370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 30)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

صبح نمیر کی آنکھ کھلی تو اس کی نظر اپنے برابر میں خالی بستر پر پڑی آج پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ عنایہ نمیر سے پہلے ہی اٹھ گئی تھی پھر نمیر کو کل رات والا منظر یاد آیا ساتھ ہی ایک جاندار مسکراہٹ اس کے لبوں کو چھوگئی۔۔۔ نمیر اٹھ کر بیٹھا تو وارڈروب کے ہینڈل پر اس کے آفس کا ڈریس ہینگ تھا جو یقیناً عنایہ ہی ہینگ کر کے روم سے باہر نکلی ہوگی

“اوو تو اب مسسز اپنے شوہر کا سامنا نہیں کر پا رہی ہیں”

نمیر سوچتا ہوا مسکرانے لگا

****

“عنایہ بی بی آج تو آپ سویرے سویرے جاگ گئی”

عنایہ آج حمیدہ کے کچن میں آنے سے پہلے موجود تھی تبھی حمیدہ حیرت کرتی ہوئی بولی

“ہاں رات کو صحیح سے نیند نہیں آئی تھی،، اب نمیر کے جانے کے بعد ہی سو گی”

عنایہ نمیر کے لیے پراٹھا جبکہ ثروت اور اپنے لئے کارن فلیکس تیار کرنے لگی

“ہاں جی شادی کے بعد تو اکثر ہی ایسا ہوتا ہے”

حمیدہ ٹھنڈی آہ بھرتی ہوئی بولی جس پر عنایہ حمیدہ کو گھورنے لگی

“حمیدہ فضول باتیں کم کیا کرو،، جلدی سے چائے کا پانی رکھو”

عنایہ حمیدہ کو ڈپٹتے ہوئے بولی تو حمیدہ جلدی سے چائے کا پانی رکھنے لگی

کل رات نمیر کی بےباکی کے مظاہرے پر ایک بار پھر عنایہ کو شرم آنے لگی۔۔۔ اسے بھی کیا ضرورت تھی نمیر کے سامنے اتنا پٹر پٹر بولنے کی۔۔۔ وہ اپنے اوپر ملامت کر کے نمیر کا سوچنے لگی۔۔۔ ذرا لحاظ نہیں بے شرم کہیں کے۔۔۔ عنایہ دل ہی دل میں نمیر سے مخاطب ہوئی

“اف میں شرما کیوں رہی ہو مجھے تو نمیر کی حرکت پر غصہ آنا چاہیے۔۔۔۔ یا اللہ مجھے غصہ کیوں نہیں آرہا”

عنایہ گھبراتی ہوئی کچن میں چاروں طرف نظر دوڑانے لگی۔ ۔۔۔ کہیں کوئی اس کے اندر کا چور نہ پکڑ لے۔۔۔۔ ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی تبھی عنایہ کو نمیر کی آواز سنائی دی وہ یقیناً کمرے کے دروازے پر کھڑا اسے پکار رہا تھا

عنایہ اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی وہ تو شکر تھا آج صبح اس کی خود ہی آنکھ کھل گئی اور وہ نمیر کے اٹھنے سے پہلے ہی کمرے سے باہر نکل گئی مگر وہ یہ بھول گئی تھی نمیر اب صبح اس کو دیکھے بنا تو ناشتہ بھی نہیں کرتا تھا۔۔۔ اس لیے سست قدموں سے چلتی ہوئی روم کے اندر جانے لگی

“آپ نے بلایا”

نمیر اپنی شرٹ پہن رہا تھا تب عنایہ نے کمرے میں آکر سرجھکائے اس سے پوچھا

“ہاں یہاں آو اور جلدی سے میری ہیلپ کرو”

نمیر اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھتا ہوا بولا

“کیا۔۔۔ کیا ہلیپ کرنی ہے”

عنایہ اس کے قریب آکر جھجھکتی ہوئی پوچھنے لگی

“پہلے اپنی شکل تو دیکھاو،، یہ کیا نالائق اسٹوڈنس کی طرح سر جھکایا ہوا ہے”

نمیر نے باروعب لہجے میں بولتے ہوئے عنایہ کی تھوڑی پکڑ کر چہرہ اٹھایا

“بولیں کیا کرنا ہے” نمیر عنایہ کو دیکھنے لگا تو عنایہ نے اس کی نظروں سے کنفیوز ہو کر پوچھا

“ٹائی اٹھا کر لاو میری”

نمیر عنایہ کو کہتا ہوں کف کے بٹن لگانے لگا عنایہ نے بیڈ پر رکھی ہوئی ٹائی اٹھا کر نمیر کو دینی چاہیے

“مجھے کیا پکڑا رہی ہو جلدی سے باندھو اسے”

نمیر مگن انداز میں اپنے اوپر پرفیوم چھڑکتا ہوا عنایہ سے بولا

“کس کے آپ کے باندھنا ہے”

عنایہ بدحواس ہو کر بولی

“تو کیا اپنے باندھو گی ٹائی”

نمیر اس کو کنفیوز دیکھ کر پوچھنے لگا

“مگر مجھے تو ٹائی باندھنا آتی ہی نہیں ہے”

عنایہ اس کو دیکھ کر پریشان ہو کر بولی

“کیا تمہیں ٹائی باندھنی نہیں آتی”

نمیر نے جتنی حیرت سے اس سے سوال کیا وہ عنایہ کے شرمندہ ہونے کے لئے کافی تھا

“تو کیا میں کالج ٹائیز لگا کر جاتی تھی”

مگر عنایہ برا مانتی ہوئی بولی۔۔ جس پر نمیر مسکرایا

“یہاں آؤ میں تمہیں ٹائی باندھنا سکھاتا ہوں”

نمیر عنایہ کا ہاتھ پکڑ کر اسکو اپنے قریب کھڑا کرکے اس کا دوپٹہ بیڈ پر رکھنے لگا اور مہارت سے اسی کے گلے میں ٹائی باندھ کر اسے دکھانے لگا

“چلو شاباش اب تم میرے باندھو”

نمیر اس کے گلے سے ٹائی نکال کر اپنے گلے میں ڈالتا ہوا بولا۔۔۔ عنایہ جھجھکتی ہوئی ٹائی باندھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔ تب نمیر اپنے دونوں ہاتھ اسکی کمر پر رکھتا ہوا اسے اپنے سے قریب کرنے لگا

“آپ اس طرح کریں گے تو پھر میں کیسے باندھ پاو گی”

عنایہ شکایتی انداز میں اس کو دیکھ کر کہنے لگی

“اپنی توجہ اپنے کام پر رکھو میرے اوپر نہیں، باندھو جلدی سے”

نمیر روعب دار لہجے میں اس سے کہنے لگا۔۔۔ اسے بھی چن کر شوہر ملا تھا جو اسے تنگ کرنے کا موقع ہرگز ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔۔۔ عنایہ دوبارہ سے ٹائی باندھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔ مگر نمیر کی مسلسل اپنے اوپر اٹھنے والی نظروں سے وہ نروس ہونے لگی۔۔۔۔ نمیر کی نظریں اسے یہ احساس دلارہی تھی کہ وہ بغیر دوپٹے کے اسکے بےحد قریب کھڑی ہے

“نہیں مجھ سے نہیں باندھے گی یہ ٹائی۔۔۔ آپ خود باندھے اسے”

عنایہ نمیر کو کہنے کے ساتھ ہی اپنا دوپٹہ اٹھا کر روم سے جانے لگی۔۔۔ عنایہ کو معلوم تھا وہ جان بوجھ کر اسے پریشان کررہا ہے

“جب تک تم ٹائی نہیں باندھو گی،، اس کمرے سے باہر نہیں جاسکتی”

نمیر کی بات پر عنایہ کی رونے والی شکل ہوگئی

“مجھ سے نہیں باندھے گی نمیر،، آپ کوئی اور کام بول دیں”

عنایہ بیچارگی سے دیکھتی ہوئی کہنے لگی گویا کبھی کبھی وہ اسے بہت پریشان کرتا تھا تب عنایہ کا شدت سے دل چاہتا تھا کہ وہ اس کا گلہ ہی دبا دے

“ٹھیک ہے پھر یہاں آو”

نمیر کی بات سن کر وہ شکر ادا کرتی ہوں اس کے پاس کم از کم ٹائی باندھنے سے تو اسکی جان چھٹی۔۔۔ عنایہ کے قریب آنے پر نمیر نے دوبارہ عنایہ کی کمر پر اپنے ہاتھ رکھے

“کس می”

نمیر کے پہلے سے بھی زیادہ خطرناک کام پر۔۔۔ عنایہ نے پوری آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا جبکہ نمیر اسے بالکل نارمل انداز میں اپنا دوسرا کام بتا چکا تھا۔۔۔نہ جانے وہ کیوں اسے صبح صبح تنگ کر رہا تھا

“مجھے ناشتہ بنایا ہے”

عنایہ بولتی ہوئی اس کے ہاتھ اپنی کمر سے ہٹانے لگی مگر نمیر کے آگے اس کی زور آزمائی نہیں چلی

“کس کرو گی یا ٹائی باندھو گی جلدی بتاؤ”

نمیر اس کو مزید خود سے قریب کرتا ہوا پوچھنے لگا

“میں رات تک ٹائی باندھنے کی پریکٹس کر لوں گی۔۔۔ اگر کل صبہح نہیں باندھ سکی تو آپ کو کس کرو گی”

عنایہ ایک سانس میں تیزی سے بولی نمیر کے ہونٹوں پر ایک دم مسکراہٹ آئی

“اسمارٹ گرل۔۔۔۔ اگر کل صبح تم ٹائی نہیں باندھ سکی تو میں ایک کس پر تو ہر گزارا نہیں کروں گا”

نمیر معنی خیزی سے اس کو دیکھتا ہوا بولا اور عنایہ کو اپنی گرفت سے آزاد کیا عنایہ فوراً کمرے سے باہر نکل گئی

“یہ تم صبح صبح نمیر کے کمرے میں کیا کر رہی تھی” ابھی وہ اپنی سانس بھی بحال نہیں کر پائی تھی نہال اپنے کمرے سے نکل کر عنایہ کو دیکھتا ہوا بولا جس پر وہ گھبرا کر نہال کو دیکھنے لگی

“جج۔ ۔۔۔۔ جی مجھ سے نمیر کو کام تھا”

عنایہ ہکلاتی ہوئی بولی

“یہ نمیر تمہارے لئے نمیر بھائی سے نمیر کب ہوگیا”

نہال فوراً اس کا جملہ پکڑتا ہؤا بولا

“شاید جلدی جلدی میں منہ سے نکل گیا دھیان نہیں دیا میں نے”

عنایہ مزید گھبراتی ہوئی اسے وضاحت دینے لگی گی۔۔۔ وہ کہاں پھنس چکی تھی بےبسی سے سوچنے لگی

“دھیان تو واقعی اب لگتا ہے تمہارا مجھ پر نہیں رہا،،، مگر مجھے اب بھی تمہارا خیال ہے یہ بتاو ہاتھ کا درد کیسا ہے تمہارا”

نہال اس کو غور سے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا۔۔۔ نہال کو لگا جیسے عنایہ میں کچھ چینج آیا ہے مگر وہ سمجھنے سے قاصر تھا

“ہاتھ کا درد تو ٹھیک ہوگیا ہے چلیں آئے ناشتہ کر لیں” وہ نہال کی توجہ اپنے اوپر سے ہٹا کر ناشتے کی طرف لگاتی ہوئی بولی تو نہال ڈائننگ ٹیبل پر چلا آیا عنایہ بھی چیئر گھسکا کر بیٹھ گئی

“حمیدہ ماما کہاں ہے”

ناشتہ ٹیبل پر رکھتی ہوئی حمیدہ کو نہال نے مخاطب کیا

“جی وہ بیگم صاحبہ کہہ رہی تھی کہ تھوڑی دیر میں ناشتہ کریں گے ابھی وہ تھوڑا آرام کرنا چاہتی ہیں”

حمیدہ نے نہال کو ثروت کے بارے میں بتایا

“وہ بھئی یہ پراٹھا دیکھ کر تو میرا یہی کھانے کا موڈ ہو رہا ہے، عنایہ چائے نکالنا پلیز”

نہال اپنی پلیٹ میں پراٹھا نکالتا ہوا بولا اور عنایہ اس سے یہ بھی نہیں کہہ سکی یہ پراٹھا اس نے نمیر کے لئے، اس کے کہنے پر بنایا ہے خاموشی سے عنایہ نہال کے لئے چائے نکالنے لگی اس سے پہلے وہ دوسرا پراٹھا بنانے کے لئے اٹھتی تبھی نمیر اپنے روم کا دروازہ کھول کر باہر آیا

“کیا ہوا آفس کے لئے تیار ہوگئے،، رات کو تو تم کہہ رہے تھے کہ صبح لیٹ جاؤں گا”

نہال نے نمیر کو آفس کے لئے تیار دیکھا تو اس سے پوچھا

“ارادہ تو لیٹ جانے کا تھا مگر رات کو سونے سے پہلے تھکن اتر گئی نیند اچھی آئی اسی وجہ سے صبح آفس کے لئے تیار ہوگیا”

نمیر اپنے برابر میں بیٹھی عنایہ پر ایک نظر ڈال کر نہال کو بتانے لگا۔۔۔ نمیر کی بات سن کر عنایہ کی نظریں جھک گئی

“کیوں کیا رات میں کوئی انرجی ڈرنگ لے لی تھی”

نہال نمیر سے پوچھنے لگا تو عنایہ کرسی سے اٹھ کر کچن میں جانے لگی

“ہاں یہی سمجھ لو”

نمیر نے ٹیبل کے نیچے عنایہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔۔۔ اب نمیر دوسرے ہاتھ سے ہاٹ پاٹ کھول کر اپنا پراٹھا نکالنے لگا مگر ہاٹپاٹ خالی دیکر اس کی نظر نہال کی پلیٹ میں گئی،، دوسری سنجیدہ نظر اس نے عنایہ پر ڈالی،، وہی عنایہ نے نمیر کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچا

“کہاں ہے میرا پراٹھا”

نمیر عنایہ کو دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھنے لگا نہال جوکہ اپنے ناشتے میں مگن ہوچکا تھا چونک کر سر اٹھا کر نمیر کو دیکھنے لگا

“اوہو یہ پراٹھا تم نے اپنے لیے بنوایا تھا مجھے معلوم نہیں تھا تم چاہو تو یہ لے سکتے ہو”

نہال نے نمیر کو دیکھتے ہوئے کہا اسے نمیر کی طبیعت کا اندازہ تھا وہ اپنی چیزوں کے معاملے میں شروع سے ہی حساس تھا۔۔۔ نوفل اور نہال تو ایک دوسرے سے اپنے کپڑے اور دوسری چیزیں وغیرہ شیئر بھی کر لیتے مگر نمیر بچپن سے ہی اپنی چائے کا مگ تک کسی دوسرے کو نہیں دیتا تھا

“نہیں یہ تم ہی کھاؤ۔۔۔ جاؤ عنایہ پانچ منٹ کے اندر دوسرا پراٹھا بناؤ،، پانچ منٹ سے اوپر ایک منٹ بھی نہیں ہونا چاہیے”

نمیر نے نہال کی پلیٹ میں نظر ڈالی جس میں ادھا پراٹھا بچا ہوا تھا پھر وہ عنایہ کو دیکھ کر بولا۔۔۔ عنایہ نمیر کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر فوراً اٹھ کر کچن میں چلی گئی

“یہ کس انداز میں تم عنایہ سے بات کر رہے ہو”

نہال کو نمیر کا یوں ارڈر دینے والا انداز پسند نہیں آیا جبھی وہ نمیر کو ٹوکتا ہوا بولا

“تم میرے اور اس کے بیچ میں مت بولو اور چپ کر کے یہ پراٹھا کھاو”

نمیر اپنے غصے کو دبانے کے لیے پانی کا گلاس اٹھاتا ہوا بولا۔ ۔۔۔ وہ اتنے چھوٹے دل کا مالک ہرگز نہیں تھا کہ ایک پراٹھے پر اپنے بھائی سے بچوں کی طرح لڑنا شروع کردیتا۔۔۔ مگر یہاں بات عنایہ کے ہاتھ سے بنائی گئی چیز کی تھی جو اسکی بیوی نے خاص اس کے لیے بنائی تھی۔۔۔ اسلیے نہال کے پراٹھا کھانے پر نمیر کو جلن کا احساس ہونے لگا

“کیا مطلب ہے تمہاری بات کا،، اس کا اور تمہارا بیچ۔۔۔ نوکر ہے وہ تمہاری یا پیسے دے کر خریدہ ہے تم نے اسے۔۔۔ جو تم اس پر اپنا حق جتا رہے ہو”

نہال کو نمیر کی بات سن کر غصہ آیا

“حق صرف نوکر یا غلاموں پر نہیں جتایا جاتا نہال”

نمیر بولتا ہوا پانی کے گھونٹ بھرنے لگا

ان دونوں کے بیچ بحث شروع ہوگئی جس کی آواز عنایہ،،، کچن میں اچھی طرح سن سکتی تھی۔ ۔۔ ان دونوں کی غصے میں آوازیں سن کر عنایہ کے ہاتھ پاوں پھولنے لگے۔۔۔ وہ جلدی سے پراٹھا لے کر کچن سے باہر آنے لگی گھبراہٹ میں اس کا پاوں پھسلا،، پراٹھے کی پلیٹ سمیت وہ نیچے گری

ان دونوں کی توجہ عنایہ کی طرف مندمل ہوئی۔ ۔۔ نمیر اور نہال دونوں ہی اسکی طرف بڑھے۔۔۔۔ کیوکہ نہال سے عنایہ کا فاصلہ کم تھا اس لیے نہال نے عنایہ کو اٹھنے میں مدد دی

نمیر جو سامنے سے آتی عنایہ کو سلپ ہوتا دیکھ چکا تھا،، پانی کا گلاس ہاتھ میں تھامے تیزی سے اسکی طرف بڑھا مگر اس سے پہلے نہال عنایہ کو سہارا دے کر اٹھا چکا تھا۔۔ نمیر ان دونوں کو وہی دیکھ کر رک گیا

“لگی تو نہیں تمہیں”

نہال فکر مندی سے عنایہ سے پوچھنے لگا جبکہ عنایہ اپنے سامنے کھڑے نمیر کو دیکھنے لگی،،، وہ چہرے پر پتھریلے تاثرات لائے ان دونوں کو ناپسندیدہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس نے اپنے ہاتھ میں موجود گلاس پر گرفت مضبوط کی چھناکے کی آواز سے گلاس ٹوٹا نہال نے مڑ کر نمیر کو دیکھا،، وہ اپنا غصہ گلاس پر نکال کر قدم بڑھاتا ہوا نہال کے پاس آیا

“نہال تم اس سے دور رہا کرو”

نمیر نہال کو تنبہی کے انداز میں بولا

نہال حیرت سے نمیر کو دیکھنے لگا۔۔۔ نمیر کا رویہ اس کی سوچ سے بالاتر تھا۔۔۔ اب نمیر عنایہ کی طرف بڑھا

“دکھاؤ کہاں لگی” نمیر اپنا ایک ہاتھ عنایہ کے گال پر رکھتا ہوا دوسرے ہاتھ کے انگوٹھا عنایہ کی تھوڑی پر پھیرنے لگا،۔۔ سامنے بیٹھے ہونے کی وجہ سے اس نے عنایہ کی تھوڑی فرش پر لگتے دیکھی تھی۔۔۔ مگر نمیر اور عنایہ کا یہ منظر نہال نہیں دیکھ سکا اس نے نمیر کا بازو پکڑ کر جھٹکے سے اسے دور ہٹایا۔۔۔ نمیر کی توجہ عنایہ کی طرف ہونے کی وجہ سے وہ نہال کے دھکا دینے سے دو قدم پیچھے ہوا۔۔۔

اب نمیر آنکھوں میں ناگواری لئے نہال کو دیکھ رہا تھا دوسری طرف نہال کے بھی کچھ اسی طرح کے تاثرات تھے صرف ایک عنایہ تھی جس کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا اور وہ بالکل خاموش سہمی ہوئی کھڑی تھی

“اس سے دور رہنے کی مجھے نہیں تمہیں ضرورت ہے، یہ تمہاری ہونے والی بھابھی ہے”

نہال کوئی دقیانوسی سوچ کا مالک ہرگز نہیں تھا مگر نمیر کا یوں عنایہ کے چہرے کو چھونا اس کی اتنے قریب کھڑے رہنے پر نہال کو غصہ آگیا۔۔ جبھی وہ نمیر کو عنایہ سے رشتہ یاد دلاتے ہوئے بولا۔۔۔ شور کی آواز سن کر ثروت بھی اپنے کمرے سے نکل آئی اس نے دونوں بھائیوں کو روبرو کھڑے دیکھا تو معاملے کی سنگینی سمجھنے کی کوشش کرنے لگی

“نہیں نہال تم غلطی پر ہو اپنا جملہ درست کرو یہ میری نہیں تمہاری بھابھی ہے۔۔۔ سوری میں بھی غلط بول گیا۔۔ ہونے والی بھابھی نہیں بلکہ ہوچکی بھابھی”

نمیر نے نہال کو دیکھ کر جتنے آرام سے بولا نہال نے اس کا گریبان پکڑنے میں دیر نہیں لگائی

“نہال چھوڑو اسے” ثروت بیچ میں آکر بیچ بچاؤ کروانے لگی جبکہ عنایہ وہی آنکھوں میں آنسو لیے سہمی ہوئی تماشہ دیکھ رہی تھی۔۔۔ نمیر نے اپنے گریبان سے نہال کے ہاتھ جھٹکے

“سنا نہیں آپ نے، ابھی کیا بکواس کی ہے اس نے”

نہال چیخ کر ثروت کو کہنے لگا وہ ایسی طبعیت یا مزاج کا مالک نہیں تھا مگر نمیر کی بات سن کر اس کا خون کھول اٹھا

“نہال وہ صحیح کہہ رہا ہے دو ماہ پہلے نمیر کی عنایہ شادی ہو چکی ہے” ثروت ہمت جمع کرکے اسے سچائی بتانے لگی۔۔ نہال خاموشی سے شاک کی کیفیت میں ثروت کو دیکھنے لگا پھر اس نے دوسری نظر عنایہ کے روتے ہوئے چہرے پر ڈالی اس کے بعد وہ خاموش کھڑے نمیر کو دیکھنے لگا

“نہال میری بات سنو”

نمیر اسکی دلی کیفیت سمجھتا ہوا اس کے قریب آ کر بولا

“دور ہو جاؤ میری نظروں سے تم”

نہال اسے دھکا دیتا ہوا بولا نمیر خاموشی سے روتی ہوئی عنایہ کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے بیڈ روم میں پورے استحقاق کے ساتھ نہال کے سامنے لے گیا۔۔۔۔ وہ خالی نظروں سے نمیر اور عنایہ کو دیکھنے لگا اس کی آنکھیں ضبط سے سرخ ہونے لگی

“یہ کیا کر دیا آپ نے ماما میرے ساتھ” وہ اب آنکھوں میں نمی لیے ثروت کو دیکھتا ہوا پوچھ رہا تھا۔۔۔۔ نہال کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ثروت کو لگا جیسے اس کے سینے پر کسی نے بھاری سل رکھ دیا ہو

“نہال بیٹا اس وقت حالات ایسے تھے یہ سب کرنا پڑا”

ثروت میں نہال کو دیکھ کر سمجھ آتی ہوئی بولی

“کم ازکم آپ میرے مرنے کا انتظار تو کر لیتی”

نہال آنکھوں سے نمی پوچھتا ہوا ثروت سے کہنے لگا

“اللہ نہ کرے میری عمر بھی لگ جائے تمہیں۔۔۔ تحمل سے میری بات سنو میں تمہیں سب بتاتی ہوں”

ثروت اس کا چہرہ تھامے بولی نہال نے ثروت کے ہاتھ اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر ثروت کو روکا

“آپ مجھ سے میری خوشی چھین کر مجھے لمبی عمر کی دعا دے رہی ہیں۔۔۔ مجھے کچھ نہیں سننا،، اکیلا رہنا چاہتا ہوں پلیز مجھے ڈسٹرب مت کریئے گا”

نہال وہاں سے اپنے کمرے میں چلا گیا جبکہ ثروت اپنا سر تھامے وہی کرسی پر بیٹھ گئی