Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 19)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 19)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
وہ دونوں اس وقت ہسپتال کے پرائیویٹ روم میں موجود تھے جہاں نہال کو سوئے ہوئے آج 17 دن گزر چکے تھے۔۔۔ ثروت نمیر تو روزانہ نہال کے پاس چکر لگالتے اور نوفل بھی روز ہی ہسپتال آتا۔۔۔ مگر عنایہ آج نہال کو اس کے ایکسیڈنٹ کے بعد سے دوسری بار اسے دیکھ رہی تھی،،، دیوار سے ٹیک لگائے اپنے سامنے نہال کو بیڈ پر بےہوش دیکھ کر آج بھی اسے پہلے دن کی طرح رونا آ رہا تھا مگر تب میں اور اب میں بہت فرق آچکا تھا۔۔۔ وہ کھل کر اب اپنے دکھ کا اظہار بھی نہیں کرسکتی تھی اور نہ ہی اسے نمیر سے امید تھی کہ وہ اسے دلاسہ دے کر چپ کر آئے گا،،، کافی ضبط کرنے کے باوجود آخر کار آنسو،، پلکوں کی باڑ توڑ کر عنایہ کی آنکھوں سے نکل آئے
نمیر نہال کے پاس کھڑا اسے کروٹ دلا رہا تھا کیوکہ اسٹریٹ لیٹے رہنے سے بیڈسول کا خدشہ ہو سکتا تھا۔۔۔ ویسے تو نمیر نے نہال کے لیے چوبیس گھنٹے کے لئے ایک اٹینڈینٹ مقرر کیا تھا۔۔۔ جو ہر وقت کے ساتھ رہتا مگر نمیر جب ہسپتال آتا،، تو نہال کے چھوٹے چھوٹے کام اپنے خود کردیتا ان سترہ دنوں میں اس نے ایک بھی دن،، نہال سے غفلت نہیں برتی تھی، ،، ساتھ نوفل بھی اپنی دوستی کا خوب حق ادا کر رہا تھا۔۔۔۔ نہال کو کروٹ دلا کر نمیر کی نظر سامنے کھڑی عنایہ پر پڑی جس کا چہرہ آنسوں سے بھیگا ہوا تھا
نمیر کے دیکھنے پر عنایہ نے جلدی سے ہاتھوں کو اپنے چہرے سے رگڑ کر اپنے آنسوؤں کو صاف کیا اس وقت نمیر کو عنایہ سے ہمدردی کی بجائے اندر کہیں چھبن کا احساس ہونے لگا۔۔۔ نمیر کو غصہ آنے لگا اس کی بیوی اس کے بھائی کے لئے رو رہی ہے۔۔۔ غصہ نمیر کو اس بات پر تھا کہ عنایہ کا رونا نہال کے لیے محض ہمدردی ظاہر نہیں کر رہا تھا بلکہ ہمدردی سے کچھ زیادہ لگ رہا تھا۔۔۔ جب نمیر سے برداشت نہیں ہوا تو وہ ہونٹ بھینچ کر چلتا ہوا عنایہ کے پاس آیا
“کیوں رونا آرہا ہے تمہیں جواب دو”
عنایہ کا منہ اپنے ہاتھ میں دبوچے وہ سخت لہجے میں عنایہ سے پوچھنے لگا
“و۔۔۔۔ وہ نہال”
عنایہ نے روتے ہوئے نہال کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا
“کیا نہال۔۔۔ مرا نہیں ہے وہ،، کومے میں ہے۔۔۔۔ آج نہیں تو کل اسے ہوش آ جائے گا تب بھی تم اسے دیکھ کر اسی طرح ری ایکٹ کروگی جواب دو مجھے”
لہجے میں سختی کے ساتھ ساتھ اس کے ہاتھوں میں بھی سختی آگئی جس سے عنایہ کو اپنے جبڑے دکھتے ہوئے محسوس ہوئے
“آپ مجھے تکلیف دے رہے ہیں”
عنایہ بناء مزاحمت کیے بمشکل نمیر سے بول پائی،،، تو نمیر نے اس کا منہ چھوڑ کر بازو پکڑا
“نہیں۔۔۔ تم مجھے تکلیف دے رہی ہو،، تمہیں میں اس لیے یہاں نہیں لایا تھا کہ تم میرے بھائی کا سوگ،، میری بیوی بن کر،، میری انکھوں کے سامنے مناو”
نمیر اس کا بازو پکڑ کر ہسپتال کے کمرے سے نکل کر اسے گاڑی تک لے آیا
عنایہ نے ہمت کر کے دو بار نظریں اٹھا کر نمیر کو دیکھا وہ بہت سیریس ہوکر ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔ عنایہ کو اس سے ابھی بھی ڈر لگ رہا تھا اس لئے گھر پہنچ کر وہ بیڈ روم میں جانے کی وجہ ثروت کے پاس آکر بیٹھ گئی۔۔۔ نمیر ثروت سے دو تین سرسری باتیں کرکے سونے کا کہہ کر اپنے بیڈ روم میں چلا گیا۔۔۔ جب عنایہ کو یقین ہوگیا کے نمیر سو گیا ہوگا تب وہ ثروت کو شب بخیر کہہ کر اپنے بیڈ روم میں آئی
بیڈ روم کی لائٹ آف دیکھ کر اور نمیر کو آنکھوں پر ہاتھ رکھے بیڈ پر سوتا ہوا دیکھ کر عنایہ نے اطمینان کا سانس لیا۔۔۔۔ وہ آئستہ قدم اٹھاتی بیڈ سے تکیہ اٹھاتی کر صوفے پر رکھتی ہوئی ڈریسنگ روم کی طرف گئی تاکہ خود بھی کپڑے چینج کرکے آرام سے سو سکے
ڈریسنگ روم میں آنے کے بعد اس نے اپنے کپڑوں کی بجائے نائٹی ٹنگی دیکھی۔۔۔ یہ نائٹی تو اس کے وارڈروب میں رکھی تھی جو ابھی تک اس کے استعمال میں نہیں آئی تھی
عنایہ آہستہ قدم اٹھاتی دوبارہ کمرے میں آئی اور وارڈروب کا دروازہ کھولنے لگی۔۔۔ چار سے پانچ بار ہینڈل گھمانے پر جب وارڈروب کا دروازہ نہیں کھلا تو عنایہ کو احساس ہوا کہ وارڈروب لاک جام ہے یا پھر خراب ہوچکا ہے۔۔۔ عنایہ نے بے بسی سے گردن موڑ کر نمیر کو دیکھا۔۔۔ وہ ویسے ہی آنکھوں پر ہاتھ رکھے سو رہا تھا۔۔۔ عنایہ دوبارہ ڈریسنگ روم میں آئی اور کشمکش میں پڑ گئی۔۔ شفون جارجٹ کے اتنے فٹنگ کے سوٹ میں وہ ساری رات بے سکون ہی رہتی
یہ نائٹی نمیر کے سوا بھلا کون رکھ سکتا تھا اور اس نائٹی کا وہ کیا مطلب سمجھے۔۔۔ وہ ایسا کیو سوچ رہی تھی نمیر تو کتنا غصے میں تھا،، سارے خیالات کو جھٹک کر اس نے نائٹی کی طرف ہاتھ بڑھایا جو بھی تھا نمیر اب سو چکا تھا
نائٹی پہن کر جب وہ صوفے پر لیٹی تو گردن سے لے کر پاؤں تک دوپٹہ اوڑھ کر سونے کی کوشش کرنے لگی تب اسے نمیر کی آواز سنائی دی
“بیڈ پر آ کر لیٹو” نمیر کی آواز سن کر عنایہ کی جھٹ سے آنکھیں کھلی اور اس کی فرمائش سن کر عنایہ کے ماتھے پر پسینے آنے لگے یعنیٰ وہ جاگ رہا تھا
“میں یہی ٹھیک ہو” عنایہ ہمت کر کے بولی
“تم بیڈ کر خود آ رہی ہو یا پھر میں تمہیں اٹھا کر بیڈ پر لاو”
کمرے میں اندھیرے کی وجہ سے وہ نمیر کے تاثرات تو نہیں دیکھ سکتی تھی مگر اس کی لہجے میں سختی اور دھمکی سن کر پریشان ہو گئی۔۔۔ تکیہ کو سینے سے لگائے وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی بیڈ پر آئی اسے بیڈ پر نمیر کے ساتھ لیٹنا عجیب لگ رہا تھا
“بیڈ پر لیٹو میں نے تمہیں یہاں کھڑے رہنے کے لئے نہیں بلایا”
نمیر نے اپنی آنکھوں پر ابھی بھی ہاتھ رکھا تھا اور اس کے لہجے میں سنجیدگی برقرار تھی
عنایہ چپ کرکے بیڈ پر لیٹ گئی مگر لیٹنے سے پہلے اس نے تکیہ کو اپنے اور نمیر کے بیج رکھ کر دیوار بنانا نہ بھولی۔۔۔۔ اپنے دوپٹے کو اس نے اوڑھنے کے ساتھ سختی سے پکڑا ہوا تھا
نمیر نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کر اس تکیہ کو دیکھا جو اسکے اور عنایہ کے درمیان حائل تھا۔۔۔ نمیر چاہتا تو اس کمزور سی دیوار کو ایک منٹ میں اپنے اور اس کے درمیان سے ہٹا کر اپنا اور عنایہ کا فاصلہ ختم کر سکتا تھا مگر عنایہ کو بیڈ پر لٹانے کا مقصد صرف یہی تھا کہ وہ آج رات نہال کی جگہ اپنے اور نمیر کے رشتے کو سوچے۔۔۔۔ نمیر دوسری طرف کروٹ لے کر سونے کی کوشش کرنے لگا تاکہ عنایہ کو بھی تھوڑا اطمینان ہوجائے
*****
روز معمول کی طرح آج بھی نمیر کی ہی آنکھ کھلی مگر صوفے کی بجائے اس کی نظر اپنے پہلو پر گئی بیڈ کا دوسرا حصہ کل رات کو عنایہ کے وجود سے آباد ہو چکا تھا۔۔۔۔ کل رات والا غصہ کہیں جا سویا اب وہ اپنے ہونٹوں پر مسکراہٹ لائے اپنے برابر میں اپنی سلیپنگ بیوٹی کو دیکھنے لگا جو ہمیشہ کی طرح دنیا جہاں سے بے نیاز ہوکر پورے بیڈ کو چھوڑ کر بیڈ کے آخری حصے میں ٹکی ہوئی تھی اگر نیند میں وہ دوسری سائیڈ کروٹ لیتی تو لازمی فرش پر پائی جاتی نمیر نے اس کی بنائی گئی کمزور دیوار (تکیہ) کو اپنے اور اس کے درمیان سے ہٹا کر آہستہ سے عنایہ کو کھینچ کر بیڈ پر لٹایا۔۔۔ عنایہ کا اوڑھا ہوا دوپٹہ بیڈ سے نیچے گرا ہوا تھا،، وہ غور سے عنایہ کا چہرہ دیکھنے لگا پھر اس کی نظر نائٹی میں عنایہ کے وجود پر گئی۔۔۔ کئی احساسات اس کے اندر جگے وہ اس کی بیوی تھی،، نمیر چاہتا تو اس سے اپنے جائز رشتے کا آغاز کر سکتا تھا مگر وہ عنایہ کو تھوڑا وقت دینا چاہتا تھا یہ وقت وہ اسے اس لیے دے رہا تھا تاکہ عنایہ اس وقت میں اپنے اور اس کے رشتے کے بارے میں سوچے اور عنایہ جب ہی ایسا سوچ سکتی تھی جب نمیر اس کے قریب آکر اسے سوچنے پر مجبور کرتا
“اٹھ جاو یار صبح ہوگئی۔۔۔ نمیر عنایہ کے سلکی بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا کہنے لگا جبکہ اسے معلوم تھا کہ صرف کہنے سے وہ ہرگز نہیں اٹھنے والی
نمیر نے اس کے چہرے پر جھک کر اس کے گالوں پر اپنے ہونٹ رکھے، جس پر عنایہ ماتھے پر ہلکی سی شکن لائے کسمسائی جیسے اسے اپنی نیند میں یہ مداخلت خاص پسند نہیں آئی ہو،، نمیر ہونٹوں پر مسکراہٹ لائے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھنے لگا یعنیٰ اس نے اپنی بیوی کو فرسٹ ٹائم کس کری مگر اس کی بیوی کو خبر بھی نہیں ہوئی،،، نمیر اس کی بے خبری پر افسوس کرتا ہوا عنایہ کا کندھا ہلانے لگا
“اٹھنا نہیں ہے کیا یار، بھوک لگ رہی ہے مجھے”
نمیر نے عنایہ کو ایک بار پھر جگانے کی کوشش کی جس پر عنایہ نے منہ بسورتے ہوئے آنکھیں کھولیں
“مجھے کھا جائے آپ،، معلوم نہیں کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ سونے ہی نہیں دیتے”
عنایہ کو نیند میں نہ اس بات کا ہوش تھا کہ اس وقت وہ صوفے پر نہیں بیڈ پر نمیر کے پاس موجود ہے،، نہ اپنے لباس کا ہوش تھا اور نہ ہی اسے یہ احساس تک کہ اس کی قائم کردہ دیوار اب نمیر اور اس کے بیچ میں موجود نہیں
“یہ بھی ٹھیک ہے آج تمہیں ٹیسٹ کرنے میں کیا حرج ہے”
نمیر نے جھک کر اس کی تھوڑی پر دانت سے دباؤ ڈالا ہی تھا عنایہ بدک کر پیچھے ہٹی،، نمیر اس کا بازو نہیں پکڑتا تو وہ فرش پر پڑی ہوتی
“یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔ میرا وہ مطلب تو نہیں تھا”
عنایہ اس کی حرکت پر اب پوری طرح بیدار ہوچکی تھی،،، نمیر کی حرکت پر حیرانگی کے چکر میں وہ اپنے لباس کو فراموش ہی کر بیٹھی
“میں نے تو تمہاری اجازت پر ہی ایسا کیا جاو چینج کر کے آؤ صبح صبح میرا دل بے ایمان ہو رہا ہے”
نمیر نے اس کے سراپے پر گہری نظر ڈال کر عنایہ کے لباس پر اس کی توجہ دلائی۔۔۔ عنایہ کی نظر اپنے حلیہ پر گئی۔۔۔ اس نے اپنی پنڈلیاں اور بازو چھپانے کی بجائے چہرے پر ہاتھ رکھ کر اپنا منہ چھپا لیا
“اف میرے خدا میرا دوپٹہ کہاں ہے جو میں آوڑھ کر سو رہی تھی”
عنایہ اپنا چہرہ چھپا کر گھبراتی ہوئی پوچھنے لگی جس پر نمیر کو ہنسی آئی
“کل رات کو تو کوئی لڑکی مجھ سے بڑے کونفیڈنس سے کہہ رہی تھی نہ وہ شرماتی ہے نہ ہی سیونٹیز کی ہیروئن کی طرح ری ایکٹ کرتی ہے”
نمیر مسکراتا ہوا مزے سے عنایہ کو یاد لانے لگا
“آپ کو معلوم نہیں آپ شوہر بننے کے بعد کتنے گندے ہوچکے ہیں،، میرا دوپٹہ ڈھونڈ کر مجھے دیجیے ورنہ میں آپ سے بات نہیں کروں گی”
وہ ابھی بھی اپنے ہاتھوں سے چہرہ چھپائے اسی کی برائی کرتی ہوئی نمیر کو دھمکی دینے لگی جس پر نمیر نے جھک کر بیڈ کے نیچے سے اس کا دوپٹہ اٹھایا
“تم شرمانے میں سیونٹیز کی ہیروئن کو بھی مات دے چکی ہو،،، سنو ابھی تمہاری اس گندے شوہر نے ایسا کچھ نہیں کیا جو تم اپنی چہرہ چھپانے پر مجبور ہوجاو۔۔۔ اب تمہاری شرم دے کر تو میں خود بھی سوچ میں پڑ گیا ہو کہ۔ ۔۔”
نمیر اس کے گرد دوپٹہ لپیٹا ہوا بات ادھوری چھوڑ کر خود کمرے سے باہر نکل گیا تاکہ وہ چہرے سے ہاتھ ہٹا کر چینج کرلے
نمیر کو ناشتہ دینے سے لے کر کالج جانے تک وہ سر جھکائے اپنا دوپٹہ بار بار صحیح کرتی رہی
****
نائلہ ظہر کی نماز کیلئے وضو کرنے جارہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔۔ شانزے کے کالج آنے میں ایک گھنٹہ تھا۔۔۔ کون ہو سکتا ہے نائلہ نے سوچتے ہوئے دروازہ کھولا سامنے نوفل کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“السلام علیکم آنٹی کیسی ہیں آپ”
نائلہ کو دیکھ کر نوفل نے اس کی خیریت دریافت کی
“وعلیکم السلام جیتے رہو اندر آؤ بیٹا”
نائلہ نے اسے راستہ دیتے ہوئے کہا
“بہت دنوں بعد چکر لگایا تم نے”
نائلہ نوفل کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“بس آج کل تھوڑی مصروفیت چل رہی ہے اس وجہ سے آنا نہیں ہو رہا۔۔۔۔ آپ بتائیں کوئی مسئلہ کوئی پریشانی تو نہیں ہے”
نوفل نائلہ سے پوچھنے لگا
“اللہ کا بہت بڑا کرم ہے بیٹا کوئی پریشانی نہیں اب تو۔۔۔ تم بتاؤ تمھارے دوست کی طبیعت کیسی ہے اب”
وہ نوفل کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“اس کی طبیعت میں کوئی خاص فرق نہیں آیا وہ ویسی ہی بےہوشی کی حالت میں ہے۔۔۔۔ آپ پلیز دعا کریں گا اس کے لیے”
نوفل نائلہ سے کہنے لگا
“انشاءاللہ اللہ بہتر کرے گا تم سناؤ تمہاری امی اور بھائی کیسے ہیں”
نائلہ نوفل سے پوچھنے لگی
“الحمدللہ وہ دونوں کی ٹھیک ہیں۔۔۔ آنٹی آپ نے کبھی اپنی بڑی بیٹی کا ذکر نہیں کیا میرا مطلب ہے شانزے کے منہ سے ان کا ذکر سنا تھا مگر وہ کبھی دکھی نہیں۔۔۔ اگر آپ نہیں بتانا چاہتی تو اٹس اوکے میں نے بس یونہی پوچھ لیا تھا”
نوفل کے دماغ میں جو سوال گلبلا رہا تھا وہ اچانک ہی نائلہ سے پوچھ بیٹھا مگر نائلہ کے ایک دم بدلتے تاثرات دیکھ کر اس کی مرضی کہہ کر بات ختم کردی
“ایک دردناک حادثہ اس کی زندگی میں رونما ہوا تھا۔۔۔ اس حادثے کی وجہ سے وہ ہم سے کافی دور چلی گئی اب ہمارے پاس موجود نہیں ہے فرحین”
نائلہ ناپ تول کر نوفل کو بتانے لگی مگر نوفل فرحین کے نام پر چونکا ساتھ ہی ایک چہرہ بھی اس کو یاد آیا
“فرحین۔۔۔ میرا مطلب ہے آپ کی بیٹی کا نام فرحین ہے”
نوفل کو سمجھ میں نہیں آیا وہ آگے کیا پوچھے نائلہ اٹھ کر کمرے میں موجود ڈیوائیڈر کے پاس گئی اور اس میں سے البم نکال کر لائی
“شانزے سے دس سال بڑی تھی یوں سمجھ لو شانزے کو اسی نے پالا ہے۔۔۔ خوش اخلاق جلد گھل مل جانے والی”
نائلہ البم نوفل کے سامنے رکھتے ہوئے سوچنے لگی آگے کیا بولے۔۔۔ نوفل نے البم کھولا۔۔۔ البم کھولتے ہی اس کی پہلی تصویر پر نظر پڑی اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی
“یہ۔ ۔۔ یہ آپ کی بیٹی میرا مطلب فرحین”
نوفل کی حالت غیر ہونے لگی وہ بہت مشکلوں سے اپنے تاثرات پر کنٹرول کر پایا نوفل کے جواب پر نائلہ نے اقرار میں سر ہلایا اور اپنے آنسو پونچھے۔۔۔ نوفل کو اب گھٹن کا احساس ہونے لگا وہ ایکدم کھڑا ہوگیا
“بیٹھو تمہارے لئے چائے لے کر آتی ہوں”
نائلہ نوفل کو دیکھ کر کھڑی ہو کر کہنے لگی
“چائے کی ضرورت نہیں ہے کام یاد آ گیا ہے پھر آؤں گا” نوفل بولتا ہوا نائلہ کا جواب سنے بغیر گھر سے نکل گیا
