370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 26)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

ابھی وہ سونے کا سوچ ہی رہی تھی کہ بیڈروم کا دروازہ کھلا اور نمیر روم کے اندر آیا ایک نظر روم میں صوفے پر لیٹی ہوئی عنایہ پر ڈالی اور اپنے کپڑے لے کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا

نمیر چینج کر کے واپس آیا تو عنایہ کی پشت اس کی طرف تھی وہ اسے کچھ کہے بغیر روم کی لائٹ بند کرکے جا کر خود بیڈ پر لیٹ گیا اور ایل ای ڈی ان کرکے چینل بدلنے لگا

“اوہو تو میری نیند خراب کرنے کے لیے تیز آواز میں فلم دیکھی جارہی ہے مگر یہ شاید بھول چکے ہیں میں نیند کی کتنی پکی ہوں میرے کانوں کے پاس کوئی لاؤڈاسپیکر میں بھی بولے تو مجھے سونے میں کوئی مسئلہ نہیں”

عنایہ دل ہی دل میں مسکراتی ہوئی خود سے مخاطب ہوئی۔۔۔ وہ واقعی تھوڑی دیر میں سو جاتی اگر ایل ای ڈی میں سے بادل گرجنے،، جناتی قہقہوں کے ساتھ رونے کی آوازیں نہیں آتی۔۔۔ عنایہ کا ذہن اب اسکرین کی طرف چلتی ہوئی مووی کی طرف چلا گیا

نمیر شاید کوئی ہارر مووی دیکھ رہا تھا ڈراہونے میوزک کے ساتھ ساتھ بجلی کٹرکنے جانورں کی آوازیں اور بچے کے رونے کی آوازوں سے عنایہ کو اب صوفے پر لیٹے لیٹے خوف آنے لگا

“کیوں ڈسٹرب کر رہے ہیں آپ،، بند کریں نہ یہ مووی” عنایہ نے صوفے سے اٹھ کر نمیر سے کو دیکھتے ہوئے کہا

“اوکے مائی ڈیئر وائف”

عنایہ کو حیرت ہوئی اس نے بڑی تابعداری سے ایک دفعہ ریموٹ اٹھا کر سوئچ آف کر دیا اور خود بھی سونے کے لئے لیٹ گیا۔۔۔ عنایہ کو لگا اب اسے آرام سے نیند آجائے گی مگر اسے محسوس ہوا جیسے نمیر بیڈ سے اٹھا ہے عنایہ نے آنکھیں کھول کر دیکھا

“کیا ہوا، کیا دیکھ رہے ہیں”

عنایہ نے اسے روم کی کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے دیکھا تو تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر پوچھنے لگی

“کچھ نہیں مجھے ایسا لگا جیسے یہاں کھڑکی میں کوئی کھڑا اندر جھانک رہا ہو۔۔۔ وہم ہوگا میرا کوئی نہیں ہے، اب تمہارا نام سے سو جاؤ”

نمیر نے نارمل انداز میں عنایہ کو جواب دیا اور خود بیڈ پر جا کر لیٹ گیا مگر اب بھلا عنایہ آرام سے کیسے سو سکتی تھی

“سنیے”

عنایہ صوفے سے اٹھ کر بیٹھی اور نمیر کو پکارا

“سنائیے”

نمیر نے اسی کے انداز میں پوچھا

“وہ میں کہنا چاہ رہی تھی کہ ایک دفعہ آپ کمرے سے نکل کر پورے گھر کا چکر لگا لیں ذرا تسلی ہو جائے گی” عنایہ نے عاجزانہ انداز اختیار کر نمیر سے گزارش کی

“اور میرے کمرے سے نکل کر جانے کے بعد کوئی کمرے میں آگیا تو”

نمیر نے بیڈ پر لیٹے لیٹے عنایہ کو بغیر دیکھے بغیر کہا

“اللہ نہ کرے کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ”

نمیر کے بولنے پر وہ پوری جان سے لرز گئی اور اب بےبسی کی انتہا یہ تھی اسے نیند آ رہی تھی مگر خوف کے مارے وہ سو نہیں پا رہی تھی

“تھوڑی سی بہادر بنو یار۔۔۔ تم تو ایسے ڈر رہی ہو جیسے کوئی بد روح ابھی صوفے کے نیچے سے نکل کر آ جائے گی اور تمہیں اپنے قابو میں کر لے گی”

نمیر کے بولنے کی دیر تھی عنایہ صوفے سے چھلانگ لگا کر دوڑتی ہوئی بیڈ پر آئی

“کیوں کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ ایسا،، رحم نہیں آتا آپ کو مجھ پر،، آپ کو اندازہ ہے ناں میں ایک وقت بھوک برداشت کرسکتی ہوں مگر نیند نہیں”

عنایہ نے نمیر کے سینے میں منہ چھپا کر رونا شروع کردیا

“تم تو بڑا رحم کھاتی ہو مجھ پر،، بڑا ترس آتا ہے اپنے شوہر پر۔۔۔ اب رونا بند کرو میری بیوی ہو تم،، اپنے علاوہ کسی دوسرے کو تمہارے پاس بھٹکنے نہیں دوں گا”

عنایہ کا سر اس وقت نمیر کے سینے پر تھا جبکہ نمیر نے ایک ہاتھ عنایہ کی کمر کے گرد لپیٹا ہوا تھا اور اپنے دوسرے ہاتھ سے عنایہ کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا

“نمیر مجھے نیند آرہی ہے اس وقت میں سونا چاہتی ہوں”

عنایہ کی آواز واقعی نیند میں ڈوبی ہوئی تھی

“تو روکا کس نے ہے میری جان سو جاؤ۔۔۔ میں پوری کوشش کروں گا تمہاری نیند خراب نہ ہو”

نمیر نے عنایہ کا ہاتھ اپنے سینے سے ہٹا کر اپنے گرد لپیٹتے ہوئے کہا

چند منٹ بعد نمیر کو محسوس ہوا عنایہ گہری نیند میں جا چکی ہے۔۔۔ وہ اس کے سینے پر سر رکھ کے سو چکی تھی نمیر کا دایاں ہاتھ جو آدھا عنایہ کے نیچے دبا ہوا تھا وہ سن ہوچکا نمیر نے بائیں ہاتھ سے اپنے تکیے کے بالکل قریب دوسرا تکیہ رکھا اب وہ عنایہ کو اس تکیہ پر لٹانے لگا

تکیہ پر عنایہ کا سر رکھنے کے بعد اب وہ جھک کر عنایہ کا چہرہ دیکھنے لگا سوتے ہوئے وہ اسے کوئی ڈری سہمی بچی لگ رہی تھی۔۔۔ نمیر نے عنایہ کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے۔۔۔ نمیر اپنی جگہ پر لیٹنے لگا تو اسے اپنی ٹی شرٹ پر کچھاو محسوس ہوا۔ ۔۔ نمیر نے جھک کر اپنی سینے پر دیکھا تو مسکراہٹ اس کے لبوں کو چھو گئی۔۔ عنایہ نے سوتے میں اس کی شرٹ پکڑی ہوئی تھی شاید وہ بری طرح ڈر گئی تھی

نمیر نے اس کے ہاتھ سے اپنی شرٹ نکالی اور عنایہ کا ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھا،، اب وہ اپنے سینے پر عنایہ کا ہاتھ رکھ کر خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگا

****

“عنایہ۔۔۔ عنایہ میری جان کبھی تو ایک ہی آواز میں جاگ جایا کرو”

صبح نمیر کی آنکھ کھلی تو معمول کے مطابق وہ عنایہ کا کندھا ہلاتا ہوا اسے جگانے لگا مگر وہ بھی معمول کی طرح نمیر کے ایک دفعہ جگانے میں ٹس سے مس نہیں ہوئی

“یار یہ تو جگانے کا طریقہ ہی فضول ہے”

نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا سوچنے لگا اور عنایہ کے چہرے پر سے بالوں کی لٹوں کے پیچھے کرنے لگا اب وہ اپنی انگلیاں اس کے چہرے پر پھیرتا ہوا گردن تک لایا عنایہ کے چہرے کے تاثرات نیند میں تبدیل ہوئے وہ اپنی بھنویں سکھڑنے لگی جیسے آنکھیں کھولنے کی کوشش میں لگی ہو اس سے پہلے نمیر کا ہاتھ گردن سے مزید نیچے جاتا عنایہ نے آنکھیں کھول کر اس کا ہاتھ پکڑا

“کیا کر رہے تھے آپ”

عنایہ فوراً اٹھ کر بیٹھی اور نمیر کو غصے میں دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی

“تجربہ کامیاب ہوا۔۔۔ تمہیں جگانے کا نیا طریقہ ڈھونڈا ہے جوکہ کارآمد بھی ہے”

نمیر بیڈ پر لیٹا ہوا عنایہ کو دیکھ کر بولا

“بس کر دیں آپ،، کوئی اس طرح اپنے درمیان رشتے کا احساس دلاتا ہے،،، زبردستی دوسرے کے اوپر مسلط ہوکر اس پر جبری حق استعمال کر کے”

عنایہ جو پرسوں سے بھری بیٹھی تھی اچانک اس وقت پھٹ پڑی

“شٹ آپ،، بکواس بند کرو اپنی،، کون سا جبر کیا ہے میں نے اس وقت تم پر،، اگر مجھے زبردستی حق وصول نہ ہوتا تو کل رات تم خود میری بانہوں میں آئی تھی،، خوفزدہ اور بے بس تھی آرام سے تمہاری بے بسی کا فائدہ کل رات بھی اٹھا سکتا تھا اور ابھی بھی اٹھا سکتا ہوں،، کیا کر لو گی تم جواب دو” نمیر عنایہ کی بات پر غصے میں آٹھ بیٹھا اور اب غصے میں اس کو دیکھنے لگا

“اپنے اور تمہارے درمیان موجود رشتے کا احساس میں جب تک تمہیں دلاؤں گا جب تک تمہارے دل اور دماغ میں وہ نام کھرچ نہ دو جس کی وجہ سے تمہیں اپنے اور میرے رشتے کا احساس ہی نہیں ہے اور نہ ہی اس رشتے کی قدر ہے لیکن اب تم مجھ سے کبھی پیار یا نرمی کی توقع مت کرنا۔۔۔ ایک بات میری کان کھول کر سن لو اس رشتے میں اب چاہے تمہاری دلچسپی ہو یا نہیں تمہیں کسی دوسرے کے لئے تو میں ہرگز نہیں چھوڑنے والا”

نمیر غصے میں عنایہ کو بولتا ہوا کمرے سے چلا گیا

عنایہ کے دل کو اچانک کچھ ہوا اس کا دل چاہا وہ جائے اور نمیر کو سوری بولے غصے میں شاید وہ ہی اوور ری ایکٹ کر گئی تھی وہ شوہر تھا اس کا،،، عنایہ سوچ میں پڑ گئی مگر پھر وہی انا آڑے آگئی سستی سے اٹھ کر راوڈوب سے نمیر کے کپڑے نکالنے لگی اسکے بعد اسے نمیر کے لیے ناشتہ بنانا تھا

مگر اسے اپنی غلطی کا احساس جب ہوا جب نمیر نہ ہی اس کے نکالے ہوئے کپڑے پہن کر آفس گیا اور نہ ہی اس کے ہاتھ کا بنا ناشتہ کرکے

****

دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی تو شانزے دروازے کھولنے گئی۔۔۔ سامنے نوفل کو کھڑا پایا ایک پل کے لئے وہ ٹھہر گئی، وہ شانزے کو دیکھتا ہوا مسکرا رہا تھا

“امی گھر پر نہیں ہیں”

شانزے دروازہ بند کرنے لگی تبھی نوفل نے دونوں ہاتھوں سے دروازہ کھولا اور گھر کے اندر داخل ہوا

“میں امی کے ساتھ ساتھ امی کی بیٹی سے بھی ملنے آیا ہوں”

نوفل گھر کا دروازہ بند کرتا ہوا شانزے کے پاس آیا

“مگر امی کی بیٹی تم سے ملنا نہیں چاہتی”

شانزے اپنے کمرے میں جانے لگی تبھی نوفل نے اس کا ہاتھ پکڑا

“تو کیا اب امی کی بیٹی مجھے معاف بھی نہیں کرے گی”

نوفل سنجیدگی سے اس کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“کس کس بات کی معافی چاہیے تمہیں”

شانزے نوفل کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے پوچھنے لگی

“میرے جس جس عمل سے یا بات سے تمہارا دل دکھا ہے”

نوفل بھی سنجیدگی سے اسے دیکھتا ہوا کہنے لگا

“آئندہ کبھی چھوڑنے یا دور جانے کی بات کرو گے”

شانزے اس کو غور سے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی تو نوفل نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لئے

“نہ ہی کبھی تمہیں چھوڑ سکتا ہوں اور نہ ہی دور جا سکتا ہوں اور نہ ہی کبھی تم کو خود سے دور جانے دوں گا”

نوفل اس کے دونوں ہاتھ تھامتا ہوا اسے یقین دہانی کرانے لگا

“ابو جمشید سے میرا تین دن بعد نکاح پڑھانے والے ہیں”

شانزے نے نوفل کو بتایا۔۔ شانزے کی بات سن کر نوفل کے چہرے کے نرم تاثرات میں ایک دم سختی آئی

“وہی کل والا موچھڑ”

نوفل کے تصدیق کرنے پر شانزے نے سر ہلا کر تاکید کی

“نوفل وہ لوگ اس گھر کی لالچ میں نکاح کرنا چاہ رہے ہیں اور میں اس نکاح کی بجائے خودکشی کو ترجیح دوں گی”

شانزے نے کسی ڈر کے احساس سے بولا

“شش میری ایک بات یاد رکھنا تمہیں کوئی بھی شخص مجھ سے چھین نہیں سکتا۔۔۔ نہ تمہارے ابو، نہ تمھارے تایا اور نہ ہی وہ موچھڑ اور اس اُلو کے پٹھے کو تو میں ایسا مزہ چکھاؤں گا، شادی اور لڑکی دونوں کے ہی ارمان اس کے دل اور دماغ سے نکل جائیں گے”

نوفل نے جتنی سنجیدگی سے اپنی بات مکمل کی اس کی بات سن کر شانزے کو ہنسی آگئی۔۔۔ کتنے دن بعد اسے اپنے دل اور دماغ سے کوئی بوجھ اترتا ہوا محسوس ہوا تھا

“تمہیں معلوم ہے تم ظالم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت حسین بھی ہو”

نوفل شانزے کو کھکھلا کر ہنستا ہوا دیکھر کر اسے کمر سے پکڑ کر اپنے ہونٹ قریب لاتا ہوا بولا

“اوئے زرا تمیز سے،، اس وقت پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے” شانزے نے اسے دھکا دیتے ہوئے کہا تو نوفل کا اچھا خاصا موڈ خراب ہوگیا

“تو پھر میرے پھیلنے کا وقت مقرر کر دو تاکہ میرے موڈ کا ستیاناس نہ ہوسکے”

نوفل برا مانتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ مگر شانزے اسکی بات کا جواب دئیے بغیر اسے شک بھری نظروں سے گھورنے لگی

“کیا ہوا تم ایسے کیوں دیکھ رہی ہوں”

نوفل اس کی نظروں سے کنفیوز ہوتا ہوا پوچھنے لگا

“تم نے یقیناً سنعیہ ماریہ اور علیشبا کو بھی کس کرنے کی کوشش کی ہوگی”

شانزے غور سے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتی ہوئی بولی نوفل شانزے کی بات سن کر چونکا شانزے نے مزید آنکھیں بڑی کر کے اسے گھورا

“توبہ توبہ کیسی گندی گندی باتیں کر رہی ہو تم۔۔۔ تمہیں میں اتنا گھٹیا لگتا ہوں”

نوفل اب حیرت سے اپنے کان پکڑتے ہوئے شانزے کو دیکھ کر کہنے لگا

“گھٹیا تو تم ہو اس میں رتی برابر شک نہیں۔۔۔ امی آنے والی ہیں ان کے آنے سے پہلے جلدی سے میرے سوال کا جواب دو،،، جیسے تم نے آج مجھے کس کرنے کی کوشش کی ویسے ہی تم نے ان لڑکیوں کو بھی کی کس کرنے کی کوشش کری ہوگی۔۔۔ تم نے کس کری تھی انہیں یا نہیں”

شانزے اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر اس کے قریب آتی ہوئی بولی تو نوفل اس کے غضب ناک تیور دے کر پیچھے ہوتا ہوا کرسی پر جا بیٹھا

“یار کیسی باتیں کر رہی ہو تم،، اس وقت میرے اسکول جانے کی عمر تھی اور میں ایک معصوم بچہ تھا اتنی چھوٹی عمر میں کسی لڑکی کو کس کرونگا۔۔ کتنا گھٹیا سمجھا ہوا ہے تم نے مجھے”

نوفل شانزے کو صفائی دیتے ہوئے کہنے لگا

“معصوم تو تم اپنی پیدائش کے وقت بھی نہیں رہے ہوں گے اتنا تو مجھے یقین ہے۔۔ سنعیہ ماریہ کے وقت تم اسکول لائف میں تھے مگر علیشباہ تمہاری یونیورسٹی فیلو تھی تم نے خود مجھے کل بتایا تھا۔۔ یعنی تم نے اس کو کس کری ہوگی”

شانزے غصے میں کرسی کے قریب آکر نوفل کو گھورتی ہوئی کہنے لگی

“نہیں کری”

نوفل بھی جیسے اسے آنکھیں دکھا کر مکرتے ہوئے کہنے لگا

“تم جھوٹ بول رہے ہو تم نے اس کو کس کی تھی”

شانزے اپنی بات پر اڑی رہی اور غصے میں دانت پیستے ہوئے بولی

“تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ میں نے کس کر رہی تھی،، کیا تم اس وقت وہاں موجود تھی جب میں اسے کس کر رہا تھا”

نوفل نے اپنے دفاع میں پوائنٹ اٹھاتے ہوئے کہا

“اس لئے کہہ سکتی ہوں کیونکہ اس وقت تمہارا لہجہ صاف چغلی کھا رہا ہے مطلب صاف ہے تم نے اس کو کس کی تھی”

شانزے اپنی بات پر زور دیتی ہوئی بولی اور غصے میں مڑنے لگی تو نوفل کرسی سے اٹھا اور شانزے کا بازو پکڑ کر اسے کھینچا

“میں نے اسے کس نہیں کر رہی تھی لیکن تم نے اب کی بار دوبارہ بولا تو میں تمہیں کس ضرور کروں گا” نوفل اس کے ہونٹوں کو دیکھتا ہوا بولا

“اور تم ایسا کرو گے تو میں تمہارا سر پھاڑ دوگی”

شانزے اسے ڈرے بغیر بولی اور نوفل اس کی دھمکی پر مسکرانے لگا

“اور شادی والے دن کیا کروگی”

نوفل کی بات سن کر شانزے کا چہرہ سرخ ہوا مگر دروازے پر دستک ہوئی یقیناً نائلہ آ چکی تھی شانزے دروازہ کھولنے جانے لگی

“جب تک تم مجھے سچ نہیں بتاؤ گے میں تم سے شادی نہیں کروں گی” شانزے اس کو دھمکی دیتی ہوئی دروازہ کھولنے چلی گئی تو نوفل اسکی بات سن کر مسکرا دیا