وارڈروب کا دروازہ بند کرتا ہوا منال کو دیکھ کر بولا

“مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے نمیر”

منال اس کے قریب آتی ہوئی سنجیدگی سے بولی

“اوکے جو بھی بات کرنی ہے ڈرائنگ روم میں چلو میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں” نمیر کو یوں منال کا اپنے بیڈ روم میں آنا اچھا نہیں لگا مگر وہ چہرے کے تاثرات نارمل رکھتا ہوا بولا

“ڈرائنگ روم میں نہیں یہاں اکیلے بات کرنی ہے مجھے، دیکھو میں جانتی ہوں میں تمہیں اپنی بیوقوفی سے کھو چکی ہوں مگر مجھے اب احساس ہوگیا ہے اپنی غلطی کا پلیز نمیر سب بھول جاؤ مجھے اپنی زندگی میں شامل کر لو۔۔۔ ایسے تو نہیں ہے نا صرف میں نے تم سے محبت کی تھی بے شک اظہار پہلے میں نے کیا تھا مگر تم بھی تو چاہتے تھے نہ مجھے اور یہ دیکھو اس تصویر میں نہال نے کیسے عنایہ کا ہاتھ تھاما ہوا ہے عنایہ کے دل میں ابھی تک تمہارا بڑا بھائی بستا ہے جیسے ابھی تک تم میرے دل میں بستے ہو۔۔۔ نہال اگر شادی نہیں کرتا تو عنایہ خود تم سے علیحدگی لے کر”

منال اپنے موبائل میں ثبوت کے طور پر عنایہ اور نہال کی تصویر دکھانے لگی مگر نمیر کے پڑنے والے تھپڑ سے اس کے باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔۔۔ منال بے یقینی سے نمیر کو دیکھنے لگی

“میں نے تمہیں پہلے بھی بولا تھا، تم جو بھی بات کرنا بہت سوچ سمجھ کر کرنا ایک طرف میرا بھائی ہے دوسری طرف میری بیوی۔۔۔ تم ہوتی کون ہو عنایہ کے کردار کے بارے میں اتنی گھٹیا بات کرنے والی۔۔۔ عنایہ کس کردار کی مالک ہے یہ تمہیں مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ میں تم سے زیادہ اچھی طریقے سے اپنی بیوی کو جانتا ہوں اور اب میں تمہیں بھی جان گیا ہوں۔۔۔ ہاں میں پہلے تمہیں چاہتا تھا مگر مجھے تب تک یہ اندازہ نہیں تھا کہ تم ایک گری ہوئی لڑکی ہوں اور آج کے بعد تو میں تمہاری شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتا۔۔۔ آئندہ اگر تم نے عنایہ کے خلاف میرے سامنے یا کسی کی بھی سامنے زہر اگلنے کی کوشش نہیں تو میں تمہیں ہرگز نہیں بخشوں گا”

نمیر اسے وارن کرتا ہوا بولا اور اپنے کمرے سے باہر جانے لگا تبھی منال نے اس کا ہاتھ پکڑا

“اوکے میں اب عنایہ کے بارے میں تم سے کچھ نہیں بولوں گی مگر میں گری ہوئی ہرگز نہیں ہوں پیار کرتی ہوں تم سے۔۔۔ ٹھیک ہے تم عنایہ کو بھی اپنی زندگی سے مت نکالو مگر مجھے اپنی زندگی میں شامل کرلو۔۔۔ میں نہیں رہ سکتی تمہارے بغیر” منال روتی ہوئی نمیر سے کہنے لگی اور اچانک اس کے سینے سے لگ گئی اس سے پہلے وہ اسے خود سے پیچھے دور کرتا اسی لمحے کمرے کا دروازہ کھلا اور عنایہ اندر آئی وہ اندر کا منظر دیکھ کر وہی رک گئی۔۔۔ نمیر نے منال کو پیچھے دھکا دیا اب وہ عنایہ کو دیکھ رہا اور عنایہ چہرے سے آنسو صاف کرتی ہوئی منال کو

“کم از کم آپ میں اتنے ایٹی کیٹز تو ہونے چاہیے منال آپی کے یوں کسی میرڈ کزن کے بیڈروم میں اتنے دھڑلے سے نہیں آیا جاتا”

“مجھے یہاں نمیر نے میسج کرکے بلایا تھا”

منال کی بات سن کر نمیر کو آگ لگ گئی اس سے پہلے وہ منال کو اپنے بیڈ روم سے دھکا دے کر نکالتا

“ایک منٹ نمیر مجھے بات کرنے دیں منانا آپی سے” عنایہ نمیر کا غصہ دیکھ کر اس سے بولی

“اور کتنا گرائے گی آپ خود کو منال آپی میری نظروں میں،،، آپ کو شرم آنی چاہیے ایسی گھٹیا باتیں کرتے ہوئے ایک شوہر اور اس کی بیوی کے بیچ میں نااتفاقی پیدا کرتے ہوئے۔۔۔ یہ اونچی حرکتوں کرکے خدارا اپنے آپ کو میری اور نمیر کی نظر میں خود کو نہ گرائے۔۔۔۔آپ تو اپنے اپکو عورت کے معیار سے گرانے پر تل گئی ہیں۔۔۔ مجھے اپنے شوہر پر اپنے سے زیادہ بھروسہ ہے، آپ ان کے بارے میں کچھ بھی بول کر مجھے نمیر سے بدگمان نہیں کر سکتی”

عنایہ کی باتیں سن کر منال ایک پل کے لئے کچھ بھی نہیں بولی۔۔۔ وہ تو کبھی اس کے سامنے زبان تک نہیں چلاتی تھی اور آج کیسے اس کے سامنے بڑھ بڑھ کر بول رہی ہے یقیناً یہ نمیر کی محبتوں کا ہی اعجاز تھا اور اس کا فراہم کردہ اعتبار بھی

“میری جان جانے دو اسے، اپنی انرجی ویسٹ مت کرو،، یہ اپنی عادت سے مجبور ہے۔۔۔ نہیں جانتی کہ ہم دونوں کا رشتہ کتنا مضبوط ہے”

نمیر عنایہ کے پاس آکر اس کے کندھے کے گرد بازو حائل کر کے دوسرا ہاتھ عنایہ کے گال پر رکھتا ہوا بولا۔۔۔ یہ منظر دیکھ کر منال کا اب ان کے بیڈروم میں ٹھہرنا بے مقصد تھا وہ بیڈروم سے جانے لگی

“منال دروازہ بند کرتی ہوئی جانا پلیز”

کمرے سے نکلتی ہوئی منال کو نمیر کی آواز آئی۔۔۔ اس نے دھندلی آنکھوں سے مڑ کر دیکھا۔۔۔ نمیر جھکا ہوا عنایہ کے کان میں شرارت سے کچھ کہہ رہا تھا جس پر عنایہ نے مسکرا کر اسے گھور کر دیکھا اب نمیر بھی عنایہ کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا منال بیڈروم کا دروازہ بند کر کے اپنے آنسو پوچھتی ہوئی وہاں سے نکل گئی

****

ایک سال بعد

وہ ڈیوٹی پر تھا جب فریدہ نے اسے کال کر کے بتایا کہ شانزے کی اچانک حالت بگڑ گئی ہے اور وہ اسے ہاسپٹل لے کے جا رہی ہے۔۔۔ نوفل خود بھی فوری طور پر اسپتال کے لئے روانہ ہوا مگر ٹریفک میں پھنسنے کے باعث اسے پہنچنے میں دیر ہو گئی۔۔۔ جب وہ ہسپتال پہنچا تو اسے خبر ملی وہ ایک پیارے سے بیٹے اور بیٹی کا باپ بن چکا ہے فریدہ نے اسپتال کے کوریڈور میں ہی اس کو خوشخبری سنائی تھی وہ دادی بن کر بے حد خوش تھی نوفل مسکراتا ہوا ہاسپٹل کے روم میں اپنی ظالم حسینہ کے پاس پہنچا

شانز بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی اس کے ایک ہاتھ میں ڈرپ لگی ہوئی تھی جبکہ چہرے پر کافی سویلنگ تھی۔۔۔ ایمرجنسی میں اس کا سیزر کرنا پڑا اس وقت وہ نیم بے ہوش تھی جب اسے نوفل کے ہونٹوں کا لمس اپنی پیشانی پر محسوس ہوا شانزے نے آئستہ سے اپنی آنکھیں کھولی نوفل اس کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا

“تمہیں چنوں اور منوں چاہیے تھے۔۔۔۔ چنوں تو آگیا مگر منوں کی جگہ منی آگئی ہے”

شانزے نے نوفل کو دیکھ کر دھیمے لہجے میں بولا مگر نوفل اس کی بات سن کر مسکرا دیا

“میں ابھی بےبی نرسری میں دونوں کو دیکھ کر آیا ہوں اور مزے کی بات یہ ہے کہ منی ہمارے چنوں سے بھی زیادہ کیوٹ ہے۔۔۔ دل چاہ رہا تھا اسے انکیوپٹر سے نکال کر ڈھیر سارا پیار کرو”

نوفل کی بات سن کر شانزے آہستہ سے مسکرائی

“کیا ہوا زیادہ پین ہو رہا ہے نوفل بیڈ پر جھگا شانزے کا گال سہلاتا ہوا فکرمندی سے پوچھنے لگا

“اس سے تھوڑا کم جو تم پر گولی چلا کر محسوس ہوا تھا”

شانزے کو اپنے عمل پر شاید ابھی بھی شرمندگی تھی جبھی وہ یہ بات ابھی تک نہیں بھول پائی تھی

“اے میں نے منع کیا تھا نہ کہ اب ہمارے درمیان فضول قسم کی بات دوبارہ نہیں ہوگی۔۔۔ جب میں نے تم سے کوئی شکوہ نہیں کیا غصہ نہیں کیا تم پر۔۔۔ تو پھر تم یہ ٹاپک کیوں لاتی ہو ہمارے بیچ میں”

نوفل شانزے کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا

“تم اتنی اچھے کیوں ہو نوفل” شانزے نوفل کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی وہ نوفل کی محبت پر اپنی قسمت پر جتنا رشک کرتی کم تھا

“تم اتنی ظالم جو ہو”

نوفل اس کے گال پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا بولا

“اب کیا ظلم کر دیا میں نے اپنے ایس۔پی پر”

شانزے درد کے باوجود مسکراتی ہوئی پوچھنے لگی

“یہ بات یہاں پر نہیں گھر جا کر اپنے بیڈ روم میں بتاؤں گا”

نوفل ہاتھ کا پنچ بنا کرآئستہ سے شانزے کے گال پر لگاتا ہوا بولا

“امی کو بتا دیا تھا تم نے میرا”

شانزے نوفل سے نائلہ کا پوچھنے لگی

“تھوڑی دیر پہلے ہی بات ہوئی تھی رات کی فلائٹ سے پہنچ رہی ہیں وہ”

نوفل شانزے کو لگی ڈرپ کی اسپیڈ سلو کرتا ہوا اسے بتانے لگا

“آپی اور عنایہ کو بھی بتا دیا”

شانزے کو اب دوسری فکر دونوں دیورانی اور جھٹانی کی ہوئی جن کی آپس میں کافی زیادہ بنتی تھی

“بےفکر ہوجاؤ میں نے نمیر اوا نہال دونوں کو اطلاع دے دی تھی۔۔۔ تھوڑی دیر میں سب یہاں آن دھمکے گے۔۔۔ ابھی تھوڑا سا ریسٹ کر لو”

نوفل شانزے کے خیال سے اسے دیکھتا ہوا بولا تو شانزے نے مسکرا کر اپنی دونوں آنکھیں بند کر لی

عنایہ اور فرحین کی آپس میں کافی اچھی انڈراسٹینڈنگ تھی بلکہ دو ماہ کا چھوٹا سا عالیان عنایہ سے زیادہ فرحین کی گود میں رہتا 2 ماہ پہلے عنایہ نے گول مٹول سے صحت مند بچے کو جنم دیا جو کہ اپنے ماں باپ کے علاوہ اپنی دادی تایا تائی گھر بھر کا لاڈلا تھا اس کی دیکھ بھال فرحین بغیر کسی کے کہے کرتی تھی۔۔۔ عالیان خود بیان عنایہ کی بانسبت فرحین سے مانوس تھا اور گھر میں زیادہ تر اسی کے پاس پایا جاتا

کیوکہ نمیر نے عنایہ کی ایک نہ سنتے ہوئے اس کا یونیورسٹی میں ایڈمیشن کرادیا تھا ہر روز رات میں وہ اس کی کلاس لینے سے پہلے اسی ٹینشن دینا نہیں بھولتا

فرحین اب کافی حد تک نارمل ہو گئی تھی اور آہستہ آہستہ زندگی کی طرف بھی راغب ہو رہی تھی وہ اب باتیں کرتی تھی سب کی باتوں پر مسکراتی بھی تھی اس نے سارے گھر کی ذمہ داری کے ساتھ علیان کی ذمہ داری بھی خود ہی اٹھالی تھی۔۔۔ نہال اس کا بہت اچھے طریقے سے خیال رکھتا تھا ہر ممکن اسے خوش رکھنے کی کوشش کرتا۔۔۔ اب وہ اس کے دل کی ہر بات اس کے بولنے سے پہلے جان جاتا۔۔۔ عالیان کے ننھے سے وجود کو دیکھ کر فرحین کو بھی اپنے اندر ایک کمی کا احساس محسوس ہوتا جوکہ ماں بن کر پوری ہو سکتی تھی مگر اس سے بھی اچھی بات یہ ہوئی کہ یہ سب اسے نہال سے کہنے کی ضرورت نہیں پڑی۔۔ نہال نے فرحین کی دلی آمادگی کو دیکھتے ہوئے اپنے اور فرحین کے رشتے کو اس کا اصل مقام دے دیا تھا۔۔۔ اب کی بار نہال کی قربت سے فرحین کو اپنے آپ سے گھن نہیں آئی بلکہ اسے اپنا آپ معتبر لگنے لگا

****

چھ سال بعد

“عالیان فوراً اندر آو ورنہ ابھی میں تمہارے ڈیڈ کو بلاتی ہوں”

گھر کے لان میں پانچ سالہ عالیان بارش میں کافی دیر سے بھیگ رہا تھا۔۔۔ عنایہ ہیوی ڈیل ڈول کے ساتھ شیلٹر کے نیچے کھڑی اپنے بیٹے کو دیکھتی ہوئی بولی اسکا نائنتھ منتھ اسٹارٹ تھا

“مما پلیز خود تو آپ بارش سے ڈرتی ہیں میرے کو ڈیڈ سے مت ڈرائے”

بارش میں بھیگتا ہوں عالیان عنایہ کو دیکھتا ہوا بولا

“میں بارش سے بالکل نہیں ڈرتی مگر مجھے یوں بے وقوفوں کی طرح بارش میں بھیگنا پسند نہیں لیکن تم اپنے ڈیڈ سے نہیں ڈرتے یہ بات میں ابھی جاکر نمیر کو بتاتی ہوں”

عنایہ کا ڈر اب بارش سے ختم ہوچکا تھا۔۔۔ وہ اب بارش میں نارمل ری ایکٹ کرتی تھی مگر برسات میں بھیگنا اسے ذرا بھی پسند نہیں تھا

“مما پلیز آپ ڈیڈ کا نام لے کر مجھے کیوں ڈرا رہی ہے ٹرسٹ می دس منٹ بعد خود آ جاؤں گا” نمیر کی دھمکی دینے پر عالیان ایک دم سیدھا ہوگیا کیوکہ ثروت، نہال، فرحین کے لاڈ پیار نے اسے کافی شیطان بنا دیا تھا وہ صرف نمیر کے آنکھیں دکھانے پر اپنے ڈیڈ سے ہی ڈرتا ورنہ سارا وقت شور شرابے اور شیطانیوں میں لگا رہتا

نوفل کے بیٹے ماز سے اس کی خوب بنتی کیوکہ وہ دونوں عادتوں میں ایک جیسے تھے پورے گھر کو سر پر اٹھانے والے۔۔۔ دونوں ہی مل کر آئزہ (نوفل کی بیٹی) کو بہت تنگ کرتے۔۔۔ جس کی صورت میں ان دونوں کو اپنے اپنے ڈیڈ سے خوب ڈانٹ بھی پڑتی

“نمیر ذرا جاکر عالیان کی خبر لیں،، مجھے بہت تنگ کرنے لگا ہے اب میں ڈانٹو گی تو فوراً بھابھی کے کمرے میں چلا جائے گا وہ ریسٹ کر رہی ہیں، ڈاکٹر نے انہیں ریسٹ کا بتایا ہے” عنایہ بیڈ روم میں آکر لیپ ٹاپ پر کام کرتے ہوئے نمیر کو دیکھ کر بولی

شادی کے 6 سال بعد فرحین کو بھی گڈ نیوز ملی تھی اس کا ففتھ منتھ اسٹارٹ ہو چکا تھا اور وہ ایک بیٹی کی ماں بننے والے تھی جس کا نہال کو بے صبری سے انتظار تھا

“لے لیتا ہو جا کر اس کی خبر بھی پہلے تم اپنی خبر تو دو۔۔۔ کیا کر رہی تھی کچن میں اتنی دیر سے”

نمیر لیپ ٹاپ ایک سائیڈ پر رکھتا ہوا عنایہ کے پاس آیا اس کے بلکی فگر کو اپنی بانہوں میں لے کر اس کی سانسوں کی مہک اپنے اندر اتارنے لگا

“تم پیزا بیک کرنے گئی تھی یا کھانے” نمیر چیز کا ٹیسٹ محسوس کرتا ہوا شرارت سے پوچھنے لگا جس پر عنایہ نے اسے گھورا

“نمیر دوسرے بیٹے کی ڈیڈ بننے والے ہیں۔۔۔ اب آپ سیریس ہو جائیں” عنایہ اس کو گھورتی ہوئی وارڈروب سے عالیان کے کپڑے نکالنے لگی

“چندا میرے سیریس ہونے پر ہی تم سیکنڈ ٹائم اکسپیکٹ کر رہی ہو۔۔۔ چھوڑو یہ کپڑے، صبح سے تمہیں اِدھر سے اُدھر پھرتا ہوا دیکھ رہا ہوں،،، ڈاکٹر نے تمہیں بھی ریسٹ بولا ہے اب شرافت سے بیڈ پر لیٹ جاؤ”

نمیر نے عالیان کے کپڑے عنایہ کے ہاتھوں سے لیتے ہوئے اسے بیڈ پر لٹایا اور خود بھی اس کے قریب آ کر بیٹھ گیا۔۔۔ اب وہ معمول کی طرح اپنے دوسرے بیٹے کو کس کر کے اس سے باتیں کرنے لگا

“مائی لٹل بوائے کب آنے کا ارادہ ہے اپنے ڈیڈ اور مما کے پاس،، تمہارے ڈیڈ کو تمہارا بےصبری سے انتظار ہے پلیز یار تم اپنے بھائی کی طرح افلاطون مت نکلنا،، بالکل اپنی نے مما پر جانا ایک دم کول اور باتونی”

آخری جملہ بولتے ہوئے نمیر نے عنایہ کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے آنکھ ماری جس پر عنایہ بھی مسکرانے لگی وہ اب بہت باتونی ہوگئی تھی

“اپنے بیٹے سے باتیں کرلی ہیں تو آپ میری بات بھی سن لیں۔۔۔ آج منال آپی کی بارات ہے نمیر، ہم دونوں جائے گے ناں”

عنایہ بیڈ پر لیٹی ہوئی نمیر سے پوچھنے لگی

منال نے 6 سالوں میں آنے والے ہر رشتے کو ریجیکٹ کیا۔۔۔ اب ایک رشتے پر وہ مانی تھی جس پر عشرت اپنا سر پکڑ کر رہ گئی جبکہ فرمان نے تو اپنی ہی اولاد کو اس کے حال پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔۔۔ عدنان یعنی منال کا ہونے والا شوہر جو کہ پہلے سے شادی شدہ تھا اور دو بچوں کا باپ تھا منال سے ایک سال پہلے اسے دھواں دھار محبت ہوگئی اور اب منال اس سے ضد کر کے شادی کر رہی تھی

“یار ہفتے بھر کے بعد مجھے ایک چھٹی ملی ہے میں یہ دن ریلکس گزارنا چاہتا ہوں اور تمہاری خود کی کنڈیشن ایسی کہاں ہے جو تم جاسکو۔۔۔ میں نے صبح ہی نہال سے کہہ دیا تھا وہ اور ماما چلے جائیں گے۔۔۔ تم بس ریسٹ کرو اور مجھے ریلکس کرو اور اپنی افلاطون اولاد کو یہ کپڑے میں خود پہنا دوں گا مگر تھوڑی دیر بعد کیوکہ اگر وہ یہاں کمرے میں آ گیا تو مجھے تمہارے قریب رہنے کا موقع مشکل سے ہی ملے گا”

نمیر بولتا ہوا عنایہ کے چہرے پر جھکا

“ڈر تو نہیں لگ رہا” نمیر اپنی کہنی عنایہ کے تکیہ پر ٹکا کر دوسرا ہاتھ عنایہ کے پیٹ رکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا کیوکہ عالیان کی دفعہ میں وہ کافی ڈری ہوئی تھی

“زیادہ نہیں مگر تھوڑا تھوڑا”

عنایہ نمیر کے شولڈر پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی

“تھوڑا تھوڑا بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں تمہارے پاس موجود ہوگا نہ اس ٹائم”

نمیر نے جیسے ہی اپنے ہونٹ عنایہ کی پیشانی پر رکھے ویسے ہی بیڈروم کا دروازہ کھلا عنایہ نے فوراً اپنا ہاتھ نمیر کے کندھے سے ہٹایا نمیر ایک دم پیچھے ہوا

“اُپس پرامس ڈیڈ میں نے کچھ نہیں دیکھا”

عالیان نے بولنے کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھ آنکھوں کی جگہ ہونٹوں پر رکھ لئے

“کتنی بار کہا ہے تمہیں پہلے دروازہ ناک کرتے ہیں پھر کسی کے روم میں جاتے ہیں کب آئے گے تم میں مینرز معلوم نہیں تمہاری مما کو سہلا رہا تھا میں”

نمیر اپنے بیٹے کو ڈانٹنے کے ساتھ بات بناتا ہوا بولا

“رئیلی ڈیڈ میں سچ کہہ رہا ہوں میں نے کچھ نہیں دیکھا” عالیان نے اپنے غصے میں بھرے ڈیڈ کو ریلیکس کرنا چاہا

“شیٹ اپ ڈیڈ کا بچہ،، اٹھاو اپنے یہ کپڑے دادو کے روم میں جاکر چینج کراو ان سے اور خبردار جو تم تائی کے روم میں گئے یہ پھر دوبارہ باہر نکلے”

نمیر دوبارہ اسے آنکھیں دکھا کر وارن کرنے لگا عالیان معصوم شکل بنا کر اپنے کپڑے اٹھاتا ہوا روم سے باہر نکل گیا جس پر عنایہ نمیر کو دیکھ کر مسکرانے لگی

“آنٹی مجھے بتاتی ہیں یا پورا آپ پر ہی گیا ہے”

عنایہ کی بات سن کر نمیر بھی مسکرا دیا

“غلط بولتی ہیں ماما۔۔ یہ مجھے اپنا بھی باپ لگتا ہے” نمیر کے بولنے پر عنایہ دوبارہ ہنس دی

The end