370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 27)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

نہال شاور لے کر روم میں آیا وہ کل کی بانسبت آج اپنے آپ کو بہتر فیل کر رہا تھا صرف اسے رائٹ ہینڈ اٹھانے میں پرابلم ہو رہی تھی مگر اب وہ آرام سے چل پھر رہا تھا۔۔۔ وہ آفس بھی آنا چاہتا تھا مگر نمیر نے اسے ایک ہفتے کے لیے آرام کرنے کا کہا،، نوفل نے بھی نمیر کی تائید کی۔۔ صبح آفس پہنچ کر نمیر نے اسے کال کی اور شاور لینے سے پہلے نوفل نے کال کر کے اس کی طبیعت پوچھی۔۔۔ ثروت نے دوپہر کا کھانا اسی کے ساتھ اسی کے بیڈروم میں کھایا۔۔۔ اب وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹے لیٹے اکتا چکا تھا تبھی اس نے اپنے بیڈ روم کی کھڑکی کھولی

“عنایہ”

لان میں اسے عنایہ ٹہلتی ہوئی نظر آئی تو نہال کو اسے دیکھ کر حیرت ہوئی،، وہ اپنے کمرے سے نکل کر لان میں جانے لگا

****

آج صبح اس کے اور نمیر کے درمیان جو تلخ کلامی ہوئی عنایہ ایسا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ اس نے اپنی زندگی میں کسی کو چاہنے یا محبت کرنے کا سوچا نہیں تھا جب اس کے لئے نہال کا رشتہ آیا ہوں تب بھی وہ حیرت زدہ تھی۔۔۔ اس نے نہال کو لے کر کبھی ایسا نہیں سوچا تھا وہ دونوں تو ایک دوسرے سے مخاطب بھی نہ ہونے کے برابر ہوتے تھے مگر نہال سے منگنی کے بعد اس نے نہال کے بارے میں سوچنا شروع کیا

کیا تھی وہ۔۔۔ ایک عام سی لڑکی،،، ہر عام لڑکی کی طرح وہ بھی نہال کے ساتھ اپنی باقی کی زندگی گزارنے کا سوچنے لگی اسے لگا نہال سے اس کی شادی ہوگئی تو اس کی زندگی سہل ہوجائے گی ہر وقت کی نفرت اور حقارت بھری نظروں سے اس کی جان چھوٹ جائے گی مگر پھر کیا ہوا اس کے ساتھ۔۔۔ نہال کے ایکسیڈنٹ اور عشرت کے اس کو کوسنے پر عنایہ کو یقین ہوتا چلا گیا شاید عشرت ٹھیک کہتی ہے وہ تھی ہی منحوس۔۔ سب کی زندگی نگلنے والی

عنایہ اس رات بہت روئی،، جہاں اس نے فرمان کی زندگی کی دعا مانگی ساتھ اپنے لیے بھی موت کی دعا مانگی تھی مگر دوسری صبح، اس کے لیے ایک اور امتحان لے کر کھڑی تھی جب فرمان نے اسے اسپتال میں بلاکر نمیر سے شادی کا بتایا تو فرمان کی آنکھوں میں بےبسی اور لہجے میں التجا کو دیکھ کر وہ سر جھکا گئی مگر نمیر۔۔۔۔ وہ نہال کی جگہ اس کے چھوٹے بھائی کا تصور کیسے کر سکتی تھی بھلا اور وہ نمیر کے بارے میں کیسے سوچ سکتی تھی وہ اسے منال کے ساتھ دیکھتی آئی تھی جب اس کی نمیر سے شادی ہوگئی۔۔۔ اسے لگا نمیر بھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتا آخر کو وہ بھی تو منال سے پیار کرتا تھا اس نے بھی تو منال کے ساتھ خواب دیکھے ہوگے مگر نمیر کو اپنے سامنے ایک نئے روپ میں دیکھ کر وہ پریشان تھی۔۔۔ اس کا دل اور دماغ یہ سب کو قبول نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔

فرمان نے جب اسے نہال کے ہوش میں آنے کا بتایا تو وہ کتنی دیر تک فرمان کو خالی نظروں سے دیکھتی رہی،،، وہ نہال کا سامنا کیسے کرے گی اس کا ذہن پریشان تھا مگر آج صبح نمیر کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر اپنے اوپر اس کے ہاتھوں کا لمس محسوس کر کے وہ بری طرح پھٹ پڑی۔۔ ۔ اب نمیر اس سے ناراض تھا اسے نمیر کا ناراض ہونا بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ ان دو ماہ میں کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب نمیر نے اس کے ہاتھ کا بنا ہوا ناشتہ نہ کیا ہو اسے بھی نمیر کا ناشتہ بنانے کی عادت ہوگئی تھی۔ ۔۔

آج نمیر نہ ہی اس کے ہاتھ کا بنا ناشتہ کر کے گیا اور نہ ہی اس کے نکالے گئے کپڑے پہن کر آفس گیا تو عنایہ کو بالکل بھی اچھا محسوس نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ اس نے آج دوپہر میں خاص طور پر اپنے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا ڈرائیور کے ہاتھ نمیر کے لیے آفس بھیجا میسج میں سوری بھی لکھ کر بھیجا۔ ۔۔ مگر نمیر کا کوئی رپلائی نہیں آیا اس بات کو لے کر عنایہ کا دل کافی اداس تھا۔۔۔ وہ تو جیسے اپنے آپکو دو حصوں میں بٹا ہوا محسوس کر رہی تھی

“عنایہ”

ٹہلتے ٹہلتے وہ یہ سب باتیں سوچ رہی تھی تب اسے اپنے نام کی پکار سنائی دی۔۔۔ عنایہ نے مڑ کر دیکھا تو سامنے نہال کھڑا تھا وہ اسی وقت کا تو کل سے سوچ رہی تھی اور شاید ڈر بھی رہی تھی آخر کار وہ وقت آ ہی گیا

“کیسی ہو”

نہال جیسے توقع کر رہا تھا عنایہ اس کو دیکھ کر خوش ہوگی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا نہال کے پکارنے پر وہ گم سم سی اسے دیکھ رہی تھی تب نہال نے اس کی خیریت پوچھی

“ٹھیک۔ ۔۔۔ اور آپ۔۔۔ کیسے ہیں”

عنایہ ٹہر ٹہر کر پوچھنے لگی

“تمہارے سامنے ہوں دیکھ لو،، ماما کی دعائیں اور تمہاری محبت مجھے موت کے منہ سے کھینچ لائی”

نہال بشاش لہجے کے ساتھ بولا مگر عنایہ اس کی بات سن کر بہت مشکل سے مسکرائی

“محبت کا تو نہیں پتہ،، دعائیں تقدیر بدل سکتی ہیں۔۔۔ ثروت آنٹی واقعی بہت دعائیں کرتی تھیں آپ کے لیے”

عنایہ نے نہال کو دیکھ کر کہا۔۔۔ نہال نے اس کے لہجے میں اداسی واضح محسوس کی

“تم کب آئیں یہاں پر”

نہال بات تبدیل کرتا ہوا عنایہ سے اس کے آنے کے متعلق پوچھنے لگا

“کل ماموں اور مامی کے ساتھ آئی تھی”

عنایہ کو سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا جواب دے اس لیے سچ ہی بول دیا جس پر نہال کو بہت زیادہ حیرت ہوئی

“کیا تم کل سے یہاں پر موجود ہو،، نمیر یا ماما میں سے کسی نے مجھے بتایا بھی نہیں اور تم۔۔۔۔ تم میرے پاس کیوں نہیں آئی”

نہال حیرت سے عنایہ سے پوچھنے لگا مگر وہ نہال سے نظریں چرا کر چپ ہوگئی

“عنایہ کیا تم ناراض ہو مجھ سے”

نہال نے عنایہ کے نظریں چرانے پر اس سے سوال کیا۔۔۔ نہال کے ایکسیڈنٹ سے پہلے وہ جیسی تھی نہال کو اب ویسی نہیں لگی بجھی بجھی افسردہ سی۔۔۔۔ یوں بے معنی باتیں کرتی ہوئی۔۔۔۔ کچھ بدل گیا تھا۔۔۔۔ کیا بدلا تھا یہ نہال کو سمجھ میں نہیں آیا

“آپ سے ناراض نہیں ہوں شاید اپنے نصیب سے ناراض ہو”

عنایہ نے آنسوؤں کی نمی کو آنکھوں میں لائے بغیر اپنے اندر اتارنا چاہا جو کہ اس کے لیے تکلیف دے عمل تھا

“ایسے مت بولو عنایہ، میرا کومے میں جانا ہماری شادی کا ڈیلے ہونا یہ سب قسمت میں لکھا تھا ۔۔۔ میرے اور تمہارے درمیان وقت تھوڑی دیر کے لئے تھما تھا مگر کچھ بدلا تو نہیں ہے ناں۔۔۔ اب سب ٹھیک ہو جائے گا میرا یقین کرو”

نہال کو لگا عنایہ اس کے ایکسیڈنٹ اور شادی کے کینسل ہو جانے پر اداس ہے اس لیے وہ اس کا ہاتھ تھامتا ہوا اسے یقین دلانے لگا

عنایہ کا دل چاہا وہ چیخ کر نہال کو بتائے کچھ بھی اب ٹھیک نہیں ہوسکتا اتنے نمیر کار پارک کرتا ہوا لان میں نہال اور عنایہ کے پاس آیا۔۔۔ وہ ابھی اسی وقت آفس سے گھر آیا تھا۔۔ نمیر چلتا ہوا ان دونوں کے پاس آیا مگر اس کی نظر میں عنایہ کے ہاتھ پر تھی جو اس وقت نہال کے ہاتھ میں تھا۔۔۔ عنایہ کی نظر نمیر کی آنکھوں پر۔۔۔ عنایہ نے کھینچ کر نہال سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا مگر نہال نے اس کا ہاتھ تھامے رکھا شاید اتنے دن کی دوری ان دونوں کے درمیان آ گئی تھی اس لئے نہال کا دل نہیں چاہا کہ وہ عنایہ کا ہاتھ چھوڑے

“کب سے یہاں نہال کے ساتھ مصروف ہو میں تمہیں کافی دیر سے کال ملا رہا تھا”

نمیر نے قریب پہنچ کر عنایہ کو مخاطب کیا۔۔۔ وہ نمیر کے لہجے کی کاٹ اور طنز کو صاف محسوس کر سکتی تھی اب اسے نمیر سے ڈر لگنے لگا

“اسے چھوڑو تم مجھ سے بات کرو تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں یہ کل رات سے ہماری طرف رکی ہوئی ہے”

نہال بیچ میں مداخلت کرتا ہوا نمیر سے بولا

“تم بھی اسے چھوڑو اور جاکر روم میں اپنی میڈیسن لو ٹائم ہوگیا ہے”

نمیر نے نہال کو بولنے کے ساتھ ہی عنایہ کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑا کر خود پکڑا

“اووو تو اب تم ہمارے بیچ میں ولن کا رول پلے کرو گے” نہال مسکراتا ہوا نمیر سے بولنے لگا جس پر نمیر بھی استزائیہ ہنسا

“یہی سمجھ لو تمہاری اسٹوری کا ولن میں ہی ہو”

نمیر نے نہال کو بولنے کے ساتھ عنایہ کے ہاتھ پر اپنی گرفت سخت کردی۔۔۔ جتنی نزاکت سے نہال نے اس کا ہاتھ تھاما تھا اتنی ہی سختی اس وقت نمیر کے ہاتھ میں تھی۔۔۔ ۔ عنایہ خاموش کھڑی ان دونوں کو باتیں کرتا ہوا دیکھنے لگی

“میں تمہیں ولن ہرگز نہیں بننے دوگا۔۔۔ ماما سے ابھی جا کر کہتا ہوں وہ تمہارے لیے بھی جلدی کوئی لڑکی کا بندوبست کریں”

نہال نمیر کو کہتا ہوا ایک مسکراتی نظر عنایہ پر ڈال کر اندر چلا گیا۔۔۔ نہال کے جانے کے بعد نمیر نے مضبوطی سے عنایہ کا بازو پکڑا اور داخلی راستے کی بجائے پچھلے دروازے سے عنایہ کو اپنے بیڈروم میں لا کر بیڈ پر دھکا دیا۔۔۔ عنایہ اندھے منہ بیڈ پر گری۔۔۔ نمیر بیڈروم کا دروازہ لاکڈ کر کے عنایہ کے پاس آیا اور اسے اٹھا کر اپنے سامنے کھڑا کیا

“کیا سزا دو تمہارے ہاتھ کو اس وقت بولو”

نہال کا تھاما ہوا عنایہ کا ہاتھ نمیر موڑتا ہوا عنایہ سے پوچھنے لگا۔۔۔ ہاتھ کے موڑنے پر درد کی شدت سے عنایہ کے منہ سے چیخ نکل گئی

“پلیز نمیر چھوڑیے میرا ہاتھ مجھے درد ہو رہا ہے”

جب وہ عنایہ کا ہاتھ موڑتا ہوا کمر تک لے گیا تب عنایہ کراہتی ہوئی بولی۔۔۔ نمیر نے دوسرے ہاتھ سے عنایہ کا منہ دبوچا

“اس کمرے سے اگر تمہاری آواز باہر نکلی تو میں تمہارا گلا دبا دوں گا”

نمیر نے اسے غصے میں بولتا ہوا بیڈ پر دھکا دیا

“اگلی بار اگر میں نے تمہارا ہاتھ نہال کے ہاتھ میں دیکھا تو میں تمہارا ہاتھ کندھے سے الگ کر دوں گا”

نمیر بیڈ پر سسکتے ہوئے وجود کو دیکھ کر وارننگ دینے لگا۔۔۔آج صبح وہ اس کے چھونے پر کیسا ری ایکٹ کر رہی تھی۔۔۔۔ اور اب نہال کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے وہ مزے سے نہال سے باتیں کر رہی تھی یہ سوچ ہی نمیر کو جلانے لگی

“تو پھر بتا دیں ناں جاکر اپنے بھائی کو اصلیت۔۔۔ کہ میں آپ کے گھر کا ہی نہیں بلکہ آپ کے بیڈ روم کا بھی حصہ بن گئی ہو”

عنایہ بیڈ پر لیٹی روتی ہوئی بولی

“اس کو بھی بتاؤں گا مگر یہ بات تم خود بھی یاد رکھو تو زیادہ بہتر ہے”

نمیر عنایہ کو غصے میں بولتا ہوا وارڈروب سے اپنے کپڑے نکال کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔۔۔ آج صبح اسے عنایہ پر غصہ تھا مگر جب دوپہر میں عنایہ نے اس کو اپنے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا بھیجا تو نمیر کا غصی جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ ۔۔ وہ اس کی ناراضگی کا احساس کرتی تھی یعنی نمیر اس کے لئے اہمیت رکھتا تھا اور وہ اس کی زندگی میں کتنی اہمیت رکھتا تھا یہ نمیر کو جاننا ضروری ہوگیا تھا مگر کھانے کے بعد اسے ایک امپورٹنڈ میٹینگ اٹینڈ کرنا تھا اس لیے وہ عنایہ کو تھینک نہیں بول سکا۔۔۔ آفس سے گھر آتے ہوئے اس نے موبائل پر عنایہ کا سوری کا میسج دیکھا تو نمیر اسے کال ملانے لگا مگر عنایہ کال اٹینڈ نہیں کر رہی تھی نمیر گھر آکر اسے تھینکس کہنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔ مگر جو منظر نمیر نے دیکھا وہ اسے بڑی طرح جلا گیا

****

نہال کھانے کی ٹیبل پر آیا تو ثروت اور نمیر پہلے سے ہی موجود تھے جبکہ عنایہ ان دونوں کو کھانا سرو کر رہی تھی عنایہ کو اپنے گھر میں اس روپ میں دیکھ کر نہال اندر تک سرشار ہوا

“آئیز اتنی ریڈ کیوں ہو رہی ہیں تمہاری کیا ہوا”

نہال کرسی کھسکا کر بیٹھا تو اس نے عنایہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔۔ نمیر کے منہ میں جاتا ہوا نوالہ رک گیا اس نے نہال کو ایک نظر دیکھا اور پھر کھانا کھانے لگا۔۔۔ نمیر کو نہال کا عنایہ پر اتنا غوروفکر کرنے پر،، نمیر کا موڈ مزید خراب ہونے لگا

“پانی دو عنایہ”

عنایہ نہال کو نہ جانے کیا بولنے والی تھی بیچ میں نمیر نے عنایہ کو مخاطب کیا۔۔۔ جب کے پانی کا جگ نمیر کے بالکل پاس ہی رکھا تھا عنایہ گلاس لے کر نمیر کے پاس آئی اور الٹے ہاتھ سے جگ میں پانی انڈیلنے لگی۔۔۔ وہ ان دونوں کو الٹے ہاتھ سے ہی کھانا سرو کر رہی تھی نمیر اس بات کو نوٹ کر چکا تھا

“بیٹا سیدھے ہاتھ کو کیا ہوا تمہارے” اب کی بار ثروت نوٹ کرتی ہوئی پوچھنے لگی

“انٹی موو کرنے میں درد ہو رہا ہے”

عنایہ کرسی پر نمیر کے برابر میں بیٹھتی ہوئی نظریں جھکا کر بولنے لگی اس کی بات سن کر تینوں ہی عنایہ کو دیکھنے لگے

“تھوڑی دیر پہلے تو ٹھیک تھا اچانک کیا ہوا تمہارے ہاتھ کو” نہال فکرمندی سے پوچھنے لگا

“تم اس کی فکر چھوڑ دو نہال،، اب صرف اپنی فکر کیا کرو تم خود ابھی مکمل طور پر اسٹیبل نہیں ہوئے”

نمیر کی بات سن کر نہال چپ ہوگیا اسکو نمیر کا یہ انداز سمجھ میں نہیں آیا

“کیا ہوا ہے تمہارے ہاتھ کو دکھاؤ”

نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا مخاطب ہوا

“نمیر تم بھی چپ کرکے کھانا کھاؤ عنایہ بیٹا آپ میرے روم میں جاؤ میں آتی ہوں تھوڑی دیر میں”

ثروت کے کہنے پر عنایہ وہاں سے اٹھ کر اس کے روم میں چلی گئی

نمیر نے اس کا ہاتھ اتنی زور سے موڑا تھا کہ اسے ہاتھ کو حرکت دینے میں تکلیف ہو رہی تھی ابھی دوسرا دن تھا نہال کو ہوش میں آئے ہوئے مگر عنایہ کو اپنی مٹی پلید ہوتی نظر آرہی تھی

آج اسے اپنے ماموں جان کے فیصلے پر جی بھر کے رونا آرہا تھا اس سے پہلے وہ اپنی ذات پر ماتم کرتی،، کمرے کا دروازہ کھلا نمیر کمرے کے اندر آیا اس کے ہاتھ میں چاولوں سے بھری پلیٹ تھی۔۔۔ نمیر کو افسوس ہونے لگا اس کے ہاتھ موڑنے پر،، عنایہ کو درد ہو رہا ہوگا یہ سوچ کر نمیر سے خود بھی کھانا نہیں کھایا گیا عنایہ سے لاکھ شکوہ صحیح مگر وہ اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا

“کھانا لایا ہوں تمہارے لیے سیدھی ہو کر بیٹھو تم سے خود نہیں کھایا جائے گا میں کھلا دیتا ہوں”

نمیر لہجے میں نرمی لائے عنایہ کو بولنے لگا عنایہ سیدھی ہو کر بیٹھی نمیر بھی اس کے سامنے بیٹھا

اسی وقت دوبارہ دروازہ کھلا اور نہال بھی ہاتھ میں پلیٹ پکڑے اندر داخل ہوا وہ بھی عنایہ کی فکر کر کے اس کے لئے کھانا لایا تھا

“نمیر تم نے میرے پیچھے عنایہ کا بہت خیال رکھا اس بات کے لئے میں تمہارا تھنک فل ہو مگر اب میں ٹھیک ہوگیا ہوں”

کچھ تھا جو نہال کو کھٹک رہا تھا نہال سیریس ہوکر نمیر سے بولا جس پر نمیر اسے غور سے دیکھنے لگا اس سے پہلے وہ نہال کو کچھ کہتا کمرے کا دروازہ دوبارہ کھلا

“تم دونوں کو ہی اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے عنایہ میری بیٹی ہے اور اسے کھانا میں خود کھلا دو گی اپنے ہاتھوں سے۔۔۔ تم دونوں ہی اپنے کمرے میں جاؤ” ثروت کمرے میں داخل ہوتی ہوئی بولی اس کے پیچھے حمیدہ ٹرالی میں کھانا رکھے اندر داخل ہوئی نمیر نے شکایتی نظروں سے ثروت کو دیکھا اور کھانے کی پلیٹ وہی رکھ کر اپنے روم کی بجائے گھر سے باہر نکل گیا جبکہ نہال ایک نظر عنایہ پر ڈال کر اپنے روم میں چلا گیا۔۔۔ عنایہ آنکھوں میں آنسو بھرے ثروت کو دیکھنے لگی

“میں اس وقت تمہاری کیفیت کا اندازہ لگا سکتی ہو،، نہال کو فوری طور پر دھچکا دینا ٹھیک نہیں ہے اس لئے یہ بات میں نے نہال کو ابھی نہیں بتائی اور نمیر کو بھی منع کیا ہے مگر جس طرح کے حالات نظر آرہے ہیں،، میں نہال کو جلد سب سمجھا دوں گی تم پریشان مت ہو”

ثروت عنایہ کا ہاتھ تھام کر اسے تسلی دیتی ہوئی اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانے لگی

****

نمیر اپنے بیڈ روم میں آیا تو عنایہ صوفے کے بجائے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔۔۔۔ نمیر گاڑی کی کیز اور موبائل سائڈ پر رکھتا ہوا وارڈروب سے اپنے کپڑے نکال کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا

“آپ کیسا ہے تمہارے ہاتھ کا درد”

چینج کرنے کے بعد اب نمیر بیڈ کے پاس عنایہ کے سامنے کھڑا اس سے پوچھنے لگا

“خود ہی ٹھیک ہو جائے گا صبح تک” عنایہ لیٹی ہوئی بولی

“خود ہی کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوتا بگڑے ہوئے کام انسان کو خود سے ٹھیک کرنے پڑتے ہیں اٹھ کر بیٹھو”

نہ جانے وہ کون سے کام ٹھیک کرنے کی بات کر رہا تھا نمیر بیڈ پر بیٹھتا ہوا بولا

“کیا کریں گے آپ” عنایہ نے بیٹھتے ہوئے ڈر کر اس سے پوچھا

“تمہارا علاج”

بولنے کے ساتھ نمیر اس کے قریب آ کر بیٹھا۔۔۔ ۔ اب وہ عنایہ کا سیدھا ہاتھ دبانے لگا

“یہاں درد ہو رہا ہے”

عنایہ نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔ نمیر نے ہلکا سا دباؤ کہنی پر ڈالا تو عنایہ کی چیخ نکل گئی

“ہاتھ اوپر کرو شاباش”

نمیر عنایہ کو بچوں کی طرح بہلاتا ہوا کہنے لگا

“نہیں درد ہو رہا ہے”

عنایہ کو رونا آنے لگا۔۔۔ مگر نمیر کے آنکھیں دکھانے پر وہ آہستہ سے ہاتھ اٹھانے کی کوشش کرنے لگے نمبر نے اچانک اسکا ہاتھ پکڑ جھٹکے سے اونچا کیا اور دوسرا ہاتھ عنایہ کے چیخنے سے پہلے منہ پر رکھا

“اس گھر کی دیواریں سائنڈ پروف نہیں ہیں”

نمیر عنایہ کے کان میں کہتا ہوا بیڈ سے اٹھا

“موو کرو ہاتھ”

نمیر اس کو دوبارہ حکم دیتا ہوا بولا مگر اب کی بار ہاتھ اٹھانے پر عنایہ کو تکلیف نہیں ہوئی

“آپ اتنے ظالم ہو سکتے ہیں مجھے اندازہ نہیں تھا” عنایہ شکایتی انداز میں بولتی ہوئی بیڈ پر لیٹ گئی

“میری بھی تمہارے بارے میں کچھ ایسی ہی سوچ ہے” نمیر کمرے کی لائٹ بند کرتا ہوا بیڈ پر لیٹ کر بولا

****

صبح نمیر کی الارم سے آنکھ کھلی پہلے اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر عنایہ کو جگانا چاہا مگر کچھ سوچ کر اسے اٹھانے کا ارادہ ترک کیا اور واش روم چلا گیا ڈریس اپ ہوکر جب وہ آفس جانے کے لئے ریڈی ہوا تو ایک نظر عنایہ پر ڈالی جو ابھی بھی گہری نیند میں سو رہی تھی۔۔ اس کی نیند پر رشک کرتا ہوا وہ کمرے سے باہر نکلا۔۔۔ ثروت اور نہال پہلے سے ہی ٹیبل پر موجود تھے نہال بھی آفس کے لئے تیار تھا نمیر نے اسے کچھ نہیں کہا ناشتے کے دوران ان تینوں میں سے کسی نے عنایہ کا ذکر نہیں کیا۔۔۔۔۔ خاموشی سے ناشتہ کرکے نمیر اور نہال دونوں ہی آفس کے لیے نکل گئے جبکہ ثروت کل سے یہی سوچ رہی تھی کہ ساری حقیقت نہال کو کیسے بتائے