Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 37)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 37)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
صبح دروازے پر دستک کی آواز سے نمیر کی آنکھ کھلی۔۔۔ اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا تو صبح کے 10 بج رہے تھے عموماً وہ صبح اتنی دیر تک سوتا نہیں تھا مگر کل رات کافی دیر سے سونا ہوا۔۔۔ عنایہ بھی برابر میں لیٹی ہوئی کمفرٹر منہ پر ڈالے ابھی تک سو رہی تھی۔۔ ۔ نمیر اپنے اوپر سے کمفرٹر ہٹاتا ہوا بیڈ سے اٹھا اور روم کا دروازہ کھولا
“خیریت”
اپنے سامنے حمیدہ کو کھڑا دیکھ کر نمیر نے پوچھا
“بڑی بیگم صاحبہ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے کافی دیر سے اٹھا رہی ہوں وہ اٹھ نہیں رہی۔۔۔ نہال صاحب بھی اپنے کمرے کا دروازہ نہیں کھول رہے ہیں شاید ابھی تک سو رہے ہیں”
نمیر حمیدہ کی بات سن کر ثروت کے کمرے میں پہنچا۔۔۔
ثروت کو ایک دو بار پکارنے کے بعد وہ ثروت کی نبض چیک کرنے لگا
“بیگم صاحبہ ٹھیک تو ہیں”
حمیدہ بیڈ کے پاس کھڑی نمیر سے پوچھنے لگی
“ہاں۔۔۔ بی پی کافی ہائی ہوگیا ہے۔۔۔ یہ سیکنڈ ڈراز سے ماما کی دوا نکالو۔۔۔ اور جاکر ڈرائیور سے کہو کہ گاڑی نکالے”
نمیر حمیدہ سے دوا کی شیشی لینے کے بعد ثروت کو سہارا دے کر اٹھانے لگا۔۔۔۔ ثروت کا بی پی بڑھ جاتا یا شوگر لیول کم ہوجاتا تو اکثر ایسے ہی طبیعت بگڑ جاتی تھی
****
“ہیلو نمیر کیسی طبیعت آنٹی کی آپ نے مجھے جگایا کیوں نہیں”
نمیر کے ہسپتال جانے کے ایک گھنٹے بعد عنایہ کی آنکھ کھلی۔۔۔ حمیدہ سے اسے ثروت کی طعبیت کے بارے میں معلوم ہوا تبھی وہ کارلیس اٹھا کر نمیر کا نمبر ملاتی ہوئی ثروت کے بارے میں پوچھنے لگی
“ماما کا بی پی کافی ہائی ہوگیا تھا مگر اب خطرے والی بات نہیں ہے کنٹرول ہوگیا ہے۔۔۔۔ شوگر لیول کافی کم ہوگیا ہے اسی وجہ سے ڈاکٹر نے ایڈمٹ کرلیا ہے۔۔۔ اور تمہیں اس لیے نہیں جگایا کیوکہ کل رات کو تم بھی کافی لیٹ سوئی تھی”
نمیر ثروت پر نظر ڈالتا ہوا آہستہ آواز میں عنایہ کو بتانے لگا تاکہ اس کی آواز سے ثروت ڈسٹرب نہ ہو
“آپ نے ناشتہ کیا۔۔۔ کیسے کرسکتے ہیں بھلا میں تھوڑی دیر میں ڈرائیور کے ساتھ پہنچتی ہو وہاں پر”
عنایہ کو اب ثروت کے ساتھ ساتھ نمیر کی بھی فکر ہونے لگی کل رات کو بھی شاید وہ عنایہ کا ساتھ دینے کے لئے کھا رہا تھا اور ویسے بھی اب وہ گھر میں اکیلی رہ کر کیا کرتی اس لیے اس نے نمیر کو اپنا پروگرام بتایا
“نہیں تمہیں یہاں آنے کی ضرورت نہیں ہے،، میری فکر نہیں کرو یہی کینٹین سے کچھ لے لوں گا ویسے بھی ماما کو شام تک میں خود لے کر گھر آ جاؤں گا۔۔۔ اب جاکر تم بھی بریک فاسٹ کرو”
نمیر کو یوں عنایہ کا ثروت اور اس کی فکر کرنا بہت اچھا لگا
“نمیر کیا آپ کل ہی اسلام آباد کے لیے نکل جائیں گے”
عنایہ کی رات کو نمیر سے بات نہیں ہو سکی تھی وہ معلوم نہیں کب رات کو روم میں آیا۔۔۔ اس کا انتیظار کرتے عنایہ کی آنکھ کب لگ گئی عنایہ کو احساس نہیں ہوا اس لیے وہ فون پر ہی اس سے پوچھنے لگی۔۔۔ عنایہ کی بات سن کر شرارت بھری مسکراہٹ نمیر کے ہونٹوں پر رینگی
“ہاں یار جانا تو پڑے گا نا بلکہ دو دن تو نہال کم کہہ رہا تھا شاید پورا ہفتہ لگ جائے۔۔۔ تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ایک ہفتہ کیسے گزرے گا تمہیں معلوم بھی نہیں ہوگا”
نمیر اپنے لہجے میں سنجیدگی لاتا ہوا عنایہ کو پریشان کرنے لگا
“کیسی بات کر رہے ہیں آپ، یہاں تو مجھ سے ایک گھنٹہ نہیں گزر رہا اور آپ ایک ہفتے کی بات کر رہے ہیں۔۔۔ آپ نہال بھائی کو کہہ دیں وہ چلے جائیں گے آپ کو کوئی ضرورت نہیں ہے جانے کی”
عنایہ سچ مچ پریشان ہونے لگی
“چندا اس کی پرابلم تم جانتی تو ہو،، سفر کیسے کر سکتا ہے ابھی اس کی کنڈیشن پوری طرح اسٹیبل نہیں خیر جانا تو مجھے ہی پڑے گا”
عنایہ کی بات سن کر نمیر کا مزید اسے تنگ کرنے کا ارادہ ہوا
“تو کوئی اور حل نکالیں اس مسئلے کا آپ اپنے مینیجر کو بھیج دیں”
عنایہ اب نمیر کو مشورہ دینے لگی
“ویسے میرے پاس ایک اور آئیڈیا بھی ہے کیوں نہ میں تمہیں اپنے ساتھ اسلام آباد لے جاؤ اور وہاں سے ہم مری کے لیے نکل جائیں۔۔۔ کام کا کام بھی ہوجائے گا اور ساتھ میں ہنی مون بھی”
نمیر کی بات سن کر عنایہ بلش کر گئی اس سے کچھ بولا ہی نہیں گیا
“یار اب موبائل پر تو میں تمہیں دیکھنے سے رہا،، جب شام میں تمہارے سامنے آ جاؤں تو پھر شرما لینا”
نمیر مسکراتا ہوا عنایہ کو کہنے لگا عنایہ اس کی بات سن کر خود بھی مسکرا دی۔۔۔ جس وقت نہال نے اسے اسلام آباد جانے کے لیے کہا تبھی نمیر نے پروگرام بنا لیا تھا کہ وہ اپنے ساتھ عنایہ کو بھی لے کر جائے گا نہال ثروت کے پاس موجود تھا تو اسے فکر بھی نہیں تھی۔۔ وہ چند دن عنایہ کے ساتھ ریلیکس گزارنے کے موڈ میں تھا
“نہال کہاں ہے اس وقت”
اب نمیر سنجیدہ ہوکر عنایہ سے پوچھنے لگا۔۔۔ اس کی آدھے گھنٹے پہلے ہی نہال سے بات ہوئی تھی وہ دوسری کار لے کر مارکیٹ تک گیا ہوا تھا۔۔۔ وہاں سے وہ اسپتال آنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ نمیر نے جب اسے بتایا کہ ثروت کی شام تک چھٹی ہو جائے گی تو اس نے اپنا ارادہ ملتوی کردیا
“میں نے دیکھا نہیں ان کو شاید اپنے کمرے میں موجود ہوں گے آپ کیوں پوچھ رہے ہیں”
عنایہ نمیر سے پوچھنے لگی
“ویسے ہی پوچھ رہا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ اگر ماما شام تک واپسی کرلیتی ہیں تو وہ ہسپٹل نہیں آ رہا۔۔۔ حمیدہ سے اس کے لئے ناشتے کا کہہ دینا اور حمیدہ کو بھی کہہ دینا کہ وہ شام تک گھر پر ہی رہے”
نمیر کھڑکی سے باہر موسم کے آثار دیکھتا ہوا عنایہ کو ہدایت دینے لگا
“اور میرے لیے کیا حکم ہے میں کیا کرو اتنی دیر”
نمیر کے اتنے سیریس لہجے میں بولتے ہوئے،، عنایہ چہرے پر مسکراہٹ لائے اس سے پوچھنے لگی
“تم شام تک ٹائی باندھنے کی پریکٹس کرلو،،، نہیں تو پھر مزید شرمانے کی پریکٹس کرلو”
عنایہ کی بات سن کر نمیر شرارتی انداز میں بولا
“اف آپ بہت گندے ہیں۔۔۔ اچھے بچوں کی طرح بی ہیو کیا کریں اپنی وائف سے”
عنایہ کو اس کی بات سن کر ابھی سے شرم آنے لگی
“یہ گندا بچہ اپنی بیوی کو اسلام آباد لے جا کر اچھی طرح سے میتھ کی پریکٹس کرانے کا ارادہ رکھتا ہے”
نمیر مزید اسکو ستاتا ہوا بولا
“میں آپ سے آگے زندگی میں اب کھبی ٹیوشن نہیں لینے والی”
عنایہ نے بولنے کے ساتھ ہی لائن کاٹ دی جبکہ دوسری طرف نمیر مسکرانے لگا
****
“سوری سر کل آپکو پسٹل ذرا زور سے لگ گیا تھا”
موبائل سے اسی لڑکے کی آواز ابھری تو نہال کو کل والا منظر یاد آیا
“شٹ اپ۔۔۔ تمہاری بکواس سننے کے لیے میں نے فون نہیں کیا ہے۔۔۔ اب غور سے صرف میری بات سنو۔۔۔ گاڑی کو کھنڈر حالت میں کرکے آبادی سے دور جگہ پر کھڑی کر دو تاکہ پولیس تم لوگوں تک نہ پہنچ سکے۔۔۔ جو سامان تمہارے ہاتھ لگا ہے وہ تم رکھ سکتے ہو مگر اس لڑکی کے پاس جو لاکٹ تھا وہ مجھے واپس چاہیے۔۔۔ یہاں پر خود آنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی اپنی شکل دکھانے کی۔۔۔ میں کل موقع دیکھ کر خود تمہارے پاس آؤں گا”
نہال نے بات کرکے لائن ڈسکنیکٹ کی۔۔۔ تبھی اسے اپنے دائیں طرف کرسی پر فرحین بیٹھی نظر آئی ہمیشہ کی طرح وہ اب بھی اسے دیکھ کر ایک پل کے لیے خوفزدہ ہوا
“تمہیں دیکھ کر احساس نہیں ہوتا کہ تم اتنا بھی گر سکتے ہو”
فرحین کرسی پر بیٹھی ہوئی نہال کو دیکھ کر بولی
“میں تمہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں اور ہر بار تم سے بولتا ہوں۔۔۔ اس رات میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا تھا وہ سب مجھ سے انجانے میں ہوا تھا۔۔۔ اس لئے مجھے بار بار شرم دلانے کے لئے مت آیا کرو”
نہال نے آخری جملہ دانت پیس کر غصے میں کہا
“شرم ان کو دلائی جاتی ہے جن میں شرم و حیا باقی ہوں تم جیسے بے شرم انسان کے لیے تو ضروری ہے کہ پوری دنیا کے سامنے تمہارے چہرہ سے یہ شرافت کا نقاب ہٹے اور پوری دنیا تمہارا اصل روپ دیکھے”
فرین کرسی سے اٹھتی ہوئی بولی
“کیا بےشرمی کی تھی میں نے اس دن تمہاری چیخوں کی آواز سن کر،، تمہیں کلاس روم میں لاک دیکھ کر تمہیں وہاں سے نکالنے، تمہاری مدد کرنے تو آیا تھا”
نہال سنجیدگی سے اس کو دیکھتا ہوا کہنے لگا
“اور میری پھٹی ہوئی قمیض دیکھ کر تمہاری نیت بدل گئی۔۔۔ تم نے میری مدد کرنے کی بجائے میری عزت کو پامال کیا”
فرحین جب کلاس روم میں لاک تھی۔۔۔ وہ چیخ کر اپنی مدد کے لیے پکار رہی تھی کوئی وہاں پر آتا اور کلاس روم کا دروازہ کھول دیتا۔۔۔ وہ یہاں نمیر کے لئے آئی تھی مگر کلاس روم میں نمیر موجود نہیں تھا۔۔۔ کلاس روم میں کاٹھ کبار اور بے جا حبث سے اسکو گھٹن ہونے لگی۔۔۔ تبھی اس کی دوسرے دروازے پر نظر گئی جس کے آگے ٹوٹی پھوٹی کرسیاں موجود تھی وہ کرسیاں ہٹانے کی کوشش کرنے لگی تاکہ اس دروازے سے باہر نکل جائے مگر ایک کرسی میں کیل ہونے کے باعث وہ اس کی قمیض میں لگ گئی۔۔ ۔ اپنی قمیص سے کیل نکالنے کے چکر میں اس کی قمیض چاک سے پھٹتی چلی گئی۔ ۔۔۔ اس کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کرے مگر اتنی دیر میں کلاس روم کا دروازہ کھلا
“شیطان غالب آ گیا تھا مجھ پر، بہک گیا تھا میں اس وقت۔۔۔۔ سو دفعہ تمہیں بتا چکا ہوں تم سے معافی مانگ چکا ہوں”
نہال چیختا ہوا اس سے بولا
“اور اب اپنی بھابھی کو دیکھ کر تم پر شیطان آگیا ہے۔۔۔ تم دوبارہ بہکنے لگ گئے ہو نہال”
فرین اس کو آئینہ دکھانے لگے
“بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ نہیں مانتا ہو میں اسے بھابھی۔۔ محبت ہے وہ میری۔۔۔ میری منگیتر،، جس سے میری شادی ہونے والی تھی۔۔۔ وہ بیشک وہ سب بھول گئی ہے مگر میں اسے سب یاد دلاو گا”
نہال فرحین کو دیکھتا ہوا چیلنجنگ انداز میں بولا
“تم اپنے بھائی سے اس کی بیوی کو چھینو گے”
فرحین اس کے سامنے آتی ہوئی بولی
“مجھ سے میری منگیتر کو چھینا گیا ہے ناانصافی میرے ساتھ ہوئی ہے۔۔۔ بڑا بھائی ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ میں اپنی محبت چھوٹے بھائی کو دے دو۔۔۔ خوشیوں پر میرا بھی حق ہے۔۔ جانتی ہو کتنی تکلیف ہوتی ہے مجھے، جب میرے گھر میں ہی میری محبت،، مجھے اپنے بھائی کی بیوی کے روپ میں دکھتی ہے۔۔۔ کس قرب سے گزر رہا ہوتا ہو میں کوئی میری تکلیف کا اندازہ نہیں لگا سکتا تم بھی نہیں اسلیے چلی جاؤ یہاں سے”
نہال نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا واز اٹھا کر فرحین کی طرف مارا۔۔۔ مگر اس سے پہلے فرحین کا عکس ہوا میں تحلیل ہو گیا
****
“کیا ہو رہا ہے”
عنایہ کچن میں اپنے لئے کارن فلیکس بنا رہی تھی تب نہال کچن میں آ کر اس سے پوچھنے لگا
“ناشتہ بنا رہی تھی اپنے لیے”
عنایہ نے اس کو دیکھتے ہوئے جواب دیا ساتھ ہی عنایہ کی نظر نہال کے ہاتھ میں موجود چھوٹے سے پیکٹ پر پڑی وہ اگنور کر کے دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہو گئی
“یہ لو یہ میں تمہارے لئے لایا تھا”
نہال عنایہ کو دیکھتے ہوئے اسے کہنے لگا
“کیا ہے یہ”
عنایہ اب نہال کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“آج صبح اپنے لیے موبائل لینے گیا تو تمہارا خیال آیا۔۔۔ تمہیں بھی موبائل کی ضرورت ہوگی”
نہال اس کو یہ نہیں بول سکا، خیال تو اب اس کو ہر وقت اسی کا رہتا ہے
“مجھے موبائل کی کوئی ایسی خاص ضرورت نہیں ہے اور اگر ہوگی تو میں نمیر سے بول دو گی”
عنایہ مسکراتی ہوئی نہال سے کہنے لگی۔۔۔ اسے موبائل کی ضرورت تو تھی کیو کہ کل بھی اس کی اور شانزے کی بات نہیں ہو پائی تھی۔۔۔ مگر نہال سے موبائل لینا اسے مناسب نہیں لگا اور نہال کو منع بھی اس نے اس انداز میں کیا کہ نہال کا دل نہ دکھے، ،، اس کی وجہ سے کسی کا بھی دل دکھے عنایہ کو یہ بات اچھی نہیں لگتی تھی
“تو میں بھی تو نمیر کا بھائی ہوں مجھ سے یہ موبائل لینے میں کیا حرج ہے، ویسے بھی اگر نمیر کو تمہارا خیال ہوتا تو وہ تمہیں خود ہی لاکر دے دیتا”
نہال غور سے اس کو دیکھتا ہوا کہنے لگا۔۔۔ عنایہ کا یوں تکلف برتنا، نہال کا موڈ خراب کر گیا
“مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اس وقت نمیر کو سب سے زیادہ ثروت آنٹی کا خیال ہے۔۔۔ آپ کے بھائی میرے ہسبینڈ ہیں تو میں موبائل بھی انہی سے لینا پسند کرو گی۔۔۔ یہ حمیدہ کہاں چلے گئی،،، حمیدہ۔۔۔ حمیدہ”
عنایہ کو نہال کا نمیر کے بارے میں اس طرح بولنا پسند نہیں آیا وہ اس کو جواب دے کر حمیدہ کو پکارنے لگی
“حمیدہ تو اس وقت گھر پر موجود نہیں ہے،، اسے ضروری کام تھا اس لیے میں نے چھٹی دے دی”
نہال عنایہ کو دیکھتا ہوا بتانے لگا۔۔۔ اسے اندازہ ہوگیا عنایہ اس سے موبائل نہیں لے گی اس لیے دوبارہ نہال نے ضد بھی نہیں کی
“عنایہ”
عنایہ کارن فلیکس ٹرے میں رکھکر اپنے روم میں جانے لگی تک نہال نے اسے پکارا
“جی بولیں”
عنایہ مڑ کر نہال سے پوچھنے لگی
“کیا تم میرے لئے ناشتہ بنا سکتی ہو۔۔۔ حمیدہ ہوتی تو اسے کہہ دیتا،، مجھے اپنی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی ورنہ میں اپنا ناشتہ خود بنا لیتا”
نہال نے مظلوموں والی شکل بنا کر عنایہ سے کہا۔۔۔ اپنی رحمدلی فطرت سے مجبور ہوکر عنایہ اقرار میں سر ہلا کر اپنا ناشتہ ٹیبل پر رکھتی ہوئی دوبارہ کارن فیلکس کا پیکٹ نکالنے لگی
“نہیں کارن فلیکس نہیں کھاو گا میں۔۔۔ پلیز میرے لیے بھی پراٹھا بنا دو جیسے روز نمیر کے لیے بناتی ہوں”
وہ التجائی انداز میں عنایہ کو دیکھتا ہوا کہنے لگا۔۔۔ نہال کی بات سن کر عنایہ کچھ بولے بغیر فریج سے آٹا نکالنے لگی۔۔۔ نہال وہی چیئر پر بیٹھ گیا اور عنایہ کو غور سے دیکھنے لگا
“تمہیں برا تو نہیں لگتا میں تم سے اپنے کام کا کہہ دیتا ہوں”
نہال کا دل چاہا کہ عنایہ بھی اس سے بات کرے اس لیے اس سے پوچھنے لگا
“برا لگنے کی کیا بات ہے آپ بھی گھر کے فرد ہیں،، نمیر کے بھائی”
عنایہ پراٹھے کے ساتھ چائے کا پانی بھی رکھتی ہوئی بولی
“تم نے رات میں مجھے پینڈینٹ والی بات نمیر کو بتانے سے کیوں روکا”
نہال کل رات والی بات عنایہ سے پوچھنے لگا
“وہ پینڈینٹ مجھے نمیر نے برتھڈے پر گفٹ کیا تھا مجھے اچھا نہیں لگا کہ انہیں معلوم ہو میں ان کے دیے ہوئے گفٹ کی حفاظت نہیں کر پائی”
عنایہ باتوں کے دوران توے پر پراٹھا ڈالنے لگی تبھی توے پر موجود گرم گھی کے چھینٹے چھلک کر اس کے ہاتھ پر آئے،، عنایہ چیخ مارتی ہوئی پیچھے ہٹی
“کیا ہوا عنایہ”
نہال کرسی سے اٹھ کر جلدی سے اس کے پاس آیا
“ہاتھ دکھاو اپنا”
عنایہ کا ہاتھ سرخ ہوچکا تھا نہال نے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا
“نہیں ٹھیک ہے زیادہ نہیں جلا”
عنایہ اپنا ہاتھ پیچھے کرتی ہوئی بولی۔۔ ۔ مگر چہرہ اس کی بات کی چغلی کھا رہا تھا
“وہی چیک کر رہا ہوں زیادہ جلا ہے کہ نہیں”
نہال اس کا ہاتھ پکڑ کر دیکھنے لگا
“پلیز نہال بھائی میرا ہاتھ چھوڑیں”
عنایہ نے جھنجھلا کر اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا۔۔۔ مگر لفظ بھائی سن کے نہال کی ہاتھ میں اور چہرے پر مزید سختی آگئی
“باہر جاکر چیئر پر بیٹھو”
وہ حتی الامکان اپنے آپ کو ٹھنڈا رکھتا ہوا بولا اور دونوں چولہے بند کرنے لگا۔۔۔ نہال کے لہجے میں اور آنکھوں میں ایسا کچھ تھاکہ عنایہ سہم گئی اور کچن سے باہر نکل کر کرسی پہ بیٹھ گئی
“میں ٹھیک ہوں نہال بھائی اب تکلیف نہیں ہے میں سچ کہہ رہی ہوں”
وہ نہال کے ہاتھ میں آئینمیںنٹ دیکھ کر بولی
“کتنا سچ کہہ رہی ہو وہ تو تمہارا چہرہ دیکھ کر اندازہ ہو رہا ہے ہاتھ دکھاؤ جلدی سے”
نہال اس کے سامنے کرسی پر بیٹھا ہوا بولا۔۔۔۔ پھر خود ہی عنایہ کا ہاتھ تھام کر آئینمینٹ لگانے لگا۔۔۔ اسے تکلیف میں دیکھ کر نہال کو بے چینی ہوئی کچھ بھی تھا وہ اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا
“سوری میں انجانے میں تمہیں تکلیف دے گیا۔۔ نہ میں تمہیں پراٹھے کا کہتا نہ تم پراٹھا بناتی اور نہ تمہارا ہاتھ جلتا”
وہ عنایہ کے جلے ہوئے ہاتھ پر آئینمینٹ لگاتا ہوا بولا۔۔۔ کچھ تھا اسکے لہجے میں جو عنایہ کو عجیب سا محسوس ہوا عنایہ نے نہال سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا۔۔۔ مگر اس سے پہلے فلیش لائٹ کے ساتھ کلک کی آواز آئی جس پر وہ دونوں چونکے اور دونوں کی نظریں دروازے پر گئی منال مسکراتی ہوئی اپنا موبائل بیگ میں رکھنے لگی
“یہ کیا چیپ حرکت کی ہے تم نے منال۔۔۔ اس طرح کسی کی بلااجازت تصویریں کھینچنا انتہائی گھٹیا فعل ہے”
نہال کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا اور سخت لہجے میں منال کو دیکھتا ہوا بولا مگر حقیقت تو یہ تھی کہ نہال کو یہ حرکت اتنی بھی بری نہیں لگی تھی
“تم اپنے بھائی کی بیوی کے ساتھ کچھ بھی کرتے پھرو تو وہ نیک عمل ہے اور میں کچھ کر لو تو وہ گھٹیا فعل ہے۔۔۔ واہ بھئی مان گئے نہال صاحب آپ کو تو”
وہ اپنی آنکھیں جھپکاتی ہوئی طنزیہ ہنسی سے نہال کو دیکھنے لگی
“آپی آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں،،، سوچ سمجھ کر تو بولیں میرا ہاتھ جل گیا تھا اس لئے نہال بھائی اس پر مرہم لگا رہے تھے”
منال کی بات سن کر عنایہ کو شرم آنے لگی جبھی وہ صدمے سے وضاحت دینے لگی
“چپ کرو تم میںسنی کہیں کی،، شکل دیکھو کیسی معصوم ہے اور حرکتیں دیکھو اپنی۔۔۔ ایک ہی گھر کے دو دو آدمیوں کو اپنے پیچھے بیوقوف بنایا ہوا ہے۔۔۔ آئی بڑی مرہم لگا رہے تھے”
منال نے آخری جملہ باریک آواز میں عنایہ کی نقل اتارتے ہوئے ادا کیا۔۔۔ عنایہ اس کی بات سن کر گنگ رہ گئی لبالب اس کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا
“عنایہ کے لیے اب کوئی بھی گھٹیا الفاظ استعمال مت کرنا،، منال یہ میں تمہیں وارن کر رہا ہوں”
نہال منال کے سامنے آکر اسے وارننگ دیتا ہوا بولا
“تو کیا کر لوگے تم،، ارے ڈرنا تو تمہیں چاہیے،، جو تمہارے کرتوت میری نظروں میں آگئے ہیں اور تم الٹا مجھے دھمکا رہے ہو۔۔۔ تمہیں معلوم بھی ہے میں کیا کر سکتی ہو”
منال اب شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجائے نہال کو دھمکاتی ہوئی بولی عنایہ باقاعدہ کچھ نہ کر کے بھی مجرموں کی طرح رونے لگی
“یہ اپنی دو پیسے کی ایکٹنگ اور ڈائیلاگز وہاں یوز کرو جہاں ان سے کوئی امپریس ہو،، یہ تصویر تمہیں نمیر کو دکھانی ہے یا پھر دنیا کو۔۔۔ آئی ڈیم کیئر”
نہال ابرو اچکاتا ہوا جیسے اسے خود ہی آپشنز دینے لگا
“یہ کیا بول رہے ہیں آپ اور آپی پلیز آپ بات کا کیوں بتنگڑ بنا رہی ہیں جب کہ آپ جانتی ہیں کہ۔۔۔
عنایہ ایک بار پھر بولنے لگی
“عنایہ بار بار اسے وضاحت دینا بند کرو اور منال تم اس وقت یہاں سے چلی جاؤ۔۔۔ تمہیں اس گھر میں صرف ایک ہی شخص اپنے منہ لگاتا پسند کرتا ہے اور اس وقت وہ گھر پر موجود نہیں ہے”
نہال کی بات سن کر منال کا چہرہ خجالت سے سرخ ہوگیا
“اب آگے آگے دیکھو تمہیں بھی معلوم ہوجائے گا کون کس کو کتنا منہ لگاتا ہے”
منال نہال کو وارن کرتی ہوئی ایک نظر عنایہ پر ڈال کر چلی گئی
“تم رو کیوں رہی ہو عنایہ آخر ایسا ہو کیا گیا ہے”
منال کے جانے کے بعد نہال عنایہ کو روتا ہوا دیکھ کر پوچھنے لگا
“آپ نے سنا نہیں آپی کس طرح کی باتیں کرکے گئی ہیں”
عنایہ روتی ہوئی نہال کو دیکھ کر بولی
“تمہیں اس کی نیچر کا بچپن سے ہی علم ہے پھر اس طرح پریشان ہونے کا فائدہ”
نہال آگے برھ کر اسکے آنسو تو صاف نہیں کر سکتا تھا مگر اپنے لہجے میں نرمی لاتا ہوا بولا
“وہ نمیر کو کچھ الٹا سیدھا بولیں گیں۔۔۔ انہوں نے تصویریں لی ہیں ہماری”
عنایہ کے دل میں نہ جانے کیا کیا خدشات آنے لگے
“کیا کیا سوچ رہی ہو یار، ایسا کچھ بھی نہیں کرنے والی وہ۔۔۔۔ وہ صرف ڈرا رہی تھی اور تم اس سے ڈر گئی”
وہ عنایہ کو ریلیکس کرتا ہوا بولا خود تو وہ بالکل ریلکس تھا
“اور اگر انہوں نے ایسا کیا تو”
منال جس طرح کی باتیں اور دھمکی دے کر گئی تھی۔۔ اگر وہ تصویر دکھانے کے ساتھ نمیر کو کچھ بولتی۔۔۔ آگے عنایہ سے سوچا ہی نہیں گیا
“تو پھر یہ کہ تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تمہارا شوہر تم پر کتنا ٹرسٹ کرتا ہے۔۔۔ دیکھو عنایہ رشتہ وہی قائم رکھنا چاہیے جسکی بنیاد ٹرسٹ پر ہو”
نہال اس کو بولتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا
